| عنوان: | بد مذہبوں سے میل جول کا شرعی حکم (قسط: دوم) |
|---|---|
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
بد مذہبوں سے میل جول
ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تا بہ کجا
(راستے کا تفاوت دیکھ، کہاں سے کہاں تک ہے۔)
ان تمام مقاصد اور ان سے بہت زائد کی تفصیل فقیر کے رسائل: سل السیوف و کوکبہ شہابیہ و سبحان السبوح و فتاویٰ الحرمین و حسام الحرمین و تمہید ایمان و انباء المصطفیٰ و خالص الاعتقاد و قصیدۃ الاستمداد اور اس کی شرح کشف ضلال دیوبندیہ وغیرہا کثیرہ شہیرہ، حافلہ کافلہ شافعہ وافیہ، قالعہ قامعہ میں ہے، والحمد للہ!
ان کے پیچھے اقتدا باطل محض ہے:
كَمَا حَقَّقْنَاهُ فِي النَّهْيِ الْاَكِيْدِ
(جیسا کہ ہم نے النہی الاکید میں اس پر تفصیلاً گفتگو کی ہے۔) ان سب کی کتب کا مطالعہ حرام ہے، مگر عالم کو بغرضِ رد۔ ان سے میل جول قطعی حرام، ان سے سلام و کلام حرام، انہیں پاس بٹھانا حرام، ان کے پاس بیٹھنا حرام، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت حرام، مرجائیں تو مسلمانوں کا سا انہیں غسل و کفن دینا حرام، ان کا جنازہ اٹھانا حرام، ان پر نماز پڑھنا حرام، انہیں مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام، ان کی قبر پر جانا حرام، انہیں ایصال ثواب کرنا حرام مثلِ نمازِ جنازہ کفر۔
قال اللہ تعالیٰ:
وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ
اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
اور فرماتا ہے:
وَلَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ
اور نہ میل کرو ظالموں کی طرف کہ تمہیں دوزخ کی آگ چھوئے گی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
فَاِيَّاكُمْ وَاِيَّاهُمْ لَا يُضِلُّوْنَكُمْ وَلَا يَفْتِنُوْنَكُمْ
ان سے دور بھاگو، اور انہیں اپنے سے دور کرو۔ کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں، وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
دوسری حدیث میں ہے:
لَا تُجَالِسُوْهُمْ وَلَا تُؤَاكِلُوْهُمْ وَلَا تُشَارِبُوْهُمْ وَاِذَا مَرِضُوْا فَلَا تَعُوْدُوْهُمْ وَاِذَا مَاتُوْا فَلَا تَشْهَدُوْهُمْ وَلَا تُصَلُّوْا عَلَيْهِمْ وَلَا تُصَلُّوْا مَعَهُمْ
ترجمہ: نہ ان کے پاس بیٹھو، نہ ان کے ساتھ کھانا کھاؤ، نہ ان کے ساتھ پیو، بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، مر جائیں تو ان کے جنازہ پر نہ جاؤ، نہ ان پر نماز پڑھو، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔
رب عزوجل فرماتا ہے:
وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ
ترجمہ: ان میں کبھی کسی کے جنازہ کی نماز نہ پڑھنا، نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا۔
جو ان کے اقوال پر مطلع ہو کر ان سے محبت رکھے، وہ انہی کی طرح کافر ہے۔
قال تعالیٰ:
وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ
ترجمہ: تم میں سے جو ان سے دوستی رکھے، وہ بے شک انہی میں سے ہے۔ اور اس کا حشر انہی کافروں کے ساتھ ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مَنْ اَحَبَّ قَوْمًا حَشَرَهُ اللّٰهُ فِيْ زُمْرَتِهِمْ
ترجمہ: جو کسی قوم سے محبت رکھے گا، اللہ تعالیٰ اسی قوم کے ساتھ اس کا حشر کرے گا۔
اور فرماتے ہیں:
مَنْ هَوِيَ الْكَفَرَةَ فَهُوَ مَعَ الْكَفَرَةِ
ترجمہ: جو کافروں سے محبت رکھے گا، وہ انہی کے ساتھ ہوگا۔
