Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

بد مذہبوں سے میل جول کا شرعی حکم (قسط: سوم) | بنت اسلم برکاتی

بد مذہبوں سے میل جول کا شرعی حکم (قسط: سوم)
عنوان: بد مذہبوں سے میل جول کا شرعی حکم (قسط: سوم)
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

کفار و مرتدین اور گمراہوں کی تعظیم ناجائز

فتاوی رضویہ سے ایک سوال و جواب منقولہ ذیل ہے:

سوال: کافر، مرتد، مبتدع، بد مذہب کو فاسق معلن یا اس کو جس کا ان جیسا ہونا قائل کے نزدیک متردد ہو، کوئی رشتہ مثل باپ، دادا، نانا، بھائی، بیٹا وغیرہ خود اپنا کہنا یا کسی اور مسلم کا کہنا، حالاں کہ ان کو کافر مرتد وغیرہ جیسے ہیں، ویسے ہی مانے، یہ کیسا ہے؟ یا ایسے لوگوں کو ابتداءً سلام کہنا یا ان سے بخندہ پیشانی پیش آنا، ہنسنا بولنا، ایسی دوستی رکھنا جیسے دنیا دار ہنسنے بولنے کھیلنے کی رکھتے ہیں، اور اس سلسلہ میں انہیں تحائف روانہ کرنا، یا ان کی ایسی تعظیم کرنا کہ وہ آئیں تو کھڑے ہو گئے، تحریراً تقریراً انہیں عنایت فرمایا، کرم فرمایا، مشفق، مہربان یا جناب، صاحب لکھنا، یا اسی طرح کے اور برتاؤ ان سے برتنا جیسے آج کل شائع ہیں کثرت سے خصوصاً ایسوں میں کے دنیاوی با اثر لوگوں سے۔

خلاصہ کلام یہ کہ ایسے لوگوں سے ایسا برتاؤ جس سے وہ خوش ہوں یا اس میں اپنی تعظیم جانیں، اگرچہ فاعل کی نیت اس خوش یا تعظیم کی ہو یا نہ ہو، جب کہ مذہبی نقطہ نظر سے انہیں ان کے لائق قبیح ہی سمجھیں، جائز ہیں یا ناجائز؟ ناجائز تو کس درجہ کی؟ غرض کہاں تک اس حد تک نہیں پہنچتیں کہ فاعل پر بھی خود ان کی طرح حکم کفر یا بدعت وغیرہ عائد ہو؟ اور اگر یہ باتیں کسی جائز دینی و دنیاوی غرض کے لیے کریں تو کیسا حکم ہے؟

الجواب: ان لوگوں کو بے ضرورت و مجبوری ابتداءً سلام حرام، اور بلا وجہ شرعی ان سے مخالطت اور ظاہری ملاطفت بھی حرام۔ قرآن عظیم میں قعود معہم سے نہی صریح موجود، اور حدیث میں ان سے بخندہ پیشانی ملنے پر قلب سے نور ایمان نکل جانے کی وعید۔

افعال تعظیمی مثل قیام تو اور سخت تر ہیں تو یوں ہی کلمات مدح، حدیث میں ہے:

اِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ غَضِبَ الرَّبُّ وَاهْتَزَّ لَهٗ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ

ان میں فاسق کا حکم آسان ہے۔ مصالح دینیہ پر نظر کی جائے گی، اور مرتد و مبتدع داعیہ سے بالکل ممانعت، اور ضروریات شرعیہ ہر جگہ مستثنیٰ:

فَاِنَّ الضَّرُوْرَاتِ تُبِيْحُ الْمَحْظُوْرَاتِ

رشتہ بتانے میں مطلقاً حرج نہیں، جیسے:

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ اَبِيْ طَالِبٍ مَعَ اَنَّ الْخَطَّابَ وَاَبَا طَالِبٍ لَمْ يُسْلِمَا

ان کے ساتھ جو برتاؤ قولاً فعلاً ممنوع ہے، بے ضرورت ان کا مرتکب عاصی ہے۔ ان کا مثل نہیں، جب تک ان کے کفر و بدعت و فسق کو اچھا یا جائز نہ جانے: واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاوی رضویہ، ج: 9، نصف اخیر، ص: 121، رضا اکیڈمی ممبئی]

