Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سونے والو جاگتے رہیو

سونے والو جاگتے رہیو
عنوان: سونے والو جاگتے رہیو
تحریر: محمد عظیم رضا مرکزی، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پیش کش: ذکیہ صدیقی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے

اس دورِ پر فتن میں ایمان کی حفاظت بہت دشوار ہے، ہر جانب کفر و الحاد کی یلغار ہے، راہ بھی پر خار ہے مگر بفضلہٖ تعالیٰ اب بھی اس امت میں ایسے جیالے موجود ہیں جو بھولے بھالے مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کی حفاظت و صیانت کر رہے ہیں اور تا قیامت کرتے رہیں گے، بس ضرورت ہے ان اہلِ حق کے دامن سے وابستہ ہونے کی اور مرتدینِ زمانہ اور بد مذہبوں کی چاپلوسیوں اور ان کے پر فریب پروپیگنڈا کا ادراک کرکے ان سے دور رہنے کی جیسا کہ قرآن و حديث کا حکم ہے۔ سب کا مشاہدہ ہے کہ ان کے ساتھ آپسی اختلاط نے عوامِ مسلمین کے ایمان کو کس قدر مشتبہ کر دیا ہے، اگر اس آپسی میل جول کے دروازے نہ کھولے جاتے، ”ہر ایک کے ساتھ اتحاد کر لو“ کی بادِ سموم نہ چلی ہوتی تو نوبت ایں جا نہ رسید۔

اس کی اہم وجہ مسائلِ شرعی سے ناشنائی ہے یا کسی مفاد کی خاطر احکامِ شرع سے بے اعتنائی ہے، جس کے سبب آج لوگ موالات اور معاملات کے واضح امتیاز کو بھی فراموش کر رہے ہیں اور پوری کوشش سب کے ساتھ اتحاد کی ہو رہی ہے، اصل حکم بتانے والوں کو متشدد اور جھگڑالو کہا جاتا ہے۔ اے کاش! یہی لوگ اتنی کوشش دین سیکھنے میں صرف کرتے تو دونوں کا فرق و حکم نیرِ تاباں کی طرح واضح ہو جاتا۔ بہر کیف آمدم بر سرِ مطلب، اولاً ہم موالات کے احکام و اقسام پر روشنی ڈالتے ہیں۔ امامِ اہلِ سنت مجددِ دین و ملت فرماتے ہیں: تحقیقِ مقام یہ ہے کہ موالات دو قسم ہیں: اول حقیقیہ، جس کا ادنیٰ رکون یعنی میلانِ قلب ہے، پھر وداد، پھر اتحاد، پھر اپنی خواہش سے بے خوف و طمع انقیاد، پھر تبتل۔ یہ بجمیع وجوہ ہر کافر سے مطلقاً ہر حال میں حرام ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 465]

ارشادِ ربانی ہے:

وَلَا تَرْكَنُوْۤا إِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۙ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ

ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔ [ھود: 113]

یعنی کفار و مشرکین اور بے دینوں سے میل جول، ان سے الفت و محبت اور دوستی مسلمان کے لیے عذابِ نار کا سبب ہے۔ دوم صوریہ: کہ دل اس کی طرف اصلاً مائل نہ ہو مگر برتاؤ وہ کرے جو بظاہر محبت و میلان کا پتا دیتا ہو، یہ بحالتِ ضرورت و مجبوری صرف بقدرِ ضرورت و مجبوری مطلقاً جائز ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِلَّاۤ أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰةً

ترجمہ: مگر یہ کہ تمہیں ان سے پورا واقعی خوف ہو۔ [آل عمران: 28]

بقدرِ ضرورت یہ کہ مثلاً صرف عدمِ اظہارِ عداوت میں کام نکلتا ہو تو اسی قدر پر اکتفا کرے اور اظہارِ محبت کی ضرورت ہو تو حتی الامکان پہلودار بات کہے، صریح کی اجازت نہیں، اور بے اس کے نجات نہ ملے اور قلب ایمان پر مطمئن ہو تو اس کی بھی رخصت ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 467]

