| عنوان: | فضائلِ ماہِ رمضان |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
اسلام وہ عظیم مذہب ہے جس میں نیکی کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں۔ دن ہو یا رات، صبح ہو یا شام، سحر کا وقت ہو یا افطار کا لمحہ، ہر گھڑی انسان کے لیے نیکی کرنے کا سنہری موقع موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے نیکیوں کے مواقع کبھی مہینوں کی صورت میں عطا فرماتا ہے، کبھی دنوں اور راتوں کی شکل میں۔ انہی مبارک مواقع میں سے ایک بابرکت مہینہ ماہِ رمضان ہے، جو عنقریب ہمارے درمیان جلوہ افروز ہونے والا ہے۔
یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے نیکی کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ ہم چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، کچھ حال کے علاوہ ہر حال میں نیکی کر سکتے ہیں۔ مگر افسوس! ہم میں سے بہت سے لوگ یہ مواقع ضائع کر کے گناہوں والی زندگی اختیار کر لیتے ہیں، رب کو ناراض کر دیتے ہیں، اپنے لیے جہنم کا راستہ خود بناتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارا طرزِ عمل بعض اوقات ایسا ہوتا ہے جیسے ہم خود ہی جہنم کی طرف جانے کے خواہشمند ہوں۔
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں انسان کا ہر لمحہ عبادت بن جاتا ہے۔ سونا بھی عبادت، اٹھنا بھی عبادت، بیٹھنا بھی عبادت، کھانا پینا بھی عبادت، جاگنا بھی عبادت، چلنا پھرنا بھی عبادت۔
اس مبارک مہینے کی فضیلت پر بے شمار احادیثِ طیبہ شاہد ہیں، اور قرآنِ کریم میں بھی اس کا ذکر واضح طور پر موجود ہے۔ اسی مہینے میں میرے رب کا پاکیزہ کلام قرآنِ مجید نازل ہوا۔ اسی مہینے میں مسلمان جماعت کی صورت میں تراویح ادا کرتے ہیں، اسی میں لوگ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے روزے رکھتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں، عبادت میں شوق و ذوق دکھاتے ہیں، اپنے اہلِ خانہ پر خرچ میں وسعت کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں اور اللہ کے قرب کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو صرف ایک فضیلت والا مہینہ نہیں بنایا بلکہ ان گنت عظمتوں اور برکتوں سے اسے نوازا ہے۔ احادیثِ مبارکہ ماہِ رمضان المبارک کی فضیلتوں سے بھری پڑی ہیں۔
ماہِ رمضان کیا ہے؟
رمضان ایسا بابرکت مہینہ ہے کہ اس کی ہر ساعت رحمتوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں نیکیوں کا اجر ستر (70) گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور گناہوں کی معافی کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ اگر لوگ رمضان کی حقیقت اور اس کی فضیلت کو جان لیں تو میری امت کی یہ خواہش ہوگی کہ سارا سال رمضان ہی رہے۔ [ابن خزیمہ، کتاب الصیام، باب ذکر تزیین الجنۃ۔۔۔ الخ، ج: 3، ص: 190، حدیث: 1886]
ماہِ رمضان کہنے کی وجہ اور معنی:
لفظ رمضان ”رَمَضَ“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی گرمی اور تپش سے جلنے کے ہیں۔ عربوں کے یہاں مہینوں کے نام اس وقت کے موسم کے اعتبار سے رکھے جاتے تھے۔ جب اس مہینے کا نام رکھا گیا، اس زمانے میں گرمی پڑ رہی تھی، اس لیے اسے ”رمضان“ کا نام دے دیا گیا۔ [النہایۃ لابن الاثیر، باب الراء مع المیم، ج: 2، ص: 240]
لفظ ”رمض“ کا ماہِ رمضان کے ساتھ مناسبت یوں ہے کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے، اسی نسبت سے اسے ”رمضان“ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ حدیثِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس مہینے کو رمضان اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ گناہوں کو جلا کر ختم کر دیتا ہے۔ [کنز العمال، کتاب الصوم، باب فی صوم، جزء: 8، ج: 4، ص: 217، حدیث: 23683]
ماہِ رمضان کے دیگر اسماء:
مفسرِ شہیر، حکیم الامت، حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں: اس ماہِ مبارک کے کل چار نام ہیں: (1) ماہِ رمضان (2) ماہِ صبر (3) ماہِ مواسات اور (4) ماہِ وسعتِ رزق۔
