Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

شارح بخاری ایک گلدستۂ محاسن| محمد احمد مصباحی

شارح بخاری ایک گلدستۂ محاسن
عنوان: شارح بخاری ایک گلدستۂ محاسن
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: عالمہ نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حضرت شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی (ولادت ۱۱ شعبان ۱۳۳۹ھ / ۲۰ اپریل ۱۹۲۱ء، وفات ۶ صفر ۱۴۲۱ھ مطابق ۱۱ مئی ۲۰۰۰ء) ایک عہد کے امین اور ایک تاریخ کے عینی شاہد تھے۔ انھوں نے جب سن شعور میں قدم رکھا تو یہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے خلفا اور تلامذہ کی قیادت کا دور تھا۔ انھوں نے صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمی، صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی، حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان بریلوی علیہم الرحمہ کو قریب سے دیکھا اور صدر الشریعہ سے فتویٰ نویسی کی مشق بھی کی، حافظ ملت مولانا عبد العزیز مراد آبادی سے دار العلوم اشرفیہ مبارک پور میں منتہی کتابوں کا درس لیا۔ صدر العالم مولانا سید غلام جیلانی علی گڑھی ثم میرٹھی سے بھی میرٹھ میں بعض کتابیں پڑھیں اور محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد لائل پوری علیہ الرحمہ سے دار العلوم مظہر اسلام بریلی شریف میں ایک سال کتب حدیث کا درس حاصل کر کے شعبان ۱۳۶۲ھ میں سند فضیلت پائی۔

متعدد مدارس میں انھوں نے ایک کامیاب استاذ کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں لیکن ان کا زیادہ تابناک زمانہ تدریس وہ ہے جو ۱۳۷۵ھ سے ۱۳۸۶ھ تک مظہر اسلام بریلی شریف میں گزرا۔ وہاں ان سے علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی، مولانا مفتی مجیب اشرف اعظمی بانی و مہتمم دار العلوم امجدیہ ناگ پور، مفتی عبید الرحمن رشیدی سجادہ نشین خانقاہ رشیدیہ جون پور جیسے ارشد تلامذہ نے درس لیا اور وہیں ۱۳۷۸ھ میں حضرت مفتی اعظم قدس سرہ نے انھیں رضوی دار الافتاء کا باضابطہ مفتی مقرر کیا۔ جہاں تقریبا پچیس ہزار فتاویٰ ان کے قلم سے صادر ہوئے پھر جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں ذی الحجہ ۱۳۹۶ھ سے آخری حیات (چوبیس سال) تک وہ تدریس افتاء کے بجائے صرف افتاء، اصلاح فتاویٰ اور تربیت فتاویٰ کی خدمات سے وابستہ رہے۔ ان کی علمی وجاہت اور معتمد شخصیت کے باعث اطراف ہند کی طرح، اکناف عالم سے بھی ان کے پاس سوالات آتے اور ان کی پوری کوشش یہ ہوتی کہ سائلین کو جوابات جلد سے جلد بھیج دیے جائیں۔ اندازہ ہے کہ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور میں انھوں نے پچاس ہزار سے زیادہ فتاویٰ صادر فرمائے اس لحاظ سے وہ بلا شبہ سب سے عظیم مرجع فتاویٰ تھے۔

قرطاس و قلم سے ان کا شغف عہد طالب علمی ہی سے تھا۔ دبدبہ سکندری وغیرہ میں ان کے مضامین منظر عام پر آتے رہتے تھے۔ لیکن جہاں تک مجھے علم ہے کتابی شکل میں ان کی پہلی کاوش “اشک رواں” کے نام سے ربیع الاول ۱۳۶۴ھ میں شائع ہوئی۔ جو ان کی تحریری صلاحیت کے ساتھ علمی، دینی اور سیاسی بصیرت و ژرف نگاہی کی بھی آئینہ دار ہے۔ یہ ان کی فراغت کے صرف دو سال بعد کی تصنیف ہے جسے ان کے اساتذہ اور اساتذہ کے اساتذہ نے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ اگرچہ اکثر حضرات کو اس کے سیاسی موقف سے اتفاق نہ تھا مگر مصنف نے اس خطرناک اور پیچیدہ موضوع کو جوش شباب کے باوجود اکابر کے ادب و احترام کے ساتھ جس خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا ہے وہ بہر حال قابل تحسین اور آج ہمارے لیے قابل تقلید ہے۔

مختلف دینی و علمی موضوعات کو انھوں نے عنوان قلم بنایا اور جس موضوع پر لکھا اس کا حق ادا کر دیا۔ پہلی بار جب خلا بازوں کے چاند پر پہنچنے کی خبر نشر ہوئی تو مذہبی حلقوں میں ایک شور برپا ہو گیا۔ مفتی صاحب نے اس موضوع پر ایک مختصر مضمون نوری کرن بریلی میں شائع کرایا جس میں یہ ثابت کیا کہ چاند، سورج اور تمام ستارے آسمان کے نیچے ہیں اور انسان کے لیے چاند تک پہنچنا ممکن ہے۔ اس مضمون کی تردید بھی کی گئی جس کے بعد انھوں نے ایک مبسوط کتاب کی ضرورت محسوس کی اور “اسلام اور چاند کا سفر” لکھ کر شائع کیا۔