معلوم ہوا کہ ہر قسم کے بے دین سے اتحاد و وداد حرام اور ان سے اخلاصِ دلی کفر ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

تَرٰى كَثِيْرًا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنْفُسُهُمْ أَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُوْنَ

ترجمہ: ان میں تم بہت کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی بری چیز اپنے لیے خود آگے بھیجی یہ کہ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ [المائدۃ: 80 / کنز الایمان]

اس آیتِ کریمہ میں بتایا گیا کہ کافروں کے ساتھ دوستی و موالات حرام و غضبِ الٰہی کا سبب ہے، لہٰذا کسی مسلمان کی شان نہیں کہ حکمِ الٰہی سے روگردانی کرے یا کسی طرح کی بیجا یا اپنی خواہش و مفاد کے مطابق تاویل کرے، بلکہ ایمان کا تقاضا ہے کہ حکمِ خداوندی کے آگے سر تسلیم خم کر دے ورنہ کفر و گمراہی اس کا انجام ہے، اور یہ بے دین یہی چاہتے ہیں کہ تم کفر و شرک میں ان کے بھائی ہو جاؤ اس لیے اہلِ ایمان کو پہلے آگاہ فرما دیا اور فرمایا:

يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْۤا إِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خَاسِرِيْنَ

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم کافروں کے کہے پر چلے تو وہ تمہیں الٹے پاؤں (اسلام سے) لوٹا دیں گے پھر ٹوٹا کھا کر (پورے خسارے میں) پلٹو گے۔ [آل عمران: 149]

اللہ و رسول کی اطاعت و محبت ہی دلیلِ ایمان ہے اور دنیاوی تعلقات قطعاً قابلِ التفات نہیں جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيْمَانِ ؕ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَأُولٰۤئِكَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے باپ اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ سمجھو اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں، اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو وہی ظالم ہیں۔ [التوبۃ: 23]

آج جو لوگ یہ پیش کرتے ہیں کہ کوئی اپنے ماں، باپ، بھائی بہن اور قرابت داروں سے کیسے ترکِ تعلق کر سکتا ہے؟ انہیں اس آیت کو بار بار پڑھنا چاہیے تاکہ انہیں خوب سمجھ آ جائے کہ حفاظتِ ایمان کے لیے کسی سے کیسا بھی رشتہ ہو اگر اس سے ایمان پر آنچ آئے تو فوراً جدا ہونا ضروری ہے کیونکہ ایمان سے سودا اور اس کی حفاظت سے غفلت کسی صورت روا نہیں اور نہ شریعت میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ آقا کریم علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلٰى هَدْمِ الْإِسْلَامِ.

ترجمہ: جس نے کسی بدمذہب کی تعظیم و توقیر کی تو بے شک اس نے اسلام ڈھانے پر مدد کی۔ [رواہ الطبرانی فی شعب الایمان]

ابو نعیم ”حلیۃ الاولیاء“ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں: نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يُصَافَحَ الْمُشْرِكُوْنَ أَوْ يُكَنَّوْا أَوْ يُرَحَّبَ بِهِمْ. حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کسی مشرک سے مصافحہ کیا جائے یا ان کو کنیت سے یاد کیا جائے یا ان کو مرحبا کہا جائے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 149]

غور کرو مسلمانوں! یہ باتیں تو ایسی تعظیم نہیں ادنیٰ درجہ تکریم ہیں پھر بھی ان سے ممانعت وارد ہوئی، اتحاد اور اخلاصِ دلی کا تو درجہا سخت ہے پھر بھی سب ایک ہو جائیں؟

کسی کو نہیں معلوم کہ وہابیہ، دیابنہ اور غیر مقلدین و دیگر فرقِ باطلہ اللہ و رسول پر افترا کرتے ہیں اور حاطب اللیل کی طرح جو چاہیں اپنی کتابوں میں لکھتے اور بکتے ہیں۔ ایسے افترا کرنے والوں کی بابت قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: جھوٹ، بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے۔

