| عنوان: | انوار ساطعہ (مقالات مصباحی) |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | ثمن فردوس امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، حَامِدًا وَّمُصَلِّيًا
انوارِ ساطعہ (مقالاتِ مصباحی)
بڑی مسرت کی بات ہے کہ درجۂ فضیلت 1428ھ کے طلبہ نے اپنی دستار بندی کے موقع پر کسی اہم دینی کتاب کی اشاعت کا ارادہ کیا، پھر مولانا نفیس احمد مصباحی (استاذ جامعہ اشرفیہ) کے مشورے سے "انوارِ ساطعہ" کا انتخاب ہوا۔
یہ کتاب عرصۂ دراز سے نایاب تھی، جبکہ علمی اہمیت کے ساتھ اس کی ایک تاریخی اہمیت بھی ہے۔ اس کتاب سے عیاں ہوتا ہے کہ مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمہ کے مریدین میں سے چند افراد کس طرح اپنے مرشد کے مسلکِ حق سے منحرف ہوئے اور مرشد کی مسلسل مساعی کے باوجود حق کی جانب واپس نہ آئے۔
آج مسلسل پروپیگنڈے کے زور سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سنی دیوبندی اختلاف کی ابتدا بریلی سے ہوئی، جبکہ "انوارِ ساطعہ" یہ بتاتی ہے کہ اس اختلاف کی نشوونما سہارنپور میں ہوئی۔ وہ بھی ایسے لوگوں سے جن کے مرشد تمام اسلافِ ہند اور اسلافِ امت کے مطابق تعظیمِ رسول، میلاد و قیام، فاتحہ و عرس وغیرہ معمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے۔ مگر ان کے چند مریدین کو مولوی اسماعیل دہلوی کے تقویۃ الایمانی مسلک کی ایسی ہوا لگی کہ پیر و مرشد کے ساتھ پوری امت خطا کار اور ضلالت شعار نظر آئی۔ آج دیوبند کی پوری مشنری اس نئے مسلک کی ترویج و اشاعت میں ہر طرح کے حربوں کے ساتھ منہمک ہے؛ وہی نیا مسلک جس میں تعظیمِ رسول شرک ہے، رسول کے لیے خدا کی عطا سے بھی غیب کا علم ماننا شرک ہے، محفلِ میلاد و قیام کبھی شرک اور کبھی بدعت ہے، فاتحہ و عرس اگرچہ شرعی طریقے پر ہو، ناجائز و حرام اور بدعتِ ضلالت ہے۔
انوارِ ساطعہ کے مباحث سے اس نئے مسلک کے بیشتر خیالات کا تحقیقی و علمی رد ہو جاتا ہے۔ آج کے لحاظ سے اس کی زبان پرانی ہو چکی ہے، مگر ناشر طلبہ اور ان کے مددگار اساتذہ نے پیراگراف کی تبدیلی اور علامات و رموز کے ذریعہ اسے سہل اور آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے کہ اہل علم اس سے پوری طرح مستفید ہوں گے۔ یہ طلبہ اپنے استاذ مولانا نفیس احمد مصباحی سے کتاب پر ایک وقیع مقدمہ لکھانے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ مولانا نے مصنف کے مختصر احوال بیان کرنے کے ساتھ کتاب کا تاریخی پس منظر بھی بیان کر دیا ہے۔ تفصیل تو بہت ہو سکتی تھی مگر موصوف نے اجمال میں ہی کافی معلومات فراہم کر دی ہیں۔ آخر میں ان بزرگوں کے حالات بھی رقم کیے ہیں جنھوں نے اپنی زبردست تقریظات سے انوارِ ساطعہ کی بھرپور تائید فرمائی ہے۔ یہ مقدمہ بھی قارئین کے لیے بہترین رہنما ثابت ہو گا۔
مولیٰ تعالیٰ ان طلبہ و اساتذہ کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبول بخشے اور کتاب کے اس نئے ایڈیشن کو مقبولِ خاص و عام اور مفیدِ انام بنائے۔ ساتھ ہی مصنفِ جلیل اور ان کے مؤید علماء و مشائخِ اہل سنت کا فیضانِ علم و عمل عام سے عام تر فرمائے اور جامعہ اشرفیہ کے طلبہ، اساتذہ اور ارکان و معاونین کو ہمیشہ دینِ متین کی گراں قدر خدماتِ جلیلہ مقبولہ سے شادکام، تمام آفاتِ ارضی و سماوی سے مامون و محفوظ اور دارین کی سعادتوں سے فیروزمند و محظوظ رکھے۔ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ، وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى رَسُوْلِهِ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ وَعَلٰى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِيْنَ
