| عنوان: | استاد کے حقوق |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
انسان کی ترقی اور کمال میں دو شخصیات کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ایک والدین جو اس کے دنیا میں آنے کا سبب بنی، اور دوسرے استاد جو اس کا عالم روحانیت سے رابطہ مضبوط کرتے ہیں۔ استاد کا رشتہ ایسا مقدس رشتہ ہے جس کی عظمت و رفعت کا اندازہ بزرگوں کے اقوال اور ان کے اپنے اساتذہ کے ادب و احترام کے جذبے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
طالب علم کے لیے استاد ایک باغبان کی مثال رکھتا ہے جس طرح پودوں کی حفاظت اور ان کی افزائش باغبان کی دیکھ ریکھ اور اس کی محنت پر موقوف ہے، اسی طرح طالب علم کی ترقی میں استاد کی توجہ اور محنت کا اہم کردار ہوتا ہے۔ طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے استاد کی دل و جان سے عزت کریں اور ہمہ وقت ان کے حقوق کی ادائیگی کی کوشش کریں۔ یہاں پر استاد کے کچھ حقوق بیان کیے جا رہے ہیں۔
استاد کا ادب و احترام کریں
طالب علم کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے استاد کا ادب و احترام کرے۔ استاد کو اپنا روحانی باپ مانے۔ اس تعلق سے ایک مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے باپ کی حیثیت رکھتا ہوں، میں تمہیں علم سکھاتا ہوں۔“ [ابو داود، ج: 1، ص: 37، حدیث: 8]
علامہ مناوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”جو شخص لوگوں کو علم سکھائے وہ بہترین باپ ہے، کیونکہ وہ بدن کا نہیں روح کا باپ ہے۔“ [والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق، ص: 91]
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”استاد کے حق کو اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 23، ص: 638]
اطاعت و فرمانبرداری
طالب علم پر استاد کے حقوق میں سے ایک اہم حق اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا ہے۔ طالب علم پر لازم ہے کہ وہ استاد کی ہر بات اور ہر حکم مانے سوائے خلاف شرع حکم کے۔ کہ شریعت کے خلاف کسی کے بھی حکم کو نہ ماننے کا حکم ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے: لا طاعة لأحد في معصية الله تعالى، یعنی اللہ پاک کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔ [مسند امام احمد، ج: 5، ص: 65]
حسن اعتقاد
طالب علم کو چاہیے کہ استاد کے ساتھ اچھا اعتقاد رکھے، استاد کے تعلق سے ہمیشہ مثبت سوچے۔ استاد کے کسی بھی عمل کے بارے میں بدگمانی کا شائبہ بھی دل میں نہ آنے دے۔ علم کا فیضان تب ہی حاصل ہوتا ہے جب استاد کے ظاہری ادب کے ساتھ ساتھ باطنی طور پر بھی استاد کا ادب و احترام کرے۔
استاد کی مجلس کا ادب کرے
طالب علم کو چاہیے کہ استاد کے سامنے ادب سے بیٹھے، ان کی مجلس میں بلند آواز سے نہ بولے، کوئی بھی ایسے فعل کا ارتکاب نہ کرے جس سے استاد کی بے ادبی کی فضا پیدا ہو۔ امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر ایک سا حق ہے اور وہ یہ ہے کہ:
- اس سے پہلے گفتگو شروع نہ کرے۔
- اس کی جگہ پر اس کی غیر موجودگی میں بھی نہ بیٹھے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 23، ص: 638]
استاد کے ادب کے تعلق سے حضرت سہل کا یہ واقعہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔
حضرت سہل بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے کوئی سوال پوچھتا تو آپ پہلو تہی فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اچانک دیوار سے پشت لگا کر بیٹھ گئے اور لوگوں سے فرمایا: ”آج جو کچھ پوچھنا چاہو مجھ سے پوچھ لو!“ لوگوں نے عرض کی: ”حضور! آج یہ کیا ماجرا ہے؟ آپ تو کسی سوال کا جواب ہی نہیں دیا کرتے!“ فرمایا: ”جب تک میرے استاد حضرت ذو النون رحمۃ اللہ علیہ حیات تھے، اس لیے ان کے ادب کی وجہ سے جواب دینے سے گریز کیا کرتا تھا۔“ لوگوں کو اس جواب سے مزید حیرت ہوئی کیونکہ ان کے علم کے مطابق حضرت ذو النون مصری رحمۃ اللہ علیہ ابھی حیات تھے۔ بہرحال آپ کے اس جواب کی بنا پر فوراً وقت اور تاریخ نوٹ کر لی گئی۔ جب بعد میں معلومات کی گئیں تو واضح ہوا کہ آپ کے کلام سے تھوڑی دیر قبل ہی حضرت ذو النون مصری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ [تذکرۃ الاولیاء، ج: 1، ص: 349]
استاد کے سامنے عاجزی اختیار کرے
طالب علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ عجز و انکساری کو اپنا شیوہ بنائے۔ اپنے استاد کے سامنے کبھی بھی کبر و غرور سے ہرگز پیش نہ آئے۔
استاد کے لیے دعائے خیر کرے
طالب علم کو چاہیے کہ اپنے استاد کے لیے ہمیشہ دعا کرتا رہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”میں جب بھی اپنے والدین کے لیے دعا کرتا ہوں تو اپنے استاد کے لیے ضرور دعا کرتا ہوں۔“ [ملفوظات امام اعظم، ص: 113]
استاد کی خدمت کرے
طالب علم کو چاہیے کہ وہ استاد کی ہر طرح سے خدمت کرے، کوئی اسے پریشانی لاحق ہو تو غم خواری کرے۔ اپنے مال اور اپنے وقت سے خدمت کرنے میں کنجوسی نہ کرے۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں: ”اپنے مال میں سے کسی چیز سے استاد کے حق میں بخل سے کام نہ لے یعنی جو کچھ اسے درکار ہو بخوشی حاضر کر دے، اور اس کے قبول کر لینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت سمجھے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 23]
استاد سے معذرت
اگر کوئی استاد طالب علم سے کسی وجہ سے ناراض ہو جائے تو طالب علم پر لازم ہے کہ استاد سے معذرت کرے اور معافی طلب کرے اور استاد کی ناراضی دور کرنے کی کوشش کرے۔ آئندہ کبھی بھی کوئی اذیت نہ پہنچ پائے اس کا خاص خیال رکھے کہ استاد کو اذیت دینا محرومی کا سبب ہے۔ امام اہل سنت فرماتے ہیں: ”جس سے اس کے استاد کو اذیت پہنچی وہ برکات علم سے محروم رہے گا۔“ [فتاویٰ رضویہ]
اللہ تعالی ہمیں اپنے اساتذہ کی تعظیم و تکریم اور اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمين بجاه النبي الأمين عليه الصلاة والتسليم۔
