| عنوان: | جہیز وبالِ جان یا شادیوں میں طرح طرح کے پکوان (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | حافظ محمد قادری مصباحی |
| پیش کش: | سیدہ آمنہ جیلانی ونقشبندی |
| منجانب: | جامعہ فاطمۃالزھراء گجرات |
سب تعریفیں اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، رب کے معنی ہیں تمام جہانوں کا پالنے والا ، تمام پالنے والوں کا پالنے والا ۔ زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔ انسان تمام جاندار اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں، یہ اس کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ وہ اس کے خلاف نہیں فرماتا۔ تمام جانداروں میں انسان اشرف المخلوقات ہے، اللہ نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔
قرآن مجید میں اعلان خدا وندی ہے:
فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ [النحل: 114]
ترجمہ: تو اللہ کا دیا ہوا حلال پاکیزہ رزق کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو۔ اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو
اللہ کی بے شمار نعمتیں ہیں جن کو انسان گن نہیں سکتا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ترجمہ: اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ [النحل: 18]
اللہ نے انسانوں کو علم کی دولت سے نوازا، عقل و شعور ، عزت، شہرت، دولت جیسی بے شمار نعمتوں سے نوازا ، یہ بھی فرمایا کہ جو نعمتیں تمہیں ہم نے عطا کی ہیں، ان کا شکر ادا کرو۔ شکر کے بارے میں علمائے دین فرماتے ہیں کہ جو نعمتیں تمہیں ملی ہیں ان کی حفاظت کرو، ان کی قدر کرو ۔ یہ بھی شکر ہے لیکن کچھ انسان نعمتیں ملنے سے گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور یہ سوچ لیتے ہیں کہ یہ نعمتیں ان کی ہمیشہ غلام بنی رہیں گی، یہ انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔ آج دولت کا بیجا استعمال عام بات ہو گئی ہے، شادی بیاہ میں طرح طرح کی رسموں و خرافات میں دولت کو خرچ کر رہے ہیں، جہیز جیسی حرام رسم ہی کیا کم ستم ڈھائے ہوئے تھی کہ اس سے بڑا وبالِ جان آج کل کی دعوتیں ہوگئی ہیں، فرینڈ شپ ڈے ہو، یوتھ ڈے ہو، نیو ایئر ڈے ہو، برتھ ڈے پارٹی ہو، ولیمہ کی پارٹی ہو، منگنی کی پارٹی ہو، شادی کی پارٹی ہو، اتنے طرح کا کھانا پکوا کر کھلاتے ہیں کہ اللہ کی پناہ! یہ سب دکھاوے کے لیے اسٹیٹس بنا رکھا ہے۔
جہیز کی بڑھتی لعنت ہی زہریلے ناگ کی طرح غریب بچیوں اور غریب والدین کو ڈس رہی ہے، اب نیا موذی مرض دعوتوں میں پر تکلف کھانوں نے لے لیا ہے، بیچارہ غریب انسان دیکھ دیکھ کر آہیں بھر رہا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کھانا انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے، اس لیے وہ جگہ، مقام اور اپنے مرتبے کا احساس بھی نہیں کرتا۔ شادیوں میں اکثر مار کٹائی کھانا کے ہی سبب ہوتی ہے اور وہ منظر دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔ اسلام نے میانہ روی کو پسند کیا ہے۔ کھانے میں احتیاط یہ ہونی چاہیے کہ کھانا جی بھر کر نہ کھائے اور پیٹ بھر کر بھی نہ کھائے ، ایک مسلمان کو چاہیے کہ پیٹ کے تین حصے کرے، ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے، ایک تہائی سانس کے لیے، حدیث پاک میں ہے کسی انسان نے اپنے پیٹ سے برا برتن کبھی نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند نوالے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے، تہائی پینے کے لیے اور تہائی سانس کے لیے رکھے۔ [جامع ترمذی، ج: 4, ص: 177, حدیث: 2380، سنن ابن ماجہ، ج: 2, ص: 1111, حدیث: 3349]
رزق نعمت الہی ہے، اسے برباد نہ کریں
بڑھتی مہنگائی اور شادی کی پارٹیوں میں طرح طرح کے پکوانوں کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس سے کھانے کی بربادی بہت زیادہ ہو رہی ہے اور یہ روز کا معمول بن گیا ہے۔ نہ خدا کا خوف نہ سماج کا ، نہ ہی غریبوں کی بھوک مری کا کہ اللہ نے ہمیں اتنا دیا ہے، اللہ کی کتنی مخلوق بھوکے سوتی ہے اور ہم ہیں کہ کھانا برباد کر رہے ہیں ، پھینک رہے ہیں ، ہم سب کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اللہ کی بے بہا نعمت رزق کو ضائع (برباد) نہ کریں۔ اتنا ہی کھانا پکوائیں جو لوگ کھالیں اور کم نہ پڑے، طرح طرح کے لذیذ کھانے ضرورت سے زیادہ بنانا تو کھانا برباد ہونا لازمی ہے، بچے ہوئے کھانے کو بانٹنے سے پہلے سوچیں کاش اتنا کھانا نہ بنواتے، اتنا کھانا پہلے بنوا کر پہلے ہی یتیم خانہ، مدرسہ اور غریبوں ہمسایوں کو بھیج دیتے وہ غریب بھی لذیذ کھانا کھا لیتے اور دعائیں دیتے یا پھر اتنے قسم کا کھانا ہی نہ بنواتے۔ کھانا بھی برباد نہ ہوتا اور فضول خرچی سے بھی بچتے ، روپے بھی زیادہ نہ خرچ ہوتے ۔
ضرورت مندوں کو دیں، مالی ، صفائی کرنے والے، چوکیدار، پڑوسی سب کا حق ہے۔ ان میں سے بہت سفید پوش بھی ہوتے ہیں جو اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھے ہوئے اپنی ضرورت بیان نہیں کرتے ، سب سے بہتر تو یہ ہوتا کہ باسی کھانا دینے کی بجائے ان کو بھی دعوت دیں۔ بھوکے کو کھانا کھلانا بہت بڑی نیکی ہے، بغیر کسی دوڑ بھاگ کے بھوکوں کو کھلا کر آپ کتنا ثواب کمالیں گے اور ان کی دعائیں بھی حاصل کر لیں گے۔ دن بدن جس طرح سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، اس صورت حال میں محنت کی کمائی کو اس طرح کھانے میں ورائٹی بڑھا کر برباد نہ کیجئے۔ ضرورت کے مطابق منصوبہ بندی کر کے اپنے خرچ میں کمی لا سکتے ہیں۔ [ماہنامہ کنزالایمان دہلی، نومبر 2017ء]
