Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقریب فتاوی شارح بخاری جلد اول|محمد احمد مصباحی

تقریب (فتاوی شارح بخاری جلد اول)
عنوان: تقریب (فتاوی شارح بخاری جلد اول)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: ثمن فردوس امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تقریب (فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد اول)

فقیہِ اجل، شارحِ بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ علوم و فنون کی جامعیت اور گونا گوں علمی و اخلاقی محاسن و کمالات کے ساتھ حسنِ استحضار، سرعتِ اخذ اور سرعتِ تحریر میں یکتائے روزگار تھے۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ کے آخری دورِ حیات میں ان سے فقہی استفادہ اور مشقِ افتا کی سعادت پائی اور باضابطہ فتویٰ نویسی کا کام دار العلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف کے زمانۂ تدریس میں سرکارِ مفتیِ اعظم مرشدِ نام علامہ شاہ مصطفیٰ رضا خاں قادری نوری قدس سرہ کی سرپرستی و نگرانی میں شروع کیا اور وہاں تقریباً 25 ہزار فتاویٰ ان کے قلم سے صادر ہوئے۔ پھر جب 1396ھ / 1976ء کے اواخر میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور تشریف لائے تو یہاں تدریس آپ سے متعلق نہ تھی، صرف کارِ افتا سپرد تھا جسے آپ نے پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا، تادمِ آخر یہ سلسلہ جاری رہا اور قریبی ساٹھ ہزار فتاویٰ تحریر میں آئے۔

جوابات کو ٹالنا پسند نہ تھا، وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ لوگ جائز و ناجائز، حلال و حرام کام اپنے عمل کے لیے پوچھتے ہیں، اگر بروقت انھیں حل نہ بتایا جائے تو عمل کیسے کریں گے؟ ہماری ذمہ داری ہوتی ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے مستفتی کو حکمِ مسئلہ سے باخبر کر دیں۔ سوالات اتنی کثرت سے آتے تھے کہ سب تنہا نپٹانا ممکن نہ تھا، اس لیے متعدد حضرات نائب و معاون کی حیثیت سے مقرر ہوئے، پھر بھی زیادہ فتاویٰ آپ ہی کے حصے میں آتے تھے۔ سرعتِ عمل اور استحضار کا عالم یہ تھا کہ استفتا پڑھا گیا اور برجستہ جواب لکھانا شروع کر دیا—مختصر، جامع اور شافی جواب۔ چونکہ سوالات بہت زیادہ جمع ہو جاتے تھے، اس لیے زیادہ جزئیات اور دلائل لکھانے سے گریز کرتے اور فرماتے کہ سائل کو جلد سے جلد حکم معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ وہ عمل کر سکے، دلائل اس کے اطمینان و تشفی کے لیے ہوتے ہیں، اگر وہ مفتی پر اعتماد رکھتا ہے تو زیادہ دلائل کی جستجو میں بھی نہ پڑے گا اور حکم معلوم کر کے عمل شروع کر دے گا۔ تاہم غایتِ اختصار کے باوجود ایک دو جزئیہ یا مفہومِ عبارت بتا کر کتاب کا حوالہ، یا حسبِ حال کوئی آیت یا حدیث پیش کر دینا معمول میں داخل تھا؛ ایسا بہت کم ہوتا کہ بس نفسِ حکم بیان ہو اور کوئی حوالہ یا دلیل کی جانب اشارہ بالکل نہ ہو۔

حضرت کے بعض فتاویٰ کی اشاعت تو ان کے دورِ حیات ہی میں ہوتی رہتی تھی مگر باضابطہ سب کی ترتیب، کتابت، اصل سے مقابلہ، تصحیح وغیرہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ حضرت کے لائق فرزندوں کو برابر اس کی فکر دامن گیر رہی اور آج بھی ہے کہ والدِ ماجد کے رشحاتِ قلم کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور سب کو ان سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جائے۔ یہ فکر تو ہم تمام وابستگانِ دامن کو ہنی چاہیے اور ہے، مگر پیش قدمی اور عملی حصہ لینا، کثیر مصروفیات اور موانع کے باعث اکثر کے بس سے باہر ہے۔ میں نے ایک زمانے میں تحقیقِ فقہ کے کچھ طلبہ کو اس پر مامور کیا کہ حضرت کے فتاویٰ کی فوٹو کاپی لے کر ان کو فقہی ابواب کے مطابق مرتب کریں اور حوالے کی عبارتیں اصل کتابوں سے ملائیں؛ بہت سارا کام انھوں نے کیا بھی مگر وہ نامکمل رہا اور نہ زیادہ اطمینان بخش۔ اس سے دلچسپی مولانا مفتی محمد نسیم مصباحی استاذ جامعہ اشرفیہ کو زیادہ تھی، یہ برسوں حضرت کی تربیت میں رہے اور ان کے انداز و طریقِ کار سے بخوبی واقف بھی تھے، اس لیے وہ اس کام سے لگے رہے۔ دار العلوم مظہرِ اسلام بریلی شریف کے فتاویٰ کی اصل یا نقل تو نہ مل سکی مگر جامعہ اشرفیہ کے فتاویٰ محفوظ تھے، وہی اتنے زیادہ معلوم ہو رہے ہیں کہ قابو میں لانا مشکل ہو گیا ہے۔

