| عنوان: | اسلامی شخصیات کی فلمیں |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے دنیا میں بھیجا ہے۔ انسانوں میں کوئی کافر ہے تو کوئی مسلمان، اور جو حق پر ہیں وہ دینِ اسلام پر قائم اہلِ سنت و جماعت ہیں۔
کئی سالوں سے یہ بات میری نظر سے گزر رہی ہے کہ دشمنانِ اسلام پیسہ اور نام کمانے کے لیے سوشل میڈیا پر ایسی فلمیں اور سیریلز اپلوڈ کرتے ہیں جن میں کوئی کسی نبی کی اداکاری (Acting) کرتا ہے، تو کوئی صحابۂ کرام، مجاہدینِ اسلام یا اولیائے کرام کی۔ ایک طرح سے اسلام کو بدنام کرنے اور پیسہ بنانے کے لیے اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کی نقالی کی جاتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے مسلمان بھائی انہیں بڑے شوق و ذوق سے دیکھتے ہیں، اور جب انہیں سمجھایا جائے تو جواب میں کہتے ہیں کہ: ”اس میں غلط کیا ہے؟“
دار الافتاء اہلِ سنت کا فتویٰ
آئیے! ایسی فلموں کے متعلق دار الافتاء اہلِ سنت کا فتویٰ دیکھتے ہیں کہ شرعی لحاظ سے یہ جائز ہیں یا ناجائز:
”انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں جو فلمیں بنائی جاتی ہیں، اگرچہ وہ کسی بھی نبی کے بارے میں ہوں، ان کا بنانا بھی حرام اور ان کا دیکھنا بھی حرام ہے۔ کیونکہ ان فلموں میں کفار و فساق کو نبی، صحابی اور فرشتہ بنا کر دکھایا جاتا ہے، بے پردگی ہوتی ہے، بعض من گھڑت باتیں ہوتی ہیں اور بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کی بعض باتیں عقائدِ شرع کے خلاف ہوتی ہیں۔ الغرض! ایسی فلمیں بے شمار گناہوں کا مجموعہ ہوتی ہیں، جن سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔“
[دار الافتاء اہلِ سنت، فتویٰ نمبر: 2283-WAT]
تاریخ جاننے کا درست اور متبادل راستہ
بعض مسلمانوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”ہم یہ سیریلز یا موویز اس لیے دیکھتے ہیں تاکہ ہمیں تاریخ اور اسلامی شخصیات کے تعارف کا پتا چل سکے، اور یہ معلوم ہو کہ ماضی میں کیا اور کیسے ہوا تھا۔“
ان حضرات کے لیے میرا جواب یہ ہے کہ آپ یہ تعارف اور تاریخ مستند اسلامی کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اور اگر کتاب پڑھنے میں سستی آتی ہے تو اہلِ سنت کے معتمد علمائے کرام کی بے شمار ویڈیوز یوٹیوب پر تاریخ اور سیرت کے حوالے سے موجود ہیں، آپ وہاں جا کر ان کے مستند بیانات کیوں نہیں سنتے؟
حاصلِ کلام اور گزارش
ان فلموں اور ڈراموں میں بے شمار شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں؛ مثلاً بے پردگی، موسیقی (Music)، اور بسا اوقات (معاذ اللہ) ان عظیم ہستیوں کی طرف ایسی جھوٹی باتوں کی نسبت کر دی جاتی ہے جو انہوں نے کبھی کہی ہی نہیں ہوتیں۔
تو ہم سب کو چاہیے کہ جب بھی کوئی ایسی فلم یا تاریخی سیریل ریلیز ہو تو اس کا مکمل بائیکاٹ کریں اور اسے بالکل نہ دیکھیں۔ مزید برآں، دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دیں تاکہ عوام الناس ایسے فتنوں اور خرافات سے محفوظ رہیں اور حرام کاموں سے بچ سکیں۔
