| عنوان: | بنو ہاشم پر زکوٰۃ حرام کیوں؟ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا نوید اختر قادری امجدی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
اللہ رب العزت اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
“خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا”
ان کے مالوں میں سے صدقہ لو اس کی وجہ سے انھیں پاک اور ستھرا بنادو۔
اس کا صاف مطلب ہے کہ زکوٰۃ کے ذریعہ ایک مسلمان کا نفس اور اس کا مال پاک ہوتا ہے۔
ہر شخص جانتا ہے کہ زکوٰۃ اسی وقت ادا ہوگی جب کہ مستحق زکوٰۃ کو دے دی جائے۔ لہٰذا مستحق زکوٰۃ کون کون ہے؟ قرآن مقدس نے اس کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ جس کے مطابق سات قسم کے لوگ زکوٰۃ کے مستحق ہیں: یعنی فقیر، مسکین، عامل، رقاب، غارم، فی سبیل اللہ، ابن السبیل۔ لیکن ان تمام کے لیے ایک مشترکہ شرط یہ بھی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ہاشمی نہ ہو۔ ان میں ہر ایک کی تفصیل میں مفسرین اور فقہا نے خاصی تفصیل کی ہے جسے کتب تفسیر و فقہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سردست ہمارا موضوع یہ ہے کہ ہاشمی اگرچہ فقیر یا مسکین ہو اس کو زکوٰۃ کیوں نہیں دے سکتے، اور ان کے لیے اس کا بدل کیا ہوگا؟ ہم ذیل میں امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کے فتاویٰ سے اخذ کر کے اس مسئلہ کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
ہاشمی یعنی اہل بیت اطہار کو نہ زکوٰۃ دینا جائز نہ ان کا لینا حلال۔ بلکہ اس پر چاروں مذاہب کے ائمہ کا اجماع قائم ہے۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ میزان میں فرماتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ فرض صدقات بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب پر حرام ہیں، اور یہ پانچ خانوادے ہیں: آل علی، آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، آل حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم اجمعین۔
اس کی حرمت متواتر حدیثوں سے ثابت ہے۔ بیس سے زائد صحابہ کرام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں حدیثیں روایت کی ہیں۔
اور اس کی وجہ ان حضرات کی عزت و کرامت، نظافت و طہارت ہے۔ ظاہر ہے زکوٰۃ تو مال کا میل اور گناہوں کا دھوون ہے، لہٰذا اس ستھری نسل والوں کے قابل نہیں۔ خود رسولِ گرامی وقار صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
“مطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صدقہ آل رسول کے لیے جائز نہیں، کیونکہ یہ لوگوں کے مال کا میل ہے، ایک حدیث مبارک میں اپنے اہل بیت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے لیے صدقات میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اور نہ ہی لوگوں کے ہاتھ کا میل۔”
مذکورہ دونوں حدیثوں میں یہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا کہ اہل بیت کے لیے زکوٰۃ و صدقات واجبہ دونوں حرام ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ مال کا میل ہے اور تمام صدقاتِ واجبہ کی طرح گناہوں کو دھوکر دور کردیتی ہے۔ تو اس کا حال مائے مستعمل کی طرح ہے جو گناہوں کی نجاست اور حدث کی گندگی دھوکر لایا، ان پاک لطیف ستھرے اہل بیت اطہار کی شان اس سے بہت ارفع و اعلیٰ ہے کہ ایسی چیزوں سے خود کو آلودہ کریں۔ اہل بیت اطہار کے لیے زکوٰۃ کو مائے مستعمل کی طرح فرمایا، جو خود تو پاک ہے مگر کسی کو پاک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اور اس میں شک نہیں کہ یہ علت تغیرِ زمانہ سے بدلنے والی نہیں۔ تو یہ حکم ہمیشہ کے لیے باقی ہے۔ حتیٰ کہ جمہور علمائے کرام تو بنو ہاشم کے لیے مالِ زکوٰۃ سے بحیثیت عامل علی الصدقات عمل کی اجرت لینا بھی ناجائز ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ یہ اجرت مال داروں کے لیے جائز ہے۔ کیونکہ اگرچہ وہ اجرت من کل الوجوہ زکوٰۃ نہیں لیکن شبہ زکوٰۃ ہے اور بنو ہاشم کی جلالتِ شان کا تقاضا ہے کہ شبہ زکوٰۃ میں بھی ملوث نہ ہوں۔ بلکہ محیط اور بحر وغیرہ میں ہے کہ زکوٰۃ کسی ہاشمی کے مکاتب غلام کو بھی جائز نہیں، حالانکہ غنی کے مکاتب غلام کے لیے جائز ہے۔ وجہ وہی ہے کہ مکاتب کی ملکیت ایک طرح سے مالک کی ملکیت ہوتی ہے اور اس مسئلہ میں مشابہت بھی حقیقت کی طرح ہے۔
