Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مدینہ ایک روحانی سفر

مدینہ ایک روحانی سفر (بفضل امی جان)
عنوان: مدینہ ایک روحانی سفر (بفضل امی جان)
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

کچھ لکھنے سے پہلے آپ سے مخاطب ہو جذبات ہیں ہمارے دل میں، ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ ہمیں پڑھ کر اپنا قیمتی وقت صرف کر رہے ہیں۔ اللہ کریم حق لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی کرم کشائی سے اس مجلس القلم میں لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

جب سے مدینہ کا سفر نصیب ہوا، میرے دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ ہمارے امی امجد، ابو امجد نے ہماری مولانا آزاد اسکالرشپ آئی تو ان کی خواہش تھی ہمیں مدینہ منورہ بھیج کر ان کی خوشی ثواب میں تبدیل ہو جائے۔

سفرِ روحانی کی بنیاد میری امی جان

نانا نانی ہر سال رمضان المبارک میں عمرہ پر جاتے تھے۔ ہمارا بچپن سے ہی ان کے ساتھ رہنا اللہ رب العزت کی رضا سے منظور تھا۔ نانا نانی کا پیار بڑا ہی انوکھا تھا۔ ہمارے جانے کی مکمل بات نانا سے ابو نے کر لی تھی۔ ایک الگ ہی کیفیت، ایک الگ ہی خوشی تھی نانا نانی، ہمیں، والدین اور ہم سے عزیز تر تھے انہیں۔

نانا نانی حافظِ قرآن، ہر سال ان کی سفرِ مدینہ جانے کی طلب، ہمیں اور حاضریِ روضۂ رسول بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ سوچ یہی آ رہی تھی بار بار، ”مجھ گناہگار کو بھی یہ سعادت حاصل ہوئی!“ دل یہی بار بار کہہ رہا تھا، جس گناہ کی بخشش ملی، اللہ کریم ایسی توبہ کی توفیق ہر بار نصیب کرے، جس سے حاضریِ طیبہ نصیب ہو ہر سال۔

اتنا تو دل جان گیا تھا کہ ربِ کریم ضرور دل دیکھتا ہے اور دل کی گہرائیوں کو سنتا بھی ہے اور بفضلِ تعالیٰ ہمارے آقا بھی ہمارے حال پر ملاحظہ فرماتے ہیں۔ اتنی پاک ذات جو رہتی ہے مدینہ منورہ میں، پر خبر ہر مؤمن کی رکھتے ہیں۔ ہم اتنے مطمئن نہیں ہوئے اس سے پہلے دل مان ہی گیا تھا میرے آقا نے بلایا ہے۔ سمجھ لیجیے ہمارے اندر ایمان کی پہلی سیڑھی اتر چکی تھی۔ اس سے پہلے ہم نے اتنا کچھ محسوس نہیں کیا ہمارے آقا کریم کے بارے میں۔

۳ رمضان المبارک میں خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی کرم کشائی سے ہمارا ٹکٹ ۱۴۳۶، ۸ رمضان المبارک کو بنا۔ ”بس ہمارے روحانی سفر کی شروعات یہیں سے ہوئی“۔

احرام کی نیت ایئرپورٹ سے کی اور جب کعبہ معظمہ پر پہلی نظر پڑی دل تھم سا گیا، قلب سے صدا آ رہی تھی، یہ ہماری اسکالرشپ نہیں میرے ربِ کریم کا فضل ہے، جس نے اس کے گھر میں مجھ آلودہ دامن کو مخاطب کیا۔ دل درماندہ و اضطراب تھا۔ آنکھیں نم، شرمسار۔ اللہ کریم نے جس ادا سے بلایا ہے، اس ادائیگی پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

۱۵ روز مکہ مکرمہ میں گزرنے کے بعد سفرِ روحانی کی ابتدا سمجھو اس ناگوار کی اب شروع ہوئی۔ آغازِ مدینہ منورہ شروع ہوا، خنکی دل میں اتر گئی۔ یہ سمجھو میرے سیاہ دل کی صاف ستھرائی ہو گئی۔ یہ تو شروعات تھی اس آلودہ دامن نے صرف پہلی سانس لی تھی۔ پھر اس آلودہ دامنی کو لطف ملتا گیا اور دنیا سے بیزار ہو گیا۔ نسیمِ صبح کی یکایک خنکی نے روحانی و جسمانی طاقت بخش دی۔ دل اتنا خوش پہلے کبھی تھا، پہلی مسکان۔ دل جھوم جھوم کر یکایک کہہ اٹھا:

”دنیا کی سب سے بڑی سکون گاہ، مدینہ منورہ“

اگلے ارسال کے لیے انتظار کی طالب۔

میں بے قرار ہوں میرا قرار آپ سے ہے
حضور میری تو ساری بہار آپ سے ہے

يا رسول الله انظر حالنا
يا حبيب الله اسمع قالنا

إنني في بحر هم مغرق
خذ يدي سهل لنا أشكالنا

اللہ کریم دل کو قرار نصیب کرے۔

آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!