یعنی جھوٹ بولنا اور افترا کرنا بے ایمانوں ہی کا کام ہے، ایسی کھلی نشانی کے بعد بھی ان سے اتحاد و وداد کو روا رکھنا ارشادِ ربانی سے رو گردانی اور اس کے احکام کی نافرمانی ہے۔ ایسوں کی بابت ارشاد ہوتا ہے:

وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَإِنَّهٗ مِنْهُمْ

ترجمہ: تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہی میں سے ہے۔

کیا کوئی مسلمان چاہے گا کہ عذابِ دوزخ میں ان کا شریک ہو؟ ہرگز نہیں۔ تو پھر مخالفِ دین سے تمہارا جدا ہونا واجب اور من مانی تاویلات پر کان نہ دھرنا لازم ہے کہ اسلام نے کسی قسم کے کافر سے محبت کا حکم نہیں دیا۔ باپ ماں اولاد بھی اگر کافر ہوں تو ان سے بھی محبت کو حرام رکھا کہ ”صحبتِ صالح ترا صالح کند و صحبتِ طالح ترا طالح کند“ اور ان سے دلی محبت رکھنے والوں کو صاف کہا وہ انہی میں سے ہے، اللہ و رسول اور قرآن پر اس کا ایمان نہیں۔

جو لوگ ان اعدائے دین سے میل جول اور اتحاد کا یہ پہلو نکالتے ہیں کہ وہ بھی کلمہ پڑھتے ہیں، نماز روزے کے پابند ہیں، درود و سلام بھی پڑھتے ہیں پھر وہ کافر کیوں؟ ارے نادان! ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ یہ بھی عبادات و طاعات کرتے ہیں صرف بھولے بھالے اہلِ اسلام کو پھنسانے کے لیے مگر باطن ان کا بھی عداوت و غلاظت سے پُر ہے جو ان کی کتابوں اور تحریروں سے واضح ہے۔

اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اعمال ایمان کے تابع ہیں، بغیر ایمان کے اعمال قابلِ قبول نہیں پھر ان کی عبادات تو ابلیسِ لعین کی عبادت و ریاضت کے سامنے ذرۂ باد ہیں۔ کیا بغیر ایمان کے اس کی عبادتیں اس کے کام آئیں؟ تو ان کے اعمال بغیر ایمان ان کے کچھ کام آئیں گے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔ نبی غیب داں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کثرتِ اعمال والی قوم کے متعلق پہلے ہی فرما دیا:

يَخْرُجُ فِيْكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُوْنَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُوْنَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ.

ترجمہ: تم میں ایک ایسی قوم نکلے گی کہ ان کی نمازوں کے مقابل تم اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابل اپنے عمل کو کمتر سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا (عدمِ فہم سے کنایہ ہے)۔

پھر اس قوم کے دین کی بابت فرمایا:

يَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّيْنِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ.

ترجمہ: وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار ہو جاتا ہے۔ [صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن]

رہی بات کلمہ پڑھنے کی تو بغیر تصدیقِ قلبی کے محض طوطے کی طرح رٹ لگانے سے کوئی فائدہ نہیں، منافقین کا بھی یہی حال تھا کہ خوب زور و شور سے اعلانیہ کلمہ پڑھتے تھے مگر قرآن مجید نے ان کا انجام بتا دیا کہ بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں۔ ایمان و کفر مثل آگ و پانی کے ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے کہ اَلْمُتَضَادَّانِ لَا يَجْتَمِعَانِ کا ضابطہ مسلم ہے، لہٰذا دل میں کفر اور محض زبان سے کلمہ پڑھنے والا بھی ہرگز مومن نہیں۔

صد افسوس کہ اتحاد کا دعویٰ بھی ان سے ہے جو ہمیشہ اہلِ اسلام کو آزار پہنچانے کی گھات میں بیٹھے رہتے ہیں اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، پھر جب کچھ نہ ملے تو جھوٹا پروپیگنڈا ہی کرکے اسلام کی شبیہ داغدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہزار شکر ربِ کریم کا جس نے سچے ایمان والوں کو پہلے ہی خبر فرما دیا کہ اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بناؤ وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کرتے، ان کی آرزو ہے، جتنی ایذا پہنچے، بیر (عداوت) ان کی باتوں سے جھلک اٹھا اور وہ جو سینوں میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے۔

