Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسط دوم)

خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسطِ دوم)
عنوان: خوارج کے عقائد اور شاخیں (قسطِ دوم)
تحریر: ابو احمد محمد انس قادری
پیش کش: ناصرین فاطمہ رضویہ

فرقہ مرجیہ

یہ فرقہ خوارج کی ضد میں نکلا تھا، ان لوگوں کا قول یہ ہے کہ مومن کو گناہ سے مطلقاً کوئی ضرر نہیں پہنچے گا جس طرح کافر کو اطاعت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس فرقے کا کہنا ہے کہ قرآن شریف میں جہنم کے عذاب کی آیتیں فقط دھمکانے کے لیے ہیں اور جس نے خالی زبان سے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا اقرار کر لیا تو وہ جنتی ہے، چاہے دل میں اعتقاد نہ ہو اور چاہے نماز وغیرہ نہ پڑھے، اس کے گناہ نہیں لکھے جائیں گے، بلکہ نیکیاں لکھی جائیں گی۔ یہ عقیدہ عراق کے شہر بصرہ میں سب سے پہلے حسان بن بلال مزنی نے اختیار کیا تھا، کچھ لوگ اس فرقے کا بانی ”ابو سلت“ کو بتاتے ہیں جو 152ھ میں مرا。

فرقہ مرجیہ کی بارہ شاخیں اس طرح ہیں:

  1. تارکیہ
  2. سائبیہ
  3. راجیہ
  4. شاکیہ
  5. بیہسیہ
  6. عملیہ
  7. مستثنیہ
  8. مشبہہ
  9. حشویہ
  10. ظاہریہ
  11. بدعیہ
  12. منقوصیہ

(1) فرقہ تارکیہ

فرقہ تارکیہ کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے واسطے مخلوق پر کوئی عمل فرض نہیں سوائے ایمان کے، پس جب بندہ اس پر ایمان لایا اور اس کو پہچانا تو پھر جو چاہے عمل کرے... اہلِ سنت کے نزدیک ایمان کے بعد نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کے کئی فرائض ہیں جن کے ترک پر انسان گناہ گار ہوگا اور کسی فرضِ قطعی کا انکار کفر ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کی فرضیت کا تو قرآنِ پاک میں واضح حکم ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ

ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ [البقرۃ: 183]

زکوٰۃ فرض ہونے کے باوجود نہ دینے والوں کے عذاب کے متعلق فرمایا:

وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِي سَبِيْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيْمٍ

ترجمہ: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔ [التوبۃ: 34]

(2) فرقہ سائبیہ

ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کو پیدا کر کے چھوڑ دیا ہے کہ وہ جو چاہیں کریں... اہلِ سنت کے نزدیک اللہ عزوجل نے خلق کو مکلف بنایا ہے، اسے نیک افعال کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیا ہے، انبیاء و آسمانی کتابیں اسی لیے نازل فرمائی ہیں۔ خلق کے اچھے برے اعمال کا بدلہ آخرت میں ملے گا۔ اللہ عزوجل زندگی کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ

ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اپنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں۔ [الذاریات: 56]

