| عنوان: | کوثر الخیرات لسید السادات صلی اللہ علیہ والہ وسلم“ کے مطالعے کی چند جھلکیاں |
|---|---|
| تحریر: | شمائلہ افضل عطاریہ مدنیہ، لاہور |
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ
سورۂ کوثر قرآنِ کریم کی مختصر ترین سورت ہے جو تین آیات پر مشتمل ہے اور کل بیالیس حروف کا مجموعہ ہے، لیکن معانی و مطالب، لطائف و حقائق اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے بحرِ ناپیدا کنار ہے۔
یہ سورۂ کریمہ محبوبِ خدا علیہ التحیۃ والثناء کے حسن و جمال اور رفعت و کمال کا ایک گلدستہ ہے، اور رب العزت کے لطف و کرم، انعام و اکرام اور تعظیم و توقیر کا اعلیٰ نمونہ، بلکہ سیادت و قیادتِ کائنات کا عظیم منشور ہے۔ ہر مرتبۂ عالی، ہر درجۂ بلند، ہر مقامِ رفیع اور منصبِ منیع کی عطا و بخشش کا اس میں اعلان ہے۔
”إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ“ فرمانے میں دس حکمتیں (باعتبارِ لفظ):
- اللہ کریم خطاب فرمانے والا ہے اور محبوب مخاطب ہیں، اور اندازِ خطاب ایسا ہے کہ درمیان میں کوئی پردہ اور حجاب حائل نہ ہو۔
- جمع کا صیغہ استعمال فرمایا، اس میں اشارہ ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم! تیری تعظیم و توقیر میں، میں اکیلا نہیں بلکہ میں نے تو اپنی ساری مخلوق پر تمہاری خدمت و اطاعت لازم کر دی ہے۔
- جمع کا صیغہ استعمال فرمانے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ عزوجل واحد و یکتا ہے مگر تمام قوتوں اور طاقتوں کا مجموعہ ہے۔
- احکم الحاکمین، رب العالمین نے اپنے رسولِ عظیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو براہِ راست اپنے دستِ قدرت سے خزائنِ ملکوت و ملک عطا فرمائے۔
- ہر ایک کو یقین ہو جائے کہ اب اس ہدیے اور نعمت میں رجوع نہیں ہوگا، بلکہ یہ انعام و اکرام ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سید الانام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حاصل رہے گا۔
- اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا کہ ”ہم عطا کریں گے“ بلکہ فرمایا: ”ہم نے عطا کر دیا۔“
- مقامِ عطا و بخشش میں اپنے حبیب کے کسی منصب کا ذکر نہیں فرمایا، بلکہ اسمِ ضمیر کو ذکر کیا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے کہ منصب و عہدہ نہ بھی ہوتا، نبوت و رسالت کی ذمہ داری نہ بھی ہوتی، تو بھی دنیا و آخرت کی تاجداری انہی کے ساتھ خاص ہوتی۔
- مقامِ عطا میں حبیبِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سوال اور مطالبے کو ذکر نہ فرمایا، ورنہ کوئی کہتا کہ یہ عطا اس سوال کے مطابق ہوئی ہوگی۔
- لفظ ”اِنَّ“ (نون مشدد) کے ساتھ ابتدا کی گئی، تاکیدیں ذکر فرما کر پہلے اپنا ذکر فرمایا کہ عطیے کو دیکھنے سے پہلے عطا کرنے والے کو دیکھو کہ وہ کتنا عظیم ہے، کس قدر سچے قول اور پکے وعدے والا ہے، لہٰذا کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مقام میں انکار اور بے یقینی کی راہ چلے۔
- ”ہم نے آپ کو کوثر اور خیرِ کثیر عطا فرمائی“، حالانکہ مقام کا تقاضا تھا کہ عطا و بخشش کا ذکر پہلے کیا جاتا اور عطا فرمانے والے جواد و کریم کا ذکر بعد میں ہوتا، لیکن اس مربیِ حقیقی نے اپنا ذکر پہلے فرمایا اور عطیے کو بعد میں ذکر کیا، اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ تعلیم دی کہ: ”تمہیں ملکوت و ملک کا مالک و مختار بنایا ہے، مگر تمہارا مطلوب و مقصود صرف میری ذات ہونی چاہیے۔“
لفظِ ”کوثر“ کے معانی:
لفظ ”کوثر“ کے مفسرینِ کرام نے بہت سے معانی و مطالب بیان فرمائے ہیں، اور ہر معنی قدرِ محبوب کے لائق ہے اور ہر ایک ان کی ذاتِ والا صفات کو حاصل ہے۔
کوثر کا لغوی معنی ہے ”کثرت“۔ وہ کثرت جو اعداد و شمار اور گنتی و حساب سے باہر ہو۔
- کوثر بمعنی نہرِ جنت
- کوثر بمعنی حوضِ کوثر
- کوثر بمعنی اولادِ امجاد
- کوثر بمعنی اولیاء و علماء
- کوثر بمعنی قرآنِ کریم
- کوثر بمعنی دینِ اسلام
- کوثر بمعنی رفعتِ ذکرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
- کوثر بمعنی اخلاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
- کوثر بمعنی علومِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
- کوثر بمعنی مقامِ محمود
- کوثر بمعنی شفاعتِ عظمیٰ
- کوثر بمعنی معجزات، خصائصِ اعضائے مبارکہ، فضلاتِ شریفہ
- کوثر بمعنی نورِ قلبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم
- کوثر بمعنی ختمِ نبوت
- کوثر بمعنی الخیر الکثیر اور جمیع کمالات