مزید فرماتے ہیں: روزہ صبر ہے جس کی جزا ربِ عزوجل ہے اور وہ اس مہینے میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے اسے ماہِ صبر کہتے ہیں۔ مواسات کے معنی ہیں بھلائی کرنا۔ چونکہ اس مہینہ میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہل قرابت سے بھلائی کرنا زیادہ ثواب ہے اس لیے اسے ماہِ مواسات کہتے ہیں۔ اس میں رزق کی فراخی بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھا لیتے ہیں، اسی لیے اس کا نام ماہِ وسعتِ رزق بھی ہے۔ [تفسیر نعیمی، ج: 2، ص: 208]
رمضان نہیں بلکہ ماہِ رمضان:
حضرت سیدنا امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: رمضان نہ کہو، بلکہ ماہِ رمضان کہو کیونکہ یہ اللہ پاک کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ [احیاء العلوم، کتاب اسرار الزکاۃ، بیان دقائق الآداب الباطنۃ فی الزکاۃ، ج: 1، ص: 289]
رمضان کے پانچ حروف کی برکات:
رمضان کے لفظ میں پانچ حروف ہیں: ر، م، ض، ا، ن۔ علمائے کرام نے ان حروف سے خوبصورت معانی اخذ کیے ہیں: ”ر“ سے مراد رحمتِ الٰہی عزوجل، ”م“ سے مراد محبتِ الٰہی تعالیٰ، ”ض“ سے مراد ضمانتِ الٰہی تبارک و تعالیٰ، ”ا“ سے مراد امانِ الٰہی عزوجل، ”ن“ سے مراد نورِ الٰہی تعالیٰ۔ اسی طرح رمضان المبارک میں پانچ خصوصی عبادات انجام دی جاتی ہیں: (1) روزہ (2) تراویح (3) تلاوتِ قرآن (4) اعتکاف (5) شبِ قدر کی عبادات۔
لہٰذا جو شخص اخلاصِ نیت کے ساتھ ان پانچ عبادات کو ادا کرتا ہے، وہ ان پانچ عظیم انعامات—رحمت، محبت، ضمانت، امان اور نورِ الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے۔
قرآن میں ماہِ رمضان:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ.
ترجمہ: ”رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے۔) تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور (یہ آسانیاں اس لیے ہیں) تاکہ تم (روزوں کی) تعداد پوری کر لو اور تاکہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔“ [البقرۃ: 185]
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ مجید رمضان المبارک کے مہینے میں نازل ہوا۔ رمضان وہ واحد مہینہ ہے جس کا نام قرآنِ مجید میں آیا ہے، اور قرآن سے نسبت کی وجہ سے ماہِ رمضان کو خاص عظمت اور شرافت حاصل ہوئی۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ جس وقت یا دن کو کسی شرف یا عظمت والی چیز سے نسبت مل جائے، وہ قیامت تک شرف والا رہتا ہے۔ اسی طرح جس دن اور گھڑی کو حضور پُرنور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت یا معراج سے نسبت ہے، وہ بھی عظمت اور شرافت والے بن گئے، جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے دن جمعہ کے دن کو بھی برکت اور عظمت حاصل ہوئی۔
ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے جس کی شان اور فضیلت کے بارے میں قرآن پاک میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت میں ماہِ رمضان کی دو اہم فضیلتیں بیان ہوئی ہیں: (1) اس مہینے میں قرآن نازل ہوا۔ (2) روزوں کے لیے اسی مہینے کا انتخاب کیا گیا۔
ماہِ رمضان کے فضائل حدیث کی روشنی میں:
1. رب خود بدلہ دے گا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ.
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اسی کے لیے ہے، سوائے روزے کے پس وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔“ [مسند الامام الاعظم، ص: 282]
اس حدیثِ مبارکہ میں روزہ دار کے لیے بے حد عظیم خوشخبری ہے کہ خود خالقِ کائنات اس کے روزے کا بدلہ عطا فرمائے گا۔ یہ بات سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی سی مثال ذہن میں رکھیں: اگر دنیا کا کوئی بادشاہ کسی عام انسان سے کہے کہ میں تمہیں تمہارے کام کا بہترین انعام دوں گا، تو وہ شخص خوشی سے بے خود ہو جائے گا اور پورے اخلاص کے ساتھ وہ کام انجام دے گا۔ اس کے دل میں یہ یقین بیٹھ جائے گا کہ بادشاہ مجھے یقیناً وہ نعمت دے گا جو شاید مجھے کبھی زندگی میں کسی نے نہ دی ہو۔ اب ذرا غور کیجیے! جب ایک ملک کا بادشاہ اتنا بڑا انعام دے سکتا ہے تو پھر بادشاہوں کے بادشاہ، رب العالمین، ساری کائنات کے مالک کا انعام کس قدر عظیم اور بے مثال ہوگا؟ وہ انعام یقیناً ایسا ہے جس کا تصور بھی انسانی عقل نہیں کر سکتی۔
2. بخشش کی خوشخبری:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ذَاكِرُ اللهِ فِي رَمَضَانَ يُغْفَرُ لَهُ وَسَائِلُ اللهِ فِيهِ لَا يَخِيبُ.
