Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

73 فرقے اور ان کے عقائد: فرقہ قدریہ (قسط: دوم)|ابو احمد محمد انس رضا قادری

73 فرقے اور ان کے عقائد: فرقہ قدریہ (قسط: دوم)
عنوان: 73 فرقے اور ان کے عقائد: فرقہ قدریہ (قسط: دوم)
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: ام ماجد
منجانب: نالج آف اسلام اکیڈمی

فرقہ جبریہ

یہ فرقہ قدریہ کی ضد میں نکلا تھا ان کا عقیدہ تھا کہ انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا؟ جو کچھ اچھا یا برا انسان سے سرزد ہوتا ہے اس کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ تقدیر میں اس کام کا ہونا یا نہ ہونا اس نے لکھ دیا تھا اسی طرح انسان تو محض آلہ ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہر اچھے اور برے فعل کے ہونے کا ذمہ دار خود اللہ تعالیٰ ہے۔ جبکہ اہل سنت کے نزدیک اللہ عزوجل نے انسان کو باختیار بنایا ہے، اچھے برے فعل کی تمیز رب تعالیٰ نے اسے دی ہے، اچھائی اور برائی کو اختیار کرنا انسان کا اپنا فعل ہے اس پر کوئی جبر نہیں ہے۔

شرح فقہ اکبر میں ہے:

«لَمْ يُجْبِرْ أَحَدًا مِنْ خَلْقِهِ عَلَى الْكُفْرِ وَلَا عَلَى الْإِيمَانِ وَلَا خَلَقَهُمْ مُؤْمِنًا وَلَا كَافِرًا أَيْ بِالْجَبْرِ وَالْإِكْرَاهِ وَلَكِنْ خَلَقَهُمْ أَشْخَاصًا أَيْ قَابِلَةً لِقَبُولِ الْإِيمَانِ إِخْلَاصًا، وَلِاخْتِيَارِ الْكُفْرِ عَلَى تَوَهُّمِ كَوْنِهِ لَهُمْ خَلَاصًا وَالْإِيمَانُ وَالْكُفْرُ فِعْلُ الْعِبَادِ أَيْ بِحَسَبِ اخْتِيَارِهِمْ لَا عَلَى وَجْهِ اضْطِرَارِهِمْ وَسُبْحَانَ مَنْ أَقَامَ الْعِبَادَ فِيمَا أَرَادُوا، يَعْلَمُ اللَّهُ تَعَالَى مَنْ يَكْفُرُ فِي حَالِ كُفْرِهِ كَافِرًا»

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کسی کو ایمان یا کفر و گناہ پر مجبور نہیں کیا، نہ ان کو مؤمن و کافر بنایا ہے، بلکہ مخلوق کو ایمان وکفر میں باختیار پیدا کیا اور جو وہ کرنے والا تھا اس کو اپنے علم سے جانا اور لوح محفوظ میں اس کی تقدیر میں لکھ دیا۔ ایسا ہر گز نہیں کہ جیسا اللہ تعالیٰ نے لکھا بندہ ویسا ہی کرنے پر مجبور ہے۔ لہذا جو بندہ برا کام کرے تو وہ اس کو اپنے نفس کی شامت خیال کرے۔ [شرح فقہ اکبر، صفحہ 88، دار الکتب العلمیہ، بیروت]

انسان جب اپنی مرضی سے گناہ کرتا ہے تو اس گناہ کی طاقت اگرچہ رب تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اس میں رب تعالیٰ کی رضا نہیں، رب تعالیٰ کی رضا نیک اعمال میں ہے۔

شرح عقائد نسفی میں ہے:

«وَالْحَسَنُ مِنْهَا أَيْ مِنْ أَفْعَالِ الْعِبَادِ بِرِضَاءِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْقَبِيحُ لَيْسَ بِرِضَائِهِ يَعْنِي أَنَّ الْإِرَادَةَ وَالْمَشِيئَةَ وَالتَّقْدِيرَ يَتَعَلَّقُ بِالْكُلِّ بِرِضَاءِ اللَّهِ تَعَالَى وَالْأَمْرَ لَا يَتَعَلَّقُ إِلَّا بِالْحَسَنِ دُونَ الْقَبِيحِ»

ترجمہ: اور افعال میں سے حسن یعنی بندوں کے افعال سے اچھے کام اللہ عزوجل کی رضا سے ہیں اور برے کام اللہ عزوجل کی رضا سے نہیں۔ یعنی ارادہ و مشیت و تقدیر ان تمام کے ساتھ رضائے الہی متعلق ہے لیکن حکم صرف اچھے کاموں کے ساتھ متعلق ہوتا ہے برے افعال کے ساتھ نہیں۔ [شرح عقائد نسفی، صفحہ 182، مکتبہ حقانیہ، ملتان]

جبریہ فرقہ بھی بارہ قسموں میں منقسم ہوا:

  1. فرقہ مضطریہ

  2. فرقہ افعالیہ

  3. فرقہ مفروغیہ

  4. فرقہ نجاریہ

  5. فرقہ مبائنیہ

  6. فرقہ کسبیہ

  7. فرقہ سابقیہ

  8. فرقہ حبیہ

  9. فرقہ خوفیہ

  10. فرقہ فکریہ

  11. فرقہ حسنیہ

  12. فرقہ معیہ

1۔ فرقہ مضطریہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ آدمی کچھ بھی نہیں کر سکتا بلکہ جو کچھ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک رب تعالیٰ نیکی کی توفیق دیتا ہے، کرنا انسان کے اختیار میں ہوتا ہے، برائی کی قدرت اگرچہ رب تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن اختیار انسان کے پاس ہے۔ قرآن پاک میں انسان کے افعال اسی کی طرف منسوب کرتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے:

وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا [سورۃ الفرقان: 68]

ترجمہ کنزالایمان: اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔

2۔ فرقہ افعالیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ ہمارے افعال تو ہم سے صادر ہوتے ہیں لیکن ہم کو اس کے کرنے یا نہ کرنے میں استطاعت خود نہیں ہے، بلکہ ہم لوگ بمنزلہ جانوروں کے ہیں کہ وہ رسی سے باندھ کر جدھر چاہتے ہیں ہانکتے جاتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک افعال انسان کے کرنے سے صادر ہوتے ہیں، کوئی کسی کو تھپڑ مار کر یہ نہیں کہہ سکتا میں نے نہیں مارا رب تعالیٰ نے مارا ہے، بلکہ تھپڑ مارنا اس کے اختیار میں تھا، اسی پر اس کی گرفت ہے۔

نبراس میں ہے:

«إِنَّ التَّكْلِيفَ دَاعِي الْعَبْدِ إِلَى أَنْ يَخْتَارَ الْفِعْلَ لِيَخْلُقَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِعْلَ عَقِيبَهُ عَلَى حَسَبِ جَرْيِ الْعَادَةِ وَالْمَدْحُ وَالذَّمُّ لِلْمَلِيحَةِ كَمَا يُمْدَحُ بِالْحَسَنِ وَيُذَمُّ بِالْقُبْحِ وَالثَّوَابُ وَالْعِقَابُ مِنَ الْعَادِيَّاتِ الْمُتَرَتِّبَةِ عَلَى الْأَفْعَالِ» [نبراس، صفحہ 173، مکتبہ حقانیہ، ملتان]

قرآن پاک میں چور کی سزا کے متعلق ہے:

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ [سورۃ المائدہ: 38]

ترجمہ کنزالایمان: اور جو مرد یا عورت چور ہو تو ان کا ہاتھ کاٹو ان کے کیے کا بدلہ اللہ کی طرف سے سزا، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔

3۔ فرقہ مفروغیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ کل چیزیں پیدا ہو چکیں اب کچھ پیدا نہیں ہوتا۔ یعنی اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ انسان جو کوئی فعل کرتا ہے وہ پہلے سے تخلیق شدہ ہے۔ اہل سنت کے نزدیک افعال پہلے سے تخلیق شدہ نہیں، جب کوئی فعل کیا جاتا ہے اس وقت رب تعالیٰ اسے تخلیق کرتا ہے۔ یعنی انسان کوئی بھی فعل کا ارادہ کرے تو رب تعالیٰ اس فعل کو پیدا فرما دیتا ہے گویا رب تعالیٰ فعل کا خالق ہے۔ بندوں کے افعال اختیاریہ بھی تمام وکمال اسی کے مخلوق ہیں، بندہ صرف کاسب (یعنی کسب کرنے والا) ہے۔ فعل حرکت ہونے کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہے اور زنا وغیرہ ہونے کے اعتبار سے بندے کی طرف منسوب ہے۔

امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “ذات ہو یا صفت فعل ہو یا حالت کسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینا یہ اسی کا کام ہے، یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھا، کہ تمام مخلوقات خود اپنی حدذات میں نیست ہیں، ایک نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بنا سکے، ہست بنانا اس کی شان ہے جو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہ ہست مطلق ہے۔ ہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور اپنی غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طرف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیرے، مولیٰ تعالیٰ اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرما دیتا ہے مثلاً اس نے ہاتھ دیے ان میں پھیلنے سمٹنے اٹھنے، جھکنے کی قوت رکھی۔ تلوار بنائی اس میں دھار اور دھار میں کاٹ کی قوت رکھی۔ اس کا اٹھانا، لگانا، وار کرنا بنایا۔ دوست دشمن کی پہچان کو عقل بخشی، اسے نیک و بد میں تمیز کی طاقت عطا کی، شریعت بھیج کر قتل حق و ناحق کی بھلائی برائی صاف جتادی۔ زید نے وہی خدا کی بتائی ہوئی تلوار، خدا کے بنائے ہوئے ہاتھ، خدا کی دی ہوئی قوت سے اٹھانے کا قصد کیا۔ وہ خدا کے حکم سے اٹھ گئی، اور جھکا کر ولید کے جسم پر ضرب پہنچانے کا ارادہ کیا، وہ خدا کے حکم سے جھکی اور ولید کے جسم پر لگی، تو یہ ضرب جن امور پر موقوف تھی سب عطائے حق تھے، اور خود جو ضرب واقع ہوئی بارادہ خدا واقع ہوئی۔ اور اب جو اس ضرب سے ولید کی گردن کٹ جانا پیدا ہو گا یہ بھی اللہ عزوجل کے پیدا کرنے سے ہوگا۔ وہ نہ چاہتا تو ایک زید کیا تمام انس و جن و ملک جمع ہو کر زور کرتے تو اٹھنا درکنار ہرگز جنبش نہ کرتی اور اس کے حکم سے اٹھنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا تو زمین، آسمان، پہاڑ سب ایک لنگر بنا کر تلوار کے پھلے (نوک) پر ڈال دیے جاتے، نام کو بال برابر نہ جھکتی۔ اور اس کے حکم سے پہنچنے کے بعد اگر وہ نہ چاہتا گردن کٹنا تو بڑی چیز ہے ممکن نہ تھا کہ خط بھی آتا۔ زید سے جو کچھ واقع ہوا سب خلق خدا و بارادہ خدا عزوجل تھا۔ زید کا بیچ میں صرف اتنا کام رہا کہ اس نے قتل ولید کا ارادہ کیا اور اس طرف اپنے جوارح کو پھیرا اب اگر ولید شرعاً مستحق قتل ہے تو زید پر کچھ الزام نہیں رہا بلکہ بارہا ثواب عظیم کا مستحق ہوگا کہ اس نے اس چیز کا قصد کیا اور اس کی طرف جوارح کو پھیرا جسے اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اپنی مرضی، اپنا پسندیدہ کام ارشاد فرمایا تھا۔ اور اگر قتل ناحق ہے تو یقیناً زید پر الزام ہے اور عذاب علیم کا مستحق ہوگا کہ بمخالفت حکم شرع اس شے کا عزم کیا، اس کی طرف جوارح کو متوجہ کیا جسے مولیٰ تعالیٰ نے اپنی کتابوں کے واسطے سے اپنے غضب اپنی ناراضگی کا حکم بتایا تھا۔ غرض فعل انسان کے ارادے سے نہیں ہوتا بلکہ انسان کے ارادے پر اللہ عزوجل کے ارادے سے ہوتا ہے۔” [فتاوی رضویہ، جلد 29، صفحہ 289، رضا فاؤنڈیشن، لاہور]

4۔ فرقہ نجاریہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کے نیک و بد افعال پر عذاب نہیں کرتا بلکہ اپنے فعل پر عذاب کرتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک ایسا ہر گز نہیں ہے انسان کو اس کے نیک و بد افعال پر ہی جزا وسزا ہوتی ہے جیسا کہ قرآن وحدیث سے واضح ہے۔ قرآن پاک میں رب تعالیٰ کفار کے اعمال پر سزا کو واضح کرتے ہوئے فرماتا ہے:

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ [سورۃ المطففین: 36]

ترجمہ کنزالایمان: کیوں کچھ بدلا ملا کافروں کو اپنے کیے کا۔

5۔ فرقہ مبائنیہ

یہ کہتا ہے کہ تجھ پر لازم فقط وہ ہے جو تیرے دل میں آئے، پس جس دلی خطرہ سے تجھے بہتری نظر آئے اس پر عمل کر۔ اہل سنت کے نزدیک شریعت نے نیک و بد اعمال کی وضاحت کر دی ہے، جو نیک اعمال ہیں جیسے نماز، روزہ وغیرہ اس میں دل کرے یا نہ کرے یہ فعل کرنے ہی کرنے ہیں اور جو افعال گناہ ہیں اس سے بچا جائے چاہے اس کے کرنے کو دل کرے۔ اگر دل میں آئی بات ہی کو شریعت سمجھ لیا جائے تو وہ گمراہی میں جاگرے گا۔ قرآن پاک میں ہے:

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ [سورۃ یوسف: 53]

ترجمہ کنزالایمان: اور میں اپنے نفس کو بے قصور نہیں بتاتا بیشک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

6۔ فرقہ کسبیہ

یہ کہتا ہے کہ بندہ کچھ ثواب یا عذاب نہیں کماتا۔ اہل سنت کے نزدیک بندہ اپنے اختیار سے افعال کرتا ہے پھر ان افعال پر اس کو ثواب و عذاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ ۝ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ [سورۃ المائدہ: 85، 86]

ترجمہ کنزالایمان: تو اللہ نے ان کے اس کہنے کے بدلے انہیں باغ دیے جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بدلہ ہے نیکوں کا اور وہ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ ہیں دوزخ والے۔

7۔ فرقہ سابقیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ جس کا جی چاہے نیک کام کرے اور جس کا جی چاہے نہ کرے۔ اس لیے کہ جو نیک بخت ہے اس کو گناہوں سے کچھ ضرر نہیں ہوگا۔ اور جو بدبخت ہے اس کو نیکیوں سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اہل سنت کے نزدیک ایسا نہیں، انسان کو حکم ہے کہ نیک افعال کریں، شریعت اس لیے ہی آتی ہے کہ لوگوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ بتائے نہ یہ کہ لوگوں کو اپنے دل کی مرضی پورا کرنے کی ترغیب دے۔ ہر نیک و بد کے نامہ اعمال میں اس کا عمل لکھا جاتا ہے یہ نہیں کہ جو نیک ہے اس کے نامہ اعمال میں گناہ لکھا ہی نہیں جاتا۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے:

عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةٍ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، وَمَعَهُ مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ، مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا كُتِبَ مَكَانُهَا مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، وَإِلَّا قَدْ كُتِبَ شَقِيَّةً أَوْ سَعِيدَةً» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَتَّكِلُ عَلَى كِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ السَّعَادَةِ، وَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَيُيَسَّرُ لِعَمَلِ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ» ثُمَّ قَرَأَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى ۝ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى} الْآيَةَ [رقم الحديث: 4949]

ترجمہ: حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایسا کوئی نہیں جس کا ٹھکانہ جنت و جہنم میں نہ لکھا جا چکا ہو۔ کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم اپنی تحریر پر بھروسہ کیوں نہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں؟ فرمایا عمل کیے جاؤ ہر ایک کو وہی اعمال آسان ہوں گے جس کے لیے پیدا ہوا اگر خوش نصیبوں سے ہے تو اسے خوش نصیبی کے اعمال آسان ہوں گے اور اگر بدنصیبوں سے ہے تو اسے بد نصیبی کے اعمال میسر ہوں گے۔ پھر حضور نے یہ آیت تلاوت کی: تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا۔ [صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، جلد 6، صفحہ 171، دار طوق النجاۃ]

8۔ فرقہ حبیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ جس نے شراب محبت الہی عزوجل کا پیالہ پیا اس سے ارکان عبادت ساقط ہو جاتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک ایک عاقل بالغ پر مرتے دم تک ارکان عبادت ساقط نہیں ہوتے۔ ارکانِ عبادت تو انبیاء اور صحابہ کرام جیسی ہستیوں سے ساقط نہیں ہوئے جو ہم سے کروڑہا درجے زیادہ عاشق تھے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ [سورۃ الکوثر: 2]

