| عنوان: | سیدنا سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت، نسب، وصال اور اولادِ امجاد) |
|---|---|
| تحریر: | سید کاشف حسین جیلانی قادری سہروردی |
نسب و خاندانی پس منظر
برصغیر میں اسلام کی اشاعت اور دعوتِ حق کے سلسلے میں جن عظیم شخصیات نے نمایاں کردار ادا کیا، ان میں حضرت سیدنا سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ جلیل القدر مجاہد، صاحبِ تقویٰ بزرگ اور سلطان الشہداء فی الہند حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کے والد ماجد تھے۔ آپ نے اپنی زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، جہادِ فی سبیل اللہ اور تبلیغِ اسلام میں صرف فرمائی۔ تاریخ میں آپ کا تذکرہ شجاعت، دیانت اور خدمتِ دین کے حوالے سے محفوظ ہے۔
حضرت سیدنا سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق ساداتِ علویہ سے تھا۔ متعدد روایات کے مطابق آپ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کا خاندان علمی، روحانی اور سماجی اعتبار سے بڑی عزت و وقار کا حامل تھا۔ آپ نہ صرف ایک عظیم سپہ سالار تھے بلکہ اہلِ بیتِ اطہار کی نسبت سے بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔
آپ کی زوجہ محترمہ بی بی ستر معلیٰ تھیں جو سلطان محمود غزنوی کی بہن ہیں، اور اسی نسبت سے حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے۔ [سیرت سید سالار مسعود غازی]
ولادتِ باسعادت
قدیم تاریخی کتب میں حضرت سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کی متعین تاریخ مذکور نہیں، البتہ یہ بات مسلم ہے کہ آپ غزنوی دور کے ایک ممتاز سپہ سالار اور بااثر شخصیت تھے۔ آپ نے جوانی ہی سے عسکری صلاحیتوں، شجاعت اور دینی حمیت کا ثبوت دیا اور سلطنتِ غزنویہ میں اہم مقام حاصل کیا۔ [مرآت مسعودی]
دینی و عسکری خدمات
حضرت سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ سلطان محمود غزنوی کے معتمد سپہ سالاروں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے مختلف معرکوں میں شرکت کی اور اسلامی حکومت کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم آپ کی اصل عظمت صرف عسکری فتوحات تک محدود نہیں بلکہ آپ دینِ اسلام کی اشاعت اور اہلِ حق کی سرپرستی میں بھی نمایاں تھے۔
آپ نے اپنے فرزند حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی و روحانی تربیت کا خصوصی اہتمام فرمایا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ سید ابراہیم بارہ ہزاروی جیسے جلیل القدر بزرگ کو حضرت مسعود غازی کی تعلیم و تربیت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ [انوار مسعودی]
ہندوستان آمد اور ورود اجمیر
غزنوی عہد میں جب ہندوستان میں اسلامی دعوت اور سیاسی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوا تو حضرت سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ بھی اس کارِ عظیم میں شریک ہوئے۔ مختلف تاریخی روایات کے مطابق آپ ہندوستان کے متعدد علاقوں میں قیام پذیر رہے اور اسلامی دعوت و تبلیغ کے فروغ میں حصہ لیا۔
جب سلطان محمود غزنوی کے حکم کے تحت نویں ذی الحجہ 401 ہجری کو سالار ساہو و سالار زنگی لشکر آراستہ کرکے غزنی سے قندھار ہوتے ہوئے اجمیر کی طرف متوجہ ہوئے، بادشاہ اس زمانے میں غزنی سے قندھار آیا تھا اور وہ ہر چہار اشخاص شتر سوار جو مظفر خان کے پاس آئے تھے ان کو رہبر بنا کر برائے ٹھٹہ اجمیر کی طرف روانہ کیا، منزل بہ منزل طے کر کے جب ایک شبانہ روز کی راہ باقی رہ گئی اس شتر سواروں میں بیشتر کو برائے خبر بھیج دیا اور خود بر لبِ آب قیام کیا، ایک شخص مصاحبانِ سالار ساہو میں سے آ کر عرض کی کہ پہاڑ پر درخت کے نیچے ایک فقیر خدا ترس بیٹھا ہوا ہے وہ آپ کے حالات بصد خلوص پوچھ رہے تھے، میرا مشورہ ہے کہ فوراً ملاقات کر لیجیے۔ سالار ساہو نہایت خلوص اور آرزو سے فقیر کی خدمت میں گئے فوراً فقیر نے فرمایا کہ آؤ سالار ساہو! آدابِ خدمت بجا لاکر بیٹھے، فقیر نے فرمایا کہ اس سفر میں تم کو دو نعمتیں حاصل ہوں گی ایک کافروں سے فتح یابی دوسری فرزندِ نرینہ۔ ایک ٹب پانی سے بھرا فقیر کے آگے رکھا تھا فقیر نے سالار ساہو کو اشارہ کیا کہ اس پانی سے تازہ وضو بناؤ اور دو رکعت نمازِ نفل ادا کرو ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ 11 مرتبہ، سورۂ نصر (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ) آخر تک پڑھو اور بعد سلام پھیرنے کے سات مرتبہ درود شریف پڑھ کر حق تعالیٰ سے حاجت چاہو، سجدہ میں (سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّنَا)، پھر تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر حق تعالیٰ سے حاجت چاہو ان شاء اللہ تعالیٰ فرزندِ سعید و اقبال مند پیدا ہوگا۔ اسی بزرگ کی دعا سے سید الہند سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت اجمیر معلیٰ میں ہوئی۔ [تاریخ سید سالار مسعود غازی]
بارہ بنکی کے قدیم قصبہ سترکھ کو آپ سے خاص نسبت حاصل ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق یہ مقام آپ کی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھا اور بعد میں آپ کا مزار بھی یہیں مرجعِ خلائق بنا۔ [مرآت مسعودی]
حضرت سالار ساہو کی کاہلیر کے لیے روانگی
حضرت سالار ساہو علیہ الرحمہ دس سال سے اطمینان سے اجمیر شریف میں مقیم تھے ہر طرف امن و امان کا ماحول تھا کہ اچانک ایک دن حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کی طرف سے ایک شہسوار قاصد آیا اور اس نے ایک خط آپ کو پیش کیا۔ خط میں حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ نے لکھا تھا کہ ہندوستان سے قلعہ کاہلیر کے گورنر ملک چھجو (اصل نام علی بن قدر راجوق ہے) کا خط آیا ہے کچھ لٹیروں اور سرکشوں نے اکٹھا ہوکر کاہلیر کے امن و امان کو برباد کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے اور مدد طلب کی ہے لہٰذا میں تو اس وقت خراسان کی مہم میں مصروف ہوں آپ آدھا لشکر اجمیر شریف میں چھوڑ کر اور آدھا لشکر لے کر کاہلیر جائیں اور ان مفسدوں اور شریروں کو سزا دیں۔ چنانچہ سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کے حکم کے مطابق حضرت سالار ساہو علیہ الرحمہ نے ابراہیم علیہ الرحمہ، مظفر خان اور چند دوسرے ارکانِ حکومت کو نیز سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ اور ان کی والدہ ماجدہ کو آدھے لشکر کے ساتھ اجمیر شریف میں چھوڑا اور آدھا لشکر اپنے ساتھ لے کر کاہلیر کی جانب روانہ ہو گئے۔ اگرچہ آپ نے کاہلیر پہنچنے میں بہت جلدی کی لیکن آپ کے پہنچنے سے پہلے ہی لٹیروں اور شریروں نے کاہلیر کو لوٹ مار کر اپنا راستہ لیا۔ مگر حضرت سالار ساہو علیہ الرحمہ نے ان لٹیروں کا پیچھا کیا اور انہیں راستہ میں جا کر گھیر لیا۔ دن بھر کی سخت جنگ کے بعد انہیں شکست دی ہزاروں لٹیرے قتل ہوئے اور ہزاروں گرفتار ہوئے۔ آپ کے آ جانے سے کاہلیر کے گورنر کو اطمینان و سکون نصیب ہوا اور جب کاہلیر میں امن و امان بحال ہو گیا تو حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کو آپ نے اطلاع دی کہ اب کاہلیر کے حالات پر امن ہیں، حضرت سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ نے آپ کو انعام و اکرام سے نوازتے ہوئے کاہلیر کی جاگیر بھی آپ کو عطا کر دی۔ اب حضرت سالار ساہو کاہلیر میں مقیم ہو گئے اور اجمیر شریف اپنے اہلِ عیال کو کاہلیر آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ اپنی والدہ ماجدہ کو لے کر چند ہزار لشکر کے ساتھ اجمیر شریف سے کاہلیر کے لیے روانہ ہو گئے۔
