Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

73 فرقے اور ان کے عقائد: فرقہ قدریہ (قسط: اول)|ابو احمد محمد انس رضا قادری

73 فرقے اور ان کے عقائد: فرقہ قدریہ (قسط: اول)
عنوان: 73 فرقے اور ان کے عقائد: فرقہ قدریہ (قسط: اول)
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: ام ماجد

فرقہ قدریہ

قدریہ فرقے کا عقیدہ یہ ہے کہ قضا و قدر (تقدیر) کچھ چیز نہیں، نہ پہلے کچھ لکھا گیا ہے۔ ہم مستقلاً قادر مطلق ہو کر اعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ تقدیر کے منکر ہیں جیسے آج کل بعض دنیاوی تعلیم یافتہ تقدیر کے منکر ہو کر کہتے ہیں کہ نصیب کچھ نہیں، جو کرنا ہے خود کرنا ہے۔ اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کا منکر گمراہ ہے۔

جامع ترمذی کی حدیث ہے:

عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، وَيُؤْمِنُ بِالْمَوْتِ، وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ» [رقم الحديث: 2145]

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے: گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں مجھے اللہ نے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اور مرنے اور مرنے کے بعد اٹھنے اور تقدیر پر ایمان لائے۔ [جامع ترمذی، ابواب القدر، جلد 4، صفحہ 20، دار الغرب الإسلامي، بیروت]

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قدریہ فرقہ کی سخت مذمت فرمائی۔ ایک مقام پر آپ نے تقدیر کے منکروں کا چہرہ بگڑنے اور دھنسنے کا بھی فرمایا ہے چنانچہ جامع ترمذی کی حدیث ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: «يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَذَلِكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ بِالْقَدَرِ» [رقم الحديث: 2152]

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت میں دھنسنا اور صورتیں بگڑنا ہوگا اور یہ تقدیر کے منکروں پر ہوگا۔ [جامع ترمذی، ابواب القدر، جلد 4، صفحہ 25، دار الغرب الإسلامي، بیروت]

انسان کی تقدیر اس کی پیدائش سے پہلے کی لکھی جا چکی ہے۔ مسلم کی حدیث ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «كَتَبَ اللَّهُ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِخَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ» قَالَ: «وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ» [رقم الحديث: 2653]

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مخلوق کی تقدیریں آسمان وزمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے لکھیں۔ فرماتے ہیں: اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ [صحیح مسلم، کتاب القدر، باب حجاج آدم وموسی، جلد 4، صفحہ 2044، بیروت]

تقدیریں پہلے سے لکھے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ جیسا ہماری تقدیر میں لکھا گیا ہے ہم ویسا کرنے پر مجبور ہیں بلکہ اللہ عزوجل کو معلوم تھا کہ فلاں کیا کام کرے گا، اس معلوم ہونے کو تقدیر کہا گیا۔ البتہ رزق و عمر اللہ عزوجل نے ہماری تقدیر میں لکھ دی ہے۔ یعنی کچھ رب تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے اور کچھ ہمارے اپنے اختیاری افعال ہیں۔ پھر تقدیر کی قسمیں ہیں کہ بعض میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور بعض میں ہو سکتی ہے۔

بہار شریعت میں ہے: “ہر بھلائی اس نے اپنے علم ازلی کے موافق مقدرفرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کرنے والا تھا اور اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔ زید کے ذمے برائی لکھی اس لیے کہ زید برائی کرنے والا تھا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا تو وہ اس کے لیے بھلائی لکھتا تو اس کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کر دیا۔” [ملخص بہار شریعت، جلد 12، حصہ 1، صفحہ 5، ضیاء القرآن، لاہور]

احادیث میں تقدیر کے متعلق بحث کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

فرقہ قدریہ کی 12 شاخیں ہیں:

  1. احمریہ

  2. ثنویہ

  3. معتزلہ

  4. کیسانیہ

  5. شیطانیہ

  6. شریکیہ

  7. وہمیہ

  8. ربویہ

  9. بتریہ

  10. ناکثیہ

  11. قاسطیہ

  12. نظامیہ

1۔ فرقہ احمریہ

ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ پر عدل جاری کرنا فرض ہے اور اللہ تعالیٰ کے عدل میں شرط یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ان کے کاموں کا مختار کرے اور اُن کے گناہوں کے درمیان ان میں حائل ہو کر روکے۔ اہل سنت و جماعت کے نزدیک اللہ عزوجل پر کچھ فرض نہیں ہے۔

