Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

زیارتِ قبور اور فکرِ آخرت

زیارتِ قبور اور فکرِ آخرت
عنوان: زیارتِ قبور اور فکرِ آخرت
تحریر: محمد ندیم قادری مرکزی، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پیش کش: ذکیہ صدیقی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

بیشک انسان کی فلاح و بہبودگی اللہ اور اس کے رسول کی اتباع میں ہے اور اصل کامیابی آخروی فوز و فلاح ہے۔ انسان کو مکمل شعور اور احساس کے ساتھ ایسے اعمالِ صالحہ انجام دینے چاہئیں جس سے رضائے الٰہی نصیب ہو۔ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل مطیع و متبع ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ نمونۂ اخلاق کی جھلک اپنے اندر پیدا کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اسلام نے خود احتسابی، حسنِ عمل اور تذکیرِ آخرت جیسے کئی ذرائع اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لیے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خموشاں میں جا کر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث ہوئے اور وقتِ مقرر پر انہیں موت آئی اگرچہ ایک آن کے لیے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔

جمہور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ زیارتِ قبور ایک مستحسن اور مندوب عمل ہے۔ ائمہ متقدمین و متأخرین کا زیارتِ قبور کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔ زہد و ورع اور تذکیرِ آخرت کے لیے زیارتِ قبور ایک بہترین عمل ہے۔ بعض لوگ عام مسلمانوں کو زیارتِ قبور سے منع کرتے ہیں اور وہاں فاتحہ کے لیے جانے والوں پر بھی شرک اور بت پرستی کا الزام لگا کر انہیں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں حالانکہ احادیثِ مبارکہ سے زیارتِ قبور ثابت ہے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَ تُذَكِّرُ الْاٰخِرَةَ.

میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ دنیا سے بے رغبت کرتی ہے اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ [مشکوٰۃ، ص: 154، و ابن ماجہ، کتاب الجنائز]

اور سنن دار قطنی میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَلَا إِنِّيْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا تُذَكِّرُكُمُ الْاٰخِرَةَ.

آگاہ رہو بیشک میں نے تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا تھا اب تم قبروں کی زیارت کیا کرو یہ تمہیں تمہاری آخرت یاد دلائے گی۔

حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود قبورِ شہداء پر تشریف لے جاتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا بھی یہی معمول تھا اور ساتھ ہی آپ نے اس کا طریقہ بھی بیان فرمایا کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھایا کرتے تھے کہ جب وہ قبور کی زیارت کے لیے جائیں تو کہیں:

اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ. وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ أَسْأَلُ اللّٰهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.

اے اہلِ دیار مؤمنین و مسلمین! تم پر سلامتی ہو اور ان شاء اللّٰه ہم بھی ضرور بالضرور تم سے ملنے والے ہیں۔ ہم اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کے طلب گار ہیں۔ [مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقول عند دخول القبور والدعاء لاھلھا]

اور دوسری روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قبرستان سے گزرے تو قبروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُوْرِ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفْنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ.

اے اہلِ قبور! تم پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے پہنچے ہو ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔ [ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما یقول الرجل اذا دخل المقابر]

حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ قبروں کی زیارت انسان کو زندگی سے بے رغبتی دلاتی ہے، اس کو دنیا و ما فیہا سے اور اس کے زیب و زینت اور لہو و لعب سے دور رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی انسان اس دارِ فانی کو الوداع کہتا ہے اور دارِ بقا سے دارِ آخرت کا سفر کرتا ہے تو ایک طرف تو وہ اپنی ہمیشگی کی زندگی کا رخ کرتا ہے اور دوسری طرف یہ پیغام دیتا ہوا جاتا ہے کہ یہ زندگی محض ایک دھوکہ ہے ایک طلسم ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ جائے گا۔ اے انسان! اس دنیاوی زندگی میں پھنس کر اپنے رب کو مت بھول جانا، اس کی یاد سے غافل مت ہونا کیونکہ جو بھی اس کی یاد سے غافل ہوتا ہے وہ دونوں جہان میں نقصان اٹھاتا ہے اور ہر ایک کو اپنے عمل کا حساب دینا ہے، تبھی تو کسی نے کہا كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيْبٌ یعنی زندگی اس طرح گزارو گویا تم مسافر ہو کہ جس طرح مسافر صرف اپنی منزلِ مقصود کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اسی کو اپنا مطمحِ نظر سمجھتا ہے، اسی طرح اے انسان! تو بھی جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے اسی کو ہمیشہ اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھ اور اسی کے لیے کوشاں رہ۔

ہانی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب ایک قبر پر کھڑے ہوئے تو رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی تو ان سے کہا گیا کہ آپ جنت و دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو آپ نہیں روتے قبر کے ذکر سے رو رہے ہیں، آپ نے کہا میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

اَلْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْاٰخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهٗ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهٗ أَشَدُّ مِنْهُ.

کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر اس سے نجات حاصل ہو گئی تو آگے کی منزلیں بھی آسان ہو جائیں گی اور اگر اس سے نجات نہ حاصل ہوئی تو بعد کی منزلیں اس سے بھی سخت ہیں۔ اور کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید فرماتے سنا:

مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ.

