| عنوان: | وہابی فقہ کی جھلکیاں بھی ملاحظہ فرمائیں |
|---|---|
| تحریر: | ذکیہ صدیقی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
فقہ: حضرت عبد اللہ روپڑی خاوند بیوی کے ساتھ اتحاد و اتفاق سے رہنے کے متعلق لکھتا ہے: ”خاوند بیوی کا تعلق اور ان کا اتفاق و محبت سے رہنا اس کو شریعت نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اس کے لیے اللہ پر جھوٹ بولنا بھی جائز ہے۔“ (معاذ اللہ عزوجل) [مظالم روپڑی، ص: 53، ماخوذ از رسائل اہلِ حديث، ص: 53، جمعیت اہلِ سنت، لاہور]
فقہ: مولوی ثناء اللہ امرتسری مرزئی عورت سے نکاح کو جائز قرار دیتے تھے اور ان کے پیچھے نماز نہ صرف جائز قرار دیتے تھے بلکہ پڑھ بھی لیتے थे چنانچہ لکھتے ہیں: ”اگر عورت مرزائن ہے تو علماء کی رائے ممکن ہے مخالف ہو، میرے ناقص علم میں نکاح جائز ہے۔“ [اہلِ حدیث، امرتسر، 2 نومبر 1934ء، ماخوذ از رسائل اہلِ حدیث، ص: 47، اہلِ سنت، لاہور]
فقہ: مولوی عبد الوہاب ملتانی اپنے اجتہاد میں لکھتا ہے: ”مرغ کی قربانی جائز ہے۔ چار آٹھ آنے کا گوشت بازار سے خرید کر قربانی کے دنوں میں تقسیم کر دینا قربانی ہے۔“ [مقاصد الامامۃ، ص: 2-5، ماخوذ از رسائل اہلِ حدیث، ص: 59، جمعیت اہلِ سنت، لاہور]
فقہ: فتاویٰ ابراہیمیۃ میں مصنفہ مولوی ابراہیم غیر مقلد کہتا ہے: ”وضو میں بجائے پاؤں دھونے کے مسح فرض ہے۔“ [فتاویٰ ابراہیمیۃ، ص: 2، مطبوعہ دھرم پرکاش، الہ آباد]
فقہ: نواب نور الحسن خان کتاب ”عرف الجادی“ پر مشت زنی کو جائز ثابت کرتے ہوئے کہتا ہے: ”منقول ہے کہ صحابہ کرام بھی مشت زنی کر لیا کرتے تھے۔“ (العیاذ باللہ) [عرف الجادی، ص: 3]
فقہ: مزید ”عرف الجادی“ میں کہتا ہے: ”بیک وقت چار عورتوں سے زیادہ نکاح جائز ہے۔“ [عرف الجادی، ص: 111]
فقہ: وحید الزماں ”نزل الابرار“ میں کہتا ہے: ”عورت سے لواطت (یعنی پیٹھ سے صحبت کرنے کو) جائز سمجھنے والا کافر تو کجا فاسق بھی نہیں۔“ [نزل الابرار، ج: 1، ص: 46، ماخوذ از رسائل اہلِ حدیث، حصہ اول، جمعیت اہلِ سنت، لاہور]
فقہ: اہلِ حدیث کے نزدیک متعہ (شیعوں کی طرح کسی عورت کو چند پیسے دے کر کچھ وقت کے لیے صحبت کرتے رہنا) جائز ہے۔ [ہدیۃ المہدی، ص: 118]
فقہ: کچھوا حلال ہے۔ [تفسیر ستاری، ضمیمہ 4، ص: 426]
فقہ: ”فتاویٰ نذیریہ“ میں درج ہے پس اس حدیث سے جوازِ سجدۂ تلاوت بے وضو ثابت ہوتا ہے۔ [فتاویٰ نذیریہ، ج: 1، ص: 438]
فقہ: غیر مقلدین اہلِ حدیث وہابیوں کے نزدیک کافر کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے۔ اس کا کھانا جائز ہے۔ [دلیل الطالب، ص: 413، مصنف نواب صدیقی حسن خاں اہلِ حدیث]
فقہ: وہابیوں کے یہاں حالتِ حیض میں عورت پر طلاق نہیں پڑتی ہے۔ [روضہ ندیہ، ص: 211]
فقہ: وہابیوں کے نزدیک ایک ہی بکری کی قربانی بہت سے گھر والوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے اگرچہ سو آدمی ہی ایک مکان میں کیوں نہ ہوں۔ [بدور اہلہ، ص: 341]
