Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

آؤ اپنی اصلاح کریں (قسط پنجم) | طارق انور مصباحی

آؤ اپنی اصلاح کریں (قسط پنجم)
عنوان: آؤ اپنی اصلاح کریں (قسط پنجم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: سلطانی رضویہ

قسط پنجم: علم اور ہنر دو چیزیں ہیں۔ نظم و نثر میں دونوں کا ایک ساتھ استعمال ہونے سے ایسا لگتا ہے کہ دونوں ایک ہی چیز ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ علم انسانیت کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے، انسان کی معاشی زندگی کو سہارا دیتا ہے۔ ہمیں علم کے ساتھ ہنر بھی سیکھنا چاہیے، تاکہ ہماری شخصیت بھی نکھر جائے اور معاش بھی بہتر ہو۔

غلط تصورات اور احساسِ مرعوبیت

بہت سے نوجوان جو کسی پیشہ اور روزگار سے وابستہ رہتے ہیں، جب وہ دعوتِ اسلامی، یا کسی دعوتی و تبلیغی تحریک سے منسلک ہو جاتے ہیں تو وہ اپنا لباس اور حلیہ بدل لیتے ہیں۔ وہ اپنے چہروں پر داڑھی بھی سجا لیتے ہیں اور اسلامی لباس بھی زیبِ تن کرتے ہیں۔ گرچہ ان میں سے بعض لوگ اپنی ڈیوٹی کے وقت مروجہ لباس ہی پہنتے ہوں۔ بہت سے مسلم تاجر، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، ممبرانِ اسمبلی، ممبرانِ پارلیامنٹ اور دیگر شعبہ جات کے وابستگان بھی اسلامی وضع قطع میں رہتے ہیں۔

فارغینِ مدارس جب دیگر میدانوں کا رخ کرتے ہیں تو ان میں سے بعض حضرات عالمانہ وضع قطع سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ یہ احساسِ مرعوبیت ہے جو ان کو اس منزل تک لے جاتا ہے، وہ خود کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ ان کی صالح تربیت اور ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ وہ جدید ماحول کے دوست احباب کو برتر اور خود کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، پھر ہر امر میں ان کی پیروی کر کے ان کے ہم رتبہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ وہ عالم و فاضل ہونے کے سبب اپنے نئے احباب سے ممتاز و منفرد ہوتے ہیں۔

اگر فارغینِ مدارس دیگر شعبہ ہائے حیات میں بھی خود کو مذہبی قائد و رہنما سمجھیں تو نہ وہ قائدانہ شعار کو ترک کریں گے، نہ ہی ان کے احباب و متعلقین ان کی عزت و تکریم میں کچھ کمی کر سکتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی اور کالج یا کسی پیشہ ورانہ شعبہ میں جاتے ہیں تو خود کو اپنے احباب کے مساوی و مماثل بنانے کا تصور ان کے ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے، پھر وہ اپنی وضع قطع سے دور ہونے لگتے ہیں، حالانکہ ان کو سوچنا چاہئے کہ ہم اپنے دینی علم و فضل کے سبب اپنے شعبہ کے دیگر افراد سے ممتاز ہیں، اور ہمیں اپنی امتیازی شان اور اپنے تشخص کے ساتھ رہنا چاہیے، تاکہ دیگر احباب ہم سے دینی رہنمائی کے لیے رابطہ کریں اور ہم سے دینی استفادہ کریں۔

دینی تشخص کے ساتھ معاش اور قیادت

ہم نے فارغینِ مدارس کو مختلف روزگار سے منسلک ہونے کا مشورہ اس لیے دیا ہے کہ وہ ان شعبہ جات کے وابستگان کے ایمان و عمل کا تحفظ بھی کریں اور خوشحالی کی زندگی بھی بسر کر سکیں۔ جب وہ اپنے روزگار کے منسلکین کی مذہبی قیادت و رہنمائی کا فریضہ بھی اپنے سر لے لیں گے اور اپنے دل میں اس کا پختہ عزم کر لیں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے لیے اسلامی وضع قطع کو ترجیح دیں گے اور ان کی علمی قوت و صلاحیت بھی فنا نہیں ہو سکے گی، کیونکہ اپنے وابستگان و متعلقین کی شرعی رہنمائی کے لیے ان فارغین کو دینی علوم سے وابستگی رکھنی ہوگی۔ عام مسلمین منطق و فلسفہ، نحو و صرف، عربی زبان و ادب کے مسائل دریافت نہیں کرتے، لیکن قرآن، حدیث، تفسیر، اعتقادی مسائل، فقہی مسائل و فتاویٰ، سیرت و سوانح، تاریخِ اسلام وغیرہ سے متعلق سوال ضرور کرتے ہیں۔ دراصل یہی سب دینی علوم ہیں کہ جن سے آپ کا ربط و تعلق یقیناً قائم رہے گا۔

بالفرض اگر آپ کے پاس اتنی فرصت نہ ہو کہ تمام سوالوں کے جواب تلاش کر سکیں تو کسی معتبر عالمِ دین کو مقرر فرما لیں۔ وائس ریکارڈ کے ذریعے اپنے سوالات انہیں بھیج دیں اور وہ آپ کو تحریری یا تقریری جواب بھیج دیں اور آپ اپنے وابستگان و متعلقین کو جوابات سے مطلع فرما دیں۔ اس طرح آپ کے علم میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا اور قوم کے درپیش مسائل کا حل بھی ہوتا رہے گا۔ جس عالمِ دین کو آپ نے دینی خدمت کے واسطے مقرر کیا ہے، ان کے لیے کچھ ماہانہ وظیفہ متعین کر دیں اور اپنے وابستگان میں سے کسی فرد کو ذمہ داری دے دیں کہ وہ ہر ممبر سے ماہانہ ایک متعینہ رقم حاصل کر لے۔

اس طرح جس شعبہ میں آپ رہیں گے، وہاں آپ میرِ محفل اور شمعِ انجمن رہیں گے۔ آپ مسلمانوں کی ایک جماعت کے رہبر و رہنما ہوں گے۔ وہ ایک تحریک کی شکل ہوگی، اور آپ قائدِ تحریک ہوں گے اور دیگر وابستگان اس تحریک کے ارکان و ممبران ہوں گے۔ آپ اسے ایک تحریک کی شکل بھی دے سکتے ہیں۔

مذکورہ بالا طریقِ کار اختیار کرنے پر ان شاء اللہ تعالیٰ آپ دینیات سے منسلک بھی رہیں گے، آپ کے علم و دانش میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا، آپ کی زندگی بھی خوشحال ہوگی، اور آپ کسی عالمِ دین کی بھلائی کا سبب بھی بن سکیں گے۔ اگر کوشش کریں تو اپنے وابستگان کے ذریعے مزید دینی خدمات بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اس طرح آپ دین و دنیا دونوں کی بھلائیاں اور حسنات و برکات حاصل کر سکتے ہیں۔

وَاللَّهُ الْهَادِي وَهُوَ الْمُوَفِّقُ

[حوالہ:- ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، ص: 15/16، 16 ستمبر 2020ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!