| عنوان: | حضرت علی! شیرِ خدا بھی، بابِ علم بھی (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر حضرت علی کو لفظ ”رسول اللہ“ مٹانے کا حکم دیا۔ اب حضرت علی کے لیے آزمائش کا مرحلہ تھا۔ عقل کا اصرار تھا کہ وہ لفظ مٹا دیا جائے مگر عشق کہتا تھا جس ذات کو ”رسول اللہ“ مان کر ابدی عزت ملی ہے، اس لفظ کو کس طرح مٹاؤں؟ عقل و عشق کے مابین جنگ چھڑ گئی، آخر عشق بازی لے گیا اور آپ نے بہ کمالِ ادب عرض کیا: مَا أَنَا بِالَّذِي أَمْحَاهُ ”سرکار! میں اس لفظ کو نہیں مٹا سکتا۔“ حضرت علی عشق کے ہاتھوں مجبور تھے۔ دلوں کے حال جاننے والے مصطفیٰ جانِ رحمت سے علی کی کیفیت پوشیدہ نہ تھی اس لیے آپ نے حضرت علی کے عشق کو عزت بخشتے ہوئے خود ہی اس لفظ کو مٹا دیا: فَمَحَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ”آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو اپنے ہاتھ سے مٹا دیا۔“ [صحیح مسلم، حدیث: 4629]
نبیِ رحمت کی بارگاہ سے ہر صحابی کو ایک منفرد مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔ سیدنا علی اس لحاظ سے بڑے خوش نصیب ثابت ہوئے کہ آپ کو ”أَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا“ کا مقامِ رفیع عطا ہوا۔ یمن کی قضا سونپتے وقت آپ نے حضرت علی کے سینے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا فرمائی:
اللّٰهُمَّ اهْدِ قَلْبَه، وَثَبِّتْ لِسَانَه.
”اے اللہ! اس کے دل کو روشن فرما دے اور زبان کو تاثیر عطا فرما۔“
حضرت علی فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے حکم سے بیجوں سے درخت پیدا ہوتے ہیں، اس دعا کے بعد مجھے کسی فیصلے میں کوئی شک یا تردد نہیں ہوا: فَوَالَّذِي فَلَقَ الحَبَّةَ مَا شَكَكْتُ فِي القَضَاءِ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ”بغیر کسی شک و شبہ کے میں نے ہر مقدمے میں درست فیصلہ دیا۔“ [ایضاً، ص: 137]
اجابت کا سہرا عنایت کا جوڑا
دلہن بن کے نکلی دعائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم
دعائے محمدی کا اثر ہی تھا کہ اصحابِ رسول میں حضرت علی کی علمی رفعتوں کے چرچے ہوتے تھے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَقْضَى أَهْلِ المَدِيْنَةِ عَلِيٌّ ”ہم لوگ آپس میں چرچا کرتے تھے کہ سارے مدینے میں حضرت علی سب سے زیادہ علم والے (اچھے قاضی) ہیں۔“ [تاریخ الخلفاء للسیوطی، ص: 137]
مرادِ رسول سیدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: عَلِيٌّ أَقْضَانَا ”حضرت علی ہم سب میں سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔“
صحابیِ رسول حضرت سعید ابن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِّنَ الصَّحَابَةِ يَقُولُ: سَلُونِي إِلَّا عَلِيٌّ ”حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سوائے حضرت علی کے کوئی نہیں تھا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ جو چاہو مجھ سے پوچھ لو۔“ [ایضاً، ص: 137]
سیدنا ابو طفیل کی روایت ہے، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
سَلُونِي عَنْ كِتَابِ اللّٰهِ، فَوَاللّٰهِ مَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْلَمُ أَبِلَيْلٍ نُزِلَتْ أَمْ بِنَهَارٍ، أَمْ فِي سَهْلٍ أَمْ فِي جَبَلٍ.