فقہ: وہابیوں کے نزدیک زوال ہونے سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے۔ [بدور اہلہ، ص: 71]
فقہ: اہلِ حدیث کے نزدیک اگر کوئی قصداً (جان بوجھ کر) نماز چھوڑ دے اور پھر اس کی قضا کرے تو قضا سے کچھ فائدہ نہیں وہ نماز اس کی مقبول نہیں اور نہ اس نماز کی قضا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے وہ ہمیشہ گنہگار رہے گا۔ [دلیل الطالب، ص: 250]
فقہ: وہابی مبشر احمد ربانی صاحب حائضہ عورت کو قرآن چھونے کی اجازت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”عورت کو ایسی حالت میں بلا وجہ قرآن مجید نہیں چھونا چاہیے لیکن پڑھنے اور پڑھانے کے سلسلہ میں اگر چھو بھی لیتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔“ [احکام و مسائل، ص: 126، دار الاندلس، لاہور]
فقہ: وہابیوں کے نزدیک مسلمانوں کی قبروں کو شہید کرنا نہ صرف ثواب ہے بلکہ واجب ہے اور یہ عمل سعودی وہابی عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بزرگ ہستیوں کے ساتھ بھی کر رہے ہیں۔ جس قبر میں سے ہڈیاں نکلیں اس پر کلام کرتے ہوئے وہابی مولوی کہتے ہیں: ”تمام ہڈیوں کو احتیاط سے جمع کیا جائے اور قبر کو تیار اور صاف کرکے میت کو اس میں دفن کیا جائے اور ہڈیوں کو ایک طرف رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں جیسا کہ آج کل عرب میں ہو رہا ہے کچھ مدت کے بعد ہڈیوں کو ایک طرف کیا جاتا ہے۔“ [فتاویٰ علمائے حدیث، ج: 5، ص: 280، مکتبہ سعیدیہ، خانیوال]
فقہ: وہابیوں کے نزدیک پاکستان اسلامی ملک نہیں ہے۔ ”فتاویٰ علمائے حدیث“ جس میں وہابی مولویوں کے فتاویٰ درج ہیں اس کے صفحہ 153 پر ہے۔ سوال: ”کیا پاکستان کی موجودہ حکومت مسلمان ہے جبکہ 1970ء میں 114 علماء نے ان پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا؟“ جواب: ”علماء نے کمیونزم اور سوشلزم کو کفر کہا ہے۔ جب بھی اسلام کے مقابلے میں کمیونسٹ یا سوشلسٹ نظام نافذ کیا جائے گا پھر یہ دار المسلمین نہیں رہے گا۔ اگر کسی کو اصرار ہو کہ کمیونزم کفر نہیں ہے تو پھر ہیگل اور مارکس کو بھی مسلمان کہنا پڑے گا۔ پھر بھی کوئی عقلمند ہیگل اور مارکس کو مسلمان نہیں کہے گا سوائے مخبوط الحواس کے۔ بہر حال کمیونزم اور سوشلزم کفر ہے۔ نیز عراق کی تحقیق عدالت نے بھی چار سال پیشتر کمیونزم اور سوشلزم کو کفر ہونے کا فیصلہ دیا تھا۔ لہٰذا اس نظریے کو اپنانے والا مسلمان نہیں۔ اخبار ہفت روزہ اہلِ حدیث لاہور، جلد 3، شمارہ نمبر 24۔“ [فتاویٰ علمائے حدیث، ج: 9، ص: 153، مکتبہ سعیدیہ، خانیوال]
یہ ہیں ان وہابیوں کے عقائد اور فقہ جو سراسر قرآن و حديث کے متضاد ہیں۔ اس کے باوجود یہ خود کو اہلِ حدیث اور تمام مسلمانوں کو جو ان کے عقیدے میں نہیں انہیں مشرک سمجھتے ہیں۔