شرح العقائد النسفیہ میں ہے:

فَلَيْسَ ذَلِكَ بِوَاجِبٍ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَّا لَمَا خَلَقَ الْكَافِرَ الْفَقِيرَ الْمُعَذَّبَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

ترجمہ: اللہ عزوجل پر کچھ واجب نہیں ہے۔ (اگر اللہ عزوجل پر واجب ہوتا) تو وہ کیوں کافر فقیر کو پیدا کر کے دنیا و آخرت میں عذاب دیتا؟ [شرح العقائد النسفیہ، صفحہ 123، مکتبہ رحمانیہ، لاہور]

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور گناہ کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس نے گناہوں کی نشاندہی کر دی ہے اور اس سے منع کر دیا ہے، اب اس پر یہ فرض نہیں کہ وہ جبراً لوگوں کو گناہوں سے روکے، البتہ وہ اپنے فضل وکرم سے گناہ گار کو توبہ کی توفیق دیتا ہے۔

2۔ فرقہ ثنویہ

یہ کہتا ہے کہ بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے اور برائی ابلیس پیدا کرتا ہے۔ اہل سنت کے نزدیک ہر چیز رب تعالیٰ کی تخلیق ہے۔

قرآن پاک میں ہے:

قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ [سورۃ الرعد: 16]

ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہر چیز کا بنانے والا ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔

بھلائی و برائی رب تعالیٰ کی قدرت میں ہے، البتہ اختیار انسان کو ہے کہ وہ چاہے نیکی کرے یا بدی۔

3۔ فرقہ معتزلہ

فرقہ معتزلہ کو قدریہ بھی کہا جاتا ہے اور یہ بہت مشہور فرقہ ہے۔ کتب عقائد میں آج تک ان کے عقائد ملتے ہیں۔ امام جوزی رحمہ اللہ یہاں فرقہ معتزلہ کو قدریہ کی شاخ کے تحت لائے ہیں۔ فرقہ معتزلہ کا قول ہے کہ قرآن مخلوق ہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار محال ہے۔ (واضح رہے کہ اسی فرقہ معتزلہ کو عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دور میں عروج حاصل ہوا تھا) ان لوگوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ اطاعت گزار بندے کو ثواب دے اور عاصی اگر توبہ کیے بغیر مر گیا ہو تو لازماً عذاب دے ورنہ اس کا عدل قائم نہ ہوگا۔

اہل سنت کے نزدیک قرآن مخلوق نہیں بلکہ رب تعالیٰ کا کلام ہے اور رب تعالیٰ کا کلام اس کی صفت ہے۔ جنت میں اللہ عزوجل کا دیدار ہوگا جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے:

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ» [رقم الحديث: 2551]

ترجمہ: حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے چاند کی طرف دیکھا جو کہ چودھویں رات کا تھا اور فرمایا تم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور رب تعالیٰ کو اسی طرح دیکھ سکو گے جیسے یہ چاند دیکھ رہے ہو یعنی اسے دیکھنے میں بالکل زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ [جامع ترمذی، ابواب صفۃ الجنۃ، جلد 4، صفحہ 687، مصر]

اللہ عزوجل پر کچھ واجب نہیں ہے۔ مسلمان کی نیکی قبول کرنا اور گناہ معاف کرنا رب تعالیٰ کے فضل وکرم پر ہے۔

4۔ فرقہ کیسانیہ

ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ افعال جو سرزد ہوتے ہیں وہ بندوں سے پیدا ہوتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ بندے موت کے بعد ثواب پائیں گے یا انہیں عذاب دیا جائے گا۔

اہل سنت کے نزدیک افعال کا پیدا ہونا رب تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ان کو اختیار کرنا بندے کی طرف سے ہے۔ جو کافر مرے اسے قبر میں عذاب ملنا یقینی ہے اور جو مسلمان مرے وہ ضرور جنت میں جائے گا، اگر گناہ گار ہوگا تو اللہ عزوجل اس کے گناہ معاف کرے گا یا گناہوں کی سزا دے کر جنت میں داخل کرے گا۔

