| عنوان: | حجۃالاسلام اور علمی خدمات |
|---|---|
| تحریر: | سید شاہ محمد ریان ابوالعلائی |
| پیش کش: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد فیض بنیاد ہے کہ ((علماء امتي كأنبياء بني إسرائيل)) یعنی میری امت کے علماء قوم بنی اسرائیل کے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرح دین متین کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیں گے، چنانچہ دنیائے اسلام میں علی العموم اور ہمارے ہندوستان میں علی الخصوص جو مسلمانوں کی کثرت نظر آتی ہے، وہ انہیں اللہ والوں کے دم قدم کی برکت ہے۔ انہیں میں ایک علمی شخصیت حجة الاسلام حضرت العلام حامد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز (1362ھ) ہیں ۔ تمام مروجہ علوم و فنون میں آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد امام اہل سنت اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے زیر نگرانی ہوئی ۔ 19 برس کی عمر میں تحصیل علوم سے فراغت حاصل کی ، بیعت و خلافت کا شرف حضرت سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی قدس سرہ العزیز (1322ھ) کے علاوہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ سے بھی حاصل ہے۔ آپ علم و عمل میں باکمال اور حسن و جمال میں شہرہ آفاق ہیں۔
آپ محض فاضل بریلوی کے نور نظر ہونے کی بنا پر محترم و مکرم نہیں، بلکہ آپ اپنی خداداد صلاحیت علم و فضل ، استعداد و قابلیت ، تبحر علمی اور علم و عرفان کی بدولت حجۃ الاسلام کے لقب سے ملقب ہوئے۔ آپ بہت خوبرو، حسین و جمیل اور صاحب وجاہت تھے۔ صورت و سیرت ہر اعتبار سے اسلام کی حجت و حقانیت کی دلیل و برہان تھے۔ کئی بد مذہب اور مرتدین آپ کے چہرہ زیبا دیکھ کر تائب ہوئے ۔ شہواری کا شوق خوب تھا، امراء اور رؤساء، دیدار کے لیے بیتاب رہا کرتے ۔ اپنے اسلاف کرام کے مکمل نمونہ تھے ۔ عمدہ اخلاق و عادات کے جامع تھے۔ طبیعت میں نفاست پسندی تھی۔ تدریس و تحریر کی طرح آپ کی تقریر بھی بہت مدلل اور مؤثر ہوتی تھی ۔ فرق باطلہ سے کئی ایک مناظرے فرمائے ۔ جس میں بفضلہ تعالی ہمیشہ فتح پائی۔ دیوبندیوں سے فیصلہ کن مناظرہ کے لیے لاہور گئے لیکن دیابنہ حاضر نہ ہوئے۔ فاضل بریلوی کو حجۃ الاسلام سے بہت محبت تھی اور ناز بھی تھا۔
حجۃ الاسلام ہر اعتبار سے اپنے والد ماجد کے صحیح معنوں میں جانشین اور وارث تھے۔ ان کی ہر تحریک اور ہر کام میں معاون و مددگار، ان کے ہمدم و ہمراز ، قدم قدم پر ان کے ساتھ اور پیروکار، ان کے دست راست اور وکیل ، الغرض ہر موڑ پر اپنے والد بزرگوار کا ساتھ دیا۔ وہ تمام دینی خدمات جو فاضل بریلوی کی موجودگی میں آپ نے حرمین طیبین میں سرانجام دیں ، ان کو فاضل بریلوی نے بے حد سراہا۔ فاضل بریلوی کو پوکھریرہ (ضلع سیتا مڑھی ، بہار) کے ایک جلسہ کے لیے مولانا عبد الرحمن پوکھروی نور اللہ مرقدہ نے دعوت دی ، مصروفیت کے سبب آپ نے حجۃ الاسلام کو اپنی جگہ پر گرامی نامہ کے ساتھ روانہ کیا۔ مکتوب کا ایک اقتباس درج ذیل ہے۔
”اگر چہ میں اپنی مصروفیت کی بنا پر حاضری سے محروم ہوں ، مگر حامد رضا کو بھیج رہا ہوں۔ یہ میرے قائم مقام ہیں۔ ان کو حامد رضا نہیں ، احمد رضا ہی کہا جائے“۔
