| عنوان: | خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسطِ اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | ابو احمد محمد انس قادری |
| پیش کش: | ناصرین فاطمہ رضویہ |
ابراہیم خارجی کا عقیدہ تھا کہ دیگر تمام مسلمان کافر ہیں اور ہم کو ان کے ساتھ سلام و دعا کرنا اور نکاح و رشتہ داری جائز نہیں، اور نہ ہی میراث میں ان کا حصہ بانٹ کر دینا درست ہے۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے بچوں اور عورتوں کا قتل بھی جائز تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یتیم کا مال کھانے پر آتشِ جہنم کی وعید سنائی ہے، لیکن اگر کوئی شخص یتیم کو قتل کر دے یا اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے یا اس کا پیٹ پھاڑ ڈالے تو جہنم واجب نہیں۔
نافع بن ازرق خارجی اور اس کے ساتھی یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ جب تک ہم شرک کے ملک میں ہیں، تب تک مشرک ہیں، اور جب ملکِ شرک سے نکل جائیں گے تو مومن ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس کسی سے گناہِ کبیرہ سرزد ہو وہ مشرک ہے، اور جو ہمارے اس عقیدے کا مخالف ہو وہ بھی مشرک ہے۔ جو لڑائی میں ہمارے ساتھ نہ ہو وہ کافر ہے۔
خوارج کی شاخیں
خوارج کی بارہ شاخیں حسبِ ذیل ہیں:
- ازرقیہ
- اباضیہ
- ثعلبیہ
- حازمیہ
- خلفیہ
- کوزیہ
- کنزیہ
- شمراخیہ
- اخنسیہ
- محکمیہ
- معتزلہ حروریہ
- میمونیہ
(1) فرقہ ازرقیہ:
اس فرقے کا بانی ابوراشد نافع بن ازرق خارجی تھا۔ اس فرقے کا زعم یہ تھا کہ ہم لوگوں کو اپنے سوا کوئی مومن دکھائی نہیں دیتا، انہوں نے اہلِ قبلہ کو کافر قرار دے دیا تھا... حالانکہ اس زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت اور بکثرت تابعین موجود تھے، اس طرح ان کے عقیدے کے مطابق سب ہی معاذ اللہ کافر قرار پائے۔ اسلاف نے خارجیوں کی اس وجہ سے تکفیر کی ہے کہ یہ خارجی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ چنانچہ بزازیہ میں ہے: يَجِبُ إِكْفَارُ الخَوَارِجِ فِي إِكْفَارِهِمْ جَمِيْعَ الأُمَّةِ سِوَاهُمْ ترجمہ: خارجیوں کو کافر کہنا واجب ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے سوا تمام امت کو کافر کہتے ہیں۔ [فتاویٰ بزازیہ، الباب الرابع فی المرتد، ج: 6، ص: 318، نورانی کتب خانہ، پشاور]
(2) فرقہ اباضیہ:
فرقہ اباضیہ کا بانی عبداللہ بن اباض تھا جس کا قول تھا کہ جو ہمارے قول کے مطابق ہو وہ مومن ہے اور جو ہم سے پھرے وہ منافق... یعنی یہ خود کو دین کے ٹھیکیدار سمجھتے ہیں کہ جو ان کے باطل عقائد پر ہو وہی مسلمان ہے، جو ان سے پھرے وہ منافق و بے دین ہو گیا۔ مسلمان کو بلاوجہ کافر، منافق و فاسق کہنے کے متعلق حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وَلَا يَرْمِي رَجُلًا بِالْفِسْقِ وَلَا يَرْمِيْهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا رُدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُه كَذٰلِكَ ترجمہ: جو شخص کسی کو کافر یا دشمنِ خدا کہے اور وہ ایسا نہ ہو، یہ کہنا اسی پر پلٹ آئے اور کوئی شخص کسی کو فسق یا کفر کا طعن نہ کرے گا مگر یہ کہ وہ اسی پر الٹا پھرے گا اگر جس پر طعن کیا تھا ایسا نہ ہوا۔ [کنز العمال، کتاب الدعویٰ، دعوی النسب، ج: 6، ص: 273، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت] انہی خارجیوں کی نسل موجودہ دور میں ہے جو بات بات پر مسلمانوں کو مشرک و بدعتی ٹھہراتی ہے۔