”مجھ سے قرآن کے بارے میں جو چاہو پوچھ لو، میں تمام قرآنی آیات کے بارے میں جانتا ہوں کہ کون سی آیت دن میں نازل ہوئی اور کون سی آیت رات میں، کون سی آیت عام جگہ نازل ہوئی اور کون سی آیت پہاڑ میں نازل ہوئی۔“ [تاریخِ دمشق، ج: 42، ص: 398]
سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا، حالانکہ آپ انکاری تھے مگر اہلِ مدینہ کے مسلسل اصرار پر آپ کو منصبِ خلافت سنبھالنا پڑا۔ حضرت علی کی شجاعت و بہادری، زہد و تقویٰ، صبر و قناعت اور علم و فضل سے امید تھی کہ مسلمان عروج و ارتقا کی ایک نئی داستان لکھیں گے۔ جس طرح آپ کے پیش رو خلفائے ثلاثہ کو پرسکون اور سازگار حالات ملے تو انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے اسلامی مملکت کو خوب وسیع کیا مگر اب حالات بالکل بدل چکے تھے۔ مسلمانوں میں خانہ جنگی کا ماحول بنا ہوا تھا، خاندانی رقابت سر اٹھا رہی تھی، ایسے ماحول میں منصبِ خلافت کانٹوں بھرا تاج تھا، ملتِ اسلامیہ ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی، حضرت علی کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری آن پڑی تھی، کاش حضرت علی کو سکون کے چند لمحات ملے ہوتے تو تاریخ کچھ اور ہی ہوتی۔ ؎
مگر مرضیِ مولیٰ از ہمہ اولیٰ
ذوالحجہ 35ھ میں آپ خلیفہ مقرر ہوئے، منصبِ خلافت سنبھالتے ہی آزمائشوں کا دور شروع ہو گیا۔ پہلے جنگِ جمل (36ھ)، اس کے بعد جنگِ صفین (37ھ) اور پھر جنگِ نہروان (38ھ) نے آپ کو کسی طور چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ جنگِ جمل اور جنگِ صفین تو نہایت تکلیف دہ جنگیں تھیں جن میں دونوں طرف اجلۂ صحابہ کرام موجود تھے۔ جو تلواریں کبھی کفر و شرک کے خلاف چمکتی تھیں آج وہی تلواریں ایک دوسرے کے خون میں ڈوبی ہوئی تھیں، ایک دوسرے کے سگے ماں جائے رشتے دار ایک دوسرے کے خلاف شمشیر بکف تھے۔ ان جنگوں نے مسلمانوں کی عسکری طاقت کو ہی کمزور نہیں کیا بلکہ اس رشتۂ اخوت پر بھی ضرب لگائی جو رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا تھا۔ ان جنگوں کے زخم سوکھنے نہ پائے تھے کہ مقام نہروان پر خوارج سے جنگ لڑنا پڑی۔ بڑے سے بڑا بہادر سپہ سالار بھی ان اعصاب شکن جنگوں سے ٹوٹ گیا ہوتا مگر قدرت نے شاید مولیٰ علی کو اسی موقع کے لیے ہی چنا تھا۔
آپ نے نہایت صبر و تحمل کے ساتھ ناموافق حالات کا مقابلہ کیا، اپنے پیارے ساتھیوں کی تلواروں کا سامنا بھی کیا۔ مگر کمالِ ضبط کے ساتھ حالات کو سازگار بنانے میں جٹے رہے۔ اس زمانۂ آزمائش میں وہ لمحہ انتہائی تکلیف دہ تھا جب حالات کی سختیوں سے تنگ آ کر آپ کو مدینہ چھوڑنے کا ارادہ کرنا پڑا۔ اس وقت سیدنا علی المرتضیٰ کے دل پر کیا گزری ہوگی، وہی جانتے ہیں۔ جس ذات نے غزوۂ تبوک کے سوا کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی اختیار نہ فرمائی، آج اسے مدینے سے جانے پر مجبور ہونا پڑا۔ غم و اندوہ اور آزمائشوں کا یہ دور تقریباً چار سال نو ماہ چلا یہاں تک کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ 17 رمضان المبارک 40ھ کو اپنے شہزادے امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
رأيت الليلة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، ما لقيت من أمتك من الأود واللدد، فقال لي: ادع الله عليهم، فقلت: اللهم أبدلني بهم خيرا لي منهم، وأبدلهم شرا لهم مني.
”رات میں نے خواب میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور آپ سے امت کی شکایت کی کہ آپ کی امت نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ سخت جھگڑا برپا کر دیا ہے۔ حضور نے جواب دیا کہ تم ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، لہٰذا میں نے دعا کی: اے اللہ! تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور ان لوگوں پر مجھ سے بدتر حاکم مسلط فرما دے۔“ [تاریخ الخلفاء للسیوطی، ص: 140-141]
ابھی آپ خواب بیان فرما ہی رہے تھے کہ اذان کی آواز آئی، آپ نماز پڑھانے کے لیے گھر سے مسجد کی جانب نکلے، مسجد میں چھپے ہوئے ابنِ ملجم خارجی نے زہر بجھی تلوار سے آپ پر ایک کاری وار کیا۔ دنیا کے بہادروں کو دھول چٹانے والے شیرِ خدا زخمی ہو کر زمین پر گرے۔ اسی زخم سے لڑتے ہوئے 21 رمضان المبارک کو اہلِ دنیا کی بے وفائی سے تنگ آ کر اپنے پیارے آقا اور اپنے عزیز دوستوں کے ساتھ جا ملے۔
شیرِ شمشیر زَن، شاہِ خیبر شکن
پرتوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
[ماخوذ از: ماہنامہ سُنی دنیا، بریلی شریف، ص: 38]
