Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسطِ سوم)

خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسطِ سوم)
عنوان: خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسطِ سوم)
تحریر: ابو احمد محمد انس قادری
پیش کش: ناصرین فاطمہ رضویہ

فرقہ جہمیہ کی شاخیں

فرقہ جہمیہ کی بارہ شاخیں حسب ذیل ہیں:

  1. معطلہ
  2. مرسیہ (مریسیہ)
  3. متمزقہ
  4. واردیہ
  5. زنادقہ
  6. حرقیہ
  7. مخلوقیہ
  8. فانیہ
  9. عربیہ (غیریہ)
  10. واقفیہ
  11. قبریہ
  12. لفظیہ

(1) فرقہ معطلہ

اس فرقے کے نزدیک اللہ عزوجل معطل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتدائی طور پر چند چیزیں پیدا فرمائیں، اس کے بعد وہ فارغ بیٹھا ہے۔ اس نے اوروں کے ذمہ کام لگا دیے ہیں۔ اسی طرح ان کا عقیدہ ہے کہ جو کوئی دعویٰ کرے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے تو وہ کافر ہے... جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک اللہ عزوجل ہرگز (معاذ اللہ) معطل نہیں ہوا، معطل ہونا شانِ خداوندی کے منافی ہے کہ اس میں عجز و تنقیص ہے اور یہ اللہ عزوجل کے لیے ثابت کرنا کفر ہے۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

يُكَفَّرُ إِذَا وَصَفَ اللّٰهَ تَعَالٰى بِمَا لَا يَلِيْقُ بِهٖ أَوْ سَخِرَ بِاسْمٍ مِنْ أَسْمَائِهٖ أَوْ بِأَمْرٍ مِنْ أَوَامِرِهٖ أَوْ أَنْكَرَ وَعْدَهٗ وَوَعِيْدَهٗ أَوْ جَعَلَ لَهٗ شَرِيْكًا أَوْ وَلَدًا أَوْ زَوْجَةً أَوْ نَسَبَهٗ إِلَى الْجَهْلِ أَوِ الْعَجْزِ أَوِ النَّقْصِ.

ترجمہ: جس نے اللہ تعالیٰ کو ایسے وصف سے موصوف کیا جو اس کی شان کے لائق نہیں یا اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے کسی نام کا مذاق اڑایا یا اس کے احکام میں سے کسی حکم کا مذاق اڑایا یا اس کے وعدے یا وعید کا انکار کیا یا اس کا کسی کو شریک ٹھہرایا یا کسی کو اس کا بیٹا یا بیوی کہا یا اللہ عزوجل کی طرف جہالت، عجز، نقص کی نسبت کی اس کی تکفیر کی جائے گی۔ [فتاویٰ ہندیہ، کتاب السیر، فی احکام المرتدین...، ج: 2، ص: 258، دار الفکر، بیروت]

خواب میں رب تعالیٰ کا دیدار ممکن ہے۔ جاگتی آنکھوں سے صرف حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، جاگتی آنکھوں سے دیدار کا دعویٰ کفر ہے۔

(2) فرقہ مرسیہ

اس فرقے کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اکثر صفات مخلوق ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک اللہ عزوجل کی تمام صفات ہرگز مخلوق نہیں ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فقہِ اکبر میں فرماتے ہیں:

صِفَاتُهٗ تَعَالٰى فِي الْأَزَلِ غَيْرُ مُحْدَثَةٍ وَلَا مَخْلُوْقَةٍ فَمَنْ قَالَ إِنَّهَا مَخْلُوْقَةٌ أَوْ مُحْدَثَةٌ أَوْ وَقَفَ فِيْهَا أَوْ شَكَّ فِيْهَا فَهُوَ كَافِرٌ بِاللّٰهِ تَعَالٰى.

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی صفتیں قدیم ہیں نہ تو پیدا ہیں نہ کسی کی بنائی ہوئی، تو جو انہیں مخلوق یا حادث کہے یا اس باب میں توقف کرے یا شک لائے وہ کافر ہے اور خدا کا منکر۔ [الفقہ الاکبر، ص: 5، ملک سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار، لاہور]

(3) فرقہ متمزقہ

اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے... اہلِ سنت کے نزدیک اللہ عزوجل ہر جگہ موجود نہیں ہے اور نہ یہ کہنا جائز ہے۔ حاضر کا مطلب ہوتا ہے جگہ میں موجود ہونا اور رب تعالیٰ جگہ سے پاک ہے۔ مجمع الانہر میں ہے:

مَنْ قَالَ: نَهْ مَكَانِي زِتُو خَالِي نَهْ تُوْ هِيْجْ مَكَانِي، كَفَرَ.

