دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

روحِ اسلام (قسط: چہارم)

روحِ اسلام (قسط: چہارم)
عنوان: روحِ اسلام (قسط: چہارم)
تحریر: علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ
پیش کش: غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما

کتاب و سنت کے ارشادات میں جو جامعیت اور گہرائی ہے اس کی تہ تک پہنچنا اہل اللہ ہی کا حصہ ہے۔ ریا کی مذمت قرآن و حدیث میں موجود ہے، مگر اس کی باریک صورتیں صوفیہ کرام جس بسط کے ساتھ بتاتے ہیں، وہ ان کے فہمِ عمیق کا بین ثبوت ہے۔ حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ "احیاء العلوم" میں ایک حدیثِ مبارک نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغر کا خطرہ ہے، اور وہ ریاء ہے۔“ اللہ عزوجل روزِ قیامت ریاکاروں سے فرمائے گا کہ تم دنیا میں جس کو دکھاتے تھے تم ان کے پاس جاؤ، دیکھو ان کے یہاں تم کو کچھ جزا ملتی ہے؟ [مسند احمد، شعب الایمان للبیہقی]

ریا کی حقیقت اور اس کے پانچ ذرائع

ریا کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کو خیر کی خصلتیں دکھا کر ان کے دلوں میں اپنی منزلت پیدا کرنا مقصود ہو۔ امام غزالی کے مطابق ریا کے ذرائع پانچ اقسام میں سمٹ آتے ہیں: بدن، لباس، قول، عمل، اور توابع۔

1. بدن کے ذریعے ریا: دین دار کی ریا یہ ہے کہ بدن پر لاغری و زردی کا اظہار کرے تاکہ لوگ اسے سخت عبادت گزار اور خوفِ آخرت والا سمجھیں۔ اس کے برعکس دنیا دار کی ریا فربہی، رنگ کی صفائی اور چہرے کے حسن کے اظہار سے ہوتی ہے۔

2. لباس کے ذریعے ریا: مثلاً سر کے بال پراگندہ رکھنا، چہرے پر سجدے کا اثر نمایاں رکھنا، موٹے یا چھوٹے کپڑے پہننا تاکہ لوگ اسے زاہد و صالح سمجھیں۔ اگر امراء کی نظر میں وقعت چاہیے ہو تو ویسے ہی کپڑے پہننا جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہوں۔

3. کلام کے ذریعے ریا: وعظ و نصیحت کے دوران اخبار و آثار کا کثرت سے ذکر کرنا تاکہ وسعتِ علم کا اظہار ہو، مجمع دیکھ کر لبوں کو حرکت دینا، یا امر بالمعروف کے ذریعے اپنی بصیرت کی نمائش کرنا۔ دنیا داروں کی ریا چرب زبانی اور اشعار و امثال کے ذریعے ہوتی ہے۔

4. عمل کے ذریعے ریا: نمازی کا رکوع و سجود کو لمبا کرنا یا وقار کی نمائش کرنا۔ ریاکار کی حالت یہ ہوتی ہے کہ کسی دین دار کو دیکھ کر چال میں سکون پیدا کر لیتا ہے تاکہ اسے جلد باز نہ سمجھا جائے، اور تنہائی میں بھی تصنع برقرار رکھتا ہے تاکہ کوئی اسے منافق نہ کہے۔ یہ ریاکاری دوگنی ہے کیونکہ تنہائی کا یہ تصنع بھی مجمع ہی کی خاطر ہے۔

5. ملاقاتوں کے ذریعے ریا: اس بات کی کوشش کہ کوئی عالم یا وزیر اس سے ملنے آئے تاکہ لوگوں میں اس کی عظمت کا چرچا ہو، یا شیوخ کا کثرت سے تذکرہ کرنا تاکہ معلوم ہو کہ اسے کثیر بزرگوں کی صحبت حاصل ہے۔

ان اقسام کے تحت مزید صورتوں کا تذکرہ ان شاء اللہ عزوجل قسط پنجم میں کیا جائے گا...

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!