میں نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا جو قبر سے زیادہ ہولناک ہو۔

نعوذ باللہ من عذاب القبر وعذاب الحشر وعذاب النار۔ [الترغیب والترہیب، ج: 4، ص: 235]

زیارتِ قبور عند الشرع صحیح اور مستحسن عمل ہے اسی وجہ سے لوگ اولیاء، علماء، صلحاء کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور ان سے اپنی حاجات طلب کرتے اپنی مرادیں مانگتے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوتے ہیں اور وہ بھی ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کی امداد فرماتے ہیں۔

مولانا جامی قدس اللہ سرہ السامی حضرت سیدی امامِ اجل علاؤ الدین سمنانی رحمہ اللہ سے ناقل ہیں:

درویشے از شیخ سوال کرد کہ چوں بدن را خاک ادراک نیست و در عالمِ ارواح حجاب نیست چہ احتیاج است بسر خاک رفتن چہ در ہر مقامے کہ توجہ کند بروحِ بزرگے ہما باشد کہ بسر خاک۔ شیخ فرمود فائدہ بسیار دارد یکے آنکہ چوں بزیارت کسے می رود چنداں کہ می رود توجہ او زیادہ می شود چوں بہ سر خاک رسد بحس مشاہدہ کند خاک اور احس اور نیز مشغول او می شود بکلی متوجہ گردد و فائدہ بیشتر دہد۔ و دیگر آنکہ ہر چند ارواح را حجاب نیست و ہمہ جہان او را یکے است اما بآں موضع تعلق بیشتر بود۔

ایک درویش نے شیخ سے سوال کیا کہ جب قبر کے اندر ادراک بدن کو نہیں بلکہ روح کو ہے اور عالمِ ارواح میں کوئی حجاب نہیں تو قبر کے پاس جانے کی کیا ضرورت جہاں سے بھی توجہ کریں بزرگ کی روح سے وہی فائدہ ہوگا جو قبر کے پاس ہوگا۔ شیخ نے فرمایا اس میں بہت فوائد ہیں ایک یہ کہ آدمی کسی کی زیارت کو جاتا ہے تو جتنا آگے بڑھتا ہے اس کی توجہ بڑھ جاتی ہے، جب قبر کے پاس پہنچتا ہے تو حواس سے اس کی قبر کا ادراک و مشاہدہ کرتا ہے اب اس کے حواس بھی اس کے ساتھ مشغول ہو جاتے ہیں اور وہ پورے ظاہر و باطن کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جس کا فائدہ فزوں تر ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ ارواح کے لیے حجاب نہیں ہے اور سارا جہان ان کے لیے ایک ہے مگر اس مقام سے تعلق زیادہ ہوتا ہے۔ [نفحات الانس، ص: 440، بحوالہ حیاۃ الممات فی بیان سماع الاموات، ص: 135]

جس طرح اِعْمَلُوْا عَمَلًا صَالِحاً سے عملِ خیر کا حکم دیا گیا اور عملِ خیر نیکیوں کی زیادتی کا سبب ہے، اسی طرح زیارتِ قبور بھی ایک عملِ خیر اور نیکیوں کے اضافہ کا سبب ہے کہ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اور حدیث مروی ہے، حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنِّيْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ فَزُوْرُوْهَا وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا.

میں نے تمہیں تین باتوں سے منع کیا تھا ان میں سے ایک قبروں کی زیارت تھی، لیکن اب قبروں کی زیارت کرو اور اس زیارت سے اپنی نیکیاں بڑھاؤ۔ [نسائی، کتاب الضحایا، باب الاذان فی ذلک]

اور توضیح میں یہ بھی ہے:

اَلْأُمَّةُ مُجْمِعَةٌ عَلٰى زِيَارَةِ قَبْرِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتٰى قَبْرَهُ الْمُكَرَّمَ، فَقَالَ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَتَاهُ!

تمام امت کا حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ انور، اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی قبروں کی زیارت کرنے پر اتفاق ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر کا معمول تھا کہ جب وہ سفر سے واپس لوٹتے تو سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر حاضر ہوتے اور کہتے: یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو، اے ابو بکر! آپ پر سلام ہو، اے بابا جان! (حضرت عمر) آپ پر سلام ہو۔ [عینی، عمدۃ القاری]

اور جو حدیث میں نہی آئی ہے اس کے تعلق سے علامہ عینی فرماتے ہیں:

وَمَعْنَى النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُوْرِ إِنَّمَا كَانَ فِيْ أَوَّلِ الْإِسْلَامِ عِنْدَ قُرْبِهِمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَاتِّخَاذِ الْقُبُوْرِ مَسَاجِدَ، فَلَمَّا اسْتَحْكَمَ الْإِسْلَامُ، وَقَوِيَ فِيْ قُلُوْبِ النَّاسِ، وَأُمِنَتْ عِبَادَةُ الْقُبُوْرِ، وَالصَّلَاةُ إِلَيْهَا، نُسِخَ النَّهْيُ عَنْ زِيَارَتِهَا لِأَنَّهَا تُذَكِّرُ الْاٰخِرَةَ وَتُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا.

زیارتِ قبور سے منع کرنے کا معنی یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں لوگوں کا بتوں کی عبادت اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے کے زمانے سے قریب ہونے کی وجہ سے یہ ممانعت تھی۔ لیکن جب اسلام مستحکم ہوا اور لوگوں کے دلوں میں راسخ اور مضبوط ہو گیا اور قبروں کی عبادت اور ان کی طرف نماز کا خوف ختم ہو گیا تو پھر زیارتِ قبور کی ممانعت منسوخ ہو گئی کیونکہ دراصل زیارتِ قبور آخرت کی یاد دلاتی ہے اور دنیا سے بے رغبت کرتی ہے۔ [عینی، عمدۃ القاری]

بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عملِ خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلوات اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!