تفسیر نعیمی میں ہے: “کسب کے معنی ہیں ہستی کے اسباب کو جمع کر دینا، یہ کام بندے کا ہے، حلق پر چھری چلانا بندے کا کام ہے، پھر جانور مردہ کر دینا رب کا کام ہے، لہٰذا بندہ ذابح تو ہے مگر ممیت نہیں، ممیت یعنی موت دینے والا رب تعالیٰ ہی ہے۔ ہمارے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ ہر کام رب کے ارادے سے ہوتا ہے مگر بعض وہ کام ہیں جن میں بندہ کے اختیار کو بھی دخل ہے جیسے ہمارے ہاتھ پاؤں وغیرہ کی اختیاری حرکتیں ان پر ثواب و عذاب ہے، کوئی شخص مسئلہ تقدیر کا انکار کر کے خدا کو نہیں مان سکتا اس کا عمدہ فیصلہ اسلام نے کیا، آج اگر ہم قتل یا چوری کر کے حاکم سے کہیں کہ ہم بے قصور ہیں، رب نے کرایا، کبھی نہ مانے گا۔” [تفسیر نعیمی، جلد 3، صفحہ 26، مکتبہ اسلامیہ، لاہور]

5۔ فرقہ شیطانیہ

ان کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو پیدا نہیں کیا۔ (کیونکہ وہ صرف خالق خیر ہے خالق شر نہیں)۔

قرآن پاک میں واضح ہے کہ شیطان کو بھی رب تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ رب تعالیٰ کے علاوہ کوئی خالق نہیں ہے:

قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ [سورۃ الاعراف: 12]

ترجمہ کنزالایمان: فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔

6۔ فرقہ شریکیہ

اس فرقے والے کہتے ہیں سب برائیاں مقدر ہیں سوائے کفر کے۔ اہل سنت کے نزدیک برائیاں اور کفر انسان کے اختیار میں ہے۔ اس میں انسان کو مجبور نہیں کیا گیا۔

نبراس میں ہے:

فَإِنْ قِيلَ إِذَا كَانَ الْكُلُّ بِتَقْدِيرِهِ وَخَلْقِهِ تَعَالَى فَيَكُونُ الْكَافِرُ مَجْبُورًا فِي كُفْرِهِ وَالْفَاسِقُ فِي فِسْقِهِ فَلَا يَصِحُّ تَكْلِيفُهُمَا بِالْإِيمَانِ وَالطَّاعَةِ لَفٌّ وَنَشْرٌ قُلْنَا إِنَّهُ تَعَالَى أَرَادَ مِنْهُمَا الْكُفْرَ وَالْفِسْقَ بِاخْتِيَارِهِمَا فَلَا جَبْرَ بَلْ هَذِهِ الْإِرَادَةُ

ترجمہ: اگر کہا جائے کہ جب ہر چیز مقدر ہے اور اللہ عزوجل نے اسے پیدا کیا تو کافر اپنے کفر میں مجبور ہے اور فاسق اپنے فسق میں مجبور ہے، اب اسے ایمان اور اطاعت کا مکلف بنانا صحیح نہ ہوا۔ ہم نے اس کا جواب دیا کہ کافر کا کفر اور فاسق کا فسق اس کے اپنے اختیار میں ہے اللہ کا اس میں ارادہ ہے، اللہ عزوجل نے کفر اور فسق میں ان پر جبر نہیں کیا۔ [نبراس، صفحہ 175، مکتبہ حقانیہ، ملتان]

رب تعالیٰ عالم الغیب ہے اسے پتہ تھا کہ فلاں شخص فلاں گناہ کرے گا، اس پتہ ہونے کو تقدیر کہا گیا، جیسا ہونے والا تھا اور جیسا کرنے والا تھا اور اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا۔ جیسے ایک استاد کو اپنے نالائق شاگرد کے بارے میں پتہ ہے کہ وہ امتحان میں فیل ہو جائے گا، اب فیل ہونا اس کا اپنا عمل ہے، استاد نے اپنے علم کے مطابق کہہ دیا کہ یہ فیل ہوگا۔

7۔ فرقہ وہمیہ

ان کا نظریہ ہے کہ مخلوق کے افعال کا وجود نہیں ہے اور نہ نیکی و بدی کا وجود ہے یعنی یہ سب تخیلات ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک انسان کے افعال کا وجود ہے اور نیکی و بدی کا بھی وجود ہے، یہ نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور یہی نامہ اعمال کل قیامت والے دن تولے جائیں گے۔ قرآن وحدیث میں واضح انداز سے اعمال کے وجود ہونے کا ذکر ہے۔

قرآن پاک میں ہے:

وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [سورۃ الاعراف: 8]

ترجمہ کنزالایمان: اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلڑے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔

ابن ماجہ کی حدیث ہے:

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «يُصَاحُ بِرَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، فَيُنْشَرُ لَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلًّا، كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَلْ تُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيَقُولُ: أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ؟ فَيَقُولُ: لَا، ثُمَّ يَقُولُ: أَلَكَ عُذْرٌ؟ أَلَكَ حَسَنَةٌ؟ فَيَهَابُ الرَّجُلُ، فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: بَلَى، إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَاتٍ، وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ، وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ، فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ، وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ» [رقم الحديث: 4300]

ترجمہ: ابوعبدالرحمن حبلی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روز قیامت میری امت میں سے ایک شخص کو پکارا جائے گا اور اس کے ساتھ ننانوے دفتر (اعمال ناموں کے) رکھ دیے جائیں گے اور ہر دفتر اتنا بڑا ہو گا کہ جہاں تک نگاہ جا سکے۔ اللہ پوچھے گا تو ان میں سے کسی (عمل) کا انکاری ہے؟ وہ عرض کرے گا نہیں۔ پھر اللہ فرمائے گا میرے کاتبوں (فرشتوں) نے تجھ پر کوئی ظلم کیا؟ پھر اللہ فرمائے گا اچھا تجھے کوئی اعتراض ہے یا تیرے پاس کوئی نیکی ہے؟ وہ سہم کر کہے گا نہیں، میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا آج کے دن تجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی تیری بہت سی نیکیاں ہمارے پاس موجود ہیں۔ پھر ایک کاغذ نکالا جائے گا اس میں “أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ” لکھا ہوگا، وہ بندہ عرض کرے گا: میرے اتنے سارے اعمال ناموں کے آگے یہ ایک کاغذ میرے کیا کام آئے گا؟ پروردگار فرمائے گا: آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ پھر ایک پلڑے میں سب دفاتر (اس کے اعمال نامے) اور ایک پلڑے میں اس کا وہ کاغذ رکھا جائے گا وہ سب دفاتر اٹھ جائیں گے وہ ایک کاغذ والا پلڑا جھک جائے گا۔ [ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ما یرجی من رحمۃ اللہ، جلد 2، صفحہ 1437، حلبی]

8۔ فرقہ ربویہ

اسے راوندیہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کتابیں اتری ہیں ان سب پر عمل کرنا فرض ہے خواہ کوئی اس کو ناسخ کہے یا منسوخ۔

اہل سنت کے نزدیک جو حکم اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم فرما کر اس کے کرنے سے منع کر دیا اس کا کرنا جائز نہیں جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں بھائی اور بہن کا باہم نکاح دو مختلف نطفوں سے جائز تھا، اب یہ جائز نہیں۔ اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے وقت شریعت میں دو بہنوں کے ساتھ ایک وقت میں نکاح جائز تھا اب جائز نہیں ہے۔ سجدہ تعظیمی پچھلی امتوں میں جائز تھا، اس امت میں منع کر دیا گیا ہے۔

قرآن پاک میں واضح انداز میں ثابت ہے کہ کئی احکام منسوخ کر دیے جاتے ہیں۔

مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ [سورۃ البقرۃ: 106]

ترجمہ کنزالایمان: جب کوئی آیت منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

9۔ فرقہ بتریہ

یہ فرقے والے کہتے ہیں کہ جس نے گناہ کر کے توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ اہل سنت کے نزدیک رب تعالیٰ گناہ گار کی توبہ قبول کرنے والا ہے جیسا کہ قرآن و حدیث میں اس کے متعلق کئی دلائل موجود ہیں۔

وہ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا [سورۃ النساء: 48]

ترجمہ کنزالایمان: بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا۔

10۔ فرقہ ناکثیہ

ان کا کہنا ہے کہ جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت توڑ دی تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اہل سنت کے نزدیک رسول اللہ کی بیعت توڑنا جائز نہیں سخت حرام ہے۔

اب بیعت کی دو صورتیں ہیں:

ایک یہ کہ جو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف مواقع پر کی جیسے دوران جنگ جہاد پر بیعت کی، گناہ نہ کرنے پر بیعت کی تو یقیناً اس بیعت کو توڑنا ناجائز ہی تھا۔

صحیح بخاری کی حدیث ہے:

أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رضي الله عنه وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: «بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ» فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ [رقم الحديث: 18]

ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو جنگ بدر میں شریک تھے اور شب عقبہ میں ایک نقیب تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا جب کہ آپ کے گرد صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، کہ تم لوگ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور چوری نہ کرنا اور زنا نہ کرنا اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا اور نہ ایسا بہتان (کسی پر) باندھنا جس کو تم (دیدہ و دانستہ) بناؤ اور کسی اچھی بات میں خدا اور رسول کی نافرمانی نہ کرنا۔ پس جو کوئی تم میں سے (اس عہد کو) پورا کرے گا، تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جو کوئی ان (بری باتوں) میں سے کسی میں مبتلا ہو جائے گا اور دنیا میں اس کی سزا اسے مل جائے گی تو یہ سزا اس کا کفارہ ہو جائے گی اور جو ان (بری) باتوں میں سے کسی میں مبتلا ہو جائے گا اور اللہ اس کو دنیا میں پوشیدہ رکھے گا تو وہ اللہ کے حوالے ہے، اگر چاہے تو اس سے درگزر کر دے اور چاہے تو اسے عذاب دے (عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ) سب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر (بیعت کر لی)۔ [صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ الإیمان حب الأنصار، جلد 1، صفحہ 12، دار طوق النجاۃ]

دوسری بیعت بمعنی اطاعت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اپنی امت کو احکام صادر فرمائے ہیں ان میں کئی افعال فرض، واجب، سنت مؤکدہ ہیں جنہیں بجا لانا امتی پر لازم ہے اور چھوڑنا گناہ ہے۔

11۔ فرقہ قاسطیہ

ان کا قول ہے کہ دنیا میں زاہد ہونے سے افضل یہ ہے کہ دنیا کمانے میں کوشش کرے۔ اہل سنت کے نزدیک زاہد ہونا دنیا کمانے سے یقیناً افضل ہے جبکہ وہ اپنے متعلقہ لوگوں کے حقوق پورے کرتا ہو۔ قرآن وحدیث میں بے شمار مقامات پر دنیا سے محبت کرنے سے منع کیا ہے اور زہد اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔

سورۃ الحدید کی ایک آیت ملاحظہ ہو:

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ [سورۃ الحدید: 20]

ترجمہ کنزالایمان: جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس مینہ کی طرح جس کا اگایا سبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہو گیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال۔

بخاری ومسلم میں ہے:

إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا [رقم الحديث: 1465]

ترجمہ: اپنے بعد میں تم سے جس چیز کے بارے میں ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ دنیا کی زینت اور کامیابی کے دروازے تم پر کھول دیے جائیں گے۔ [صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ علی الیتامیٰ، جلد 2، صفحہ 121، دار طوق النجاۃ]

12۔ فرقہ نظامیہ

فرقہ نظامیہ جو نظام ابراہیم کے پیروکاروں پر مشتمل ہے ان کا قول ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کو شے کہے تو وہ کافر ہے۔ یعنی فرقہ نظامیہ کے نزدیک رب تعالیٰ کو شے کہنا جائز نہیں ہے کہ شے حادث کو کہتے ہیں جبکہ اہل سنت کے نزدیک جس کا وجود ہو اسے شے کہا جاتا ہے، برابر ہے کہ وہ شے قدیم ہو یا حادث۔ رب تعالیٰ کی ذات واجب الوجود اور قدیم ہے اس لیے اسے شے کہنا جائز ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ رب تعالیٰ کو شے کہنا بمعنی ارادہ کرنے والا ہے اور مخلوق کو شے کہنے کا مطلب جس کا ارادہ کیا گیا ہے۔

چنانچہ الکلیات میں ہے:

فَالشَّيْءُ فِي حَقِّ اللَّهِ بِمَعْنَى الشَّائِي، وَفِي حَقِّ الْمَخْلُوقِ بِمَعْنَى الْمَشِيءِ

ترجمہ: اللہ کے حق میں شے بمعنی ارادہ کرنے والا، اور مخلوق کے حق میں بمعنی جس کا ارادہ کیا گیا۔ [الکلیات معجم فی المصطلحات والفروق اللغویۃ، صفحہ 525، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت]

[ماخذ: 73 فرقے اور ان کے عقائد، مکتبہ فیضان شریعت، داتا دربار مارکیٹ، لاہور، ص 58۔70]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!