| عنوان: | دلہن کے پاؤں دھونے کا مسئلہ |
|---|---|
| تحریر: | سید مبشر عطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
فتاویٰ رضویہ جلد اول ص 55 پر ہے: ”دلہن کو بیاہ کر لائیں تو مستحب ہے کہ اس کے پاؤں دھو کر پانی مکان کے چاروں گوشوں میں چھڑکیں، اس سے برکت ہوتی ہے۔“
دیوبندی اس کو بیان کر کے زندگی بھر کے سیکھے ہوئے سارے کرتب دکھا ڈالتے ہیں۔ اور اکابر علمائے اہلِ سنت کا نام لے لے کر تنقید و تنقیص کی چیخ پکار کرتے ہیں کہ لو دکھاؤ کہاں ہے۔ اور یہی سفلہ پن کرتے ہیں کہ جب اس پانی سے برکت ہوتی ہے تو رضا خانی اسے تبرک کے طور پر اپنے گھروں میں لے جائیں۔
چونکہ فتاویٰ رضویہ میں حوالہ نہیں، دیوبندی یہ جانتے تھے کہ عامی مکتب میں یہ ہے نہیں، کوئی حوالہ کہاں سے نکالے گا۔ یہ بات ایک حد تک صحیح بھی تھی کیونکہ جس کتاب میں یہ مذکور ہے وہ نایاب تھی، کبھی ملتی نہ تھی لیکن ماضی قریب میں استنبول میں شائع ہوئی اور اس کے کچھ نسخے ہندوستان میں بھی آئے۔ دیوبندیو! اب تم بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر پڑھو اور اپنے مولویوں کی جہالت اور خیانت پر ماتم کرو۔
امامین جلیلین محمد بن ابی بکر امام زادہ اور یعقوب بن سید علی ”شرعۃ الاسلام“ اور اس کی شرح ”مفاتیح الجنان“ میں لکھتے ہیں:
من السنة أن يغسل الزوج رجليها ويرش ذلك الماء في زوايا البيت يخال من ذلك الماء بركة.
ترجمہ: سنت ہے کہ شوہر دلہن کے پاؤں دھوئے اور اس پانی کو گھر کے کونوں میں چھڑک دے، اس سے برکت آئے گی۔ [شرعۃ الاسلام، ص: 436]
فتاویٰ رضویہ میں صرف یہ تھا کہ مستحب ہے اور ان دونوں کتابوں میں اسے سنت کہا گیا ہے۔ دیوبندیو! اپنے کسی دار الافتاء سے پوچھو سنت کا انکار کرنے والے کا کیا حکم ہے؟ یقین رکھو اگر زید و عمرو کے نام سے سوال کرو گے تو دیوبندی دار الافتاء سے بھی وہی جواب آئے گا جو مجددِ اعظم اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے دیوبندیوں کے بارے میں دیا ہے۔
دیوبندیت ایسی بیماری ہے کہ اس کا علاج، علاج بالمثل کے سوا کچھ بھی نہیں۔ قرآنِ حکیم پڑھو، آہیں بھرتے رہیں گے، حدیثِ پاک سناؤ، منہ بسورتے رہیں گے، ہاں اگر ان کے کسی حضرت جی کا ارشاد سنا دو تو گھٹنے گھس جائیں گے۔
دیوبندی امت کے حکیم الامت صاحب
”بہشتی زیور“ حصہ ہفتم میں لکھتے ہیں:
تھانوی جی کا ایک نسخہ
”اگر کسی کو نظر لگ جائے، جس پر شبہ ہو کہ اس کی نظر لگی ہے اس کا ہاتھ اور دونوں پاؤں (ہاتھ دھونے سمیت) اور دونوں پاؤں اور دونوں زانو، استنجا کا موقع (پیشاب یا پاخانہ کا مقام) کو دھلوا کر پانی جمع کر کے اس شخص کے سر پر ڈالو جس کو نظر لگی ہے، اس کو شفا ہو جائے گی۔“
انصاف پسند حضرات غور کریں کہ ”شرعۃ الاسلام“ اور ”مفاتیح الجنان“ میں تو صرف یہ تھا کہ دلہن کے دونوں پاؤں دھوئیں، گھر کے کونوں پر چھڑکیں، اس سے برکت ہوتی ہے۔ اس پر دیوبندی اپنے سارے کرتب دکھاتے ہیں اور یہاں یہ ہے کہ صرف پاؤں ہی نہیں، اس کے پیشاب کا مقام بھی دھوئیں، اس کے پاخانے کا مقام بھی دھوئیں، مریض کے سر پر ڈالیں، اس کو شفا ہو جائے گی۔ اگر یہ بات ہماری کسی کتاب میں ہوتی تو دیوبندی نقال خوب خوب بھبک بھبک کر پھبتیاں کستے، کرتب دکھاتے! جب دین نہیں، دیانت نہیں، خدا کا خوف نہیں، رسول سے شرم نہیں، آخرت کے مواخذے کا اندیشہ نہیں، تو پھر ڈر کاہے کا۔ دیوبندیو! جب یہ پیشاب پاخانے کا دھوون آبِ شفا ہے، تو تم اس کو گھروں میں لے جا کر رکھو، پیو پلاؤ اور تقسیم کرو۔
دوسرا نسخہ
”اعمالِ قرآنی“ میں دیوبندی برادری کے انہی حکیم جی نے امساک کے لیے یعنی عورت کے ساتھ دیر تک ہمبستری کرنے کے لیے یہ عمل لکھا ہے: ”انگور کی پتی پر آیتِ کریمہ إِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ الآیۃ لکھ کر ران پر باندھیں۔“
جس پتی پر یا کاغذ پر آیتِ کریمہ لکھی ہو اس کا چھونا ناپاک تو ناپاک، جنبی تو جنبی، بے وضو کو بھی جائز نہیں۔ جب کہ ہمبستری سے وضو بھی ٹوٹے گا اور غسل واجب ہوگا۔ کتنی عمدہ دیوبندی تعلیم ہے! کہ لذتِ نفسانی کے لیے جی بھر کر قرآن مجید کی بے حرمتی کا سبق دیا جا رہا ہے۔