سفر کے مصائب برداشت کرتے ہوئے آپ کاہلیر کی جانب سفر فرما رہے تھے راستہ میں راولپنڈی کے قریب ایک جگہ قیام فرما تھے کہ اس علاقہ کے دو بڑے مشہور زمیندار جو آپس میں سگے بھائی تھے جن میں سے ایک کا نام شیوکن اور دوسرے کا نام بشنو تھا اور یہ دونوں بھائی سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کے وزیر خواجہ احمد بن حسن میمندی کے سگے سالے بھی تھے، حاضرِ خدمت ہوئے اور عرض کیا ہم غلاموں کی دعوت قبول فرمائیں۔ چونکہ سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کو علم تھا کہ خواجہ احمد بن حسن میمندی وزیر، میرے والد ماجد حضرت سالار ساہو اور مجھ سے نیز میرے متعلقین سے سخت نفرت و عداوت رکھتا ہے اور دونوں بھائی اس کے سگے سالے ہیں ایسا نہ ہو کہ کسی سازش کے تحت یہ لوگ دعوت کے بہانے ہمیں کوئی تکلیف پہنچائیں۔ آپ نے حسنِ تدبیر سے دعوت مسترد کر دی ان دونوں نے کہا کہ اگر دعوت منظور نہیں تو ہم کچھ سامان یعنی آٹا چاول وغیرہ آپ کے باورچی خانہ میں بھجوا دیں اسے قبول فرما لیں۔ آپ نے اس سے بھی انکار فرما دیا۔ پھر صبح کو روانگی سے پہلے شیوکن دو سو من عمدہ قسم کی مٹھائی بنوا کر اور اس میں زہر ملا کر آپ کے باورچی خانہ میں بھجوا دیا آپ نے انکار نہ فرماتے ہوئے شیوکن کو انعام و اکرام دے کر رخصت کر دیا۔ چونکہ آپ مادر زاد ولی ہیں اپنی نگاہِ ولایت سے آپ نے دیکھ لیا کہ شیوکن نے اس مٹھائی میں زہر ملایا ہے لہٰذا اس وقت باورچی خانہ کے داروغہ جس کا نام کلول تھا بلا کر تاکید فرمائی کہ برادر اس مٹھائی کو کسی کو مت دینا، اگلی منزل پر پہنچ کر آپ نے ملک نیک بخت سے مٹھائی طلب فرمائی شکاری کتوں میں سے ایک کتے کو مٹھائی کھلائی وہ مر گیا۔ آپ نے فرمایا شیوکن نے ہمیں دھوکہ دے کر ہلاک کرنا چاہا تھا اسے اس کی سزا ضرور دی جائے گی۔
چنانچہ رات میں آرام کرنے کے بعد صبح چند ہزار سوار کو لے کر شکار کے لیے نکلے اور راول کے قریب آ کر چند جاسوسوں کو شیوکن کی خبر لانے کے لیے مقرر کیا کچھ دیر بعد جاسوسوں نے آ کر خبر دی کہ شیوکن فلاں جگہ ہے آپ نے فوراً اس جگہ کا محاصرہ کر لیا۔ شیوکن بجائے اپنی غلطی پر نادم ہونے کے بڑی دلیری سے آپ کے مقابلہ پر آ گیا لیکن تھوڑی ہی دیر کی معرکہ آرائی کے بعد شیوکن مع اپنے اہلِ عیال کے گرفتار ہو گیا اور اس کے تمامی ساتھی تتر بتر ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کا دس سال کی عمر میں یہ پہلا کامیاب معرکہ تھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو انعام و اکرام سے نوازا اور اس کی اس شرارت کی تفصیلی داستان لکھ کر قاصد کے ذریعہ سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کے پاس بھیج دی اور خود کاہلیر کی جانب روانہ ہو گئے رائے شیوکن کا بھائی بشنو کسی صورت سے جان بچا کر سیدھے غزنی پہنچا اور حضرت سلطان محمود علیہ الرحمہ کے وزیر خواجہ احمد بن حسن میمندی کے ذریعہ دربارِ سلطانی میں جھوٹی شکایت پیش کی کہ آپ کے بھانجے سید سالار مسعود غازی نے بے قصور ہمارا سارا شہر اور گھر بار لوٹ لیا ہے اور ہمارے بھائی شیوکن مع اہلِ عیال کے قید کر لیا ہے۔
سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ حیرت زدہ تھے انہیں یقین تھا کہ ان کے بھانجے سالار مسعود ایسا نہیں کر سکتے ابھی سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ اسی سوچ میں تھے کہ سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کا بھیجا ہوا قاصد دربار میں حاضر ہوا اور سرکار غازی علیہ الرحمہ کا خط پیش کیا۔ سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ نے خط پڑھا اطمینان ہو گیا، اسی وقت جواب لکھا کہ ابھی اسی وقت شیوکن کا بھائی بشنو دربار میں آیا اور غلط طریقہ پر تمہاری شکایت کی اور دربار میں رنگ جمانا چاہا لیکن تمہارے خط سے حقیقت واضح ہو گئی اب جب تم شیوکن اور اس کے اہلِ عیال کو لے کر یہاں آؤ گے اس وقت فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ جواب لکھ کر اسی وقت قاصد کے حوالے کیا اور قاصد کو آپ کے پاس روانہ کر دیا۔ خواجہ احمد بن حسن میمندی کو یقین تھا کہ میرے سالے بشنو کی شکایت اور میری سفارش پر سلطان یقین کر لیں گے اور اسی وقت حضرت سالار مسعود غازی کے خلاف کوئی فیصلہ صادر فرمائیں گے لیکن سلطان محمود غزنوی علیہ الرحمہ کے اس سنجیدہ اور انصاف پسند رویہ سے خواجہ احمد بن حسن میمندی کو بڑی تکلیف پہنچی اور انتہائی مایوسی ہوئی۔ [تاریخ غازیان بہرائچ]
وصال
حضرت سیدنا سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال تاریخی روایات کے مطابق سترکھ (ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش) میں ہوا۔ آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کی یاد اور خدمات لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں اور آپ کا مزار عقیدت مندوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ کے وصال کے بعد حالات میں تبدیلی پیدا ہوئی اور مختلف علاقوں میں شورشیں برپا ہوئیں جن کا سامنا بعد میں حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کو کرنا پڑا۔ [سید سالار مسعود غازی]
اولادِ امجاد
حضرت سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سب سے زیادہ شہرت آپ کے فرزندِ ارجمند حضرت سید سالار مسعود غازی رحمۃ اللہ علیہ کو حاصل ہوئی، جنہیں “غازی میاں” اور “سلطان الشہداء فی الہند” کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے کم عمری میں دینِ اسلام کی تبلیغ، جہاد اور خدمتِ خلق کے میدان میں عظیم کارنامے انجام دیے اور بہرائچ میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ [مرآت مسعودی]
تاریخی ماخذوں میں دیگر اولاد کا ذکر محدود ملتا ہے، تاہم سالاری سادات کے متعدد خاندان اپنے سلسلہ نسب کو حضرت سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ سے جوڑتے ہیں۔
روحانی مقام
حضرت سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ کو عوام و خواص میں ایک مجاہدِ اسلام، بزرگِ دین اور اہلِ بیتِ اطہار کے چشم و چراغ کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ صبر، استقامت، شجاعت اور خدمتِ دین کا روشن نمونہ ہے۔ آپ کے فیوض و برکات کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور عقیدت مند آپ کے مزار پر حاضری دے کر دعائیں مانگتے ہیں۔ [حالات سید سالار مسعود غازی]
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سید سالار ساہو غازی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کی اسلامی تاریخ کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ آپ نے نہ صرف دینِ اسلام کی خدمت کی بلکہ ایک ایسے فرزند کی تربیت بھی فرمائی جو بعد میں ہندوستان کی اسلامی تاریخ کا روشن باب بن گیا۔ آپ کی زندگی ہمیں دین کی خدمت، اخلاص، قربانی اور استقامت کا درس دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مراجع و مصادر
-
مرآتِ مسعودی
-
آئینہ مسعودی
-
تاریخ سید سالار مسعود غازی
-
عبدالحق محدث دہلوی
-
محمد قاسم فرشتہ
-
تاریخ غازیان بہرائچ
