Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلاق کب، کیوں اور کیسے؟

طلاق کب، کیوں اور کیسے؟
عنوان: طلاق کب، کیوں اور کیسے؟
تحریر: مفتی نظام الدین رضوی
پیش کش: بنت سید ضامن

نکاح ایک ایسا مقدس رشتہ ہے جس کی کوکھ سے دنیا کے سارے رشتے وجود میں آتے ہیں اور انسانی معاشرہ فواحش سے محفوظ رہ کر عفتِ نفس اور پاکیزگیِ نظر کی فضا سے معمور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے:

يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھے کہ بیوی کا مہر و نفقہ ادا کر سکے تو وہ نکاح کر لے، اس سے نگاہ نیچی اور شرمگاہ محفوظ ہو جاتی ہے۔“ [صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰۃ المصابیح]

تاہم میاں بیوی کے تعلقات کبھی اس قدر ناخوشگوار اور تلخ ہو جاتے ہیں کہ اس وقت دونوں میں تفریق و جدائی کے سوا عافیت کی کوئی اور راہ نظر نہیں آتی، اسی تفریق و جدائی کو طلاق کہتے ہیں۔

طلاق کے سلسلے میں قانونِ اسلام کی چند دفعات

(۱) قرآن مجید سورہ بقرہ آیت 229 میں ہے:

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ ۖ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ

ترجمہ: طلاق دو بار ہے پھر بھلائی کے ساتھ بیوی کو زوجیت میں روک لینا ہے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ [البقرۃ: 229]

اس سے معلوم ہوا کہ شوہر کو دو طلاق تک اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو عورت کو اپنے پاس روک لے اور چاہے تو چھوڑ دے تاکہ وہ عدت گزار کر دوسرے سے نکاح کر لے۔ اس لیے احسن طریقہ یہ ہے کہ شوہر عورت کی پاکی کے زمانے میں قربت سے پہلے ایک طلاق دے، اس سے سبق لے کر اگر دونوں اچھی طرح ایک ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں تو شوہر طلاق واپس لے لے اور دونوں ساتھ رہیں اور اگر نرم نہ پڑیں تو شوہر دوسرے مہینے میں عورت کی پاکی کے زمانے میں صحبت سے پہلے دوسری طلاق بھی دے سکتا ہے۔ اس طلاق کے بعد اگر دونوں اصلاح پذیر ہو جائیں اور نباہ کی راہ نکل آئے تو شوہر یہ طلاق بھی واپس لے سکتا ہے، وہ بیوی سے کہہ دے کہ میں نے تمہیں واپس لیا، پھر ساتھ میں مل جل کر رہیں۔ اسی بات کو قرآن کے الفاظ میں ”امساک“ کہا گیا ہے یعنی بیوی کو زوجیت میں روک لینا۔

اگر اب بھی تلخی برقرار رہے اور نباہ و سمجھوتے کی راہ نہ نکل سکے تو ایک دوسرے پر مسلط رہنے سے بہتر ہے کہ شوہر اسے چھوڑ دے تاکہ وہ عدت گزار کر اپنی خوشگوار زندگی کے لیے کوئی مناسب انتظام کر سکے۔ قرآن مجید نے اسی کو اَوْ تَسْرِيْحٌۢ بِاِحْسَانٍ ”یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دینا“ کہا ہے۔

(۲) تفریق و جدائی کی آخری اور قطعی صورت ہے تین طلاق، جس کے بعد واپسی کا راستہ ناممکن حد تک بند تو نہیں ہوتا لیکن بہت آسان بھی نہیں رہ جاتا اور قرآنِ حکیم کی سورہ بقرہ آیت نمبر 230 میں اس دفعہ کا ذکر ان الفاظ میں ہے:

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَاۤ اَنْ يَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ

ترجمہ: پھر اگر شوہر نے تیسری طلاق دے دی تو اس کے بعد وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک وہ دوسرے شوہر کے پاس نہ رہے، پھر اگر (اس کے) دوسرے شوہر نے اسے طلاق دے دی تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ دونوں آپس میں (پھر سے) نکاح کر لیں۔ [البقرۃ: 230]

