Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علما کے معاشی حالات پر ایک طائرانہ نظر

علما کے معاشی حالات پر ایک طائرانہ نظر
عنوان: علما کے معاشی حالات پر ایک طائرانہ نظر
تحریر: قاری ذوالفقار رضا نوری
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

موجودہ زمانے کی مہنگائی پر نظر ڈالیں۔ کیا قلیل مشاہرہ میں زندگی گزاری جا سکتی ہے؟ اگر بخار لگ جائے تو کم از کم ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ بیٹی کی شادی میں لاکھوں کا خرچ ہوتا ہے، گھر بنانا ہو تو لاکھوں کا خرچ، اسکول کی تعلیم اس قدر مہنگی، کپڑوں کی قیمتیں بھی بہت زیادہ۔ اب علمائے کرام اپنے گھر کا مطبخ کیسے چلائیں؟ بیماریوں کا علاج کس طرح کرائیں؟ بیٹیوں کی شادی کا انتظام کیسے کریں؟ اپنا گھر کیسے بنائیں؟ بچوں کو تعلیم کیسے دلائیں؟ گھر والوں کے لیے کپڑوں کا انتظام کس طرح کریں؟

آٹھ، دس ہزار کی تنخواہ میں زندگی کی ضرورتوں کی تکمیل کیسے ہو سکتی ہے؟ اب جبکہ علمائے کرام ذہنی طور پر پریشان حال ہوں گے تو لامحالہ فروغ دین و مسلک کا کام بھی متاثر ہوگا، مدارس کی تعلیم بھی متاثر ہوگی۔ معاشی بدحالی کے سبب خود ان کو کچھ راستوں کی تلاش کرنی ہوگی، اور جب ان کی توجہ دیگر امور کی طرف ہو جائے گی تو یقیناً دین و شریعت کا کام متاثر ہو جائے گا۔ ایسا انتظام ہو کہ علمائے کرام فارغ البال ہو کر محض دینی کاموں میں لگے رہیں، ورنہ معاملات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

لوگ کروڑوں روپے خرچ کر کے مساجد کی تعمیر کرتے ہیں۔ اس کے لیے ایک بھاری بھر کم امام تلاش کرتے ہیں۔ انہیں جتنے بھی القاب یاد ہوتے ہیں، وہ سب بیان کر دیتے ہیں، یعنی امام، حافظ، قاری، عالم، فاضل مفتی وغیرہ ہو، اور جب مشاہرہ کی بات آتی ہے تو ان کے لیے دس، بارہ ہزار سے آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے، حالانکہ خود عوام الناس کی نظر میں بھی علمائے کرام کی تنخواہیں بہت کم ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے اماموں اور رہنماؤں کے لیے اس قدر قلیل مشاہرہ متعین کیا ہے، جبکہ حکومت ہند جو خالص مسلمانوں کی حکومت نہیں، بلکہ جمہوری حکومت ہے، اور اعلیٰ عہدوں پر غیر مسلمین فائز ہیں، انہوں نے مسلم علماء و مدرسین کے لیے اتر پردیش، بہار وغیرہ میں چالیس، پچاس ہزار تک بدل خدمت مقرر کیا ہے، پھر بھی مسلمانوں کو شرم نہیں آتی، چونکہ علماء کی کثرت ہے، انہیں اپنی معاش کے لیے قلیل مشاہرہ قبول کرنا پڑتا ہے، ورنہ انہیں گھر بیٹھنا پڑے گا۔

ایک جگہ قدیم کمیٹی امام کو عید میں کچھ نذرانہ دیتی تھی، جدید کمیٹی نے نذرانہ میں کمی کر دیا اور کہا کہ امسال تعمیری کام ہے، آئندہ سال لحاظ رکھا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسجد میں تعمیری کام ہونے کی وجہ سے ارکان کمیٹی نے دو وقت کی بجائے ایک ٹائم کھانا شروع کر دیا تھا؟ پھر تعمیری کام کے سبب امام کا نذرانہ کیوں کم کر دیا گیا؟ جب تعمیری کام ہوگا تو نام ہوگا کمیٹی اور عوام کا۔ اور اس کے سبب مصیبت آتی ہے امام پر۔ اگر لوگ تعمیری کام کے لیے اپنی جیب سے کچھ اضافی خرچ دیتے تو لامحالہ آخرت میں وہ ثواب کے مستحق ہوتے، اور امام کا نذرانہ بھی کم نہ ہوتا لیکن ایسی حکمت اختیار کی گئی کہ عوام الناس نے اپنا اخروی نقصان بھی کیا اور امام کا دنیاوی نقصان۔ قوم کی عقلمندی پر افسوس ہوتا ہے۔

مدارس اسلامیہ کے صدر مدرس اور ناظم علمائے کرام ہی ہوتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ کے اساتذہ کی تقرری میں اہم کردار صدر مدرس اور ناظم کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنی تنخواہیں دو/تین گنا زیادہ رکھتے ہیں اور کم سے کم تنخواہوں میں دیگر مدرسین کی بحالی کرتے ہیں، گویا کہ صدر مدرس اور ناظم دو خدمت کی تنخواہ لیتے ہیں۔ اپنی ڈیوٹی کی تنخواہ اور دیگر مدرسین کی تنخواہیں کم کرانے کی تنخواہ۔ چونکہ مدارس اسلامیہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مذہبی مراکز ہیں، جب وہاں مشاہرہ قلیل ہوتا ہے، تو دیکھا دیکھی عوام الناس بھی مساجد میں ائمہ کی تنخواہیں کم رکھتے ہیں۔ پس ہندوستان میں علمائے کرام کی معاشی بدحالی کے سب سے بڑے ذمہ دار ناظمین مدارس اور صدر مدرس ہیں۔ اس قلت مشاہرہ کے سبب مدارس کی تعلیم حد درجہ متاثر ہو چکی ہے۔ مشہور مقولہ ہے: ”مزدور خوشدل کار بیش کند“۔ جب مزدور خوش ہوتا ہے تو زیادہ کام کرتا ہے۔ [از ماخوذ: پیغام شریعت دہلی، ستمبر 2017، ص: 35]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!