Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اگر ضمیر بولنے لگے|ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی

اگر ضمیر بولنے لگے
عنوان: اگر ضمیر بولنے لگے
تحریر: ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی
منجانب: الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ عقل، شعور، احساس، زبان، دل اور فکر یہ سب انسان کی عظمت کی نشانیاں ہیں، مگر ان سب کے ساتھ ایک ایسی خاموش نعمت بھی ہے جو انسان کے باطن میں رہ کر اسے حق و باطل، نیکی و بدی اور خیر و شر کا احساس دلاتی ہے، اسے "ضمیر" کہا جاتا ہے۔

ضمیر دراصل انسان کے اندر قائم ایک خاموش عدالت ہے۔ یہ عدالت نہ رشوت لیتی ہے، نہ سفارش قبول کرتی ہے، نہ ظاہری چمک دمک سے متاثر ہوتی ہے۔ انسان دنیا والوں کو دھوکا دے سکتا ہے، اپنی زبان سے اپنے عیب چھپا سکتا ہے، اپنے چہرے پر نیکی کا نقاب ڈال سکتا ہے، مگر اپنے ضمیر سے زیادہ دیر تک نہیں بچ سکتا۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

بَلِ الْإِنسَانُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [سورۃ القیامہ: 14]

ترجمہ کنزالایمان: بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے۔

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی بصیرت رکھی گئی ہے جو اسے اس کے اپنے اعمال کا احساس دلاتی ہے۔ یہی باطنی بصیرت، یہی اندرونی احساس اور یہی خود احتسابی ضمیر کی آواز ہے۔

اگر ضمیر بولنے لگے تو سب سے پہلے انسان سے یہ پوچھے گا کہ تم جو لوگوں کے سامنے نظر آتے ہو، کیا حقیقت میں بھی ویسے ہی ہو؟ تمہاری زبان پر سچ ہے یا صرف لفظوں کی خوب صورتی؟ تمہارے چہرے پر مسکراہٹ ہے یا دل میں کینہ؟ تمہارے دعوے بڑے ہیں، مگر تمہارے عمل کہاں ہیں؟

اگر ضمیر بولنے لگے تو وہ احسان فراموش انسان سے کہے گا:

کیا تم نے ان ہاتھوں کو بھلا دیا جنہوں نے تمہیں مشکل وقت میں سہارا دیا تھا؟ کیا تم نے اس دروازے کو فراموش کر دیا جہاں سے تمہیں عزت، مدد اور آسرا ملا تھا؟ کیا تم نے نیکی کا بدلہ برائی سے دینا ہی اپنی کامیابی سمجھ لیا؟

آج کے دور کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ احسان فراموشی عام ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ مدد پاتے ہیں، سہارا لیتے ہیں، عزت حاصل کرتے ہیں، مگر جب وقت بدلتا ہے تو وہی لوگ محسن کے خلاف زبان دراز کرنے لگتے ہیں۔ ضمیر اگر زندہ ہو تو انسان کبھی احسان کو فراموش نہیں کرتا، کیونکہ زندہ ضمیر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ [سورۃ الرحمن: 60]

ترجمہ کنزالایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔

اگر ضمیر بولنے لگے تو وہ غیبت کرنے والے سے کہے گا:

تم دوسروں کے عیب کیوں تلاش کرتے ہو؟ کبھی اپنے دل کا آئینہ بھی دیکھا ہے؟ تم دوسروں کی خامیوں پر مجلسیں گرم کرتے ہو، مگر اپنے گناہوں پر کب روئے؟ تم لوگوں کی عزت اچھالتے ہو، مگر کیا تم نے قیامت کے دن کی جواب دہی کو بھلا دیا؟

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ. [صحيح مسلم، كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، رقم الحديث: 2553]

ترجمہ: نیکی حسن اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو اس بات کو ناپسند کرے کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔

یہ حدیث اس بات کی روشن دلیل ہے کہ مومن کا دل اور اس کا ضمیر اسے گناہ کے وقت متنبہ کرتا ہے۔ جب دل کسی کام پر کھٹکنے لگے، جب باطن بے چین ہو جائے، جب اندر سے کوئی آواز کہے کہ یہ کام درست نہیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ضمیر ابھی زندہ ہے۔

اگر ضمیر بولنے لگے تو وہ والدین کی نافرمانی کرنے والے سے کہے گا:

کیا تم نے ان آنکھوں کے آنسو دیکھے جو تمہاری خاطر راتوں کو جاگتی رہیں؟ کیا تم نے ان ہاتھوں کی تھکن محسوس کی جنہوں نے تمہیں پالنے کے لیے محنت کی؟ آج تم بڑے ہو گئے، مگر کیا تم اتنے بڑے ہو گئے کہ والدین کے دل کو چھوٹا کر دو؟

وہ ظالم سے کہے گا:

تم نے کمزور کو دبایا، مگر کیا تم نے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو بھلا دیا؟ تم نے کسی کا حق مارا، کسی کی عزت کو ٹھیس پہنچائی، کسی کے آنسوؤں کا سبب بنے، مگر کیا تمہیں یہ خیال نہیں آیا کہ ایک دن ہر ظلم کا حساب ہوگا؟

اگر ضمیر بولنے لگے تو وہ جھوٹے انسان سے کہے گا:

تم نے زبان سے جھوٹ بول کر وقتی فائدہ تو حاصل کر لیا، مگر اپنے کردار کا جنازہ نکال دیا۔ تم نے لوگوں کی نظروں میں شاید خود کو بچا لیا، مگر اپنے باطن کی عدالت میں مجرم بن گئے۔

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا وَتَمَنَّى عَلَى اللّٰهِ. [جامع الترمذي، كِتَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ، رقم الحديث: 2459]