صحیح بخاری شریف جلد دوم اور سنن ابو داؤد شریف میں ہے، صحابیِ رسول حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ صحیح بخاری شریف کے الفاظ ہیں:

فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

پھر عویمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی عورت کو تین طلاقیں دے دیں۔ [صحیح بخاری، ج: 2، ص: 791، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث]

فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيْقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حضرت عویمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی عورت کو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طلاقیں نافذ فرما دیں۔ [سنن ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب اللعان، ص: 255]

طَلَّقَنِيْ زَوْجِيْ ثَلَاثَ تَطْلِيْقَاتٍ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَجَازَ ذٰلِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

میرے شوہر نے یمن کے لیے گھر سے نکلتے وقت مجھے تین طلاقیں دے دیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ [سنن ابن ماجہ، ص: 145، کتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثا فی مجلس واحد]

ہم نے اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت واضح فرمان آپ کو سنایا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو تینوں واقع ہو جاتی ہیں۔

(۳) شوہر عورت کو منظور نہ ہو تو کچھ مال یا مہر کے بدلے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے۔ اس دفعہ کا ذکر قرآنِ حکیم سورہ بقرہ آیت نمبر 229 میں ہے:

فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ

ترجمہ: پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ میاں بیوی اللہ کی حدیں نہ رکھ سکیں گے تو ان پر اس بارے میں کچھ گناہ نہیں کہ عورت بدلہ دے کر چھٹی لے لے (مال دے کر طلاق لے لے)۔ [البقرۃ: 229]

قانونِ اسلام کی یہ دفعات قرآن و حدیث میں بہت واضح الفاظ میں موجود ہیں، اس لیے مسلمان بھائیوں پر یہ بات واضح رہے کہ یہ علماء کا بنایا ہوا قانون نہیں بلکہ قرآن و حدیث کا جاری کردہ فرمان ہے جس کے آگے مسلمان مرد و عورت کا سر خم ہے اور سبھی کا یہ ایمان ہے:

ہے قولِ محمد، قولِ خدا، فرمان نہ بدلا جائے گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر قرآن نہ بدلا جائے گا

آج ہمارے عوام بھائیوں میں قرآن و حدیث سے لاعلمی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ تین طلاق سے کم کوئی طلاق نہیں سمجھتے حالانکہ اب بھی آپ نے سنا کہ طلاق ایک بار بھی ہے اور دو بار بھی اور تین بار بھی۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ.

تمام حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔ [سنن ابو داؤد، کتاب الطلاق، باب کراھیۃ الطلاق]

اس لیے جہاں تک ممکن ہو طلاق سے بچیں اور رشتہ ازدواج کو نبھاتے رہیں اور تین طلاقیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا بھی سبب ہیں۔ حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:

أُخْبِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهٗ ثَلَاثَ تَطْلِيْقَاتٍ جَمِيْعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللّٰهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دیں۔ اس کو سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا: کیا کتاب اللہ سے کھیل کیا جا رہا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر ابھی موجود ہوں؟ [سنن نسائی، کتاب الطلاق]

میرے بھائیو! آج جس بے خوفی کے ساتھ ہمارے سماج میں تین طلاق کا رواج در آیا ہے وہ ضرور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔ اس لیے آپ خدا سے ڈریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمائیں اور ہرگز ہرگز تین طلاقیں ایک ساتھ نہ دیں۔ آپ غور کریں کہ آپ کے اس کرتوت نے اسلام اور مسلمانوں کو آج کیسی مشکلات کے دلدل میں لا کھڑا کیا ہے۔ آپ آج ہی تین طلاق سے توبہ کریں اور عہد کریں کہ اب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کا یہ کام نہ کریں گے تو امید ہے کہ ہماری حکومتیں ہمارے مسلم پرسنل لا میں بیجا دخل اندازی سے باز آ جائیں گی۔ الحمد للہ ابھی اسلام زندہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے۔

[ماخوذ از: ماہنامہ کنز الایمان دہلی، 2016ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!