Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یزید امام اعظم ابوحنیفہ کی نظر میں (قسط: اول)|محمد حنیف حبیبی مصباحی

یزید امام اعظم ابوحنیفہ کی نظر میں (قسط: اول)
عنوان: یزید امام اعظم ابوحنیفہ کی نظر میں (قسط: اول)
تحریر: محمد حنیف حبیبی مصباحی
پیش کش: مفتیہ ام ہانی امجدی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت قدس سرہ ایک عظیم المرتبت تابعی، علم شریعت و طریقت کے سنگم، عابد شب زندہ دار، علم فقہ کے مرتب و مدون اور ہر دور میں اہل حق کی اکثریت کے امام و پیشوا کی حیثیت سے عالم اسلام میں متعارف ہیں۔ آپ کا مسلک و مشرب بھی افراط و تفریط سے مامون و محفوظ اور حزم و احتیاط کا اعلیٰ نمونہ ہے۔

مثال کے طور پر “تکفیر یزید” ہی کے مسئلے کو دیکھ لیجیے۔ یزید کے خرافات، بدعات و منکرات پھر شہادت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ پر مگر مچھ کا آنسو بہانا اور آپ کے قاتلین کے ساتھ سختی برتنا جیسی دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں، اس لیے اہل علم میں اس کے کفر و ایمان کے تعلق سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ جن بزرگوں نے کفر کی حد تک یزید کی بدکرداری کو دیکھا اس پر کفر و ارتداد کا حکم لگایا اور اس کے نام کے ساتھ لعنت بھیجنے کو جائز قرار دیا۔ جبکہ دیگر بعض علماء نے احتمال توبہ کی روایت کا لحاظ کر کے اسے مسلمان ہی گردانا اور نام کے ساتھ لعنت بھیجنے کی اجازت نہ دی۔ دونوں طرف علمائے اہل سنت تھے اور ہر ایک کے پاس دلیل بھی جو باہم مختلف و معارض تھے، اس لیے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے یزید کو کافر کہنے سے “کف لسان” فرمایا، یعنی نہ آپ یزید کو کافر کہتے ہیں اور نہ ہی اسے مسلمان گردانتے ہیں۔ ذیل میں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ طرفین کے دلائل کا قدرے تفصیل کے ساتھ تذکرہ کریں گے۔ نیز اس سوال کا تجزیہ کرنا چاہیں گے کہ جب شخص واحد کو ایک فریق کافر کہتا ہے تو دوسرے فریق کی خاموشی کی وجہ کیا ہے؟ ساتھ ہی اس ضمن میں مجدد دین و ملت، امام احمد رضا خاں قدس سرہ کا “اسماعیل دہلوی” کی تکفیر سے کف لسان کی حقیقت واضح کریں گے۔ جبکہ اسماعیل دہلوی کے تعلق سے امام علم و فن، علامہ فضل حق خیر آبادی علیہ الرحمہ نے فتویٰ کفر صادر فرمایا ہے۔ اس خالص علمی بحث کا غلط فائدہ اٹھا کر حضور اعلیٰ حضرت پر وہابی، دیوبندی کی جانب سے ہونے والے اعتراض کا آپریشن بھی کریں گے۔ فلہ الحمد والیہ المستعان۔

پہلا ثبوت

جانبین کے دلائل سے پیشتر آئیے، ان تینوں نظریوں کے اثبات پر طائرانہ نظر ڈالتے چلیں۔ صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں:

“یزید پلید فاسق و فاجر مرتکب کبائر تھا۔ معاذاللہ، اس سے اور بعینہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے کیا نسبت، آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے معاملے میں کیا دخل؟ ہمارے وہ بھی شہزادے، وہ بھی شہزادے، وہ بھی شہزادے، وہ بھی خارجی، ناصبی، مستحق جہنم ہے۔ ہاں یزید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اہل سنت کے تین اقوال ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ عنہ کا مسلک سکوت یعنی ہم اسے فاسق و فاجر کہنے کے سوا نہ کافر کہیں نہ مسلمان۔” [بہار شریعت، ج: 1، ص: 77]

دوسرا ثبوت

سیدی اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے سوال ہوا: “کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت اس مسئلہ میں کہ روئے فرمان اللہ و رسول یزید بخشا جائے گا یا نہیں؟” جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا:

الجواب: “یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہل سنت کے تین قول ہیں: امام احمد وغیرہ کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہو گی۔ امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہے۔ اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر، البتہ ایسا بھی سکوت کریں گے واللہ تعالیٰ اعلم۔” [احکام شریعت، ج: 2، ص: 88]

تکفیر یزید کے اسباب و علل

آئیے دیکھیں، آخر وہ روایات و اسباب کیا ہیں، جن کی بنیاد پر اکابر علماء اور جلیل القدر ائمہ یزید کی تکفیر کرنے پر مجبور ہوئے۔

