Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت علی! شیرِ خدا بھی، بابِ علم بھی (قسط اول)

حضرت علی! شیرِ خدا بھی، بابِ علم بھی (قسط: اول)
عنوان: حضرت علی! شیرِ خدا بھی، بابِ علم بھی (قسط: اول)
تحریر: مولانا غلام مصطفیٰ نعیمی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

رات آہستہ آہستہ گہراتی جا رہی تھی کہ اچانک بستر پر لیٹے ہوئے جوان کو اس کے کفیل نے بیدار کیا، کچھ ذمہ داریاں سپرد کیں اور اپنے ہی بستر پر لٹا دیا، عمر کا 23 واں سال تھا، والد کا سایہ سر پر تھا نہیں، جس مہربان مربی کی کفالت میں تھے، وہ خود شہر چھوڑ کر جارہے تھے، باہر دشمن ننگی تلواریں لیے اسی ”مربی“ کے منتظر تھے، رات کے خوف ناک سناٹے میں موت کی خاموش آہٹ صاف سنائی دے رہی تھی، کسی بھی وقت بستر پر ننگی تلواریں گر سکتی تھیں۔

ایسے ماحول میں اس نوجوان نے اپنا بستر چھوڑ کر اپنے ”کفیل“ کا بستر سنبھالا، خوف و دہشت کے مہیب سناٹے کے درمیان اس نوجوان نے دشمنوں کی تلواروں کا ذرہ برابر خیال نہیں کیا اور نہایت بے خوفی کے ساتھ بستر پر لیٹ گیا، آپ جانتے ہیں دشمنوں کے بیچ بے خوفی سے لیٹنے والا نوجوان کون تھا؟

یہ نوجوان شیرِ خدا، باب مدینۃ العلم سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم تھے اور ان کے کفیل و مربی تاجدارِ کائنات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے! اس کارنامے پر فخر کرتے ہوئے آپ کہا کرتے تھے:

وَقَيْتُ بِنَفْسِي خَيْرَ مَن وَطِئَ الثَّرَى
وَمَنْ طَافَ بِالبَيْتِ العَتِيقِ وَبِالحِجْرِ

”میں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس ذات گرامی کی حفاظت کی جو اہلِ زمین اور کعبہ و حطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر بلند رتبہ ہیں۔“

آپ کی ولادت عام الفیل کے تقریباً 30 سال بعد 13 رجب المرجب کو ہوئی، آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب اور والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد تھیں۔ جناب ابو طالب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سگے چچا تھے، اس رشتے سے حضرت علی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی بھی ہوتے ہیں۔

جس وقت حضور مادرِ شکم میں تھے تو والد کے سائے سے محروم ہوئے، چار سال کی عمر میں مشفقہ والدہ اور چھ سال کی عمر میں شفیق دادا بھی رخصت ہو گئے، امتحان و آزمائش کے زمانے میں جناب ابو طالب نے آگے بڑھ کر یتیم بھتیجے کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ اپنی اولاد سے بڑھ کر پیار دیا۔ زندگی کے کسی لمحے مہربان باپ کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔ قدرت کے کھیل بھی عجیب ہوتے ہیں، وقت نے پلٹا کھایا اور ابو طالب مالی مشکلات کا شکار ہوئے، مہربان چچا کی مشکلات دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر حضرت علی کو اپنی کفالت میں مانگ لیا。

اس طرح حضرت علی حضور علیہ السلام کی تربیت میں پروان چڑھے، جس ذات کی پرورش اور تربیت نورِ نبوت کے جلووں میں ہوئی ہو اس کی علمی و روحانی رفعتوں کا اندازہ بھلا کون لگا سکتا ہے؟

جس وقت حضور علیہ السلام نے اعلانِ نبوت فرمایا تو آپ دس سال کے تھے، عرب معاشرے میں بت پرستی عام تھی مگر اپنی سلجھی ہوئی طبیعت اور نبی کونین کی تربیت کی بدولت کفر و شرک کی گندگی سے ہمیشہ دور رہے، معاشرے کی دیگر خرابیاں بھی آپ کے دامنِ عفت پر کوئی داغ نہ لگا سکیں اور آپ تمام برائیوں سے محفوظ رہے۔ زمانۂ کفالت میں ایک روز آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ خدیجہ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ عمر بھلے ہی کم تھی مگر آپ کی فہم و فراست نے سمجھ لیا کہ یہ طریقۂ عبادت اہلِ مکہ سے جدا اور منفرد ہے۔ آپ نے حضور سے سوال کیا۔

عموماً اس عمر کے بچوں کو جواب کی بجائے ٹال دیا جاتا ہے، کیوں کہ بچوں کا ذہن گہری اور بڑی بات کا متحمل نہیں ہوتا، مگر حضور جانتے تھے کہ علی کم عمر ضرور ہیں مگر اعلیٰ درجے کے فہیم و ذکی ہیں، اس لیے حضور علیہ السلام نے آپ پر دعوتِ اسلام پیش کی، پیغامِ اسلام سن کر آپ نے غور کرنے کے لیے کچھ وقت مانگا۔ غور و فکر کے بعد اسلام کی حقانیت نے آپ کے دل کے دروازے کھول دیے اور آپ کلمہ پڑھ کر دامنِ رسالت سے وابستہ ہو گئے۔ حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أول من أسلم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم علي.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت علی ہیں۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، ج: 7، ص: 263]

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

وكان أول من أسلم من الناس بعد خديجة.