وہ لچکدار مدعیانِ اسلام غور کریں اور بار بار کریں جنہیں سستی شہرت اور مال و دولت کی حرص نے احقاقِ حق و ابطالِ باطل کے فریضہ سے روک رکھا ہے اور فرامینِ اللہ و رسول سے موافقِ خواہش مفاہیم نکالنے پر جری بنایا ہے، کیا ان دل و نگاہ کے اندھوں کو یہ فرمانِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آتا؟:

يَكُوْنُ فِيْ آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُوْنَ كَذَّابُوْنَ، يَأْتُوْنَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لَا يُضِلُّوْنَكُمْ وَلَا يَفْتِنُوْنَكُمْ.

ترجمہ: آخر زمانے میں دجال اور بڑے جھوٹے ظاہر ہوں گے جو تمہیں وہ باتیں بتائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے، لہٰذا ان سے خود دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھو کہ کہیں تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ [صحیح مسلم، ص: 10]

آج تمام اسلام مخالف طاقتیں اَلْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ کی حقانیت کا اعلان کرتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہیں کہ اسلام اور اس کے حامیوں کی ہستی کو نیستی میں بدل دیں مگر

وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

اور یہ جھوٹے مدعیانِ اسلام ان سے اتحاد و اتفاق کا شور مچا رہے ہیں اسی پر بس نہیں ہے جرأت تو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ اپنی لڑکیاں ان سے بیاہتے ہیں اور حکمِ شرع بیان کرنے پر آگ ببولا ہو جاتے ہیں اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عمداً چشم پوشی کرتے ہیں، کتنا واضح حکم حدیث پاک میں ارشاد فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ نہ پیو، ان کے ساتھ نہ کھاؤ، ان سے شادی بیاہ نہ کرو۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 103]

اس صراحت کے بعد بھی ان سے اتحاد و وداد کی سعیِ مضر کرنا کتنی بڑی جرأت اور جہالت ہے، اور راہِ راست سے ہٹ کر گمراہیت کے قعرِ عمیق میں اوندھے منہ گرنا۔ العیاذ باللہ۔

یہ احکام موالات کے تھے، رہے احکامِ معاملات تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ: مجرد دنیوی معاملت میں جس سے دین پر ضرر نہ ہو سوا مرتدین مثل وہابیہ، دیوبندیہ و امثالہم کے کسی سے ممنوع نہیں، یعنی مرتدین کے علاوہ سے خرید و فروخت، اجارہ و استیجار، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز اور خریدنا مطلقاً ہر مال کا کہ مسلمان کے حق میں متقوم ہو اور بیچنا ہر جائز چیز کا جس میں اعانتِ حرب یا اہانتِ اسلام نہ ہو، جائز ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 420، ملخصاً]

”محیط“ میں ہے:

إِذَا خَرَجَ لِلتِّجَارَةِ إِلٰى أَرْضِ الْعَدُوِّ بِأَمَانٍ فَإِنْ كَانَ أَمْرًا لَا يُخَافُ عَلَيْهِ مِنْهُ وَكَانُوْا قَوْمًا يُوْفُوْنَ بِالْعَهْدِ يُعْرَفُوْنَ بِذٰلِكَ وَلَهٗ فِيْ ذٰلِكَ مَنْفَعَةٌ، فَلَا بَأْسَ.

ترجمہ: جب دشمن کے شہر کو امان لے کر تجارت کے لیے جائے اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس پر اس سے اندیشہ نہیں اور وہ کافر عہد پورا کرنے میں مشہور ہوں اور اسے وہاں جانے میں نفع ہو تو حرج نہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 421]

”ہندیہ“ میں ہے:

إِذَا أَرَادَ الْمُسْلِمُ أَنْ يَّدْخُلَ دَارَ الْحَرْبِ بِأَمَانٍ لِّلتِّجَارَةِ لَمْ يُمْنَعْ ذٰلِكَ مِنْهُ، وَكَذٰلِكَ إِذَا أَرَادَ حَمْلَ الْأَمْتِعَةِ إِلَيْهِمْ فِي الْبَحْرِ فِي السَّفِيْنَةِ.

