Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

آؤ اپنی اصلاح کریں (قسط ششم) | طارق انور مصباحی

آؤ! اپنی اصلاح کریں (قسط ششم)
عنوان: آؤ! اپنی اصلاح کریں (قسط ششم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: سلطانی رضویہ

قسط ششم: اسکل سنٹر اور ٹریننگ سنٹر میں بچوں کے لیے پیشہ ورانہ کورس اور ڈپلوما وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے۔ اس میں کامیابی کے بعد ملازمت کی راہ بہت آسان ہو جاتی ہے اور مشاہرہ بھی بہتر ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اور پبلک کی طرف سے بھی ایسے اداروں کا قیام بہت سے بڑے شہروں میں کیا گیا ہے۔ فارغین کو چاہیے کہ یونیورسٹیز کی بجائے پیشہ ورانہ کورسز کی طرف رخ کریں۔ یونیورسٹیز میں بی اے، ایم اے کرنے والے اکثر فارغین بھی یوں ہی گشت لگاتے رہتے ہیں۔ اپنے وقت کی اہمیت سمجھیں اور اپنا وقت بے کار ضائع نہ کریں۔

بعض پیشہ ورانہ کورس میں ایڈمیشن کے لیے دسویں کلاس (میٹرک) اور بعض میں ایڈمیشن کے لیے بارہویں کلاس (انٹرمیڈیٹ) کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مدارسِ اسلامیہ میں زیرِ تعلیم طلبہ کو چاہیے کہ فاصلاتی طرزِ تعلیم کے ذریعے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات دے کر سرٹیفکیٹ حاصل کر لیں۔ ریاستی و مرکزی حکومت کی طرف سے فاصلاتی تعلیم کا نظم ہوتا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (NIOS) کا انتظام مرکزی حکومت کی طرف سے ہے، جس کے ایگزام سنٹر ملک بھر میں ہیں اور سال میں دو بار امتحان ہوتا ہے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹ اس کے ذریعے حاصل کر لیں۔ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور عربی و فارسی لکھنؤ بورڈ کی سندوں کو بھی بعض انسٹی ٹیوٹ میں ایڈمیشن کے لیے قبول کر لیا جاتا ہے۔ عہدِ طالب علمی میں انٹرنیٹ سے مزید معلومات فراہم کر لیں، اور اسی کے مطابق مستقبل کی تیاری کریں۔

پیشہ ورانہ کورسز کی تفصیل اور طلبہ کی بیداری

پیشہ ورانہ کورسز میں ایڈمیشن فیس اور کورس فیس بھی ہوتی ہے۔ مختلف کورس کی مختلف فیس ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کے سنہرے مستقبل کے لیے توجہ دیں اور اہل مدارس عالم کورس میں غیر ضروری کتابوں کو نصاب سے خارج فرما کر مدتِ تعلیم میں تخفیف کریں، تاکہ بچوں کو پیشہ ورانہ تعلیم کا موقع مل سکے۔ جہاں ایڈمیشن لینا ہو، انٹرنیٹ سے وہاں کے کورسز کی تفصیلات معلوم کر لیں۔ بعض کی مدت ایک سال، بعض کی دو سال اور بعض کی مدت کچھ کم و بیش ہوتی ہے۔ بطورِ مثال چند کورسز کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

• کمپیوٹر ہارڈ ویئر انجینئرنگ اینڈ نیٹ ورکنگ
• الیکٹرانکس اینڈ الیکٹریکل انجینئرنگ
• موبائل اینڈ ٹیلی فون ریپیئرنگ ٹیکنیشن
• موبائل اینڈ ٹیلی فون ریپیئرنگ مکینک
• الیکٹریکل ٹیکنیشن
• آٹو موبائل انجینئرنگ
• ایئر کنڈیشننگ اینڈ فرج ریفریجریشن انجینئرنگ

انٹرنیٹ پر اسکل کورسز (Skill Courses) اور ٹریننگ کورسز (Training Courses) کی تفصیل اور اپنے علاقائی ٹریننگ سینٹر کی معلومات حاصل کر لیں۔ بعض کورس یا ڈپلوما میں ایڈمیشن کے لیے میٹرک یا انٹرمیڈیٹ میں اختیاری مضمون سائنس ہونا لازم ہے۔ جس کورس یا ڈپلوما کو آپ اپنے لیے منتخب کرتے ہیں، عہدِ طالب علمی میں انٹرنیٹ سے اس کی تفصیلی معلومات حاصل کر لیں، اور پھر اسی کے مطابق تیاری کریں۔ مدارسِ اسلامیہ کے طلبہ اپنے اندر بیداری لائیں۔ یہ کام خود طلبہ کو کرنا ہے۔ طلبہ عہدِ طالب علمی سے ہی اپنے معاشی مستقبل کی فکر کریں۔ اہل مدارس آپ کی دینی تعلیم کا انتظام کر دیتے ہیں، یہ ان کا احسانِ عظیم ہے، ہم ان پر زیادہ بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ وہ بہت محنت و مشقت سے رقم جمع کر کے مسلم بچوں کی دینی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں۔ قوم ان کی تحسین و تکریم کے بجائے ان پر اعتراض کرتی ہے، یہ بڑا ظلم ہے۔