اور جو ان کو عالمِ دین یا پیرِ سنت سمجھے، قطعاً کافر و مرتد ہے۔
شِفَاءِ اِمَام قَاضِيْ عِيَاض، ذَخِيْرَةُ الْعُقْبٰی، بَحْرُ الرَّائِق، مَجْمَعُ الْاَنْهُر، فَتَاوٰی بَزَّازِيَّة اور دُرِّ مُخْتَار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے:
مَنْ شَكَّ فِيْ عَذَابِهٖ وَكُفْرِهٖ فَقَدْ كَفَرَ
ترجمہ: جو ان کے کفر میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔ جب ان کو مسلمان سمجھنا درکنار، ان کے کفر میں شک کرنا موجبِ کفر ہے، تو معاذ اللہ انہیں عالمِ دین یا پیرِ سنت سمجھنا کس قدر اخبث کفر ہوگا۔
وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيْنَ
(اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔)
اللہ عزوجل سب خُبَثَاء کے شر سے پناہ دے، اور مسلمان بھائیوں کی آنکھیں کھولے اور دوست دشمن پہچاننے کی تمیز دے۔ ارے کس کے دوست دشمن؟ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست و دشمن، افسوس افسوس ہزار افسوس کہ آدمی اپنے دوست دشمن کو پہچانے، اپنے دشمن کے سایہ سے بھاگے، اس کی صورت دیکھ کر آنکھوں میں خون اترے، اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں، ان کے بدگویوں، انہیں گالیاں لکھ کر شائع کرنے والوں اور ان خبیثوں کے ہم مذہبوں ہم پیالوں سے میل جول رکھے۔
کیا قیامت نہ آئے گی، کیا حشر نہ ہوگا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ دکھانا نہیں، کیا ان کے آگے شفاعت کے لیے ہاتھ پھیلانا نہیں! مسلمانو! اللہ سے ڈرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا کرو۔ اللہ عزوجل توفیق دے، آمین: واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 90-91، رضا اکیڈمی ممبئی] [فتاوی رضویہ، ج: 14، ص: 402-404، جامعہ نظامیہ لاہور]
-
امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے روافض سے متعلق رقم فرمایا: “روافضِ زمانہ علی العموم مرتد ہیں:
كَمَا بَيَّنَّاهُ فِيْ رَدِّ الرَّفْضَةِ
ان سے کوئی معاملہ اہلِ اسلام کا سا کرنا حلال نہیں۔ ان سے میل جول، نشست و برخاست، سلام کلام سب حرام ہے۔” [فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 94، رضا اکیڈمی ممبئی]
عہدِ حاضر کے روافض کے بنیادی عقائد میں کفریاتِ کلامیہ ہیں تو ان کو مرتد یعنی کافر کلامی کہا گیا۔ یہ ممکن ہے کہ اس فرقہ کا کوئی فرد کافر کلامی نہ ہو۔ وہ اس فرقہ کے کفریاتِ کلامیہ کو نہ مانتا ہو، اور کفریاتِ کلامیہ والے کو کافر کلامی بھی مانتا ہو، یا کوئی فرد اس جماعت کے کفریاتِ فقہیہ کو بھی نہیں مانتا ہو، اور کافر فقہی کو کافر فقہی مانتا ہو۔ عام طور پر ہر مذہب کے لوگ اپنے مذہب کے باطل عقائد کو مانتے ہیں، گرچہ یہ امکانِ عقلی موجود ہے کہ بد مذہب اور مرتد جماعتوں کا کوئی فرد ان مذاہب کے باطل عقائد کو نہ مانتا ہو۔
نیز ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی فرد اپنی جماعت کے عقائد سے واقف نہ ہو، یا اپنی جماعت کے کسی غلط عقیدہ سے واقف ہونے کے بعد اس کو غلط کہے، بلکہ اس کی تاویل کرتا ہے، اور اس کو سچ بتاتا ہے۔ لوگوں کے سامنے تقیہ بازی کے طور پر شیعہ، دیوبندی اور وہابی لوگ اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں۔ عقائد کو چھپانے کے سبب حکمِ شرعی ان سے اٹھ نہیں سکتا۔
-
علامہ تفتازانی (722-792ھ) نے رقم فرمایا:
وَحُكْمُ الْمُبْتَدِعِ الْبُغْضُ وَالْعَدَاوَةُ وَالْاِعْرَاضُ عَنْهُ وَالْاِهَانَةُ وَالطَّعْنُ وَاللَّعْنُ وَكَرَاهِيَّةُ الصَّلٰوةِ خَلْفَهٗ [شرح المقاصد، ج: 2، ص: 270]