ترجمہ: جب مسلمان دار الحرب میں امان لے کر جانا چاہے تو اس سے منع نہ کیا جائے گا اور یونہی جب کچھ اسباب دریائی سفر ان کی طرف کشتی میں لے جائے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 422]

اسی میں ہے:

قَالَ مُحَمَّدٌ: لَا بَأْسَ بِأَنْ يَّحْمِلَ الْمُسْلِمُ إِلٰى أَهْلِ الْحَرْبِ مَا شَاءَ إِلَّا الْكُرَاعَ وَالسِّلَاحَ، فَإِنْ كَانَ خُمُرًا مِنْ إِبْرِيْسَمٍ أَوْ ثِيَابًا رِقَاقًا مِنَ الْقَزِّ فَلَا بَأْسَ بِإِدْخَالِهَا إِلَيْهِمْ وَلَا بَأْسَ بِإِدْخَالِ الصُّفْرِ وَالشَّبَهِ إِلَيْهِمْ لِأَنَّ هٰذَا لَا يُسْتَعْمَلُ لِلسِّلَاحِ.

ترجمہ: امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: مسلمان جو مالِ تجارت چاہے حربیوں کی طرف لے جا سکتا ہے مگر گھوڑے اور ہتھیار، تو اگر ریشمی دوپٹے یا دیبا کے باریک کپڑے ہوں تو انہیں ان کی طرف لے جانے میں حرج نہیں اور پیتل اور جست ان کی طرف لے جانے میں مضائقہ نہیں کہ ان سے ہتھیار نہیں بنتے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 422]

مقامِ غور ہے کہ معاملتِ مجردہ سوائے مرتدین کے ہر کافر سے جائز ہے وہ بھی اس شرط پر کہ اس میں نہ اعانتِ کفر ہو، نہ معصیت اور نہ اسلام و شریعت کا نقصان ورنہ ایسی معاملت کسی سے بھی جائز نہیں۔ قال اللہ تعالیٰ:

وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ

ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ [المائدۃ: 2]

موالات میں تو یہ ساری چیزیں موجود ہیں اس لیے ہر کافر سے حرام، سخت حرام، منجر الی الکفر ہے، اور اس کو جائز کہنے، رکھنے والا کافر ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوا:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكَافِرِيْنَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ

ترجمہ: مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنا لیں مسلمان کے سوا، اور جو ایسا کرے گا اسے اللہ سے کچھ علاقہ نہ رہا۔ [آل عمران: 28]

مسلمانوں! تمہیں غیروں سے ہاتھ ملانے کی کوئی ضرورت نہیں، بس باہم شیر و شکر ہو جاؤ، ان غدارانِ اسلام کو دشمن ہی جانو اور ان سے تعلقات کو آگ سمجھو، حفاظتِ ایمان کے لیے ان سے دور ہی بھاگو جیسے بکری شیر سے بھاگتی ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتِ اسلام کی قدر و منزلت کو پہچانو، اسی پر ثابت قدم رہو، دنیوی اور ذاتی مفاد کی خاطر کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے ایمان پر خطرہ منڈلائے، مرتدین و بدمذہبوں سے اتحاد کی دعوت دینے والوں کے قول و فعل کو میزانِ شریعت میں تولو اور اصولِ اسلام پر پرکھو، حقیقت خود ہی تم پر طشت از بام ہو جائے گی، دین علمائے اہلِ سنت اور ان کی کتابوں سے سیکھو اور پڑھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان انہی پر ہے، مسلمانوں کی کامیابی کا راز اللہ و رسول کی اطاعت و اتباع میں ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم تمام مؤمنین کو آپسی اتحاد کی طاقت سے آشنائی عطا فرمائے، ہم سب کو انتشار سے محفوظ رکھے اور ظالموں کے شر سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین علیہ و علی آلہ افضل الصلوٰۃ و اکرم التسلیم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!