| عنوان: | رونا کیوں نہیں آتا؟ قسوتِ قلب کے تین بڑے اسباب |
|---|---|
| تحریر: | محمد سفیان عطاری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ، فیضانِ مخدومِ لاہوری، موڈاسا |
فی زمانہ ایسے لوگوں کو کثرت سے دیکھا جاتا ہے جو اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ کتنی بھی کوشش کر لیں، مگر انہیں دعاؤں میں یا نعتِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی محفلوں میں رونا نہیں آتا۔ تو انہیں ہوش و حواس سے کام لیتے ہوئے غور و فکر کرنا چاہیے کہ کہیں کثرتِ گناہ کے سبب ان کا دل سیاہ تو نہیں ہو گیا؟
کیونکہ حدیثِ پاک میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اس سے باز آ کر استغفار کر لے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے، اور اگر وہ پھر گناہ کرتا ہے تو وہ نقطہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا پورا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔“ [جامع الترمذی، ج: 5، ص: 600، الحدیث: 3345]
اے میرے عزیزو! دل کا سخت ہونا (قسوتِ قلب) ایک ایسی پراگندہ بیماری ہے جس میں آج کثیر افراد مبتلا نظر آ رہے ہیں۔ ہم یہاں دلوں کے سخت ہونے کے تین بڑے اسباب ذکر کرتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ انہیں ذہن نشین رکھتے ہوئے دلوں کی سختی سے بچ سکے۔
پہلا سبب: کثرتِ گناہ
یہ وہی سبب ہے جو ہم نے اوپر ذکر کیا کہ کثرتِ گناہ سے دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اس پر کوئی نیک بات اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہی وہ کثیف زنگ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
﴿كَلَّا بَلْ ٚ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴾
ترجمہ کنز الایمان: ”کوئی نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔“
دوسرا سبب: ظالم کی صحبت
ظالم سے ملنا بھی دل کو سیاہ کرتا ہے۔ حکام میں سے کثیر تعداد ایسی ہوتی ہے جو ظلم و جبر میں غرق ہوتی ہے، تو ان حکمرانوں سے بغیر حاجت و مقصد کے ملنا مناسب نہیں۔ ہمارے اسلاف حکمران طبقے سے ہمیشہ گریزاں رہتے تھے۔ چنانچہ وقت کے بادشاہ نے امام الاصفیاء حضرت داؤد طائی رحمۃ اللہ علیہ سے ملنا چاہا تو آپ نے انکار فرما دیا اور حضرت سیدنا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یہ روایت بیان فرمائی:
«رُؤْيَةُ وَجْهِ الظَّالِمِ تُسَوِّدُ الْقُلُوْبَ»
ترجمہ: ”ظالم کا چہرہ دیکھنا دلوں کو سیاہ کرتا ہے۔“ [سبع سنابل، ص: 95، ملخصاً]
تیسرا سبب: فضول گوئی
فضول گوئی بھی دل کو سخت کرتی ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو نصیحت کرتے ہوئے کچھ اس طرح فرمایا:
”اے لوگو! تم فضول بولنے سے بچے رہو، اور سوائے ذکرِ اللہ کے اپنی زبان سے کبھی بھی کوئی لفظ نہ نکالو (یعنی اپنی زبان سے کوئی بے جا لفظ نہ نکالو جس کا کوئی فائدہ ہی نہ ہو)، ورنہ تمہارے دل سخت ہو جائیں گے۔ حالانکہ دلوں کی اصل یہ ہے کہ وہ نرم ہوا کرتے ہیں (لیکن فضول گوئی اور بے جا لفاظی انہیں سخت کر دیتی ہے)۔ اور جو دل سخت ہو جاتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے (یعنی اگر تم اللہ پاک کی رحمت کو پانا چاہتے ہو تو اپنے دل کو سخت ہونے سے بچاؤ)۔“ [عیون الحکایات، ص: 119]
یا رب! نہ ضرورت کے سوا کچھ کبھی بولوں
اللہ! زباں کا ہو عطا قفلِ مدینہ
حاصلِ کلام
امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ ان اسباب کو بغور پڑھے اور سمجھے تاکہ اپنے دلوں کو ایسی آفت سے محفوظ کر لے جہاں سختی کی پرچھائیں بھی نہ پڑے۔ اللہ تعالیٰ سے میری یہی دعا ہے کہ وہ جمیع مسلمین کے دلوں کو سختی سے محفوظ فرمائے اور انہیں اپنی رحمت کے سائے میں ابداً دائماً ڈھانپے رکھے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم۔