(3) فرقہ راجیہ

فرقہ راجیہ کہتا ہے کہ ہم کسی بدکار کو عاصی یا نافرمان نہیں کہہ سکتے اور نہ کسی نیکوکار کو صالح اور فرمانبردار کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ عند اللہ اس کا کیا مقام ہے؟ (ان کے نزدیک بدکار کی بدکاری قابلِ مذمت اس لیے نہیں کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ بندہ ہو)... اہلِ سنت کے نزدیک نیکوکار کو نیک اور بد کردار کو بد سمجھا جائے گا، اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں کافر کو کافر کہا ہے۔ سورۃ الکافرون اس پر دلیل ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو دنیا کا نظام الٹ ہو جائے، چور، ڈاکو، قاتل کو سزا دینا بے فائدہ ہو جائے گا کہ ہو سکتا ہے وہ ولی اللہ ہو، نیکوکار کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو جائے گی کہ ہو سکتا ہے کہ عند اللہ گناہ گار ہو۔ الغرض اس میں کئی قباحتیں آئیں گی۔ آج کل کئی گمراہ صوفی بھی اس طرح کا غلط نظریہ قائم کیے ہوئے ہیں، شریعت کے خلاف حرکات کرتے ہیں، چرس، بھنگ، زنا وغیرہ میں ملوث ہوتے ہیں اور لوگ ان حرکات کو ملامتی رنگ سمجھ کر انہیں ولی اللہ سمجھ رہے ہوتے ہیں جبکہ ملامتی رنگ کا یہ مطلب نہیں۔ ملامتی طریقہ جو تصوف میں ہے وہ یہ ہے کہ بغیر کسی گناہ کے ایسا انداز اختیار کیا جائے کہ لوگ اس سے دور رہیں اور یہ اللہ عزوجل کی عبادت کر سکے۔ نہ یہ کہ جعلی پیروں کی طرح حرام کام کرتے جائیں اور کہیں یہ ملامتی رنگ ہے۔ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی وغیرہ اکابر اولیاء رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں:

كُلُّ حَقِيْقَةٍ رَدَّتْهَا الشَّرِيْعَةُ فَهِيَ زَنْدَقَةٌ.

ترجمہ: جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ بے دینی اور دہریت ہے۔ [الرسالۃ القشیریۃ، ومن ذلک الشریعۃ والحقیقۃ، ص: 43، مصطفیٰ البابی، مصر]

(4) فرقہ شاکیہ

ان کا عقیدہ ہے کہ نیک اعمال اور طاعات ایمان کا جز نہیں ہیں... یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ جب ایمان لے آئے ہیں تو اب نیکیاں کریں یا نہ کریں اس سے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اہلِ سنت کے نزدیک طاعات ایمان کا جزء نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نیکیاں کرنے یا نہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں جہاں جنتیوں کا تذکرہ کیا ہے وہاں ان کی نشانی ایمان اور نیک اعمال بتائی ہے:

الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ

ترجمہ: جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، کہ ان کے لیے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں رواں ہیں۔ [البقرۃ: 25]

(5) فرقہ بیہسیہ

فرقہ بیہسیہ کا قول ہے کہ ایمان علم ہے، جس نے حق کو باطل سے تمیز کرنا نہ جانا وہ کافر ہے... اہلِ سنت کے نزدیک ایمان فقط علم کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق ہے جو ضروریاتِ دین میں ہیں۔ مطلقاً جو حق و باطل میں تمیز نہ کر سکے اسے کافر نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ کئی افعال ایسے ہیں کہ جس میں حق و باطل کو جاننا مسلمان پر لازم ہے جیسے اسلام کو حق اور کفر کو باطل جاننا لازم ہے۔ شفاء شریف میں اجماعی کفر کے بیان میں ہے:

وَلِهٰذَا نُكَفِّرُ مَنْ لَمْ يُكَفِّرْ مَنْ دَانَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ مِنَ الْمِلَلِ أَوْ وَقَفَ فِيْهِمْ أَوْ شَكَّ أَوْ صَحَّحَ مَذْهَبَهُمْ وَإِنْ أَظْهَرَ مَعَ ذٰلِكَ الْإِسْلَامَ وَاعْتَقَدَهٗ وَاعْتَقَدَ إِبْطَالَ كُلِّ مَذْهَبٍ سِوَاهُ فَهُوَ كَافِرٌ بِإِظْهَارِه بِهَا ظَهَرَ مِنْ خِلَافِ ذٰلِكَ.