ترجمہ: کسی نے یہ کہا کہ کوئی گوشہ یا مکان ایسا نہیں جہاں ذاتِ خدا موجود نہیں، اس نے کفر کیا۔ [مجمع الانہر، ج: 2، ص: 505، مکتبۃ المنار، کوئٹہ]

لہٰذا رب تعالیٰ کے لیے حاضر و ناظر کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔ رب تعالیٰ کے لیے علیم، سمیع، بصیر کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ علامہ کاظمی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”اس کے بعد یہ حقیقت خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ جب حاضر و ناظر کے اصلی معنی سے اللہ تعالیٰ کا پاک ہونا واجب ہے، تو ان لفظوں کا اطلاق بغیر تاویل کے ذاتِ باری تعالیٰ پر کیوں کر ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں حاضر و ناظر کوئی نام نہیں اور قرآن و حدیث میں کسی جگہ حاضر و ناظر کا لفظ ذاتِ باری تعالیٰ کے لیے وارد نہ ہوا۔ نہ سلفِ صالحین نے اللہ تعالیٰ کے لیے یہ لفظ بولا۔ کوئی شخص قیامت تک ثابت نہیں کر سکتا کہ صحابہ کرام، تابعین یا ائمہ مجتہدین علیہم الرضوان نے کبھی اللہ تعالیٰ کے لیے حاضر و ناظر کا لفظ استعمال کیا ہو۔ اور اسی لیے متأخرین کے زمانہ میں بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر کہنا شروع کیا تو اس دور کے علماء نے اس پر انکار کیا بلکہ بعض علماء نے اس اطلاق کو کفر قرار دے دیا۔ بالآخر یہ مسئلہ (کہ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر کہنا کفر ہے یا نہیں) جمہور علماء کے سامنے پیش ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ اس میں تاویل ہو سکتی ہے، اس لیے یہ اطلاق کفر نہیں اور تاویل یہ کی حضور کو مجازاً علم کے معنی میں لیا جائے اور نظر کے مجازی معنی رؤیت مراد لیے جائیں۔ اس تاویل کے بعد جب اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر کہا جائے گا تو یہ اطلاق علیم، بصیر اور عالمِ خبیر کے معنی میں ہوگا۔ ملاحظہ فرمائیے درمختار اور شامی۔“ [مقالاتِ کاظمی، ج: 3، ص: 155، مکتبہ ضیائیہ، راولپنڈی]

آج کل کے بعض لوگ بھی یوں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہر جگہ موجود ہے۔ یہ کہا جائے کہ اللہ عزوجل ہر موجود کو دیکھتا ہے۔ اللہ عزوجل کے لیے جہت و سمت متعین کرنا جائز نہیں ہے، وہ واجب الوجود ذاتِ لا مکاں ہے۔

(4) فرقہ واردیہ

اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو پہچانا وہ جہنم میں نہ جائے گا اور جو کوئی جہنم میں چلا گیا تو کبھی وہاں سے نکالا نہ جائے گا... اہلِ سنت کے نزدیک مسلمان اللہ عزوجل پر ایمان لانے اور اسے پہچاننے کے باوجود اپنے اعمالِ بد کے سبب جہنم میں جا سکتا ہے اور جو مسلمان ہے وہ جتنا مرضی گناہگار ہو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد کبھی نہ کبھی جہنم سے ضرور نکالا جائے گا، البتہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ جامع ترمذی کی حدیث ہے:

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيْدِ فِي النَّارِ حَتّٰى يَكُوْنُوْا فِيْهَا حُمَمًا ثُمَّ تُدْرِكُهُمُ الرَّحْمَةُ فَيَخْرُجُوْنَ وَيُطْرَحُوْنَ عَلٰى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِيْ حَمَالَةِ السَّيْلِ، ثُمَّ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ.