ترجمہ: ”رمضان میں ذکر اللہ عزوجل کرنے والے کو بخش دیا جاتا ہے اور اس مہینے میں اللہ تعالیٰ سے مانگنے والا محروم نہیں رہتا۔“ [شعب الایمان، ج: 3، ص: 311، حدیث: 3627]
قارئینِ ذی وقار! رمضان المبارک جیسے مبارک مہینے کو ہرگز گناہوں میں ضائع نہ کریں۔ اپنی زبان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے پیارے ذکر سے تر رکھیں—کبھی درودِ شریف کی کثرت، کبھی ”لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ“ کی تکرار… الغرض جس قدر اذکار ممکن ہوں، ضرور کرتے رہیے۔ اسی طرح کوشش کیجیے کہ اس بابرکت مہینے میں اپنے رب سے وہ قیمتی چیزیں طلب کریں جن کا فائدہ نہ صرف دنیا میں ملے بلکہ آخرت میں بھی بے شمار اجر و سعادت کا باعث بنے۔ یہی رمضان کا اصل حسن اور حقیقی فائدہ ہے۔
3. پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
یعنی: ”جو مسلمان رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [صحیح بخاری، کتاب الصوم، باب من صام رمضان ایماناً… الخ، ج: 1، ص: 626، حدیث: 1901، ملتقطاً]
اس حدیثِ پاک میں نیت کی اہمیت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ جس طرح نیت کے بغیر روزہ قائم ہی نہیں ہوتا، اسی طرح ثواب اور خیر کی نیت کے بغیر روزہ رکھنا بھی انسان کو مغفرت اور اللہ کی رحمت سے محروم کر سکتا ہے۔ لہٰذا روزہ رکھتے وقت خالص نیت، اخلاص اور اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
4. دس لاکھ کی جہنم سے نجات:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل ماہِ رمضان میں ہر روز افطار کے وقت دس لاکھ ایسے گنہگار بندوں کو جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے جن پر ان کے گناہوں کی بنا پر جہنم واجب ہو چکی ہوتی ہے۔“
[کنز العمال، ج: 8، ص: 223، حدیث: 23716]
میرے محترم قارئینِ کرام! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر بے پایاں کرم فرماتا ہے کہ ماہِ رمضان المبارک میں روزانہ ایسے دس لاکھ افراد کو جہنم سے آزادی کا پروانہ عطا فرماتا ہے جن پر جہنم لازم ہو چکی ہوتی ہے۔ سوچیے! جہنم کس پر واجب ہوتی ہے؟ یقیناً ان گنہگاروں پر جو خدا کی نافرمانی کرتے رہے، اس کے احکام کو پسِ پشت ڈالتے رہے۔ لیکن اللہ رب العزت کی رحمت کا عالم دیکھیے کہ انہی نافرمانوں کو رمضان کے ہر دن جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے جن پر جہنم پہلے ہی مقرر ہو چکی ہوتی ہے۔ ہم دنیا کو دیکھتے ہیں کہ اگر ایک انسان کسی کی نافرمانی یا گستاخی کرے تو اکثر لوگ عمر بھر اسے معاف نہیں کرتے، اور اگر کبھی معاف کر دیں تو بھی اسے وہ مقام اور محبت نہیں دیتے جو پہلے حاصل تھی۔ مگر میرا رب! وہ غفور و رحیم ہے، بڑا مہربان ہے۔ وہ اپنے بندوں سے ناراض بھی ہو جائے تو رمضان کے مہینے میں روزانہ دس لاکھ نافرمانوں کو جہنم سے رہائی عطا فرماتا ہے اور انہیں اپنی رحمت کے دامن میں جگہ دیتا ہے۔ یہ ہے اللہ کی شانِ رحمت… اور یہی ہے رمضان کا اصل تحفہ۔
5. جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو خوشخبری سناتے ہوئے فرمایا:
”رمضان کا مہینہ آ گیا ہے، جو بے حد بابرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں۔ اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی ایک رات، شبِ قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو شخص اس سے محروم رہ جائے، وہ بڑی نعمت سے محروم ہو گیا۔“ [سنن نسائی، ج: 4، ص: 129]
محترم قارئینِ ذی وقار! اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر ماہِ رمضان المبارک میں روزہ فرض فرمایا ہے، اس لیے چاہیے کہ اس بابرکت مہینے میں ہم سے ایک بھی روزہ قضا نہ ہو۔ افسوس کہ بعض لوگ ایسے عظیم اور رحمتوں سے بھرے مہینے میں بھی نماز اور روزہ جیسی بنیادی عبادتوں کو ترک کیے رہتے ہیں اور گناہ والی زندگی کو معمول بنا لیتے ہیں۔