ترجمہ: ہم اسی واسطے کافر کہتے ہیں ہر اس شخص کو جو کافروں کو کافر نہ کہے یا ان کی تکفیر میں توقف کرے یا شک رکھے یا ان کے مذہب کی تصحیح کرے اگرچہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو مسلمان جتاتا اور اسلام کی حقانیت اور اس کے سوا ہر مذہب کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو کہ وہ اس کے خلاف اس اظہار سے کہ کافر کو کافر نہ کہا، خود کافر ہے۔ [الشفاء، فصل فی بیان ما ھو من المقالات... ص: 271، المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ]

(6) فرقہ عملیہ

ان کا کہنا ہے کہ ایمان فقط عمل کا نام ہے، جو عمل نہیں کرتا وہ ایمان سے خارج اور قطعی کافر ہے... اہلِ سنت کے نزدیک ایمان خالی عمل کا نام نہیں ہے بلکہ زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے۔ جو مسلمان بے عمل ہو اسے کافر نہیں کہہ سکتے، البتہ گناہ گار ضرور ہے جیسے بے نمازی کہ اسے کافر نہیں کہہ سکتے۔

(7) فرقہ مستثنیہ

فرقہ مستثنیہ نے ایمان میں استثناء (یعنی یہ کہنا کہ میں مومن ہوں، ان شاء اللہ) سے انکار کیا... اہلِ سنت کے نزدیک فقط یہ عقیدہ رکھنا گمراہی نہیں بلکہ حکم یہی ہے کہ ایک مسلمان بغیر کسی شک کے خود کو مومن کہے یعنی مسلمان کے لیے بطورِ شک یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ وہ کہے میں ان شاء اللہ مومن ہوں۔ ہاں اس مستثنیہ فرقے کا یہ عقیدہ ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو یقینی طور پر ایسا مسلمان سمجھتے تھے کہ ان سے کفر ہونا محال ہے یعنی وہ کہتے تھے کہ ہم یقینی طور پر مؤمن ہی مریں گے، جبکہ اہلِ سنت کے نزدیک ایسا عقیدہ رکھنا درست نہیں۔ یقینی طور پر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں مؤمن مروں گا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ مرنے سے قبل کسی کفر کا ارتکاب کرلے یا کوئی کفریہ عقیدہ رکھ لے جیسا کہ بعضوں کے متعلق ملتا ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے، یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین اپنے ایمان کی حفاظت کی دعائیں کرتے تھے۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اسلام لانے کے بعد بھی کسی کفر کی بنا پر بندہ مرتد ہو سکتا ہے چنانچہ قرآن پاک میں ہے:

يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا ؕ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا ۚ وَمَا نَقَمُوْۤا إِلَّاۤ أَنْ أَغْنَاهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَإِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَإِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا أَلِيْمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ

ترجمہ: اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہ کہا اور بیشک ضرور انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آ کر کافر ہو گئے اور وہ چاہا تھا جو انہیں نہ ملا اور انہیں کیا برا لگا، یہی نہ کہ اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کر دیا، تو اگر وہ توبہ کریں تو ان کا بھلا ہے اور اگر منہ پھیریں تو اللہ انہیں سخت عذاب کرے گا دنیا اور آخرت میں اور زمین میں کوئی نہ ان کا حمایتی ہوگا اور نہ مددگار۔ [التوبۃ: 74]

(8) فرقہ مشبہہ

امام جوزی فرقہ مشبہہ کو یہاں مرجیہ کی شاخ کے تحت لائے ہیں، بعض کتب میں یہ الگ سے ایک فرقہ شمار ہوتا ہے اور مشبہہ کے تین فرقے ہیں: ہشامیہ، مقاتلیہ، واسمیہ۔ یہ تینوں فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ عزوجل کا جسم ہے، اس لیے کہ کسی موجود کا علم بغیر جسم نہیں ہو سکتا۔ بعض مشبہہ کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوند تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کی صورت پر ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ خدا جسم ہے، مگر جسموں کی طرح نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ خدا انسان کی صورت ہے۔ بعض نے کہا کہ خدا کے لیے گوشت، خون، ہتھیلی، انگلی (یعنی انسانی جسم کی طرح کے لوازمات) ثابت ہیں۔ بعض مشبہہ نے کہا کہ خدا عرش پر موجود ہے... اہلِ سنت کے نزدیک رب تعالیٰ جسم و صورت سے پاک ہے، جسم مخلوق کے لیے ہے۔ المسامرہ میں ہے:

الْجِسْمِيَّةُ تُثْبِتُ انْتِفَاءَ لَوَازِمِهَا فَلَيْسَ سُبْحَانَهٗ بِذِيْ لَوْنٍ وَلَا رَائِحَةٍ وَلَا صُوْرَةٍ وَلَا شَكْلٍ وَلَا مُتَنَاهٍ وَلَا حَالٍّ فِيْ شَيْءٍ وَلَا مَحَلَّ لَهٗ.