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہلِ توحید میں سے کچھ لوگوں کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ کوئلہ کی طرح ہو جائیں گے۔ پھر رحمتِ الٰہی ان کا تدارک کرے گی اور انہیں دوزخ سے نکال کر جنت کے دروازوں پر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر جنت کے لوگ ان پر پانی چھڑکیں گے جس سے وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے کوئی دانہ بہنے والے پانی کے کنارے اگتا ہے اور پھر جنت میں داخل ہوں گے۔ [جامع ترمذی، ابواب صفۃ جہنم، ج: 4، ص: 294، دار الغرب الاسلامی، بیروت]

(5) فرقہ زنادقہ

اس فرقے کے لوگ کہتے ہیں کہ کسی کے واسطے یہ ممکن نہیں کہ اپنی ذات کے لیے کوئی رب ثابت کرے، اس لیے کہ ثابت کرنا جب ہی ہو سکتا ہے کہ اس سے ادراک کر لے حالانکہ یہ ادراک ممکن نہیں، کیونکہ ہمارے حواس جو ادراک کرنے کا آلہ ہیں، کسی رب یا پروردگار کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں، لہٰذا جو چیز ادراک ہی نہیں ہو سکتی تو ثابت ہی نہیں ہو سکتی... اہلِ سنت کے نزدیک یہ دلیل سرے سے ہی غلط ہے کہ ثبوت کے لیے ادراک ضروری ہے۔ جس طرح روح، جنت و دوزخ وغیرہ کو ہم نے دیکھا نہیں، ہمارے ذہن میں اس کا خاکہ نہیں، ہمیں ان کا کچھ ادراک نہیں، لیکن ان کا ثبوت قرآن و حدیث میں ہے۔ اسی طرح رب تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کے لیے عقلی اور نقلی دونوں دلائل موجود ہیں جن سے رب تعالیٰ کے وجود کو ثابت کیا جاتا ہے، جیسے قرآن و حدیث میں رب تعالیٰ کی ذات و صفات کی معرفت ہے اور عقلی طور پر زمین و آسمان کی پیدائش، سورج و چاند کی گردش رب تعالیٰ کے خالق ہونے پر دلیل ہیں۔ شرح العقائد النسفیہ میں ہے:

وَلَمَّا ثَبَتَ أَنَّ الْعَالَمَ مُحْدَثٌ وَمَعْلُوْمٌ أَنَّ الْمُحْدَثَ لَا بُدَّ لَهٗ مِنْ مُحْدِثٍ ضَرُوْرَةَ امْتِنَاعِ تَرَجُّحِ أَحَدِ طَرَفَيِ الْمُمْكِنِ مِنْ غَيْرِ مُرَجِّحٍ ثَبَتَ أَنَّ لَهٗ مُحْدِثًا وَالْمُحْدِثُ لِلْعَالَمِ هُوَ اللّٰهُ تَعَالٰى أَيِ الذَّاتُ الْوَاجِبُ الْوُجُوْدِ الَّذِيْ وُجُوْدُهٗ مِنْ ذَاتِهٖ وَلَا يَحْتَاجُ إِلٰى شَيْءٍ أَصْلًا.

ترجمہ: جب یہ ثابت ہو گیا کہ عالم حادث ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حادث کے لیے محدث لازم ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو بغیر مرجح کے ترجیح لازم آئے گی (اور یہ باطل ہے)، تو عالم کا محدث اللہ تعالیٰ ہے جو واجب الوجود ذات ہے اور کسی کی محتاج نہیں ہے۔ [شرح العقائد النسفیۃ، ص: 43، مکتبہ رحمانیہ، لاہور]

(6) فرقہ حرقیہ

اس فرقے کا کہنا ہے کہ کافر کو جب جہنم میں ڈالا جائے گا تو آگ اس کو ایک بار جلا کر کوئلہ کر دے گی، پھر وہ ہمیشہ کوئلہ بنا پڑا رہے گا، اس کو آگ کی جلن قطعی محسوس نہ ہوگی... اہلِ سنت کے نزدیک ایسا نہیں بلکہ کافر کوئلہ بننے کے بعد پھر اسی طرح جسم میں لایا جائے گا، پھر کوئلہ بنے گا اور اس کا عذاب اسے مسلسل ہوگا اور وہ اس کی تکلیف برداشت کرے گا جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:

إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْهِمْ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُوْدًا غَيْرَهَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ ؕ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيْزًا حَكِيْمًا

ترجمہ: جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے، جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔ [النساء: 56]

(7) فرقہ مخلوقیہ

فرقہ مخلوقیہ کا عقیدہ ہے کہ قرآن مخلوق ہے... اہلِ سنت کے نزدیک قرآن مخلوق نہیں بلکہ رب تعالیٰ کا کلام ہے اور رب کا کلام اس کی صفت ہے جو مخلوق نہیں ہو سکتی۔

کتاب السنۃ میں بسندِ صحیح روایت ہے:

عَنْ عَمْرِو بْنِ دِيْنَارٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ تِسْعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُوْنَ مَنْ قَالَ الْقُرْآنُ مَخْلُوْقٌ فَهُوَ كَافِرٌ.