مفتی محمد نسیم صاحب نے یہاں حضرت کے فتاویٰ رجسٹروں سے صرف عقائد سے متعلق فتاویٰ کو الگ کیا تو تین جلدیں بنیں، ان میں ہر جلد تقریباً چھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اندازہ ہے کہ بقیہ ابواب سے متعلق کم از کم دس جلدیں مزید ہوں گی، ان میں بھی بہت کچھ تخفیف کی گئی ہے۔

مولانا موصوف نے ایک بار مجھ سے ذکر کیا تھا کہ مکرر فتاویٰ بھی بہت ہیں مثلاً طلاق سے متعلق فتاویٰ؛ واقعات الگ الگ ہیں مگر بنیادی سوال ایک ہی ہے اور جواب کا بنیادی مضمون بھی ایک ہی ہے؛ بعض دیگر عنوانات بھی ایسے ہیں جن سے متعلق سوالات مختلف اوقات میں مختلف مقامات سے آئے اور سب کے جوابات دیے گئے، کبھی مفصل، کبھی مختصر، کبھی متوسط۔ میں نے یہ رائے دی کہ جو جوابات تقریباً ایک ہی مضمون پر مشتمل ہیں ان میں سے کوئی ایک لے لیں؛ اگر چند سوال و جوابات لے لیے جائیں تو ایسے ہوں کہ ہر ایک میں کوئی نئی بات، کوئی نیا گوشہ یا نیا انداز ہو، اور بعض عنوانات ایسے ہوں گے کہ ان کے تحت کوئی ایک تفصیلی جواب لے لیا جائے تو کافی ہو گا۔ یہ میری رائے تھی، اب معلوم نہیں کہ انھوں نے اس پر کہاں تک عمل کیا مگر اندازہ ہے کچھ نہ کچھ تخفیف ضرور کی ہو گی۔

بہرحال حضرت کے فرزندانِ گرامی مولانا ڈاکٹر محب الحق رضوی، مولانا حافظ حمید الحق برکاتی، محترم وحید الحق، ظہیر الحق برکاتی اور دیگر اقارب و متعلقین کا یہ جذبہ قابلِ ستائش ہے کہ وہ حضرت کا علمی ورثہ ساری امت میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے حسبِ مقدور کوشش بھی کر رہے ہیں، خصوصاً ڈاکٹر صاحب اور مولانا حمید الحق صاحب اس سلسلے میں برابر فکر مند اور متحرک رہتے ہیں؛ مگر اصل کاوش مرتب یعنی مفتی محمد نسیم صاحب کی ہے، اگر ایسے چند افراد اس مہم میں شریک ہوتے تو نتیجہ جلد سامنے آتا مگر کام خالص علمی، فقہی اور بہت محنت طلب ہے اس لیے زیادہ افراد کا ملنا بھی مشکل ہے۔ خدا کرے مزید تیزی اور عمدگی کی کوئی مناسب اور بہتر صورت نکل آئے۔

جن حضرات نے بھی اس علمی سرمایے کو منظرِ عام پر لانے میں کسی طرح کا کوئی حصہ لیا ہے وہ ہمارے اور سبھی قارئین کے شکریے کے مستحق ہیں، میں سب سے واقف نہیں مگر ربِ کریم کے یہاں اچھی نیت اور نیک عمل کا صلہ فضلہ و کرمہ تعالیٰ ضرور ملتا ہے۔ وہ علیم و خبیر ہے، سب کو اپنے بے کراں فضل و انعام سے نوازے اور اس بڑے کام کی جلد از جلد تکمیل کے لیے پردۂ غیب سے بہتر اسباب مہیا فرمائے۔

محمد احمد مصباحی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!