اکثر ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ جب شیطان رمضان میں قید ہوتا ہے تو پھر انسان گناہ کیسے کرتا ہے؟ اس کا جواب دو طرح سے سمجھا جا سکتا ہے:
پہلا جواب: عام طور پر وہی لوگ رمضان میں بھی گناہ کرتے نظر آتے ہیں جن کی پہلے ہی سے گناہ کرنے کی پکی عادت ہوتی ہے۔ ان کا نفس انہیں شیطان کے بغیر بھی برائی کی طرف کھینچ لیتا ہے۔
دوسرا جواب: رمضان المبارک میں گناہ وہی شخص کرتا ہے جو خود اپنی کوشش اور ارادے سے گناہ کی طرف بڑھتا ہے۔ یعنی وہ شیطانی وسوسوں کے بغیر بھی برا کام کرنے کا فیصلہ خود کرتا ہے۔
رمضان المبارک میں ایک ایسی عظیم رات بھی آتی ہے جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے۔ اس کی فضیلت قرآن و حدیث میں یوں بیان ہوئی ہے کہ شبِ قدر ”ہزار مہینوں سے بہتر“ ہے۔ جو شخص اس رات کی خیر و برکت سے محروم رہ گیا، وہ حقیقت میں بہت بڑی نعمت سے محروم ہو گیا۔ لہٰذا ہمیں اور آپ کو چاہیے کہ اس بابرکت رات میں خوب عبادت کریں، دل سے توبہ کریں، قرآن کی تلاوت کریں، ذکر کریں اور اپنے رب کے سامنے ایسے جھک جائیں کہ وہ ہماری اور آپ کی بخشش فرما دے۔
6. چار آسمانی کتابوں کا نزول:
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے رمضان المبارک کی پہلی رات نازل ہوئے۔ تورات شریف رمضان المبارک کی ساتویں رات، انجیل شریف چودہویں رات، جبکہ قرآن کریم پچیسویں رات نازل ہوا۔“ [مسند امام احمد، مسند الشامیین، ج: 6، ص: 44، حدیث: 16981]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زبور شریف رمضان المبارک کی چھ تاریخ کو نازل ہوا۔“ [مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب فضائل القرآن، فی القرآن متی نزل، ج: 15، ص: 528، حدیث: 30817، ملتقطاً]
ماہِ رمضان المبارک کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چاروں آسمانی کتابوں کا نزول اسی بابرکت مہینے میں فرمایا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہونے والے صحیفے بھی ماہِ رمضان المبارک ہی میں عطا کیے گئے۔ یہ سب باتیں اس مہینے کی شان اور اس کی فضیلت کو اور زیادہ روشن کر دیتی ہیں۔
7. ریان سے داخلہ:
پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”بے شک جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ’ریان‘ کہا جاتا ہے، اور قیامت کے دن روزہ دار اسی سے داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ فرمایا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ یہ لوگ کھڑے ہوں گے اور اس کے بعد کوئی اور اس دروازے سے داخل نہ ہوگا۔ جب یہ لوگ داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، اور پھر کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔“ [بخاری، کتاب الصوم، باب الریان للصائمین، ج: 1، ص: 625، حدیث: 1896]
قارئین کرام! یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ نیک اعمال کرنے والوں کے لیے جنت میں الگ الگ دروازے مقرر ہیں، اور روزہ داروں کے لیے بھی خاص ایک دروازہ ہے جسے ”بابُ الرَّیَّان“ کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم دروازہ صرف ان خوش نصیب لوگوں کے لیے کھولا جائے گا جو دنیا میں اخلاص کے ساتھ روزے رکھتے رہے۔
8. دعا قبول ہوتی ہے:
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”ہر روزہ دار کی ایک دعا قبول ہوتی ہے، (اگر وہ چاہے کہ اس کی دعا رمضان کی ہر رات قبول ہو) تو افطار کے وقت یہ دعا کرے: يَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَةِ اِغْفِرْ لِي (یعنی: اے وسیع مغفرت والے! مجھے بخش دے)۔“
[ابن ماجہ، کتاب الصوم، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ، ج: 2، ص: 350، حدیث: 1753]