(3) فرقہ ثعلبیہ:
فرقہ ثعلبیہ کا بانی ثعلبہ بن مشکان تھا، اس گمراہ فرقے کا اعتقاد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ کچھ جاری کیا اور نہ تقدیر میں مقدر کیا... یعنی ان کے نزدیک جو کچھ ہو رہا ہے وہ خود بخود ہو رہا ہے، تقدیر میں کچھ نہیں، گویا یہ تقدیر کے منکر ہیں۔ اہلِ سنت کے نزدیک اللہ عزوجل نے انسان کا رزق، موت وغیرہ مقدر کیا ہوا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماں کے پیٹ میں ہونے والا بچہ جب چار ماہ کا ہو جاتا ہے: ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيْهِ الرُّوْحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِه، وَأَجَلِه، وَعَمَلِه، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيْدٌ ترجمہ: پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ چار باتیں بتا کر بھیجتا ہے تو وہ فرشتہ اس کے کام، اس کی موت، اس کا رزق، اور بدبخت ہے یا نیک بخت ہے، سب کچھ لکھ جاتا ہے۔ [صحیح مسلم، کتاب القدر، ج: 4، ص: 2036، دار احیاء التراث العربی، بیروت]
(4) فرقہ حازمیہ:
فرقہ حازمیہ کا بانی حازم بن علی تھا، اس فرقے کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ہم نہیں جان سکتے کہ ایمان کیا چیز ہے اور مخلوق بیچاری سب معذور ہے کیونکہ ایمان کی پہچان ان کے لیے محال ہے... اہلِ سنت کے نزدیک ایمان کسی نشانی کا نام نہیں ہے کہ جس سے حکم لگایا جا سکے کہ یہ مومن ہے یا نہیں؟ ایمان تصدیق کا نام ہے۔ شرح عقائد نسفیہ میں ہے: الإِيْمَانُ فِي الشَّرْعِ هُوَ التَّصْدِيْقُ بِمَا جَاءَ بِه مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ تَعَالَى أَيْ تَصْدِيْقُ النَّبِيِّ بِالْقَلْبِ فِي جَمِيْعِ مَا عُلِمَ بِالضَّرُوْرَةِ ترجمہ: اصطلاحِ شرع میں اللہ عزوجل سے جو آیا اس کی تصدیق کرنے کا نام ایمان ہے یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ان تمام باتوں میں دل سے تصدیق کرنا جن کا ضروریاتِ دین سے ہونا معلوم ہے۔ [شرح العقائد النسفیۃ، ص: 149، مکتبہ رحمانیہ، لاہور]
شریعت نے ہمیں ایمان کے متعلق رہنمائی فرما دی ہے۔ ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین میں ہیں جیسے اللہ عزوجل کی وحدانیت، انبیاء کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا۔ البتہ ہم کسی مومن کے متعلق یہ حکم نہیں لگا سکتے کہ وہ ایمان والا نہیں، جب تک اس سے کوئی ظاہرِ کفر سرزد نہ ہوا ہو۔
(5) فرقہ خلفیہ:
فرقہ خلفیہ جس کا بانی خلف خارجی تھا، اس کا قول تھا کہ جس کسی نے جہاد چھوڑا وہ کافر ہے، خواہ مرد ہو یا عورت... اہلِ سنت کے نزدیک جہاد ابتداءً فرضِ کفایہ ہے کہ ایک جماعت نے کر لیا تو سب بری الذمہ ہیں، اور سب نے چھوڑ دیا تو سب گنہگار ہیں۔ اگر کفار ہجوم کر آئیں تو اس وقت فرضِ عین ہے، یہاں تک کہ عورت اور غلام پر بھی فرض ہے۔ لیکن اس وقت بھی اس کا ترک گناہِ کبیرہ ہے، اور کبیرہ گناہ سے بندہ کافر نہیں ہوتا۔ شرح العقائد النسفیہ میں ہے: الْكَبِيْرَةُ الَّتِيْ هِيَ غَيْرُ الْكُفْرِ لَا تُخْرِجُ الْعَبْدَ مِنَ الْإِيْمَانِ لِبَقَاءِ التَّصْدِيْقِ الَّذِيْ هُوَ حَقِيْقَةُ الْإِيْمَانِ ترجمہ: وہ کبیرہ گناہ جو غیر کفر ہیں، ان کے کرنے سے مسلمان ایمان سے خارج نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں حقیقتِ ایمان کی تصدیق باقی رہتی ہے۔ [شرح العقائد النسفیۃ، ص: 135، مکتبہ رحمانیہ، لاہور]
