کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مصنوعی قد آوری عصری المیہ

مصنوعی قد آوری عصری المیہ
عنوان: مصنوعی قد آوری عصری المیہ
تحریر: مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا

دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے کہ اونچا دکھائی دے

ہر چند کہ زمانہ اپنی رفتار کے ساتھ بے انتہا وسعتوں کو سمیٹتا رہا مگر ہر گزرتے ایام اپنے ساتھ تباہی کے سیلاب کے تلاطم میں مزید شدت اختیار کرتے گئے۔ ہر گزرتا کل اپنے ساتھ کئی فتنوں کے نشانات چھوڑتا رہا اور ہر آنے والا کل اپنے ساتھ بے شمار فتن کی نشاندہی کر رہا ہے۔ مخبر صادق، تاجدار کائنات، فخر موجودات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ساڑھے چودہ دہائیوں سے قبل ہی مرور زمان کے ساتھ شدت فتن کی نشاندہی فرما دی تھی۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے:

فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ، حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ

(صحیح البخاری، باب لا یأتی الزمان، رقم الحديث: 6657) کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جس کے بعد والا زمانہ اس سے بدتر نہ ہو۔

اور جب عصر حاضر کی آشفتہ حالی کا مشاہدہ ہوتا ہے تو آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان عالی شان کی حقانیت آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس ٹیکنالوجی کو سہولتِ انسانی کی خاطر منصۂ شہود پر لایا گیا اسی ٹیکنالوجی کو کم ظرف و کم مایہ اور شہرت و ستائش کے خوگر نفوس نے مصنوعی قد آوری کا ذریعہ ٹھہرا لیا۔ فی زمانہ بڑھتی ہوئی جدید ٹیکنالوجی کی رفتار میں ادبی سرقہ زنی کا رجحان اپنے آپ میں ایک غم انگیز المیہ ہے۔ اے ائی (AI) سے تراشے گئے حروف کو اپنی جانب منسوب کرکے عوام کو پیش کرنا سرقہ زنی کی ایک رذیل ترین قسم ہے۔ اور یہ المیہ سنگین ترین امر بنتا جا رہا ہے، مصنوعی ذہانت کے سہارے علمی قدو قامت بڑھانے کی یہ مذموم کاوشیں ادبی جوہر کو مجروح کر رہی ہیں۔

اس سرقہ زنی کے پسِ پردہ ایسے افراد کا ہاتھ ہے جن کا اپنا کوئی حقیقی معیار نہیں، محض کھوکھلے معیار کے ڈھول پر بجتے ہوئے حروف سوشل میڈیا کے میدان میں شور مچاتے ہوئے شہرت دوام کے خواب میں مستغرق ہیں۔ جنہیں دیکھ کر سادہ لوح افراد ایسوں کی لیاقت کے قائل ہو رہے ہیں۔ ایسے افراد کی تمثیل محض سراب کی سی ہے۔ جو دور سے تو دریا نظر آتا ہے مگر قریب جا کر بغور دیکھو تو تمہاری آنکھ میں ریت جھونک دیتا ہے۔

بلا شبہ اس سراب کے پیچھے چلنے والے رہرو کے مقدر میں محض تشنہ لبی ہے۔ کہ مصنوعی الفاظ سے کبھی افکار کے گلشن شاداب نہیں ہوتے بلکہ یہ تو ذہن کو محض زنگ آلود بنانے کا سامان ہیں۔ اس سے انکار نہیں کہ مصنوعی ذہانت سے تراشے گئے مضامین کسی کے اذہان پر مثبت اثر چھوڑیں بلکہ یہ تو لائق تحسین ہے۔ مگر لائق تذمیم امر ایسے الفاظ کو اپنی تخلیق و لیاقت کا ثمر بنا کر پیش کرنا ہے۔

ایسی سرقہ زنی کی جانب قدم اٹھانا فی الواقع شہرت طلبی کے حصول کا شاخسانہ ہے۔ یہ جذبۂ خود نمائی ہی کا ثمرہ ہے کہ اخلاقی اقدار مجروح کیے جا رہے ہیں۔ ایسے بے شمار مشاہدات نظروں سے گزرے جو ورطۂ حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی تھے، مگر حد و ضبط تو تب ٹوٹا جب پوری کتاب کی تخلیق اے آئی سے کر کے اس پر اپنے نام کا ٹیگ چسپاں کر دیا گیا، محض شہرت طلبی اور خود نمائی کی خاطر تاکہ لوگ ان کی مصنوعی لیاقت کے قائل ہو کر ان کی جانب مائل ہوں۔ ان کے مصنوعی افکار اور خوبصورت حروف کے گن گائیں۔ یہ ایسے ہی افراد ہیں جن کا اپنا کوئی فلسفہ نہیں کوئی مشاہدہ نہیں اور نہ اپنے خون جگر سے سینچی ہوئی کوئی فکر ہے۔

یہ جاں سوز طرز عمل صداقت کے عین خلاف ہے۔ اور یہ امر مسلم ہے کہ تاریخ کے اوراق میں صرف وہی حروف و اصوات نقش ہونے کا ہنر رکھتے ہیں جو صداقت و دیانت کے جوہر سے مزین ہوں۔ وگرنہ جھوٹ اور بددیانتی پر مشتمل حروف و الفاظ عارضی چمک تو حاصل کر سکتے ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ صفحۂ تاریخ سے مٹ جایا کرتے ہیں۔ سافٹ ویئر کے ذریعے سطریں تخلیق کر لینا کمال نہیں یہ تو اپنی جہالت پر پردہ ڈالنا ہے۔ کیا وہ شخص جو اپنے خیالات کے لیے بھی ایک سافٹ ویئر کا محتاج ہو کبھی کسی قوم کی فکری رہنمائی کر سکتا ہے؟

مدد کے واسطے اور ایک آلہ کے طور پر اے آئی کا استعمال معیوب نہیں بلکہ اس کی تخلیق کو اپنی تخلیق بنا کر پیش کرنا قبیح ترین ہے بلکہ فریب ہے، جھوٹ ہے، مغالطہ ہے جو کسی اہل علم اور با شعور کو زیب نہیں دیتا۔ اللہ جل و علا ہم سبھی کو اس فتنۂ ناروا سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!