ترجمہ: حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نو صحابہ کو پایا کہ فرماتے تھے جو قرآن کو مخلوق بتائے وہ کافر ہے۔ [اللآلئ المصنوعۃ بحوالہ اللالکائی فی السنۃ، کتاب التوحید، ج: 1، ص: 8، دار المعرفۃ، بیروت]

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ”کتاب السنۃ“ میں فرماتے ہیں:

مَنْ قَالَ الْقُرْآنُ مَخْلُوْقٌ فَهُوَ عِنْدَنَا كَافِرٌ لِأَنَّ الْقُرْآنَ مِنْ صِفَةِ اللّٰهِ.

ترجمہ: قرآن کو مخلوق کہنے والا ہمارے نزدیک کافر ہے کہ قرآن خدا کی صفتوں میں سے ہے۔ [الحدیقۃ الندیۃ بحوالہ کتاب السنۃ، ج: 1، ص: 257، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد]

(8) فرقہ فانیہ

اس فرقے کا کہنا ہے کہ جنت دوزخ دونوں فنا ہونے والی ہیں اور ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ ابھی وہ دونوں پیدا ہی نہیں ہوئیں... اہلِ سنت کے نزدیک جنت و دوزخ پیدا ہو چکی ہیں اور یہ کبھی فنا نہیں ہوں گی۔ قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السلام و حضرت حوا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنت میں رہنا اور اس سے باہر آنا واضح طور پر موجود ہے:

وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا ۖ وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظَّالِمِيْنَ

ترجمہ: اور ہم نے فرمایا اے آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے، مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو جاؤ گے۔ [البقرۃ: 35]

جنت و دوزخ کے تذکرہ پر قرآن پاک میں کئی مرتبہ لفظ اُعِدَّتْ کہا گیا جس کا مطلب ہوتا ہے تیار کر رکھی ہے۔ یعنی یہ نہیں کہا جاتا کہ جنت و دوزخ پیدا ہوگی بلکہ کہا جاتا ہے تیار کی گئی ہے۔ قرآن پاک میں جہنم کے متعلق ہے:

وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِيْنَ

ترجمہ: اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار رکھی ہے۔ [آل عمران: 131]

جنت کے متعلق ہے:

وَسَارِعُوْۤا إِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ۙ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ

ترجمہ: اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان و زمین، پرہیزگاروں کے لیے تیار کر رکھی ہے۔ [آل عمران: 133]

قرآن پاک کی جو آیت ہے:

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهٗ

ترجمہ: ہر چیز فانی ہے سوا اس کی ذات کے۔ [القصص: 88]

اس آیت سے یہ شبہ پڑتا ہے کہ جب ایک وقت کے لیے ہر چیز فنا ہو جائے گی تو جنت و دوزخ بھی فنا ہو جائے گی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعض چیزیں اس میں مستثنیٰ ہیں۔

وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ أُخْرٰى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُوْنَ

ترجمہ: اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے، پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گا جبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔ [الزمر: 68]

المسامرہ میں ہے:

وَالْجَوَابُ تَخْصِيْصُهَا مِنْ آيَةِ الْهَلَاكِ.

ترجمہ: ہر چیز کے فنا ہونے پر جو آیت ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں بعض چیزوں کی تخصیص ہے۔ [المسامرۃ، ص: 240، دار الکتب العلمیۃ، بیروت]

امام ابو حنیفہ نے فرمایا ہے کہ جنتی حوروں کو بھی اس وقت موت نہیں آئے گی۔ المسامرہ میں ہے:

وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ السُّنَّةِ كَأَبِيْ حَنِيْفَةَ إِلٰى أَنَّ الْحُوْرَ الْعِيْنَ لَا يَمُتْنَ وَأَنَّهُنَّ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللّٰهُ تَعَالٰى بِقَوْلِهٖ ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ﴾.