حضرت علی نے سیدہ خدیجہ کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ [مسند احمد، ج: 1، ص: 331]

ان روایتوں کے مطابق حضرت علی نے سب سے پہلے یا حضرت خدیجہ کے بعد اسلام قبول کیا، بعض روایتوں کے مطابق سب سے پہلے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا، امام ترمذی لکھتے ہیں:

وقد اختلف أهل العلم في هذا، فقال بعضهم: أول من أسلم أبو بكر الصديق، قال بعضهم: أول من أسلم علي، وقال بعض أهل العلم: أول من أسلم من الرجال أبو بكر، وأسلم علي وهو غلام ابن ثمان سنين، وأول من أسلم من النساء خديجة.

سب سے پہلے ایمان لانے کے سلسلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق نے اسلام قبول کیا ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ سب سے پہلے حضرت علی اسلام لائے ہیں اور بعض اہلِ علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر اسلام لائے اور علی جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں سب سے پہلے سیدہ خدیجہ نے اسلام قبول کیا۔ [سنن ترمذی، حدیث: 3734]

ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ آخر ان روایتوں میں اتنا فرق کیوں ہے؟ جواب بڑا سادہ سا ہے: حضرت خدیجہ آپ کی شریک حیات تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بدلتی ہوئی کیفیت کی عینی شاہد بھی! آپ نے ہی سب سے پہلے حضور کی رسالت کا اقرار کیا۔ لیکن یہ گھر کا معاملہ تھا۔

گھر کے باہر سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق ہی وہ شخص تھے جو معاشرے میں ایک پہچان رکھتے تھے اس لیے جب آپ نے قبول اسلام کیا تو پورے مکے میں اس بات کا چرچا ہوا، حضرت علی اس وقت نو عمر تھے اس لیے ان کے ایمان کی شہادت گھر کے قریبی افراد نے ہی دی جبکہ حضرت ابوبکر کے قبول اسلام کا سارے مکے کو پتا تھا۔ بس ہر ایک نے اپنی معلومات کے حساب سے روایت بیان کی۔ اور بہترین بات وہی ہے جسے امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔

جنگ خیبر کا معرکہ گرم تھا، کئی حملوں کے بعد اخیر میں اسلامی لشکر کا عَلم سیدنا علی المرتضیٰ کے حصے میں آیا۔ آپ فوج لے کر قلعہ قموص پہنچے اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ مسلمانوں کی پر امن دعوت کا جواب اینٹ پتھروں سے دیا گیا، اس سے بھی جی نہیں بھرا تو قلعہ کا سردار مرحب پورے دل بل کے ساتھ مقابلے پر اترا، چہرے پر زرد رنگ کا نقاب اور سر پر پتھر کا خَود پہن کر اتراتے ہوئے کہا:

قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ
شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ

”خیبر اچھی طرح جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ اسلحہ پوش اور اعلیٰ درجے کا تجربہ کار بہادر ہوں۔“

عقل مند کہتے ہیں کہ اصل جنگ ہتھیار سے نہیں دماغ سے لڑی جاتی ہے۔ ایک بار فریق مخالف کے دماغ میں مد مقابل کا خوف بیٹھ جائے تو معمولی وار سے بھی طاقت ور دشمن کو زیر کیا جاسکتا ہے، مرحب ایک تجربہ کار فوجی تھا، اس نے مولیٰ علی پر اسی نفسیاتی وار کا حملہ کیا تا کہ آپ مرعوب ہو جائیں۔ مگر آج مرحب کا برا دن تھا۔ اس کا مقابلہ اس جوان سے تھا، جو بہادری کے ساتھ نفسیات جیسے کتنے ہی علوم کا ماہر بھی تھا۔ مرحب کے نفسیاتی وار کو کاٹتے ہوئے آپ نے بڑی جواں مردی اور شانِ بے نیازی سے جواب دیا:

اَنَا الَّذِيْ سَمَّتْنِيْ اُمِّيْ حَيْدَرَہ
كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيْهِ الْمَنْظَرَہ

”میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے، میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں۔“

نفسیاتی وار خالی جاتے دیکھ کر مرحب نے تلوار نکالی اور آپ پر زبردست حملہ کیا۔ آپ نے نہایت پھرتی سے خود کو بچایا۔ اب باری آپ کی تھی، ذوالفقارِ حیدری بجلی کی طرح چمکی ابھی نگاہ ڈھنگ سے ٹھہر بھی نہ پائی تھی کہ تلوار مرحب کے سر پر قہرِ خداوندی بن کر ٹوٹ چکی تھی۔ وار کی شدت کا عالم یہ تھا کہ تلوار نے پہلے خَود کو کاٹا، پھر مغفر اور سر کو کاٹتی ہوئی مُرحب کے دانتوں تک اتر آئی، ایک ہی وار میں مرحب لاش میں بدل چکا تھا۔

شاہِ مرداں، شیرِ یزداں، قوتِ پروردگار
لا فتیٰ الا علی، لا سیف الا ذوالفقار

سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے ان اہم افراد میں شامل تھے جو تعلیم کا ماحول نہ ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں اور کافروں کے مابین جو صلح نامہ لکھا گیا وہ آپ نے ہی لکھا تھا۔ اسی موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے آپ کی بے لوث محبت کا ایک عدیم المثال منظر بھی سامنے آیا۔ معاہدہ لکھتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا:

هذا ما كاتب عليه محمد رسول الله.

”یہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے تحریری صلح فرمائی۔“

کفار مکہ کے سفیر سہیل بن عمرو نے ”رسول اللہ“ کے لفظ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے اور ہمارے درمیان اسی بات کا تو جھگڑا ہے، اگر ہم آپ کو رسول مانتے تو اس صلح کی ضرورت ہی کیا تھی؟

فلو نعلم أنك رسول الله لم نقاتلك.

”اگر ہم جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ سے ہرگز نہ لڑتے۔“

جاری.....
[ماہنامہ سُنی دنیا، بریلی شریف، ص: 36]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!