| عنوان: | علم کا اصل مقصد |
|---|---|
| تحریر: | خوشبو فاطمہ قادریہ (سنترامپور، مہی ساگر، گجرات) |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو، اس میں مؤمن کو خاص مقصد سے پیدا فرمایا۔ انسان، جن اور مؤمن کی ہدایت کے لیے قرآن مجید ہمارے آقا پر نازل فرمایا۔
قرآن مجید میں پہلی آیت ہی اِقْرَاْ یعنی ”پڑھو“ [العلق: 1] ہمارے آقا سرور کائنات پر نازل کردہ پہلی آیت۔ اس آیات سے مراد خاص قسم کا علم جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب کو عطا کیا۔ مؤمن کے لیے زندگی گزارنے کا آسان طریقہ قرآن مجید سے ملتا ہے۔
علم کے بہت سے اقسام ہیں اس پرفتن دور میں، لیکن یہاں پر اس علم کی بات کی جا رہی ہے، جو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
الرَّحْمٰنُ ۔ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔
ترجمہ کنزالایمان: رحمٰن نے۔ اپنے محبوب کو قرآن سکھایا۔ [الرحمن: 1, 2]
مؤمن کو قرآن مجید کا علم حاصل کرنا ضروری ہے، جس سے وہ اپنی مشکل تنگ زندگی کو آسان کر پائے۔ ہمارے لیے ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی نمونہ ہے، ان کے سیرت کے مطابق ہمیں زندگی گزارنی چاہیے تاکہ ہمیں آسانی ملے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
ہم سوچتے ہیں کہ علم سے مراد کون سا علم ہمارے لیے مقصود ہے؟
جواب میں یہی ملتا ہے کہ علم سے مراد وہ علم نہیں جو دنیاوی ڈگری سے حاصل ہوا، وہ علم جو ہمارے لیے فرض ہے، قرآن مجید کو تجوید اور قرأت کے فن کو سیکھنا، قرآن مجید کی آیات اور ترجمہ کو سمجھنا۔
جیسے جیسے انسان کی عمر گزرتی ہے، ویسے ہی اسے علم سیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ بچپن کیسے گزارنا ہے اس کے لیے علم سیکھنا، جوانی کیسے گزارنی ہے، بڑھاپا پھر قبر کو کیسے سنوارا جائے؟ یہ علم سیکھنا۔
زندگی کے ہر موڑ میں اسے علم کی ضرورت پڑتی ہے، اس حساب سے اسے علم سیکھنا چاہیے۔ علم سیکھنا جہالت سے دور کرتا ہے۔ معاشرے میں بہت سی خرابیاں صحیح علم نہ سیکھنے کی وجہ سے ہیں۔ فرض علوم سے ہمیں طہارت، نماز کا طریقہ، وغیرہ کا علم حاصل ہوتا ہے۔ جس کے حصول سے ہم رب کی طرف عبادت کریں اور لطف اٹھائیں گے۔
علم ہمیں جاہل سے مؤمن بناتا ہے۔ علم کا اصل مقصد صرف عبادت ہے۔ ہماری زندگی عبادت بھری بنانا ہے، تو ہمیں ہمارے نبی کی سنتوں کو عادت بنانا ہوگا۔ اور سنتوں کا پابند وہی بنے گا، جو فرض کی پابندی کرتا ہو۔ اور وہ ہی اہل سنت والجماعت ہیں، الحمدللہ۔
جس کے شب و روز عبادت ہیں۔ اس کی مثال کچھ اس طرح ہے: مؤمن صبح صادق میں اٹھتا ہے، وضو بناتا ہے، نماز پڑھتا ہے، پھر اپنے کام میں لگ جاتا ہے، پھر ظہر کی نماز ادا کرتا ہے، پھر کام میں لگ جاتا ہے، پھر عصر کا وقت ہوتا ہے نماز پڑھتا ہے، پھر دوسرے معاملات میں لگ جاتا ہے، پھر مغرب کا وقت ہوتا ہے پھر نماز میں لگ جاتا ہے، پھر عشاء کی نماز پڑھتا ہے، پھر صبح کی نماز کے لیے سو جاتا ہے۔ ایسے پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے، فجر کی نماز کے بعد ظہر کے انتظار میں جتنا وقت گزرا وہ سب عبادت ہے، ایسے مؤمن رات کو سوتا بھی ہے عبادت ہے۔
مؤمن کا ایک دن فجر سے فجر تک نماز کی فکر میں رہنا، اسے صحیح طریقہ سے ادا کرنا، 24 گھنٹے جو گزارے وہ سارے عبادت میں شمار ہیں۔ اتنا اجر کون دے گا آپ کو؟ صرف اور صرف ہمارا رب ہی۔
قرآن مجید میں ایک اور سورہ آئی ہے سورہ القلم۔ یہ اس بات کی صاف وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پڑھنے اور لکھنے کا حکم دیا۔
علم سیکھنا ہر مؤمن مسلمان پر فرض ہے۔ علم جہالت میں نور کو جگمگاتا ہے۔ اور سچ اور باطل میں فرق واضح کرتا ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے عمل بھی ختم ہو جاتے ہیں 1؎ سوائے تین اعمال کے ایک دائمی خیرات یا وہ علم جس سے نفع پہنچتا رہے یا وہ نیک بچہ جو اس کے لیے دعائے خیر کرتا رہے 2؎ (مسلم) [مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1, ص: 203]
اور علم وہ نور ہے وہ اخلاص کے موتی سے ہی چمکتا ہے۔ اگر آپ کی نیت علم سیکھ کر دنیا حاصل کرنا ہے، تو وہ علم آپ کو دنیا میں ہی کچھ حد تک دنیاوی فائدہ دے سکتا ہے؛ لیکن اس سے ہلاکت میں پڑنا ہی ہے۔
پڑھنے سے پہلے اپنے باطن کو صاف کر دے۔ اپنی نیتوں کو پاک کر لے۔ علم نافع کی نیت سے سیکھے یہ ہی سنتِ نبوی ہے۔
ایک حدیث شریف سے اپنی تحریر کا اختتام کرتی ہوں۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو تلاش علم میں نکلا وہ واپسی تک اللہ کی راہ میں ہے 1؎ [مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1, ص: 220]
اور ایک حدیث شریف:
عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
روایت ہے عمر ابن خطاب (راضی ہو اللہ ان پر) سے 1؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیتوں سے ہیں 2؎ ہر شخص کے لیے وہ ہی ہے جو نیت کرے 3؎ بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ و رسول ہی کی طرف ہوگی 4؎ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو 5؎ اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لیے کی 6؎ [مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج: 1, ص: 1]
مؤمن کے لیے علم سیکھنا جو ہمارے نبی نے ہم تک پہنچایا، عبادت ہے۔ علم سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں۔
اللہ کریم ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔
آمین