ترجمہ: جسمیت اپنے لوازمات کی نفی کو ثابت کرتی ہے، تو اللہ سبحانہٗ نہ رنگ والا ہے، نہ خوشبو، نہ صورت، نہ شکل اور نہ وہ متناہی ہے، نہ کسی چیز میں حلول کیے ہوئے ہے اور نہ اس کا کوئی محل ہے۔ [المسامرۃ، ص: 40، دار الکتب العلمیۃ، بیروت]

قرآن پاک میں جو اللہ عزوجل نے کہا میں دیکھتا ہوں سنتا ہوں، یہ ہمارے سمجھانے کے لیے ہیں ورنہ حقیقت میں رب تعالیٰ آنکھ، کان وغیرہ سے پاک ہے۔ مشبہہ والوں کا یہ دلیل بنانا کہ موجود کا علم بغیر جسم کے نہیں ہو سکتا بالکل غلط ہے۔ روح جسم نہیں ایک لطیف شے ہے اس کا وجود ہے۔ آج کل مسلمانوں میں بھی اس طرح کے غیر شرعی نظریات موجود ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ اللہ اوپر بیٹھا دیکھ رہا ہے جبکہ اللہ عزوجل جہت میں ہونے اور بیٹھنے سے پاک ہے۔ بس یہ کہا جائے کہ اللہ عزوجل دیکھ رہا ہے، سب جانتا ہے۔ بعض جاہلوں میں یہ مشہور ہے کہ معراج کی رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب تعالیٰ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکل میں دیکھا۔ موجودہ وہابیوں کا بھی یہ عقیدہ ہے کہ رب تعالیٰ کا جسم ہے لیکن ہمارے جیسا نہیں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے سیدی و مرشدی امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی مایہ ناز کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“ کا مطالعہ کریں۔

(9) فرقہ حشویہ

فرقہ حشویہ نے سب احادیث کا ایک ہی حکم ٹھہرایا چنانچہ ان کے نزدیک فرض ترک کرنے کا حکم ایسا ہی ہے جیسا نفل ترک کرنے کا، ان لوگوں کے خیال کے مطابق قرآن کے حروفِ مقطعات یعنی الم، حم، وغیرہ قرآن سے زائد اور بے معنی حروف ہیں اور جو آیتیں عذاب کا خوف دلانے والی ہیں وہ فقط دھمکی ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک تمام حدیثوں کا حکم ایک نہیں، نفل، مستحب، سنتِ غیر مؤکدہ کا ترک گناہ نہیں ہے۔ قرآن کے حروفِ مقطعات قرآن کا حصہ ہیں ہرگز زائد اور بے معنی نہیں ہیں۔ اللہ عزوجل نے جو قرآن میں عذابات کے متعلق آیات نازل کی ہیں یہ فقط ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ یقینی طور پر کفار اور بعض گناہ گار مسلمان اس کا عذاب چکھیں گے۔ قرآن پاک میں اس کی تصدیق یوں ہے:

وَنَادٰۤى أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوْا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظَّالِمِيْنَ

ترجمہ: اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے سچا وعدہ تمہیں دیا تھا؟ بولے، ہاں! اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر۔ [الاعراف: 44]

(10) فرقہ ظاہریہ

اس فرقہ کے ماننے والے شرعی مسائل میں قیاس سے حکمِ اجتہادی نکالنے سے انکار کرتے ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک جس مسئلہ میں قرآن و حدیث اور صحابہ کرام سے کچھ منقول نہ ہو وہاں قرآن و حدیث میں مذکور مسائل پر قیاس کر کے درپیش مسئلہ کا حل جائز ہے۔ سنن البیہقی الکبریٰ میں ہے:

عَنْ إِدْرِيْسَ الْأَوْدِيِّ قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيْدُ بْنُ أَبِيْ بُرْدَةَ كِتَابًا فَقَالَ: هٰذَا كِتَابُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ إِلٰى أَبِيْ مُوْسٰى رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيْثَ قَالَ فِيْهِ: الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيْمَا يَخْتَلِجُ فِيْ صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، فَتَعْرِفُ الْأَمْثَالَ وَالْأَشْبَاهَ ثُمَّ قِسِ الْأُمُوْرَ عِنْدَ ذٰلِكَ، وَاعْمِدْ إِلٰى أَحَبِّهَا إِلَى اللّٰهِ وَأَشْبَهِهَا بِمَا تَرٰى.

ترجمہ: حضرت ادریس اودی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہمارے پاس سعید بن ابی بردہ تشریف لائے، ان کے پاس ایک خط تھا، انہوں نے کہا یہ خط حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا، جس میں فرمایا: ”جب تجھے قرآن و سنت میں کسی مسئلہ کا حل نہ ملے اور وہ تیرے دل میں اشکال پیدا کرے تو اس کے بارے غور و فکر کر پھر جب تو قرآن و حدیث سے اس مسئلہ کی مثالیں اور تشبیہات پالے تو اس مسئلہ کو ان پر قیاس کر اور قیاس کرنے میں اس مثال یا تشبیہ کو اختیار کر جو تجھے اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ محبوب اور کسی مثال یا تشبیہ کے زیادہ موافق لگے۔“ [سنن البیہقی الکبریٰ، کتاب آداب القاضی، ج: 10، ص: 115، مکتبہ دار الباز، مکۃ المکرمۃ]

(11) فرقہ بدعیہ

یہی وہ فرقہ ہے جس نے قرآن و سنت کے خلاف غلط عقائد و اعمال رکھ کر بدعت کا ارتکاب کیا، جس کی وجہ سے انہیں بدعیہ کہا گیا... اہلِ سنت کے نزدیک جو نیا فعل یا عقیدہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہو وہ ناجائز و بدعت ہے جیسے صحابہ کرام پر طعن کرنا، ماتم کرنا، گانے باجے، مزارات پر ڈھول باجے سے چادر ڈالنا، ڈھول کے آگے بھنگڑے ڈالنا وغیرہ۔ اس کے برخلاف جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے موافق ہو وہ بدعاتِ جائز و حسنہ ہیں، جیسے ایصالِ ثواب کا ثبوت احادیث سے ہے، اب یہ ایصالِ ثواب مل کر قرآن پڑھ کر کیا جائے اور اس کا نام ختم، گیارہویں رکھا جائے تو بالکل جائز و مستحب ہے۔ بدعت کی تعریف و اقسام بیان کرتے ہوئے شارحِ بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

الْبِدْعَةُ هُوَ فِعْلُ مَا لَمْ يُسْبَقْ إِلَيْهِ فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ فَحَسَنٌ وَمَا خَالَفَ فَضَلَالَةٌ وَهُوَ الْمُرَادُ حَيْثُ وَقَعَ ذَمُّ الْبِدْعَةِ وَمَا لَمْ يُوَافِقْ وَلَمْ يُخَالِفْ فَعَلٰى أَصْلِ الْإِبَاحَةِ.

