| عنوان: | منکرینِ تراویح کے لیے عبرت کا پیغام |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
رمضان المبارک کا مہینہ رحمت و برکت کا حامل ہے۔ اس مقدس ماہ میں دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ نمازِ تراویح کا اہتمام بھی امتِ مسلمہ کا متوارث عمل ہے۔ تراویح عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے، جس کی مشروعیت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہمیشہ اس پر دوام رہا ہے۔
امتِ مسلمہ کا چودہ سو سالہ عملی اتفاق اس بات پر رہا ہے کہ تراویح بیس رکعات ہیں۔ مگر آج بعض لوگ یا تو تراویح کا انکار کرتے ہیں یا پھر اس کی بیس رکعات کے مسلّمہ طریقے میں تشکیک پیدا کرتے ہیں۔ ایسے فتنوں کے ازالے کے لیے ضروری ہے کہ تراویح کی سنت ہونے اور اس کی بیس رکعات کے دلائل حدیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں واضح طور پر بیان کیے جائیں۔ انہی دلائل کی علمی و تحقیقی وضاحت کے لیے یہ مضمون قلم بند کیا جا رہا ہے۔
تراویح کا ثبوت احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں:
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلّٰی فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّی اجْتَمَعَ عَلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوْا صَوْتَهٗ لَيْلَةً وَظَنُّوْا أَنَّهٗ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ. فَقَالَ: مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتّٰی خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهٖ. فَصَلُّوْا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهٖ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ.
ترجمہ: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا حجرہ بنایا، اس میں چند راتیں نماز (تراویح) پڑھی حتیٰ کہ آپ پر لوگ جمع ہو گئے۔ پھر ایک شب لوگوں نے آپ کی آواز نہ پائی، سمجھے کہ آپ سو گئے تو بعض لوگ کھنکارنے لگے تاکہ آپ تشریف لے آئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جو تمہارا کام دیکھا وہ تم پر دائمی رہا حتیٰ کہ میں نے یہ خوف کیا کہ تم پر یہ نماز فرض کر دی جائے گی، اور اگر تم پر فرض کر دی جاتی تو تم قائم نہ کر سکتے۔ اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ مرد کی نماز فرائض کے سوا گھر میں بہتر ہے۔“ [مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 2، ص: 1295]
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ.
ترجمہ: ”جو شخص صدقِ دل اور اعتقادِ صحیح کے ساتھ رمضان میں قیام کرے یعنی تراویح پڑھے تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔“ [صحیح مسلم، الحدیث: 1779 / انوار الحدیث، ص: 298]
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا نَقُوْمُ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ.
ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہم صحابہ کرام حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بیس رکعت (تراویح) اور وتر پڑھتے تھے۔ [انوار الحدیث، بحوالہ بیہقی]
عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُوْمَانَ أَنَّهٗ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ بِثَلَاثٍ وَّعِشْرِينَ رَكْعَةً.
ترجمہ: حضرت یزید بن رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں لوگ تئیس رکعت پڑھتے تھے (یعنی بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر)۔ [انوار الحدیث، بحوالہ امام مالک]
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِيِّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْلَةً إِلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهٖ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَوْ جَمَعْتُ هٰؤُلَاءِ عَلٰی قَارِئٍ وَّاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَهُمْ عَلٰی أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهٗ لَيْلَةً أُخْرٰی وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ. قَالَ عُمَرُ: نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهٖ وَالَّتِي تَنَامُوْنَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُوْمُوْنَ. يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُوْمُوْنَ أَوَّلَهٗ.
ترجمہ: حضرت عبدالرحمٰن ابن عبدالقاری سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں ایک رات حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کو گیا۔ لوگ متفرق طور پر الگ الگ تھے، کوئی اکیلے نماز پڑھ رہا تھا اور کسی کے ساتھ کچھ جماعت پڑھ رہی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری پر جمع کر دیتا تو بہتر تھا۔“ پھر آپ نے ارادہ کر ہی لیا تو انہیں ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع کر دیا۔ فرماتے ہیں کہ پھر میں دوسری رات آپ کے ساتھ گیا تو لوگ اپنے قاری کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ بڑی اچھی بدعت ہے اور وہ نماز جس سے تم سو رہتے ہو اس سے افضل ہے جس کو تم قائم کرتے ہو (یعنی آخرِ رات کی)، اور لوگ اولِ رات میں پڑھتے تھے۔“ [مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 2، ص: 1301]
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ، قَالَ: دَعَا الْقُرَّاءَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَ مِنْهُمْ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، قَالَ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ يُوتِرُ بِهِمْ.
ترجمہ: حضرت عبدالرحمٰن سلمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قاریوں کو بلایا اور ان میں سے ایک شخص کو بیس رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا اور خود حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو وتر پڑھاتے تھے۔ [السنن الکبریٰ، ج: 2، ص: 496، مطبوعہ نشر السنۃ، ملتان]
تراویح کی اہمیت اور انکارِ تراویح کا انجام:
تراویح ایک سنتِ مؤکدہ اور روحانی عبادت ہے جو دل کو اللہ کے قرب میں مشغول کرتی ہے۔ اسے ترک کرنا یا کمتر سمجھنا گمراہی اور اجماعِ امت کے خلاف عمل ہے۔ امت کو چاہیے کہ رمضان کی راتوں میں خشوع و خضوع کے ساتھ تراویح کی ادائیگی کرے، تاکہ روحانی ترقی، سکونِ قلب اور اللہ کی مغفرت حاصل ہو۔
ان تمام دلائل سے یہ حقیقت صاف اور روشن ہو گئی ہے کہ نمازِ تراویح ایک ایسا عبادتی عمل ہے جو زمانۂ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ میں متواتر اور قائم رہا ہے۔ یہ عبادت محض کسی دور کی عارضی رسم نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت سے ثابت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے جاری ہے۔ صحابہ کرام نے تراویح کو نہ صرف اختیار کیا بلکہ اسے اپنی عبادت کا مستقل حصہ بنایا، اور اس عبادت کے ذریعے راتوں کا حصہ اللہ کی یاد اور خشوع میں گزارا۔ تراویح کا اصل مقصد انسان کے دل و دماغ کو عبادت میں مشغول کرنا، روحانی سکون حاصل کرنا اور اللہ کے قریب ہونا ہے۔
جو لوگ تراویح کے انکار پر تُلے ہیں، وہ حقیقت میں سنتِ نبوی اور امت کے اجماع کے خلاف ہیں۔ تراویح کا انکار کرنے والے دراصل حدیث کے منکر اور گمراہ ہیں، کیونکہ یہ عبادت واضح طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے، اور اس کا انکار علمی، عملی اور روحانی طور پر بے بنیاد ہے۔
اس لیے ہر مسلمان کے لیے واضح رہنمائی یہ ہے کہ تراویح ایک جائز، مستند اور سنت کے مطابق عبادت ہے، اور اسے ترک کرنا یا کمتر سمجھنا درست نہیں۔ عبادت کی اصل روح اسی میں ہے کہ انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت اور صحابہ کے عمل کے مطابق اللہ کی رضا کے لیے عبادت کرے، نہ کہ اپنی خواہش یا غلط فہمی پر عمل کرے۔