سنن نسائی کی حدیث ہے: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهٗ بِغَزْوٍ، مَاتَ عَلٰى شُعْبَةِ نِفَاقٍ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جو اس حال میں مرا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور نہ اس کی نیت کی، وہ نفاق کے شعبوں میں سے ایک شعبہ پر مرا۔ [سنن النسائی، التشدید فی ترک الجہاد، ج: 6، ص: 8، مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب] اس حدیثِ پاک میں صاف صاف جہاد چھوڑنے کو غیر کفر کہا ہے۔
(6) فرقہ کوزیہ:
اس فرقے کے عقیدے کے مطابق کسی کا دوسرے کو چھونا روا (یعنی جائز) نہیں کیونکہ ہمیں نجس و ناپاک کی شناخت واقعی نہیں ہو سکتی، اور جب تک ہمارے سامنے کوئی غسل کر کے توبہ نہ کرے، اس وقت تک اس کے ساتھ کھانا جائز نہیں... اہلِ سنت کے نزدیک جس پر غسل فرض ہو، اسے چھونے سے ہاتھ ناپاک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ساتھ کھانا ناجائز ہے۔ بخاری کی حدیث ہے: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ لَقِيَنِيْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِيْ، فَمَشَيْتُ مَعَهٗ حَتّٰى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ، فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ، فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَقُلْتُ لَهٗ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ملے، حالانکہ میں ناپاک تھا۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں آپ کے ساتھ چلا، حتیٰ کہ آپ بیٹھ گئے، میں چپکے سے نکل گیا، منزل میں آیا، غسل کیا، پھر حاضر ہوا، حالانکہ آپ تشریف فرما تھے، فرمایا: ”اے ابو ہریرہ کہاں تھے؟“ میں نے واقعہ عرض کیا، فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح بخاری، کتاب الغسل، باب الجنب...، ج: 1، ص: 65، دار طوق النجاۃ] اگر کوئی مسلمان کہے کہ میں نے غسل کیا ہے تو اس کی بات مان لی جائے گی، نہ یہ کہ اسے دھتکار کر اس کی دل آزاری کی جائے۔
(7) فرقہ کنزیہ:
ان کا قول ہے کہ کسی کو کچھ مال دینا حلال نہیں کیونکہ شاید وہ شخص اس مال کے پانے کا مستحق نہ ہو، ایسی صورت میں غیر مستحق کو دینا ظلم ہوگا اور اس ظلم کے گناہ سے وہ کافر ہو جائے گا۔ بلکہ واجب یہ ہے کہ مال کو خزانہ بنا کر زمین میں دفن کر دے، جب قطعی دلیل سے کوئی شخص سب سے زیادہ مستحق معلوم ہو تو اس کو دے... یہ گویا زکوٰۃ کی ادائیگی سے روگردانی اور انکار تھا۔ اہلِ سنت کے نزدیک اپنا مال امیر و غریب سب کو دینا جائز ہے، البتہ غریب مستحق کو دینا صدقہ ہے اور اپنے مال کی زکوٰۃ مستحق کو دینا فرض ہے۔ مستحق کے لیے کسی قطعی دلیل کی ضرورت نہیں بلکہ جس کا حال اس کے مستحق ہونے کی نشاندہی کرتا ہو اسے مال دے سکتے ہیں، اگر بعد میں وہ غیر مستحق بھی ظاہر ہو تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ غلطی سے غیر مستحق کو دینا ہرگز ظلم و کفر نہیں ہے بلکہ قصداً دینا بھی ظلم و کفر نہیں ہے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے غلطی سے چور کو صدقہ دیا، پھر اگلی رات زانیہ عورت کو دے دیا، پھر اگلی رات غنی کو صدقہ دے دیا تو اس کا صدقہ ضائع نہیں ہوا، بلکہ حدیث میں فرمایا گیا: فَقِيْلَ لَهٗ: أَمَّا صَدَقَتُكَ عَلٰى سَارِقٍ فَلَعَلَّهٗ أَنْ يَسْتَعِفَّ عَنْ سَرِقَتِه، وَأَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ عَنْ زِنَاهَا، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهٗ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللّٰهُ ترجمہ: اسے جواب میں کہا گیا کہ تیری خیرات جو چور پر گئی تو شاید وہ چوری سے باز رہے۔ زانیہ پر گئی تو شاید وہ زنا سے باز رہے۔ غنی پر گئی تو شاید وہ عبرت پکڑے اور اللہ کے دیے میں سے کچھ خیرات کرے۔ [صحیح بخاری، باب اذا تصدق علی غنی وھو لا یعلم، ج: 2، ص: 110، دار طوق النجاۃ]
(8) فرقہ شمراخیہ:
فرقہ شمراخیہ کا قول ہے کہ اجنبی عورتوں کے چھونے یا مساس کرنے سے کوئی ڈر نہیں اس لیے کہ عورتیں ریاحین بنائی گئی ہیں اور ریاحین کی خوشبو سونگھنا اور چھونا روا ہوتا ہے... اہلِ سنت کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، جب اجنبی عورت کو دیکھنے کی ممانعت ہے تو چھونے کی تو بدرجہ اولیٰ اجازت نہیں۔ غیر محرم کو چھونے کے متعلق سخت وعید ہے، چنانچہ حدیث میں ہے: مَنْ مَسَّ كَفَّ امْرَأَةٍ لَيْسَ مِنْهَا بِسَبِيْلٍ وُضِعَ عَلٰى كَفِّه جَمْرَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ترجمہ: جو کسی عورت کی ہتھیلی کو چھوئے گا (جو اس کے لیے حلال نہیں)، قیامت والے دن ضرور اس کے ہاتھ میں آگ کا انگارہ رکھا جائے گا۔ [الہدایۃ، کتاب الکراہیۃ، فصل فی النظر، ج: 4، ص: 368، دار احیاء التراث العربی، بیروت] آج کل کے بعض شہوت پسند لوگ بھی اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ عورت کو دیکھنا جائز ہے کہ عورت کا حسن دیکھ کر رب تعالیٰ کی قدرت یاد آتی ہے۔ انہیں رب تعالیٰ کی قدرت کسی کی ماں بیٹی کو ہی دیکھ کر کیوں یاد آتی ہے، اپنی کو کیوں نہیں؟ کوئی دوسرا ان کی ماں بیٹی کو دیکھے اس وقت انہیں کیوں برا لگتا ہے؟
(9) فرقہ اخنسیہ:
فرقہ اخنسیہ کے قول کے مطابق مرنے کے بعد میت کو کوئی بھلائی یا برائی لاحق نہیں ہوتی یعنی یہ لوگ قبر میں عذاب یا ثواب کے منکر ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک قبر میں عذاب و جزا کا ہونا قرآن و حدیث سے واضح ہے۔ قرآن پاک میں فرعونیوں کے عذابِ قبر کے متعلق ہے: اَلنَّارُ يُعْرَضُوْنَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَّعَشِيًّا ۚ وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ ۠ اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ترجمہ: آگ جس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی، حکم ہوگا فرعون والوں کو سخت تر عذاب میں داخل کرو۔ [غافر: 46]
(10) فرقہ محکمیہ:
یہ کہتے ہیں کہ جو کوئی کسی مخلوق سے فیصلہ کا خواہش مند ہو یعنی اس کو ثالث یا حکم بنائے تو وہ کافر ہے... اسی عقیدے کی بنیاد پر انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر قرار دیا تھا۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بھی اسی بنیاد پر ان کے نزدیک کافر تھے... اہلِ سنت کے نزدیک کسی کو ثالث بنانا جائز ہے۔ قرآن پاک میں میاں بیوی کی باہمی ناچاقی کی صورت میں دونوں طرف سے ثالث بنانے کا کہا گیا ہے۔ چنانچہ آیت ہے: وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ يُّرِيْدَاۤ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا خَبِيْرًا ترجمہ: اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے، یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کر دے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔ [النساء: 35]
(11) فرقہ معتزلہ حروریہ:
فرقہ معتزلہ حروریہ کا قول ہے کہ علی بن ابی طالب اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ ہم پر مشتبہ ہوا اس لیے ہم ان دونوں فریقوں سے بیزاری اور تبرا کرتے ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک یہ دونوں ہستیاں عظیم ہیں، یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں، ہمیں دونوں کی عزت و احترام کا حکم ہے، ان کی شان میں گستاخیاں کرنا ہلاکت ہے۔ ان کا جو باہم معاملہ ہوا، اس کے متعلق یہی نظریہ رکھا جائے کہ یہ عبداللہ بن سبا جیسے گمراہوں کا کام تھا۔ ہمیں یہ حکم ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا تذکرہ اچھے انداز میں کریں نہ کہ تاریخ کی دو چار کتابیں پڑھ کر جج بن جائیں کہ کونسا صحابی ٹھیک تھا اور کون غلط۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا تَذْكُرُوْا مَسَاوِئَ أَصْحَابِيْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ عَلَيْهِمْ، وَاذْكُرُوْا مَحَاسِنَ أَصْحَابِيْ حَتّٰى تَأْتَلِفَ قُلُوْبُكُمْ عَلَيْهِمْ ترجمہ: میرے صحابہ کے بارے میں اس طرح (برائیوں سے) تذکرہ نہ کرو کہ لوگوں کے دل ان کے خلاف ہو جائیں۔ میرے صحابہ کی اچھائیاں بیان کرو یہاں تک کہ تمہارے دل ان کے لیے نرم ہو جائیں۔ [کنز العمال، کتاب الفضائل، الفصل الاول، ج: 11، ص: 764، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت]
صحابہ کرام کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کے متعلق کنز العمال کی حدیث حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: كُلُّ النَّاسِ يَرْجُو النَّجَاةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ سَبَّ أَصْحَابِيْ فَإِنَّ أَهْلَ الْمَوْقِفِ يَلْعَنُوْنَهُمْ ترجمہ: ہر (مومن) شخص کی قیامت والے دن نجات ہے، سوائے اس کے جس نے میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو برا کہا۔ اہلِ موقف (جہنم والے بھی) ان پر لعنت کریں گے۔ [کنز العمال، کتاب الفضائل، فضائل الصحابۃ، ج: 11، ص: 769، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت]
(12) فرقہ میمونیہ:
فرقہ میمونیہ کا بانی میمون بن خالد تھا، یہ فرقہ کہتا ہے کہ کوئی امام نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہمارے چاہنے والے اس سے راضی نہ ہوں... اہلِ سنت کے نزدیک امامِ برحق سے بے دین راضی ہوں یا نہ ہوں امام کو کوئی فرق نہیں پڑتا。
[ماخوذ از: 73 فرقے اور ان کے عقائد]