ترجمہ: بدعت کا معنی یہ ہے کہ جو پہلے نہ ہوا ہو۔ لہٰذا نیا کام جو سنت کے موافق ہو وہ اچھا ہے اور جو سنت کے خلاف ہو وہ گمراہی ہے۔ جہاں کہیں بدعت کی مذمت ہوگی اس سے مراد وہ بدعت ہوگی جو سنت کے مخالف ہے۔ جو سنت کے مخالف نہیں، وہ مباح ہے۔ [فتح الباری شرح صحیح بخاری، مقدمۃ الفتح، ج: 1، ص: 84، دار المعرفۃ، بیروت]

(12) فرقہ منقوصیہ

فرقہ منقوصیہ کا اعتقاد ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا نہیں ہے۔ (یہ لوگ اس بات کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جب ہم نے ایمان کا اقرار کر لیا تو جو کچھ نیکی کریں گے وہ مقبول ہوگی اور جو بھی گناہ اور بدکاری کریں گے وہ بخشی جائے گی چاہے توبہ کریں یا نہ کریں، قطع نظر اس کے وہ گناہِ کبیرہ یعنی زنا، چوری اور جھوٹ و غیبت وغیرہ ہوں یا صغیرہ گناہ)... اہلِ سنت حنفی کے نزدیک بھی ایمان گھٹتا اور بڑھتا نہیں البتہ کامل اور ناقص ہو سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں کہ جو مرضی گناہ کیا جائے اس کی پکڑ نہیں بلکہ جو گناہ کیا جائے گا اس کی پکڑ ہے البتہ رب تعالیٰ چاہے تو معاف فرما دے اور جو نیکی کی جائے گی وہ یقینی طور پر قبول نہیں، البتہ امید ہے کہ رب تعالیٰ اپنے فضل سے قبول کر لے۔ ہاں درودِ پاک کے متعلق علماء نے فرمایا کہ وہ مقبول ہی مقبول ہے۔ رد المحتار میں ہے:

وَكُلُّ الْأَعْمَالِ فِيْهَا الْمَقْبُوْلُ وَالْمَرْدُوْدُ إِلَّا الصَّلَاةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهَا مَقْبُوْلَةٌ غَيْرُ مَرْدُوْدَةٍ.

ترجمہ: ہر اعمال میں مقبول ہونا اور نہ ہونا دونوں ہیں مگر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑھا درود مقبول ہی مقبول ہے۔ [رد المحتار، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، ج: 1، ص: 520، دار الفکر، بیروت]

فرقہ جہمیہ

ہشام بن عبدالملک کے عہد میں ایک جعد بن درہم نامی شخص نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کیا تھا۔ کوفہ میں جعد کا ایک شاگرد جہم بن صفوان تھا جو اگرچہ کوئی عالم نہیں تھا مگر بڑا چرب زبان اور فصیح اللسان تھا۔ اس نے جعد بن درہم کے خیالات کی اشاعت نہایت زور و شور سے کی، اس طرح بہت سے لوگ اس کے ہم خیال ہو گئے، اس فرقے کا نام جہم کے نام پر (جہمیہ) ہوا۔ جعد بن درہم کو خالد بن عبداللہ القسری حاکمِ عراق نے عین بقر عید کے دن شہر میں یہ کہتے ہوئے قتل کر دیا تھا: ”لوگو قربانیاں کرو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانیوں کو قبول فرمائے میں جعد بن درہم کو ذبح کر رہا ہوں، اس کا باطل گمان ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دوست نہیں بنایا نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کیا۔“ جعد بن درہم کو قتل کر دینے پر حضرت حسن بصری اور دیگر علمائے سلف نے خالد کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جہم بن صفوان بھی بنو امیہ کے آخری خلیفہ مروان الحمار کے عہدِ حکومت میں نصر بن سیار حاکمِ خراسان کے حکم سے قتل کیا گیا۔

جہمیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ چیزوں کی پیدائش سے پہلے ان کا علم اللہ کے لیے محال (ناممکن) ہے۔ وہ جنت اور دوزخ دونوں کو فانی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے وجود کی نفی کرتے ہیں... اہلِ سنت کے نزدیک چیزوں کی پیدائش سے پہلے بھی رب تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا ہے وہ عالم الغیب ہے۔ جنت و دوزخ غیر فانی ہے۔ اللہ عزوجل کی ذات کی طرح اس کی صفات کو ماننا بھی لازم ہے۔

[ماخوذ از: 73 فرقے اور ان کے عقائد]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!