ترجمہ: بدعتی کا حکم اس سے بغض و عداوت رکھنا، اس سے روگردانی کرنا اور توہین کرنا، اسے برا بھلا کہنا اور اس کے پیچھے نماز کو ناپسند کرنا ہے۔
مرتدین و ضالین سے میل جول رکھنے والے کا حکم
گمراہ لوگوں سے میل جول رکھنے والا اگر ان لوگوں کے عقائد سے واقف ہو کر ان لوگوں کو گمراہ نہیں مانتا تو خود گمراہ ہے۔ اگر مرتد لوگوں سے میل جول رکھنے والا ان لوگوں کے کفریہ عقائد سے واقف ہو کر ان لوگوں کو مرتد نہیں مانتا ہے تو خود مرتد ہے۔
اگر گمراہ کو گمراہ اور مرتد کو مرتد مانتا ہے، پھر بھی میل جول رکھتا ہے تو فاسق ہے۔ ضرورت و حاجت کی صورتیں مستثنیٰ ہیں۔ مختصر وضاحت درج ذیل فتویٰ میں ہے۔
مسئلہ: جو شخص وہابیہ سے میل جول اور باہمی شادی بیاہ رکھتا ہو، اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ وہابی ہے، اس کے یہاں شادی بیاہ کر سکتے ہیں جب کہ یہ معلوم ہے کہ وہابیہ سے اس کا میل جول ہے؟
بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا
الجواب: وہابیہ سے میل جول رکھنے والا ضرور وہابی ہے کہ وہابیہ کو گمراہ بددین نہیں جانتا تو خود گمراہ بددین ہے اور اس کے ساتھ مناکحت ہو ہی نہیں سکتی، اور اگر ان کو گمراہ بددین جانتا اور کہتا ہے، پھر بھی ان سے میل جول رکھتا ہے تو سخت فاسق بیباک ہے۔ اس کی مناکحت سے احتراز چاہیے: واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاوی رضویہ، ج: 5، ص: 172، نوری دارالاشاعت بریلی شریف]
وہابیہ سے میل جول رکھنے والا وہابی تسلیم کیا جائے گا۔ اب اگر وہ ان کے کسی غلط عقیدہ کو بالکل نہیں مانتا، نہ خود کو وہابی کہتا ہے، بلکہ ان کو گمراہ و بددین جانتا ہے تو وہ مومن اور سنی ہے اور فاسق و فاجر ہے۔ یہاں غیر مقلد وہابیہ کا ذکر ہے، جو پہلے کافر فقہی تھے۔
اگر یہی سوال دیوبندی سے متعلق ہوتا تو اس طرح جواب رقم فرماتے: “اگر ان کو کافر و مرتد جانتا اور کہتا ہے، پھر بھی ان سے میل جول رکھتا ہے تو سخت فاسق بیباک ہے۔”
ضرورت و حاجت کے سبب بات چیت کی اجازت
سوال: ایک پٹرول آبپاشی شہر پر وہابی ہے، اور ایک ڈاکیہ خط تقسیم کرنے والا بھی شیعہ ہے۔ ان شخصوں سے بات چیت کرنا پڑتی ہے۔ کبھی روٹی کا بھی اتفاق اپنے مطلب کی غرض سے ہوتا ہے، اور ان کو اپنا دشمن ہی سمجھا جاتا ہے۔ میل جول کچھ نہیں کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہے، بچتے ہیں اور کام کے وقت بات کرنا ضرور ہوتی ہے؟
الجواب: اگر یہ امر واقعی ہے کہ قلب میں ان سے نفرت و عداوت واقعی ہے، اور کوئی میل جول نہیں رکھا جاتا۔ نہر یا خط کے متعلق کوئی بات کبھی کر لی جاتی ہے، یا کبھی روٹی دے دی جاتی ہے، جس میں کوئی مصلحتِ صحیح خیال کی گئی ہو تو حرج نہیں، اور اللہ دلوں کا نور جانتا ہے: واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاوی رضویہ، ج: 9، جز: دوم، ص: 176، رضا اکیڈمی ممبئی]
استفتا اور فتویٰ دونوں میں قیود کا ذکر ہے: (1) قلب میں نفرت کا ہونا (2) وہابی سے صرف نہر اور شیعہ سے صرف خط کے متعلق بات ہونا اور یہ بھی بوقتِ حاجت، دوسری باتیں نہ ہونا (3) میل جول نہ ہونا، یعنی سلام و مصافحہ نہ ہونا (4) حتی الامکان بچنا۔ ان شرائط کے ساتھ محض بات کی اجازت ہے۔ اسی طرح ان تمام فتاویٰ میں اجازت، شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ تعظیم و محبت یا عمومی اختلاط کی اجازت کہیں نہیں۔