دلیل اول

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، فرماتے تھے:

هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى أَيْدِي غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ. فَقَالَ مَرْوَانُ: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ. [صحيح البخاري، ج: 2، ص: 1036]

“کہ میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں سے ہو گی (یہ سن کر) مروان نے کہا ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت ہو تو حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا اگر میں چاہوں تو بتا دوں کہ وہ فلاں ابن فلاں اور فلاں ابن فلاں ہیں۔”

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے ثابت ہوا کہ ہلاکت و تباہی کا سبب چند قریشی لڑکے بنیں گے۔ قریش کے چند لڑکے کون ہیں؟ شارحین نے اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ اسی حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:

دَرْ مَجْمَعِ الْبِحَارِ آوَرْدَه كِه أَبُو هُرَيْرَةَ مِي شِنَاخْتْ إِيشَانْ رَا بِأَسْمَاءِ أَشْخَاصِ إِيشَانْ وَ سُكُوتْ مِي كَرْدْ أَزْ تَعْيِينْ وَ نَامْ بُرْدَنْ إِيشَانْ أَزْ جِهَتِ تَرْسْ وَ مَفْسَدَه، وَ مُرَادْ يَزِيدْ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ وَ مَانَنْدِ إِيشَانْ أَحْدَاثْ وَ نَوْسَالَـانِ بَنِي أُمَيَّةَ خَذَلَهُمُ اللَّهُ. وَ بِتَحْقِيقْ صَادِرْ شُدْ أَزْ إِيشَانْ أَزْ قَتْلِ أَهْلِ بَيْتِ پَيْغَمْبَرْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ بَنْدْ كَرْدَنْ إِيشَانْ وَ كُشْتَنْ خِيَارِ مُهَاجِرِينْ وَ أَنْصَارْ.

“‘مجمع البحار’ میں آیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ان لڑکوں کو ناموں سے پہچانتے تھے مگر ڈر اور فساد کی وجہ سے ان کا نام ظاہر نہیں فرماتے تھے اور ان لڑکوں سے مراد یزید بن معاویہ اور عبید اللہ ابن زیاد اور ان کے مثل بنی امیہ کے دوسرے نوجوان ہیں، اللہ ان کو ذلیل کرے بلاشبہ ان ہی سے اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل اور ان کا قید کرنا، خیار مہاجرین و انصار کا قتل کرنا ظہور میں آیا ہے۔” [أشعۃ اللمعات، ج: 3، ص: 286]

اس حدیث کے علاوہ کئی روایتیں ہیں جن میں لونڈوں کی حکومت اور بدعقل لڑکوں کی امارت سے دین کو زبردست نقصان کا ذکر ہے، ان سے خاص کر یزید کی حکومت اور اس کی خباثت اور شرارت مراد ہے۔

دلیل دوم

حضرت علامہ علی قاری قدس سرہ محقق علی الاطلاق امام ابن ہمام رحمہ اللہ کا یہ قول نقل فرماتے ہیں:

قَالَ ابْنُ الْهُمَامِ: اخْتُلِفَ فِي إِكْفَارِ يَزِيدَ، قِيلَ: نَعَمْ، لِمَا رُوِيَ عَنْهُ مَا يَدُلُّ عَلَى كُفْرِهِ مِنْ تَحْلِيلِ الْخَمْرِ، وَمِنْ تَفَوُّهِهِ بَعْدَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ: إِنِّي جَازَيْتُهُمْ بِمَا فَعَلُوا بِأَشْيَاخِ قُرَيْشٍ وَصَنَادِيدِهِمْ فِي بَدْرٍ وَأَمْثَالِ ذَلِكَ، وَلَعَلَّهُ وَجْهُ مَا قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِتَكْفِيرِهِ لِمَا ثَبَتَ عِنْدَهُ نَقْلُ تَقْرِيرِهِ.

“یعنی حضرت ابن ہمام رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یزید کے کفر کے بارے میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ہاں وہ کافر ہے، اس لیے کہ اس سے ایسی باتیں ثابت ہیں جو اس کے کفر پر دلالت کرتی ہیں، یعنی شراب کو حلال جاننا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے رفقاء کے قتل کے بعد اس کا یہ کہنا کہ میں نے ان سے اس کا بدلہ لے لیا جو انہوں نے قریش کے شیوخ اور سرداروں کے ساتھ جنگ بدر میں کیا تھا، اور بھی اسی طرح کی باتیں اس سے مروی ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس کی یہ باتیں پایہ ثبوت کو پہنچیں تو...” [جاری... ماہنامہ پیغام شریعت اکتوبر 2017، ص: 24]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!