ترجمہ: بعض اہلِ سنت جیسے امام ابو حنیفہ اس طرف گئے ہیں کہ حورِ عین کو موت نہیں آئے گی، وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اللہ کے اس فرمان سے: اور صور پھونکا جائے گا تو بے ہوش ہو جائیں گے جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں مگر جسے اللہ چاہے۔ [المسامرۃ، ص: 242، دار الکتب العلمیۃ، بیروت]

(9) فرقہ عربیہ (غیریہ)

اس فرقے کے ماننے والوں نے رسولوں کا انکار کیا یعنی ان کے نزدیک وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نہیں بلکہ عقلاء ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک تمام انبیاء و رسل اللہ نے بھیجے ہیں، کسی ایک کی بھی نبوت کا انکار کرنا کفر ہے۔ قرآن پاک میں کئی مقامات پر اللہ عزوجل نے رسولوں کے بھیجنے کا تذکرہ کیا ہے:

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ أَنْ يَّأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللّٰهِ ۚ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللّٰهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ

ترجمہ: اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا، اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکمِ خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا سچا فیصلہ فرما دیا جائے گا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ۔ [غافر: 78]

(10) فرقہ واقفیہ

اس فرقے کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ہم توقف کرتے ہیں، نہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن مخلوق ہے اور نہ یہ کہ مخلوق نہیں... اہلِ سنت کے نزدیک یہ توقف کرنا درست نہیں بلکہ یقینی بات یہ ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔ فقہِ اکبر میں ہے:

صِفَاتُهٗ تَعَالٰى فِي الْأَزَلِ غَيْرُ مُحْدَثَةٍ وَلَا مَخْلُوْقَةٍ فَمَنْ... وَقَفَ فِيْهَا أَوْ شَكَّ فِيْهَا فَهُوَ كَافِرٌ بِاللّٰهِ تَعَالٰى.

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی صفتیں قدیم ہیں نہ تو پیدا ہیں نہ کسی کی بنائی ہوئی، تو جو اس باب میں توقف کرے یا شک لائے وہ کافر ہے اور خدا کا منکر۔ [الفقہ الاکبر، ص: 5، ملک سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار، لاہور]

(11) فرقہ قبریہ

اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ قبر میں عذاب و ثواب نہیں ہے اور نہ آخرت میں شفاعت ممکن ہے... اہلِ سنت کے نزدیک قبر میں عذاب و ثواب ہوتا ہے جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور آخرت میں مسلمانوں کی شفاعت پر تو کئی آیات و احادیث وارد ہیں۔ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اَلْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ.

ترجمہ: قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ [المعجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ مسعود، ج: 8، ص: 273، دار الحرمین، القاہرۃ]

قرآن پاک میں شفاعت کے متعلق ہے:

مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ إِلَّا بِإِذْنِهٖ

ترجمہ: کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بغیر اس کے حکم کے۔ [البقرۃ: 255]

جامع ترمذی کی حدیث ہے:

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَفَاعَتِيْ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِيْ.

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شفاعت میرے امتیوں میں سے اہلِ کبائر (کبیرہ گناہ کرنے والوں) کے لیے ہے۔ [جامع ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، ج: 4، ص: 203، دار الغرب الاسلامی، بیروت]

(12) فرقہ لفظیہ

اس فرقے کا کہنا ہے کہ قرآن کے ساتھ ہمارا تلفظ کرنا مخلوق ہے... اہلِ سنت کے نزدیک ہمارا پڑھنا تو مخلوق ہے لیکن جو قرآن پڑھا گیا ہے وہ مخلوق نہیں ہے۔ یعنی فرقہ لفظیہ اور اہلِ سنت میں فرق یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں جو پڑھا گیا وہ مخلوق ہے اور ہم کہتے ہیں جو پڑھا گیا وہ فی نفسہٖ مخلوق نہیں ہے۔ سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقہِ اکبر میں فرماتے ہیں:

اَلْقُرْآنُ كَلَامُ اللّٰهِ فِي الْمَصَاحِفِ مَكْتُوْبٌ وَفِي الْقُلُوْبِ مَحْفُوْظٌ وَعَلَى الْأَلْسِنَةِ مَقْرُوْءٌ وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَزَّلٌ وَلَفْظُنَا بِالْقُرْآنِ مَخْلُوْقٌ وَكِتَابَتُنَا لَهٗ مَخْلُوْقَةٌ وَكَلَامُ اللّٰهِ تَعَالٰى غَيْرُ مَخْلُوْقٍ.

ترجمہ: قرآن مجید اللہ کا کلام صحیفوں میں لکھا ہے اور دلوں میں محفوظ ہے اور زبانوں پر پڑھا گیا ہے۔ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس پر اتارا گیا ہے، اور ہمارا قرآن مجید کا بولنا اور اسی طرح اس کو لکھنا اور پڑھنا مخلوق ہے، لیکن بایں ہمہ اللہ کا کلام مخلوق نہیں۔ [فقہ اکبر مع وصیت نامہ، ص: 4، ملک سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار، لاہور]

[ماخوذ از: 73 فرقے اور ان کے عقائد]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!