فقرائے بنو ہاشم کے لیے رزق کا ذریعہ
اللہ نے اہل بیت اطہار کے لیے زکوٰۃ لینا حرام فرمایا تو ان کے لیے خمس الخمس کو رزق کا ذریعہ بنا دیا۔ خمس الخمس کیا ہے؟ اس کی مختصر کیفیت ملاحظہ فرمائیں:
جہاد میں جو مال کفار سے حاصل ہوتا ہے وہ مالِ غنیمت ہے، مالِ غنیمت کے پانچ حصے کیے جاتے تھے، ان میں چار حصے مجاہدین کے اور پانچویں حصہ کی پھر پانچ جگہ تقسیم ہوتی ہے۔ ایک حصہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا، ایک حضور کے قرابت داروں کا اور باقی تین حصے فقرا و مساکین اور مسافروں پر صرف ہوتے تھے، جو حصہ حضور کے قرابت داروں یعنی بنو ہاشم کے لیے ہوتا تھا اسی کو خمس الخمس کہتے ہیں۔ یہ آیتِ کریمہ:
“وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ”
سے ماخوذ ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصالِ پاک کے بعد خمس الخمس سے آپ کا حصہ ساقط ہو گیا لہٰذا آپ کے قرابت داروں کا حصہ بھی ختم ہو گیا۔ لہٰذا مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ اب صرف تین حصوں میں تقسیم ہوسکتا ہے، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر۔ خلفائے راشدین اپنے اپنے زمانۂ پاک میں اسی طرح تقسیم فرماتے، یہی مذہب امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ [ملخصاً تفسیر نعیمی، خزائن العرفان، نور العرفان]
مگر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائے کہ ایسا ہرگز نہیں کہ اہل بیت اطہار کو خمس الخمس دیے جانے کی وجہ سے زکوٰۃ ان پر حرام کی گئی، نہیں۔ بلکہ اگر انھیں خمس الخمس نہ بھی دیا جاتا تب بھی زکوٰۃ ان پر حرام ہی ہوتی۔
محدث ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حصیف سے اور انھوں نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لیے صدقہ حلال نہ تھا، لہٰذا ان کے لیے خمس الخمس رکھا گیا، مذکورہ روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بیت اطہار کو زکوٰۃ کے عوض خمس الخمس دیا گیا، بلاشبہ یہی مطلب ہے، لیکن خمس الخمس کے سقوط سے اہل بیت کرام کے لیے زکوٰۃ جائز نہیں ہو جاتی، بلکہ اب بھی ان کے لیے زکوٰۃ حلال نہیں۔ لیکن اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ خمس الخمس جب ساقط ہو گیا تو زکوٰۃ حلال ہو جانی چاہیے کہ انھیں خمس الخمس دیا ہی گیا تھا زکوٰۃ کے عوض، لہٰذا اب جب کہ خمس الخمس ہی نہ رہا تو زکوٰۃ کی حرمت ختم ہو جانی چاہیے۔
اس سلسلہ میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے ایک قاعدہ بیان فرمایا کہ “سقوطِ عوض سے رجوعِ معوض وہیں ہے جہاں زوالِ معوض حصولِ عوض پر موقوف ہو”، اس قاعدہ کا مطلب یہ ہے کہ عوض ساقط ہونے کی صورت میں معوض (وہ مال جس کا وہ عوض تھا) صرف ان جگہوں پر واپس ملے گا جہاں عوض کے حصول پر معوض کا زوال موقوف ہو، جیسا کہ خرید و فروخت میں ہوا کرتا ہے کہ خریدار رقم دے کر اس کے عوض سامان چاہتا ہے، لیکن اگر اس رقم کے بدلے اسے سامان نہ ملے تو خریدار اپنی رقم واپس لے سکتا ہے۔ لیکن اگر معوض کا زوال کسی اور علت سے ہو تو جب تک وہ علت باقی رہے گی معوض واپس نہ آئے گا۔ جیسے کسی مریض سے کسی تکلیف کی بنیاد پر وضو کی فرضیت ساقط ہو جائے تو اس کے لیے تیمم کا حکم ہے، لیکن تیمم کے لیے پاک مٹی بھی نہ ملے تو وضو کی فرضیت لوٹ کر نہیں آئے گی۔
اہل بیت اطہار پر زکوٰۃ جو حرام کی گئی اس کی علت ان کی کرامت و بزرگی ہے، نہ کہ خمس الخمس کی وجہ سے ان پر زکوٰۃ حرام کی گئی، جیسا کہ احادیثِ کثیرہ سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت اطہار کو زکوٰۃ سے جو منع فرمایا اس کی وجہ یہ بیان کی کہ یہ لوگوں کے مال کا میل کچیل ہے، یہ نہ بیان کیا کہ اے اہل بیت تمہیں خمس الخمس دیا جا رہا ہے اس لیے زکوٰۃ لینا تمہارے لیے جائز نہیں، نہیں بلکہ اب بھی حرام ہی ہے، اور اس سلسلہ میں علما کی تصریحات کثرت سے موجود ہیں، اسی پر امام طحاوی علیہ الرحمہ کا بھی عمل ہے اور یہی امام ابو یوسف ومحمد اور امام اعظم کا بھی مسلک ہے۔
اس سلسلہ میں امام طحاوی علیہ الرحمہ نے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد سندوں سے چودہ روایتیں تخریج کرنے کے بعد واضح انداز میں فرما دیا کہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہے، بلکہ ان کے فقرا بعینہ حکم اغنیا رکھتے ہیں، جو اغنیا کے لیے جائز ہے انھیں بھی جائز ہے اور جو اغنیا کے لیے جائز نہیں انھیں بھی روا نہیں۔
بلکہ صدقات کو بنو ہاشم پر حرام قرار دینا اور مالِ غنیمت کا خمس انھیں دینا دونوں ان کی مستقل کرامت واعزاز ہے۔
پھر غریب ساداتِ کرام کی خدمت کیسے ہو؟
اس سلسلے میں بڑا اہم سوال یہ ہے کہ بنو ہاشم کے لیے خمس الخمس ساقط ہو گیا اور زکوٰۃ وہ لے نہیں سکتے تو جو بنو ہاشم غریب ہوں ان کا کام کیسے چلے؟ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اس بارے میں دو طریقوں کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اول مال داروں کے لیے کہ خود اپنے مال سے ان کی خدمت کریں۔ دوم متوسط طبقے کے لیے کہ حیلۂ شرعیہ کریں۔ دونوں طریقوں کو تفصیل سے بیان فرمایا، جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
ہم تمام مسلمان اپنے آقا ومولیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کے اہل بیت کے غلام ہیں۔ ہم مسلمانوں کو صدقات کے علاوہ خود اپنی حلال کمائی سے ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھنا چاہیے۔ میدانِ محشر کا وہ وقت یاد کیا جائے جب ہمارا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا، ان حضرات کے جدِ اعلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہمارے کام آئیں گے۔ وہی شفیع محشر ہوں گے۔ دولت انھیں کے در سے ملتی ہے، مال وزر انھیں کے طفیل ہمیں عطا کیا گیا ہے، کیا یہ ہمارے لیے اچھا نہیں کہ اس مال کا کچھ حصہ ان کے شہزادوں کی خدمت میں خرچ ہو۔ آخر ان تمام مال وزر کو چھوڑ کر بالکل ننگے ایک سادہ سے کفن میں لپٹے ہمیں قبر میں جانا ہے اور قبر میں بھی روشنی کا سامان انھیں حضرات کے جدِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے زیبا سے ہوتا ہے۔ اس مقام پر فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے کلمات بڑے مؤثر ہیں۔ مال داروں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
“وہ مال جو تمھیں کے صدقے میں انھیں کی سرکار سے عطا ہوا جسے عنقریب چھوڑ کر ویسے ہی خالی ہاتھ زیرِ زمین جانے والے ہیں ان کی خوشنودی کے لیے ان کے پاک بیٹوں پر اس کا ایک حصہ صرف کیا کریں کہ اس سخت حاجت کے دن (قیامت کا دن) اس جواد وکریم، رؤف و رحیم علیہ أفضل الصلوٰۃ والتسلیم کے بھاری انعاموں عظیم اکراموں سے مشرف ہوں”۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 105]
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مَنْ صَنَعَ إِلَى أَهْلِ بَيْتِي يَدًا كَافَأْتُهُ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ترجمہ: جو میرے اہل بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا میں روزِ قیامت اس کا صلہ اس کو عطا کروں گا۔ [کنز العمال بحوالہ ابن عساکر]
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسولِ گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
مَنْ صَنَعَ صَنِيعَةً إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلَفِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فِي الدُّنْيَا فَعَلَيَّ مُكَافَأَتُهُ إِذَا لَقِيَنِي
ترجمہ: جو شخص اولادِ عبدالمطلب میں سے کسی کے ساتھ دنیا میں نیکی کرے اس کا صلہ دینا مجھ پر لازم ہے جب وہ روزِ قیامت مجھ سے ملے گا۔ [تاریخ بغدادی]
سبحان اللہ کتنا پیارا وعدہ ہے کہ بروزِ قیامت جب کہ خونی رشتہ دار منہ چھپائیں گے، بھاگیں گے، نظر چرائیں گے، اس ہولناکیوں والے دن میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دیدار بھی عطا فرمائیں گے اور اپنا وعدہ بھی پورا فرمائیں گے، اور نہ جانے کیسی کیسی عنایتیں ہوں، کیا کیا نوازشیں ہوں وہ جانیں ان کا رب جانے، ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ اس در کا قطرہ بھی دریاؤں کو سیرابی عطا کر سکتا ہے۔ [اس کی پوری تفصیل فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 478 تا 491 پر موجود ہے]