ترجمہ: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھے، اپنا محاسبہ کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے؛ اور عاجز و نادان وہ ہے جو اپنے نفس کو اس کی خواہشات کے پیچھے لگا دے، پھر بھی اللہ تعالیٰ سے امیدیں باندھے۔

محاسبۂ نفس ہی دراصل ضمیر کی آواز سننے کا نام ہے۔ جب انسان تنہائی میں بیٹھ کر اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے، اپنی کوتاہیوں پر شرمندہ ہوتا ہے اور اصلاح کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اس کے زندہ ضمیر کی علامت ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے نفس کی پاکیزگی اور خرابی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ۝ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا [سورۃ الشمس: 7-10]

ترجمہ کنزالایمان: اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا۔ پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی۔ بیشک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا ۔ اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر بھلائی اور برائی کا شعور رکھا ہے۔ اب کامیاب وہی ہے جو اپنے نفس کو پاک کرے، اپنے ضمیر کو زندہ رکھے اور گناہوں کی تاریکی میں اپنے باطن کی روشنی کو بجھنے نہ دے۔

آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ انسان نے دنیا کی ہر آواز سننا سیکھ لیا ہے، مگر اپنے ضمیر کی آواز سننا بھول گیا ہے۔ سوشل میڈیا کا شور، شہرت کی خواہش، مال و دولت کی دوڑ، نمائش کا جنون، جھوٹی عزت کا فتنہ اور نفس پرستی نے دلوں کو غافل کر دیا ہے۔ لوگ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہونے کے بجائے انہیں جواز دینے لگے ہیں۔ سخت دلی کو بہادری، بے حیائی کو آزادی، احسان فراموشی کو چالاکی اور جھوٹ کو مصلحت کا نام دیا جا رہا ہے۔

اگر ضمیر بولنے لگے تو شاید آج کے انسان سے کہے:

  • تم نے عمارتیں بلند کر لیں، مگر کردار کی بنیادیں کیوں گرا دیں؟

  • تم نے موبائل کی روشنی میں راتیں گزار دیں، مگر دل کے اندھیرے کیوں نہ مٹائے؟

  • تم نے دنیا کو بدلنے کی بات کی، مگر اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کب کی؟

  • تم نے دوسروں کی غلطیاں گنیں، مگر اپنی لغزشوں پر کبھی نظر ڈالی؟

  • تم نے لوگوں سے انصاف مانگا، مگر خود دوسروں کے ساتھ کتنا انصاف کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ ضمیر انسان کا سب سے سچا دوست ہے۔ یہ کبھی چاپلوسی نہیں کرتا، کبھی غلط کو صحیح نہیں کہتا، کبھی ظلم کو انصاف نہیں کہتا۔ جب انسان غلط راستے پر چلتا ہے تو ضمیر اسے روکتا ہے۔ جب انسان کسی کا حق مارتا ہے تو ضمیر اسے بے چین کرتا ہے۔ جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو ضمیر اس کے دل میں چبھن پیدا کرتا ہے۔ جب انسان احسان فراموشی کرتا ہے تو ضمیر اسے ملامت کرتا ہے۔

مگر اگر انسان بار بار ضمیر کی آواز کو دباتا رہے، گناہ پر گناہ کرتا رہے، ظلم کو عادت بنا لے، توبہ کو ٹالتا رہے اور ندامت کو کمزوری سمجھنے لگے تو پھر آہستہ آہستہ ضمیر کی آواز مدھم پڑنے لگتی ہے۔ یہی وہ خطرناک وقت ہے جب انسان برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔

ایک زندہ ضمیر انسان کو صرف گناہوں سے نہیں روکتا بلکہ نیکی کی طرف بھی بلاتا ہے۔ وہ کہتا ہے: کسی کا دل نہ دکھاؤ، کسی کا حق نہ مارو، کسی کی عزت نہ اچھالو، احسان کا بدلہ احسان سے دو، والدین کی قدر کرو، غریب کا سہارا بنو، علم کو عمل کے ساتھ جوڑو، اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق گزارو۔

ضمیر کی آواز دراصل اصلاح کی آواز ہے۔ یہ انسان کو ذلت سے عزت، غفلت سے بیداری، گناہ سے توبہ اور تاریکی سے روشنی کی طرف بلاتی ہے۔ جو شخص اس آواز کو سن لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے، اور جو اسے دبا دیتا ہے وہ اپنے ہی باطن میں شکست کھا جاتا ہے۔

ضمیر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ یہ انسان کے دل میں روشن وہ چراغ ہے جو اسے حق کی راہ دکھاتا ہے، باطل سے بچاتا ہے، ظلم سے روکتا ہے اور نیکی کی طرف بلاتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے دل زندہ ہیں، جن کا ضمیر بیدار ہے، جو اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ہیں، توبہ کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کی فکر رکھتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ضمیر کی آواز سنیں، اپنے نفس کا محاسبہ کریں، قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کا جائزہ لیں اور اہلِ سنت کے اکابر کی تعلیمات کے مطابق اپنے ظاہر و باطن کو سنواریں۔

اگر ضمیر بولنے لگے تو شاید اس کی سب سے پہلی پکار یہی ہوگی:

  • اے انسان! دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدل۔

  • لوگوں کے عیب دیکھنے سے پہلے اپنا باطن دیکھ۔

  • دنیا کو راضی کرنے سے پہلے اپنے رب کو راضی کر۔

  • اور یاد رکھ! ایک دن تیرے اعمال تیرے سامنے ہوں گے، اس دن کوئی بناوٹ، کوئی بہانہ اور کوئی جھوٹ کام نہ آئے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں زندہ ضمیر، سچا احساس، خالص توبہ، پاکیزہ نیت، حسنِ اخلاق، حقوق العباد کی ادائیگی اور اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!