| عنوان: | آہ! علامہ مبارک حسین مصباحی |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عطاء المصطفیٰ عطاری مصباحی |
آہ! علامہ مبارک حسین مصباحی
علامہ مبارک حسین مصباحی (1967ء) ایک نادر شخصیت تھے، جنہیں تحریر و تقریر دونوں پر یکساں مہارت حاصل تھی۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور سے وابستہ رہے اور ماہ نامہ اشرفیہ کی طویل عرصے تک ادارت کی۔
پانچ جون 2026ء کی رات تقریباً پونے بارہ بجے، طویل علالت کے بعد آپ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
ان کی دو اہم تصانیف خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں: ”برصغیر میں افتراقِ بین المسلمین کے اسباب“ (2001ء)، جو تاریخ دانی کا شاہکار ہے، اور ”شہر خموشاں کے چراغ“ (2009ء)، جس میں اہلِ سنت کی پچاس سے زائد علمی شخصیات کا نثری مرثیہ ہے۔
آج حضرت یوں بھی بہت یاد آئے۔ بعد از عصر، شاہجہاں پور ضلع کے نگران مبلغ دعوت اسلامی، حاجی حافظ انیس صاحب جامعہ تشریف لائے، ساتھ میں تلہر کے چند احباب بھی تھے۔ علیک سلیک کے بعد علامہ مبارک حسین مصباحی صاحب کا تذکرہ چھڑ گیا۔ اسی اثنا میں یہ بھی ذکر آیا کہ جامعۃ المدینہ شاہجہاں پور، جہاں تقریباً سات برس سے تدریس اور خدمتِ حدیث کا شرف حاصل ہو رہا ہے، اس کی بنیادوں میں علامہ مبارک حسین صاحب کی دعاؤں کا فیضان بھی شامل ہے۔
تقریباً پندرہ سال قبل، پانچ جون 2011ء کو جامعۃ المدینہ فیضانِ مفتیِ اعظم ہند شاہجہاں پور کی تقریبِ سنگِ بنیاد ہوئی۔ اس عظیم الشان تقریب میں علامہ مبارک حسین مصباحی صاحب بنفسِ نفیس جلوہ فرما ہوئے تھے۔ عجیب اتفاق ہے کہ آج پندرہ سال بعد یہ جامعہ اپنی جوانی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ تقریباً تین سو طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور درجۂ حفظ سے لے کر تخصص تک کی تعلیم کا انتظام ہے۔ مگر اس کی بنیادوں کو دعاؤں سے تقویت بخشنے والے عظیم مفکر، محبِّ دعوتِ اسلامی اور امیر القلم، علامہ مبارک حسین صاحب، آج اس دارِ فانی کو الوداع کہہ گئے۔
ابرِ رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شانِ کریمی ناز برداری کرے
اللہ پاک ان کی بے حساب مغفرت فرمائے۔ آمین!