بعض لوگ شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ہائے! میری دعا قبول نہیں ہوتی، میں تو بہت دعا مانگتا ہوں مگر اثر نہیں ہوتا۔“ ایسے ہر شخص کے لیے ماہِ رمضان المبارک ایک سنہری موقع لے کر آتا ہے۔ اگر کسی کو اپنی دعا کی عدمِ قبولیت کا احساس ہو تو وہ رمضان میں افطار کے وقت دعا مانگے، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کا نہایت بابرکت لمحہ ہے۔ البتہ ایک بات یاد رہے! دعا کرنے بیٹھیں تو سب سے پہلے اپنے لیے مغفرت کی دعا مانگیں، کیونکہ جب دل پاک ہوتا ہے اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو دعاؤں کے دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
9. تمام گناہ معاف:
اللہ کریم کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے تم پر فرض کیے اور میں نے تمہارے لیے رمضان کا قیام (تراویح) فرض قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو شخص رمضان میں روزے رکھے اور ایمان کے ساتھ، ثواب کی نیت سے قیام کرے (یعنی تراویح پڑھے)، وہ اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے آج وہ اپنی ماں کے رحم سے پیدا ہوا ہو۔“
[سنن نسائی، کتاب الصیام، ذکر الاختلاف یحییٰ بن… الخ، ص: 369، حدیث: 2207]
ماہِ رمضان المبارک میں ہرگز تراویح کا تارک نہ بنیں۔ میں نے خود ایک صاحبِ علم، پڑھے لکھے عالمِ دین کو دیکھا جو تراویح کی نماز چھوڑ دینے کا معمول رکھتے تھے۔ یہ طرزِ عمل درست نہیں۔ آپ نے ایسی کوتاہی ہرگز نہیں کرنی۔ تراویح رمضان کا اہم تحفہ ہے، اس سے محروم ہونا خسارے کا سودا ہے۔
10. روزہ ڈھال ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”الصِّيَامُ جُنَّةٌ“ (یعنی روزہ ڈھال ہے)۔
[بخاری، باب فضل الصوم، حدیث: 1108]
صحیح بخاری کی روایت میں یہ ذکر نہیں آیا کہ روزہ کس چیز سے ڈھال ہے، مگر ترمذی کی روایت میں بیان ہے: ”مِنَ النَّارِ“ یعنی روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے۔
الحاصل:
ماہِ رمضان المبارک ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جس میں ہر نیک عمل کا اجر ستر (70) گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس مہینے کی برکتوں کا یہ عالم ہے کہ بندہ روزہ، تراویح، تلاوتِ قرآن، اعتکاف اور شبِ قدر کی عبادات کے ذریعے رحمت، محبتِ الٰہی، ضمانتِ خداوندی، امان اور نورِ الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے۔
”رمضان“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا معنی ”جلانے“ کے ہیں، اور یہ مہینہ گناہوں کو جلا کر انسان کو پاک کر دیتا ہے۔ رمضان کے چار نام بیان کیے گئے ہیں: (1) ماہِ رمضان، (2) ماہِ صبر، (3) ماہِ مواسات، (4) ماہِ وسعتِ رزق۔
اسے صرف ”رمضان“ نہیں بلکہ ماہِ رمضان کہنا مناسب ہے۔ قرآنِ کریم میں مہینوں میں سے صرف اسی مہینے کا نام لیا گیا ہے۔
اس مہینے کی خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ روزہ دار کو اللہ تعالیٰ خود اپنی طرف سے جزا عطا فرماتا ہے۔ ذکر کرنے والے کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ مانگنے والا خالی نہیں لوٹایا جاتا۔ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ روزانہ دس لاکھ جہنمیوں کو جہنم سے نجات دی جاتی ہے۔ جہنم کے دروازے بند، آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ اسی مہینے میں شبِ قدر آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اسی ماہ میں چاروں آسمانی کتابوں کا نزول ہوا۔ روزہ دار قیامت کے دن جنت میں ”بابُ الرَّیان“ نامی دروازے سے داخل ہوگا۔ جو شخص ماہِ رمضان میں روزے رکھے اور تراویح ادا کرے، وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اس کی ماں نے جنا ہو۔ افطار کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ روزہ انسان کے لیے جہنم سے ڈھال ہے۔
