Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

کعبہ دکھا دے مولیٰ

کعبہ دکھا دے مولیٰ
کہانی: کعبہ دکھا دے مولیٰ
تحریر: ام الفضل رضویہ
پیش کش: نور زہرہ
منجانب: لباب اکیڈمی

عارف 9 سالہ بچہ تھا جو آج مسلسل روئے جا رہا تھا، کوئی تسلی، کوئی بات اسے سکون نہیں دے پا رہی تھی۔ اس کی بس ایک رٹ تھی، مولیٰ! مجھے کعبہ دکھا۔

آج جب اس نے میدانِ عرفات کی ویڈیو دیکھی تھی تو اس کا شوق اور بڑھ گیا تھا، پھر تو اس کا دل کسی صورت ماننے کو تیار نہ تھا۔ والدہ نے سمجھایا، والد صاحب نے سمجھایا مگر وہ مسلسل کہے جا رہا تھا کہ ”مجھے کعبہ دیکھنا ہے، بس!“

پھر اس کے چاچا احمد، جو کہ عالمِ دین تھے، انہیں بلایا گیا اور اسے سمجھانے کو کہا۔ چاچا اس کے پاس آ کر بیٹھے اور کہا:

احمد: کیا ہوا ہے میرے بہادر عارف کو؟ کیوں اتنا رو رہا ہے؟

عارف کی ہچکی بندھ گئی، وہ چاچا کے گلے لگ گیا اور کہے جا رہا تھا: ”چاچو! مجھے کعبہ دیکھنا ہے، مجھے بھی منیٰ میں جانا ہے۔ چاچو! مجھے لے چلو نا؟ آپ تو مجھے بریلی شریف، کلیر شریف، اجمیر شریف ہر جگہ لے جاتے ہیں نا، چاچو پلیز! مجھے مکہ شریف بھی لے چلیں نا؟“

احمد اس کا یوں رونا اور مچلنا دیکھ کر اندر سے ہل گیا تھا۔ وہ سوچنے لگا:

”آج یہ بچہ کس طرح مچل رہا ہے، کاش ہم میں بھی یہ محبت پیدا ہو جائے تو کیسی خوش نصیبی ہو۔“

احمد: پہلے رونا بند کرو، پہلے یہ بتاؤ؟ کعبہ کے بارے میں کیا جانتے ہو؟

عارف: ”چاچو! کعبہ اللہ تعالیٰ کا گھر ہے، اس میں رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ کل میری اسکول ٹیچر نے بتایا کہ ہم بہت گناہگار ہیں، ہمیں معافی تو رب کی رحمت سے ہی مل سکتی ہے۔

چاچو! میں بھی تو گناہگار ہوں نا؟ مجھے بھی اللہ کی رحمت چاہیے۔ ٹیچر بتا رہی تھیں کہ مکہ شریف میں ساری دنیا کے مسلمان ایک ساتھ مل کر عبادت کرتے ہیں۔“

احمد: آپ کی ٹیچر نے اور کیا بتایا؟

عارف: ”انہوں نے بتایا کہ جو حج کرتا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے۔ تب سے میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں بھی اپنے پیارے اللہ کو راضی کروں۔“

احمد: ”ماشاء اللہ! یہ تو آپ کی بہت پیاری نیت ہے، مگر یاد رکھیں، جب مسلمان مسلسل کعبۂ معظمہ اور مدینہ طیبہ کو یاد کرتا ہے نا تو اللہ تعالیٰ اسے جلد بلا لیتا ہے۔ آپ بھی بس اللہ سے مانگو، ضد نہ کرو کہ ابھی کعبہ پہنچ جاؤں، اور ضد کرنی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ سے کرو کیوں کہ سب اللہ تعالیٰ کی رضا سے ہوتا ہے، وہی کریم دعا قبول فرمائے گا۔“

عارف (چہرے پر چمک آ گئی): تو کیا چاچو! میں روز دعا کروں گا تو اللہ مجھے کعبہ شریف میں بلا لے گا؟

احمد: بالکل میرے شہزادے! اللہ تعالیٰ دعا کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ اللہ پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْۤ أَسْتَجِبْ لَكُمْ [المؤمن: 60]

ترجمہ: اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔

اور ہمارے آقا و مولیٰ، نورِ مجسم حضور ﷺ کا ارشاد ہے:

دعا مسلمانوں کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔ [مستدرک، ج: 2، ص: 162، حدیث: 1855]

تو ان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ دعا کرنے والوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے، اس لیے آپ بھی خوب دعا کیا کریں، نہ صرف اپنے لیے بلکہ ہر اس شخص کے لیے جو کعبۂ معظمہ دیکھنا چاہتا ہے۔

عارف نے فوراً دستِ دعا دراز کیا اور عرض کرنے لگا: ”یا اللہ! میری امی نے مجھے بتایا ہے کہ تو بہت رحیم و کریم ہے، تو معاف فرمانے والا ہے۔ کریم رب! میں تیرا در دیکھنا چاہتا ہوں۔ پیارے اللہ کریم! مجھے جلد کعبۂ معظمہ دکھا دے۔ میں تیرے در کی دیواریں، محرابیں اور رونقیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اگر میں نے کعبہ شریف اور مدینہ طیبہ نہیں دیکھا تو میں جی نہیں سکوں گا، مولیٰ کریم! مجھے بلا لے نا۔ میرے گناہوں کو معاف فرما دے، مجھے بس جلد مکہ شریف بلا لے۔

خدا کریم! پلیز بلا لے ہر اس شخص کو جو تیرے در پر آنے کا خواہش مند ہے، کرم فرما۔“

یہ دعا کر کے عارف پھر رونے لگا۔ اس کی دعائیں سن کر احمد اور عارف کے والدین کی بھی آنکھیں نم ہو گئیں۔ احمد نے عارف کو گلے سے لگایا اور کہا: اللہ کریم جلد قبول فرمائے، آمين ثم آمين بجاه النبي الملاحم ﷺ۔

اس روز کے بعد عارف ہر نماز کے بعد یہی دعا کرتا، اور یہی سچی تڑپ اور محبت تھی جو کسی روز اس کے مقدر میں ”لبيك اللهم لبيك“ لکھنے والی تھی، ان شاء اللہ تعالیٰ

اللہ کریم ہم سب کو بھی اس ماہِ مبارک کے صدقے جلد حج کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمين ثم آمين بجاه النبي الملاحم ﷺ۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!