ترجمہ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔

آج کل کے بعض جعلی پیر بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور غیر شرعی افعال کرتے ہیں۔ جب حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ بعض یہ کہہ دیتے ہیں کہ شریعت راستہ ہے، راستہ کی حاجت ان کو جو مقصود تک نہ پہنچے ہوں ہم تو پہنچ گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا:

«صَدَقُوا، لَقَدْ وَصَلُوا، وَلَكِنْ إِلَى أَيْنَ؟ إِلَى النَّارِ»

ترجمہ: وہ سچ کہتے ہیں بیشک پہنچے مگر کہاں؟ جہنم کو۔

9۔ فرقہ خوفیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی تو اس کو روا نہیں کہ اللہ سے خوف کرے۔ اس لیے کہ محب اپنے محبوب سے خوف نہیں کر سکتا۔ اہل سنت کے نزدیک جو اللہ عزوجل سے محبت کرنے والا ہوتا ہے وہ اللہ عزوجل سے بنسبت عام لوگوں کے زیادہ ڈرتا ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ [سورۃ فاطر: 28]

ترجمہ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

انبیاء علیہم السلام کے خوف الہی عزوجل کے متعلق کئی احادیث ہیں۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر صحابہ کرام کو فرمایا: میں تم سے زیادہ اللہ عزوجل سے ڈرتا ہوں۔ احیاء العلوم میں امام غزالی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

«كَانَ يُسْمَعُ أَزِيزُ قَلْبِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ مِنْ مَسِيرَةِ مِيلٍ خَوْفًا مِنْ رَبِّهِ»

ترجمہ: حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے رب سے اس قدر ڈرتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے دل سے جوش کی آواز آتی۔ [إحیاء علوم الدین، کتاب الخوف، جلد 4، صفحہ 181، دار المعرفۃ، بیروت]

10۔ فرقہ فکریہ

یہ فرقہ کہتا ہے جس قدر علم معرفت بڑھے اس قدر عبادت اس کے ذمہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اہل سنت کے نزدیک جس قدر علم و معرفت بڑھتی ہے اسی قدر بندے کی عبادت و نیکی بڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام و اولیاء کرام عام بندوں کی نسبت زیادہ عبادت گزار ہوتے ہیں۔ اگر کسی کا علم بڑھتا جائے اور وہ عبادت و نیکی میں کمی ہوتی جائے، دنیا کی ہوس بڑھتی جائے تو یہ علم غیر نافع ہونے کی نشانی ہے۔ سنن الدارمی میں ہے:

«سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ: مَا ازْدَادَ عَبْدٌ عِلْمًا، فَازْدَادَ فِي الدُّنْيَا رَغْبَةً، إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا»

ترجمہ: حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کا علم زیادہ ہو جائے اور اس کی دنیا میں رغبت بھی بڑھ جائے تو وہ رب تعالیٰ سے دور ہوتا ہے۔ [سنن الدارمی، جلد 1، صفحہ 385، دار المغنی، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ]

11۔ فرقہ حسنیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ دنیا سب لوگوں میں برابر مشترک ہے، کسی کو دوسرے پر زیادتی نہیں ہے کیونکہ وہ ان کے باپ آدم علیہ السلام کی میراث ہے۔ اہل سنت کے نزدیک دنیا میں انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام، اولیاء و صالحین کا رتبہ دنیا و آخرت میں عام مسلمانوں سے بہت بلند ہے اور مسلمان کا رتبہ کافر سے بلند ہے۔ قرآن پاک میں ہے:

وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَىٰ بَعْضٍ [سورۃ بنی اسرائیل: 55]

ترجمہ کنزالایمان: بیشک ہم نے نبیوں میں ایک کو ایک پر بڑائی دی۔

12۔ فرقہ معیہ

یہ فرقہ کہتا ہے کہ جو افعال ہم سے صادر ہوتے ہیں ہم کو ان کی استطاعت و قدرت حاصل ہے۔ اہل سنت کے نزدیک ہمیں اپنے افعال پر قدرت نہیں صرف اختیار ہے، افعال پر قدرت رب تعالیٰ کو ہے یعنی ایک شخص نے اپنے اختیار سے کسی پر تلوار چلائی، اس تلوار کو چلانے کی قدرت رب تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس تلوار سے جو زخم آیا یہ بھی رب تعالیٰ کی تحت قدرت ہے۔ نبراس میں ہے:

«وَاللَّهُ تَعَالَى خَالِقُ أَفْعَالِ الْعِبَادِ كُلِّهَا مِنَ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ وَالطَّاعَةِ وَالْعِصْيَانِ»

ترجمہ: اللہ عزوجل بندوں کے تمام افعال کفر، ایمان، نیکی، گناہ کا خالق ہے۔ [نبراس، صفحہ 170، مکتبہ حقانیہ، ملتان]

فرقہ سبائیہ

امت مسلمہ میں فرقہ واریت کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سب سے پہلے سبائیوں کا فتنہ پیدا ہوا جس کا بانی عبداللہ بن سبا یہودی تھا، جو اسلام میں فتنہ انگیزی کی غرض سے بظاہر مسلمان ہو گیا تھا اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے استحقاق خلافت کے متعلق تو کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوئی البتہ ان کے نظم ونسق کے خلاف نکتہ چینی اور سیاسی تحریک اس یہودی نے مصر و عراق کے نو مسلموں کی مدد سے شروع کر دی۔ ان سبائی باغیوں نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کر لیا اور اس شورش کے نتیجہ میں بالآخر 18 ذی الحجہ 35 ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان باغیوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔

آپ کی مظلومانہ شہادت کے بعد جب انصار و مہاجرین کے متفقہ انتخاب سے حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو سبائی باغیوں کا یہ گروہ بھی ان سے بیعت خلافت لینے میں پیش پیش تھا۔ ادھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب خون عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کیا اور مجرموں کو خود سزا دینے کی غرض سے خلیفہ وقت سے علیحدہ ہو کر نہ صرف یہ کہ ملک شام میں اپنی الگ حکومت قائم کر لی بلکہ اس تنازع کے نتیجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ میں اس قدر اختلاف اور بگاڑ پیدا ہو گیا کہ بالآخر دونوں کے لشکر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ اس طرح جنگ جمل اور پھر جنگ صفین میں مسلمانوں کے آپس میں ٹکرا جانے سے بڑا خون خرابہ ہوا تھا۔ آخر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اس مسئلہ میں ثالث بنانے کا فیصلہ ہوا۔

سبائی گروہ جو کہ فتنہ انگیز تھا اور مسلمانوں میں باہم صلح و صفائی ان یہود فطرت لوگوں کو پسند نہیں تھی اس لیے انہوں نے تحکیم کے اس فعل کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بھر پور مخالفت کی اور ان کی اطاعت سے خارج ہو کر ایک علیحدہ گروہ بنا لیا اس لیے اس کا نام “خارجی” پڑ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کو چھوڑ کر ایک انسان کا حکم مانا ہے اور یہ امر قرآن مجید کی آیت:

أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا [سورۃ الانعام: 114]

ترجمہ کنزالایمان: تو کیا اللہ کے سوا میں کسی اور کا فیصلہ چاہوں کی رو سے شرک ہے اور مشرک کی اطاعت جائز نہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک ہر کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے اور وہ سدا دوزخ میں رہے گا۔

سبائیوں کا ایک بڑا گروہ جو “حرورا” کے مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت سے خارج ہو گیا تھا اس مناسبت سے “حروری خارجی” کہلایا اور باقی سبائی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں رہے “شیعان علی” کے نام سے موسوم ہوئے انہوں نے خارجیوں کے برعکس آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو اختیار کر کے الوہیت کا مرتبہ دے دیا اس طرح شیعہ مذہب کا ظہور ہوا چنانچہ جماعت صحابہ سے الگ ہو کر دو گمراہ فرقے وجود میں آگئے۔ اسی طرح صحابہ کرام ہی کے دور میں منکرین تقدیر کا وجود بھی ملتا ہے۔ یعنی فرقہ واریت حضور علیہ السلام کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دور میں ہو چکی تھی اور صحابہ کرام نے ان گمراہوں کی مذمت کی ہے۔

[حوالہ: 73 فرقے اور ان کے عقائد، صفحہ 70۔81]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!