اور کیوں نہ ہو کہ انہیں کے لیے فاضل بریلوی نے فرمایا ہے ”حامد مني وأنا من حامد“ اس طرح فرمانا ایک طرف تو اپنے فرزند سے ان کی بے حد محبت اور دوسری طرف ان پر بے انتہا ناز کا غماز ہے 1318ھ میں پٹنہ کا یادگار جلسہ بنام ”رد تحریک ندوہ“ جس میں علماء و مشائخ و سجادگان طریقت مثلاً جناب حضور سید شاہ امین احمد فردوسی ثبات بہاری (سجادہ نشیں : خانقاہ معظم بہار شریف)، حضرت سید شاہ محمد محسن ابوالعلائی دانا پوری (سجادہ نشیں: خانقاہ سجادیہ ابوالعلائی داناپور) ، حضرت سید شاہ عزیز الدین حسین منعمی قمری عظیم آبادی (سجادہ نشیں : خانقاہ منعمیہ قمریہ متین گھاٹ، پٹنہ) اور حضرت سید شاہ محی الدین قادری مجیبی (سجادہ نشیں : خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف) وغیرہ کے علاوہ فاضل بریلوی کے ہمراہ حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں بھی پیش پیش تھے۔ فاضل بریلوی نے اپنی نماز جنازہ پڑھانے کی انہیں وصیت فرمائی۔ وصال سے ایک جمعہ قبل اپنے پاس مرید ہونے کے لیے آنے والوں کو حجۃ الاسلام سے بیعت ہونے کی ہدایت ان الفاظ میں فرمائی۔ ”ان کی بیعت میری بیعت ہے ، ان کا ہاتھ میرا ہاتھ اور ان کا مرید میرا مرید ہے“۔
اکابر علماء نے آپ کی استعداد و قابلیت کا لوہا مانا حرمین طیبین کی حاضری میں حضرت العلام پیر سید حسین الدباغ نور اللہ مرقدہ نے آپ کی قابلیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا۔ ”ہم نے ہندوستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ نہیں دیکھا“۔
آپ نہایت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ برجستہ عربی میں خطبات اور اشعار و مضامین تحریر فرماتے ۔ عربی زبان پر آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔ علوم ادبیہ کے علاوہ دیگر علوم و فنون مثلاً تفسیر، حدیث ، اصول فقہ، منطق، فلسفہ وغیرہ میں بھی دسترس حاصل تھی ۔ آپ کا درس بیضاوی ، شرح عقائد اور شرح چغمنی وغیرہ بہت مشہور تھا۔
راقم کے والد ماجد ڈاکٹر سید شاہ ابو طاہر چشتی ابوالعلائی صاحب خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ محلہ شاہ ٹولی، دانا پور شریف (پٹنہ) نے اپنا مقالہ برائے ڈی، فل ڈگری (الہ آباد یونیورسٹی) بعنوان اردو شاعری کے ارتقاء میں شاہ احمد رضا بریلوی کی شعری تخلیقات کا تنقیدی مطالعہ (اکتوبر 1991ء) 431 صفحات پر مشتمل تحریر فرمایا۔ مقالہ (صفحہ 121) میں حجۃ الاسلام کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں۔
”تفسیر و حدیث سے گہرا شغف تھا۔ عربی ادب پر غضب کا عبور رکھتے تھے۔ رسالہ ”الإجازات المتعينة“ کا عربی مقدمہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے، اس کے علاوہ معرکۃ الآراء عربی تصنیف ”الفيوضات المكية“ کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ ”الدولۃ المکیہ“ مطبوعہ کراچی کے بعض مقامات پر اردو میں حاشئے تحریر فرمائے، برسہا برس دار العلوم منظر اسلام بریلی میں درس حدیث دیا ، آپ (حجۃ الاسلام) کی دیگر تصانیف میں رسالہ ”الصارم الربانی علی اسراف القادیانی“ (مسئلہ ختم نبوت سے متعلق) سد الفرار (مسئلہ اذان سے متعلق)، مجموعہ فتاوی اور نعتیہ دیوان حال ہی میں شائع ہوئے ہیں ۔ رسالہ ملا جلال کا مکمل حاشیہ قلمی صورت میں محفوظ ہے ۔ علاوہ ازیں ترجمہ حسام الحرمین، سلامۃ اللہ لاہل السنۃ من سبیل العناد والفتنہ ، وغیرہ ہیں۔ نعت گوئی ، بڑی فصیح و بلیغ عشق و محبت میں ڈوبا ہوا شعر فکر و نظر کی گہرائی عشق و محبت کی جولانی، الفاظ کے بر محل استعمال ،حلاوت و چاشنی، ندرت و سلاست کے انداز لیے پھرتی تھی۔“
واضح ہو کہ ہند و پاک میں مریدین و محبین کی ایک کثیر تعداد کے علاوہ تلامذہ و خلفاء کی بھی ایک بڑی جماعت تھی ، مثلاً مجاہد ملت حضرت العلام حبیب الرحمن قادری عباسی دھام نگر (بانی تبلیغ سیرت) ، حضرت العلام ابراہیم رضا خاں بریلوی ، حضرت العلام حشمت علی خان لکھنوی ، حضرت العلام رفاقت حسین قادری مظفر پوری، حضرت العلام سردار احمد لائل پوری وغیرہما ۔ آخر کار یہ ستارہ 17 جمادی الاول 1362ھ کو ستر برس کی عمر میں ظاہراً ڈوب گیا۔ مولوی محمد ابراہیم فریدی سمستی پوری نے تاریخ وفات پر مبنی فارسی میں ایک طویل نظم کہی ہے۔ [پیغام شریعت ستمبر 2027، ص: 42, 43]