ضبط تولید اور نس بندی کا مسئلہ سامنے آیا تو اس کی حرمت پر انھوں نے ایک قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہوئے اپنا مضمون شائع کیا۔ ارض مقدس میں یہودی حکومت کے قیام سے لوگوں میں شکوک و شبہات پھیلے تو ایک تحقیقی مضمون “ارض مقدس اور یہودی تغلب” لکھ کر انھوں نے ازالہ شبہات کی جانب توجہ فرمائی۔ “خلافت معاویہ و یزید” نامی کتاب منظر عام پر آئی جس میں یزید کو خلیفہ برحق دکھانے کی ناروا جسارت کی گئی تو اس موضوع پر بھی حضرت مفتی صاحب کا لاجواب مضمون پاسبان الہ آباد میں شائع ہوا جسے پڑھ کر میں پہلی بار حضرت کی علمی جلالت سے روشناس ہوا۔ سیرت نبوی کا سلسلہ بھی انھوں نے شروع کیا تھا مگر صرف مقدمہ اور ابتدائی حصہ ہی رقم ہو سکا اور مبارک پور پہنچنے کے بعد شرح بخاری کا کام شروع ہو گیا جو بعونہ تعالی مکمل ہوا اور حضرت کی قلمی خدمات کا شاہ کار قرار پایا۔

دعوت و اصلاح اور تقریر و خطابت سے بھی ان کا رشتہ دور طالب علمی سے ہی قائم رہا اور ملک کے طول و عرض میں ان کی تقریروں نے اپنا اثر دکھایا۔ وہ جو بیان فرماتے دلیل کے ساتھ بیان فرماتے اور انداز ایسا عام فہم اور دل نشیں ہوتا کہ سامع متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ تفہیم و تاثیر کا عنصر ان کی تحریروں میں بھی بخوبی نمایاں ہے۔ مختصر الفاظ میں مدلل طور پر اپنے موقف کو دل و دماغ میں اتار دینا ان کا خاص کمال ہے جو ان کی تقریر و تحریر کے ساتھ تدریس اور مجلسی باتوں میں بھی عیاں تھا۔ فن مناظرہ، حاضر جوابی اور مخالف کو جلد سے جلد سرنگوں کرنے میں بھی وہ یکتائے روزگار تھے۔ اس کا نمونہ ان کی تحریروں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

حضرت صدر الشریعہ اعظمی سے بیعت و خلافت اور کتب حدیث کی اجازت حاصل تھی۔ حضرت مفتی اعظم قدس سرہ نے جملہ سلاسل طریقت کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ احسن العلما مولانا سید مصطفی حیدر حسن میاں مارہروی علیہ الرحمہ نے بھی خلافت سے نوازا تھا۔ جس کے بعد بہت سے افراد حضرت مفتی صاحب سے بیعت ہوئے اور بہت سے جید اور جلیل القدر علما نے ان سے احادیث کی اجازت لی اور بہت سے علماء خلافت سے بھی سرفراز ہوئے۔

وہ تعلیمی اور انتظامی امور میں بھی بڑی مہارت رکھتے تھے اس لیے جامعہ اشرفیہ کے ارباب حل و عقد ان کے مشوروں سے ہمیشہ استفادہ کرتے رہے، خصوصاً اخیر دور میں جب کہ وہ جامعہ کی انتظامیہ کے رکن اور ناظم تعلیمات ہو چکے تھے تعلیمی و انتظامی امور میں ان کا مشورہ ضروری تھا۔ انھوں نے ایک حساس اور دردمند دل پایا تھا اس لیے ہر پہلو پر سنجیدگی، دور بینی اور اخلاص کے ساتھ غور کرتے اور مشورہ طلب کیے بغیر بھی ایک معمر اور شفیق مربی کی طرح ہدایت و نصیحت فرماتے رہتے۔

قومی و ملی ضروریات پر بھی ان کی نظر تھی اور اس سلسلے میں وہ برابر ہدایت دیتے رہتے۔ “مجلس شرعی” کے مذاکرات میں بھی وہ سرگرم حصہ لیتے۔ فقہی مباحث تو ان کی خاص جولان گاہ تھے اس لیے وہ مجلس کے سرپرست بھی نامزد ہوئے لیکن اس سے ان کی دل چسپی اس لیے بھی تھی کہ اس کا قیام نئے مسائل کے حل اور نئی صورت حال میں مسلمانوں کی دینی و علمی رہنمائی کے لیے عمل میں آیا اس کی کار کردگی جس قدر بہتر ہوگی مسلمانوں کے مسائل کا حل بھی اتنا ہی جلد ہوگا۔

بہت سے اداروں کے وہ معتمد اور سر پرست بھی تھے جہاں ان کے اثر و رسوخ اور اخلاص و دردمندی کے باعث پیچیدہ مسائل اور دشواریوں کے حل میں بڑی آسانیاں تھیں، افسوس کہ حضرت کی رحلت سے ان کے تلامذہ اور وابستہ علماء و طلبہ کی طرح یہ ادارے بھی یتیم ہو گئے۔ مولیٰ تعالیٰ موصوف کو اپنی بے کراں رحمتوں کے سایے میں جگہ دے اور ان کے متعلقین کو صبر و شکیب اور ثبات و استقامت سے نوازے۔ آمین [مقالات مصباحی، ص: 422 تا 424]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!