مختلف شہروں میں باحوصلہ افراد اگر فارغینِ مدارس کے قیام و طعام کا انتظام کر دیں اور ٹریننگ سنٹر میں ایڈمیشن کی سہولت مہیا کر دیں تو فارغینِ مدارس کے لیے بہت آسانی ہو جائے، ورنہ طلبہ خود ایک نظام کریں۔ جن علمائے کرام و ائمۂ ذوی الاحترام کے پاس وسیع تعلقات ہیں، وہ اس جانب قوم کو راغب کریں۔ فارغین کی کثرت کے سبب ہمیں اہل مدارس و اربابِ مساجد کی غلط شرطوں کو ماننا پڑتا ہے اور بسا اوقات ہم ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور اپنی نسلوں کو بھی خراب کر لیتے ہیں۔

مساجد کی غلط شرائط اور ایمان و عقیدے کا تحفظ

ساؤتھ انڈیا کی بہت سی مساجد میں شرط ہوتی ہے کہ امام کو اہل محلہ اور اہل جماعت کا نکاح اور جنازہ پڑھانا ہوگا۔ اہل محلہ میں سے بعض سنی بھی ہوتے ہیں اور بعض دیوبندی بھی، بعض اہل حدیث اور بعض مودودی بھی۔ امام کو سب سے سلام و کلام اور مصافحہ و معانقہ کرنا ہے، سب کے یہاں دعوت میں بھی جانا ہے۔ شریعت کے سارے احکام بالائے طاق رکھ کر امامت کرنی ہے۔ گمراہ یا مرتد کا جنازہ پڑھے تو تجدیدِ نکاح، تجدیدِ ایمان اور توبہ کا حکم ہوگا۔ نکاح خوانی و نمازِ جنازہ عام مجلسوں میں ادا کی جاتی ہے، اس لیے اعلانیہ توبہ کا حکم ہوگا۔ تجدیدِ نکاح میں میڈم کی ناراضگی کا خطرہ ہے اور معاملہ یوں ہی چلتا رہا تو بچے غیر ثابت النسل!

ہمارے حصولِ رزق کی بعض صورتیں بھی قابلِ اعتراض ہیں (مثلاً قرآن خوانی، نعت خوانی و تراویح کا نذرانہ)، اور بسا اوقات ہمارے ایمان پر بھی حرف آ جاتا ہے، اس مصیبت سے نجات کی راہ تلاش کریں۔ اگر بے ہنر علماء کی تعداد کم ہوگی تو ہم اپنی شرطوں کے ساتھ مساجد و مدارس میں جائیں گے، اور غلط شرطوں کو مسترد کر دیں گے، اس لیے فارغین کو ہنر مند بنایا جائے، تاکہ وہ مساجد و مدارس کے محتاج نہ رہیں۔ مدارسِ اسلامیہ کے اساتذۂ کرام بھی چین کا سیرپ اور سکون کا معجون کھا کر مسند پر ٹیک نہ لگائیں۔ اگر مدرسے کا ناظم و مہتمم کفر و گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے تو آپ کو اس کی تائید کرنی ہوگی، ورنہ آپ کو بلا تأمل رخصت کر دیا جائے گا۔ اہل مدارس و اربابِ مساجد کو مدرس و امام تلاش کرنا کوئی مشکل نہیں، فارغین کی کثرت کے سبب حال یہ ہو چکا ہے کہ ایک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں۔ ہمارا بے ہنر ہونا قوم کو جرات مند بنا چکا ہے۔

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ مخلوط مسجدوں میں سنی امام نہ جائیں تو دیوبندی امام آئے گا، پھر سب لوگ بد مذہب ہو جائیں گے۔ شرعی طور پر سوال یہ ہے کہ جب وہ لوگ اس بات پر راضی ہیں کہ ہمارا امام دیوبندی کی نمازِ جنازہ بھی پڑھائے تو گویا کہ ان لوگوں نے بد مذہبوں اور مرتدین کو اہل حق سمجھ رکھا ہے، تو وہ سنی ہرگز نہیں ہو سکتے۔ وہ صلح کلی ہوں گے۔ امام ان کی غلط شرطوں کو قبول کر کے صلح کلیت کو فروغ دینے والا ہوگا، نہ کہ سنیت کا تحفظ کرنے والا۔ پہلے ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں، پھر دوسروں کے ایمان کی فکر کریں۔ جب ائمۂ کرام ایسی مساجد میں جوائننگ سے پرہیز کریں گے تو عوام کو ہوش آئے گا اور امید ہے کہ وہ راہِ راست پر آ جائیں۔ اپنی معیشت کے لیے اپنا دین و ایمان خطرے میں نہ ڈالیں، اللہ رزق عطا فرمائے گا۔

[حوالہ:- ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی، ص: 17/18/19، 20 ستمبر 2020ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!