منقولہ بالا فتویٰ میں بھی شرط کا ذکر مرقوم ہے۔ افعال تعظیمی و الفاظ تکریمی سخت ممنوع ہیں۔ بلا ضرورت ان سے میل جول اور ان سے نرمی و ملاطفت حرام ہے۔

بد مذہبوں سے اجتناب کا سبب

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے گمراہوں سے متعلق رقم فرمایا: “گرچہ وہ مبتدع جس کی بدعت حد کفر کو نہ پہنچی، آخرت میں کفار سے ہلکا رہے گا۔ ان کا عذاب ابدی ہے، اور اس کا منقطع، اور بعد موت دنیوی احکام میں بھی خفت ہوگی، مگر اس کے جیتے جی اس کے ساتھ برتاؤ کافر ذمی کے برتاؤ سے اشد ہے، اور اس کی وجہ ہر ذی عقل پر روشن ہے۔”

“کافر ذمی سے ہرگز وہ اندیشہ نہیں، جو اس دشمن دین، مدعی اسلام و خیر خواہ مسلمین سے ہے۔ وہ کھلا دشمن ہے اور یہ مار آستین۔ اس کی بات کسی جاہل سے جاہل کے دل پر نہ جمے گی کہ سب جانتے ہیں، یہ مردود کافر ہے۔ خدا و رسول کا صریح منکر ہے، اور یہ جب قرآن و حدیث ہی کے حیلے سے بہکائے گا تو ضرر اسرع و اظہر ہے:”

وَالْعِيَاذُ بِاللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [فتاوی رضویہ، ج: 5، ص: 271، نوری دارالاشاعت بریلی شریف]

مرتدین سے بھی دور رہنا ہے اور بدمذہبوں سے بھی دور بھاگنا ہے۔ صحبت اپنا اثر ضرور دکھلاتی ہے۔ یہ مسلمات میں سے ہے۔ اس کا انکار احمق کے علاوہ کوئی نہیں کرے گا۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے اپنی مشہور تصنیف اَلْمَحَجَّةُ الْمُؤْتَمَنَةُ فِيْ اٰيَةِ الْمُمْتَحَنَةِ میں کفار و مشرکین کے احکام کو تفصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔ مرتدین و ضالین کے احکام فتاوی رضویہ کی مختلف جلدوں میں متفرق طور پر موجود ہیں۔ اگر ان تمام فتاویٰ کو یکجا کر دیا جائے تو سہولت ہوگی۔ بعض فتاویٰ سے بعض دیگر فتاویٰ کی تشریح و توضیح بھی ہو جاتی ہے۔

غازی ملت حضرت علامہ مفتی محمد محبوب علی خاں قادری رضوی پیلی بھیتی علیہ الرحمہ نے اپنی تصنیف لطیف “اربعین شدت” میں قرآن و احادیث و اقوال اسلاف کرام کی روشنی میں کفار و مرتدین و ضالین سے دور رہنے کا حکم تفصیل کے ساتھ رقم فرمایا ہے۔

علمائے کرام سے خاص گزارش

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا: “ائمہ دین فرماتے ہیں: اے گروہ علم! اگر تم مستحبات چھوڑ کر مباحات کی طرف جھکو گے، عوام مکروہات پر گریں گے۔ اگر تم مکروہ کرو گے، عوام حرام میں پڑیں گے۔ اگر تم حرام کے مرتکب ہو گے، عوام کفر میں مبتلا ہوں گے۔ بھائیو! اللہ اپنے اوپر رحم کرو۔ اپنے اوپر رحم نہ کرو، امت مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کرو۔ چرواہے کہلاتے ہو، بھیڑیئے نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے:”

اٰمِيْنَ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ وَابْنِهٖ وَحِزْبِهٖ اَجْمَعِيْنَ، اٰمِيْنَ [فتاوی رضویہ، ج: 24، ص: 133، جامعہ نظامیہ لاہور]

علمائے کرام بد مذہبوں سے دور رہیں گے تو عوام مسلمین بھی دور رہیں گے۔ علمائے دین کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہے۔ اگر کبھی بدمذہبوں سے اشتراک عمل کی حاجت و مصلحت ہو تو تجربہ کار اور معتمد علمائے کرام سے دریافت کیا جائے، تا کہ وہ غور و فکر کے بعد بتائیں کہ اشتراک عمل کی حاجت و مصلحت متحقق ہے یا نہیں؟ عوام مسلمین خود فیصلہ نہ کریں۔

مذہب بدل جانے سے برادری ختم

مسئلہ: از بھاگلپور، مسئولہ عظمت حسین صاحب پیشکار سب جج، 7 رمضان 1339ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید ایک شخص پکا سنی ہے، اور اس کے یہاں برادری کی قید ہے اور چند لوگ اس کی برادری کے پکے وہابی ہیں۔ ان وہابیوں کی چند عورات زید سنی کے یہاں آیا کرتی ہیں اور زید ان کی پوری خاطر مدارات کرتا ہے اور پلاؤ قورمہ پکا کر کھلاتا ہے۔ مطابق فتوی حسام الحرمین کے زید سنی رہا، یا وہابی ہو گیا؟ آیا اسلام میں اس کے کسی قسم کا فرق آیا یا نہیں؟ دائرہ اسلام کے اندر رہا، یا خارج ہو گیا؟ بیان زید یہ ہے کہ ہم اس کے عقیدہ کو برا سمجھتے ہیں، مگر بخیال رشتہ کے اس کی خاطر کرتے ہیں:

بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا

الجواب: اگر فی الواقع زید اس کے مذہب کو برا اور وہابیہ کو کافر جانتا ہے تو وہ اس حرکت سے وہابی تو نہ ہوا مگر گنہ گار فاسق ضرور ہوا۔ اس پر توبہ لازم ہے اور آئندہ احتیاط فرض۔ برادری ہی کب رہی جب دین مختلف ہے۔

اللہ عزوجل فرماتا ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِيْمَانِ ؕ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے باپ بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان پر کفر پسند کریں اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی پکا ظالم ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَا تُصَاحِبْ اِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ اِلَّا تَقِيٌّ

ترجمہ: رفاقت نہ کر، مگر مسلمان سے، اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر پرہیزگار (یعنی سنی)۔

رَوَاهُ اَحْمَدُ وَاَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ بِاَسَانِيْدَ صَحِيْحَةٍ عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللّٰهُ تَعَالٰى اَعْلَمُ

امام احمد، ابوداؤد، امام ترمذی، ابن حبان اور امام حاکم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا۔ انہوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت فرمائی: واللہ تعالیٰ اعلم۔ [فتاوی رضویہ، ج: 21، ص: 268، جامعہ نظامیہ لاہور]

بد مذہبوں کو “مولانا” نہ کہا جائے

اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے تحریر فرمایا: “عالم وہی ہے جو سنی صحیح العقیدہ ہو۔”

بد مذہبوں کے علما، علمائے دین نہیں۔ یوں تو ہندوؤں میں پنڈت اور نصاریٰ میں پادری ہوتے ہیں، اور ابلیس کتنا بڑا عالم تھا، جسے معلم الملکوت کہا جاتا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ:

اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ

ایسوں کی توہین کفر نہیں، بلکہ تا حد مقدور فرض ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 119، رضا اکیڈمی ممبئی]

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے رقم فرمایا: “حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

لَا تَقُوْلُوْا لِلْمُنَافِقِ يَا سَيِّدُ فَاِنَّهٗ اِنْ يَكُنْ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ اَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ [فتاوی رضویہ، ج: 14، ص: 406-408، جامعہ نظامیہ لاہور]

ترجمہ: منافق کو اے سردار نہ کہو، بے شک اگر وہ تمہارا سردار ہے، تو تم نے اپنے رب عزوجل کا غضب لیا۔

بعض لوگ بدمذہبوں، بلکہ مرتدین کو بھی “مولانا” لکھتے اور بولتے ہیں۔ اگر یہی طریق کار رواج پا گیا تو کل کوئی غلام احمد قادیانی کو بھی “مولانا غلام احمد قادیانی” لکھے اور بولے گا، اس لیے اس رواج کا سد باب ضروری ہے۔

امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے گاندھوی لیڈروں کے بارے میں رقم فرمایا:

“ایسوں کو مولانا کہنا حرام ہے۔ حدیث میں فرمایا:

لَا تَقُوْلُوْا لِلْمُنَافِقِ يَا سَيِّدُ فَاِنَّهٗ اِنْ يَكُنْ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ اَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ

واللہ تعالیٰ اعلم۔” [فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 174، رضا اکیڈمی ممبئی]

رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ نے فروغ سنیت کے قصد سے “زلزلہ” نامی کتاب تصنیف فرمائی۔ غیروں کو سنیت کی جانب راغب کرنا مقصود تھا، لہذا انہوں نے حکمت عملی کے طور پر بدمذہبوں کو مولانا لکھا، تاکہ ان کے وابستگان ٹھنڈے دل سے حقائق پر غور و فکر کریں اور بد مذہبیت سے تائب ہو کر سنیت کی طرف مائل ہو سکیں۔ یہ علامہ موصوف کی ایک حکمت عملی تھی۔

ایک دیوبندی نے اس پر سوال کیا تو علامہ موصوف نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف “زیر و زبر” میں جواب دیا کہ مدارس اسلامیہ کے فارغین (علمیت و فضیلت کی ڈگری پانے والوں) کو مولانا کہا جاتا ہے، اسی اعتبار سے ہم نے انہیں مولانا و مولوی لکھ دیا۔ [زیر و زبر ملخصاً، ص: 273، مطبوعہ لاہور]

اس میں کوئی شک نہیں کہ “زیر و زبر” ایک مناظراتی تصنیف ہے۔ بحث و مناظرہ میں عقائد و مسائل کے ساتھ الزامی جواب بھی دیئے جاتے ہیں۔ مناظراتی مباحث سے استدلال اسی وقت کیا جا سکتا ہے، جب وہ دلائل شرع کے موافق ہوں۔ خالص الزامی جوابات سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ مدارس اسلامیہ سے علمیت و فضیلت کی ڈگری پانے والوں کو بطور تعظیم ہی “مولانا” کہا جاتا ہے۔ ڈگری کے حاملین کو مدارس کی اصطلاح میں بھی عالم اور فاضل کہا جاتا ہے۔ “مولانا” کسی ڈگری کا نام نہیں۔

ایسی صورت میں بلا ضرورت و بغیر حاجت بدمذہبوں کو “مولانا” کہنا اور لکھنا درست نہیں۔ اس سے پرہیز کرنا ہی مناسب ہے۔ تاویلات کا سمندر بہت وسیع ہے۔ اس سمندر سے ہلاکت کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ اصول شرع کے مطابق جو بات صحیح ہو، اسی پر عمل کریں۔ در حقیقت رد بد مذہباں ترک کرنے کے سبب یہ سب برائیاں جنم لے رہی ہیں۔

لوگ ریشم کی طرح نرم ہوتے جارہے ہیں۔ بعض لوگ بد مذہبوں سے سلام، کلام اور میل جول بھی کر لیتے ہیں۔ شرعی احکام پر عمل کرنے میں لوگ شرم محسوس کرنے لگے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بد مذہبیت کی نفرت دل و دماغ سے غائب ہونے کا خطرہ ہے۔

ایک زمانے میں تحریک دعوت اسلامی پر اعتراض ہوتا تھا کہ وہ لوگ بد مذہبوں کا رد و ابطال نہیں کرتے۔ جب دعوت اسلامی والوں نے رد کرنا شروع کر دیا تو لوگ خاموش پڑ گئے۔ اب سب لوگ فضائل اعمال پر تحریر و تصنیف اور تقریر و خطابت کرنے لگے۔

فضائل اعمال تبلیغی جماعت کی نصابی کتاب ہے۔ لگتا ہے کہ محررین و مقررین نے تبلیغی نصاب سے خوب استفادہ کیا ہے۔ فضائل اعمال کے ساتھ ضمنی طور پر ہی سہی، فضائل عقائد بھی بیان کیے جائیں۔ دو تین عشروں میں ماحول اس قدر بدل گیا ہے کہ کسی گہری سازش کے ذریعہ بھی ایسا ہونا مشکل تھا۔ مذہب کا دائرہ سمٹتا جا رہا ہے۔ حکمت عملی کا نام و نشان نہیں۔

افسوس ہے ایسے محررین و مقررین پر جو اپنے مذہب کو سمٹتا دیکھ کر بھی خاموش پڑے ہیں۔ ہر سکوت میں نجات نہیں۔ بعض سکوت ہلاکت بھی لاتا ہے، لہذا خوب غور فرمالیں۔

وَمَا تَوْفِيْقِيْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى حَبِيْبِهِ الْكَرِيْمِ، وَاٰلِهِ الْعَظِيْمِ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!