| عنوان: | زندگی اور وقت کا حساب |
|---|---|
| تحریر: | سیدہ عائشہ رضویہ |
کسی نے بالکل سچ کہا ہے کہ جو چیز بغیر محنت کے ہمیں حاصل ہو جائے، اس کی وہ قدر نہیں رہتی جو ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر ہوا جو ہمیں ہر وقت میسر ہے، ہم اس کی اہمیت نہیں سمجھتے، لیکن جب سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے تو تب ہمیں آکسیجن کی اصل قیمت کا احساس ہوتا ہے۔
اسی طرح صحت کو ہی دیکھ لیں۔ جب تک صحت ٹھیک رہتی ہے، ہم اس کی کوئی پروا نہیں کرتے، اپنی توانائی فضول کاموں میں ضائع کرتے رہتے ہیں، گھومنا پھرنا، موج مستی کرنا۔ لیکن جب بیماری ہمیں آ گھیرتی ہے اور ہم بستر سے لگ جاتے ہیں، تب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے بے بس ہو گئے ہیں۔ پھر بس افسوس رہ جاتا ہے کہ کاش! جب صحت تھی تو کچھ بہتر کر لیتے، اپنی طاقت کو صحیح جگہ استعمال کرتے۔
اسی طرح ایک اور نہایت قیمتی نعمت وقت ہے، جو ہمیں مفت میں ملتا ہے۔ مگر ہم اس کی بھی کتنی ناقدری کرتے ہیں۔ فضول کاموں میں وقت گزار دینا، ضروری کاموں کو ٹالتے رہنا، اور ہر کام وقت پر نہ کرنا۔ اور جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچا ہے کہ جو وقت ہمیں ملا، ہم نے اس کا کتنا صحیح استعمال کیا اور کتنا ضائع کر دیا؟
نگاہِ نبوت میں وقت کی قدر و قیمت:
وقت کی قدر دانی اور اہمیت سمجھانے والی سب سے عظیم ہستی، حضور نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ ھَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ.
ترجمہ: ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: (1) اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، (2) اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، (3) اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، (4) اپنی فرصت کو اپنی مصروفیت سے پہلے، اور (5) اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔“ [المستدرک، ج: 5، ص: 435، حدیث: 7916]
وقت کی اہمیت اور اس کے صحیح استعمال سے اکثر لوگ غفلتوں کا شکار ہیں، لیکن اس کے متعلق حضور تاجدارِ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ: اَلصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ.
ترجمہ: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فراغت۔“ [صحیح بخاری، ج: 4، ص: 222، حدیث: 6412]
زندگی میں ناکامی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن ان سب میں سب سے بڑی وجہ وقت کی ناقدری اور اس کا غلط استعمال ہے۔ لیکن آج کل اکثریت ایسی ہو گئی ہے کہ وہ اس طرف توجہ کرتے ہی نہیں ہیں بلکہ جیسا چل رہا ہے ویسے ہی چلتے جاتے ہیں، اور وقت ضائع ہونے پر ان کو فرق تک نہیں پڑتا۔
وقت ضائع ہونے پر ندامت کے متعلق صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی ملاحظہ فرمائیں:
مَا نَدِمْتُ عَلَى شَيْءٍ نَدْمِي عَلَى يَوْمٍ غَرَبَتْ شَمْسُهُ، نَقَصَ فِيْهِ اَجَلِي وَلَمْ يَزِدْ فِيْهِ عَمَلِی.
ترجمہ: ”مجھے اس سے زیادہ ندامت و افسوس کسی اور چیز پر نہیں ہوتا کہ جس دن کا سورج اس حال میں غروب ہو جائے کہ میری عمر تو گھٹ جائے مگر میرے عمل میں اضافہ نہ ہو سکے۔“ [قيمة الزمن عند العلماء، ص: 27]
اسلام نے ہمیں زندگی کے ہر پہلو پر رہنمائی عطا فرمائی ہے۔ انہی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وقت کی قدر اور اس کی اہمیت بھی ہے۔
اب ایک سوال آتا ہے کہ ہم کس طرح وقت کا صحیح استعمال کریں؟ کہاں سے آغاز کریں اور کس طرح کام کریں؟
تو اس کا بس یہی جواب ہے کہ ہم بھی وہی طریقہ اختیار کریں جو ہمارے بزرگ عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنا نظام الاوقات (Schedule) بنائیں۔ صبح سے لے کر رات تک کا شیڈول طے کریں، وقت کو تقسیم کریں۔ کام، پڑھائی، ذکر و اذکار اور اہلِ خانہ کے لیے وقت مقرر کریں۔
اور رات کو اپنا محاسبہ کریں کہ آج آپ نے کیا کام کیا؟ آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ اب تک ہم اپنا کتنا وقت ضائع کرتے رہے، لیکن اپنا شیڈول بنانے کی وجہ سے اب ہمیں ہماری زندگی بامعنی نظر آنے لگے گی۔ منصوبہ بندی نہایت ہی ضروری ہے کہ کس وقت میں کون سا کام کرنا ہے، یہ سب پہلے سے ہی طے کر لیں اور ایک وقت میں ایک ہی کام کیا جائے۔
نظام الاوقات کے فوائد:
- شیڈول بنانے سے وقت بچے گا، ہر کام وقت پر ہوگا اور نئے منصوبوں کے لیے عزم و حوصلہ ملے گا۔
- اہم اور غیر ضروری کاموں کی درجہ بندی ہو جائے گی۔
- ذہنی سکون حاصل ہوگا۔
اور اس کے علاوہ بھی بے شمار فوائد آپ کو آہستہ آہستہ نظر آنے لگیں گے۔ اللہ رب العزت ہمیں وقت کی قدر و قیمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
