| عنوان: | حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت کعبہ میں ہوئی ہے یا نہیں؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار |
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں، ان میں سے اکثر ضعیف ہیں اور محدثین کے نزدیک ان سے قطعی حکم ثابت نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے اہل علم کی ایک جماعت اسے تاریخی شہرت تو مانتی ہے، مگر قطعی اور متفق علیہ واقعہ قرار نہیں دیتی۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ (جو حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں) کے کعبہ میں پیدا ہونے کا واقعہ صحیح اور مضبوط تاریخی روایات سے ثابت ہے، اور اسی بنا پر بہت سے محدثین و مؤرخین نے لکھا ہے کہ کعبہ میں ولادت کا شرف یقینی طور پر انہیں کو حاصل ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی عظمت اس مسئلے پر موقوف نہیں۔ ان کا شرف و مقام قرآن، حدیث اور متفق علیہ تاریخی حقائق سے پہلے ہی ثابت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں شعبِ بنی ہاشم میں ہوئی۔ امام حافظ ابو القاسم علی بن حسن تحریر فرماتے ہیں:
وُلِدَ عَلِيٌّ بِمَكَّةَ فِي شِعْبِ بَنِي هَاشِمٍ.
ترجمہ: ”حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ولادت مکہ میں شعبِ بنی ہاشم میں ہوئی۔“ [تاریخ دمشق الکبیر، ج: 45، ص: 448] سب سے راجح قول یہی ہے کہ ان کی پیدائش نبی کریم ﷺ کی جائے پیدائش سے قریب ایک گھاٹی میں ہوئی جو کہ ”شعبِ علی“ کے نام سے معروف ہے۔
امام مسلم بن حجاج نے کہا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے۔ [صحیح مسلم، الحدیث: 3859] امام النووی "تہذیب الاسماء واللغات" میں تحریر فرماتے ہیں:
وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَلَا يُعْرَفُ أَحَدٌ وُلِدَ فِيهَا غَيْرُهُ، وَأَمَّا مَا رُوِيَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وُلِدَ فِيهَا فَضَعِيفٌ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ.
ترجمہ: ”صرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی ولادت جوفِ کعبہ میں ہوئی، آپ کے علاوہ کوئی بھی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا اور جو یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی کعبہ میں پیدا ہوئے، یہ بات علماء کے نزدیک ضعیف ہے۔“ [تہذیب الاسماء واللغات، ج: 1، ص: 409]
امام سیوطی، امام ابن عبد البر اور امام بدر الدین عینی جیسے کبار ائمہ نے بھی اسی موقف کی تائید فرمائی ہے کہ کعبہ میں ولادت کا شرف حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا خاصہ ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ بہارِ شریعت میں حج کے باب میں مکاناتِ متبرکہ کی زیارت کا تذکرہ کرتے ہوئے "مکانِ ولادتِ علی رضی اللہ عنہ" کا الگ تذکرہ فرماتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کا مقامِ ولادت کعبہ کے علاوہ معروف مقام ہے۔ [بہارِ شریعت، ج: 1، ص: 1150]
