| عنوان: | چائنا کا ایک مسلم طبقہ تاریخ کے بدترین حصار میں |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفیٰ قادری |
| پیش کش: | مسکان فاطمہ قادریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
ہمارے پڑوسی ملک چائنا جو دنیا کا سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے اور اقتصادی اعتبار سے سب سے تیز ترقی کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے وہ اپنے ملک کے ایک خاص اقلیتی طبقے پر ظلم و ستم کی جو داستان رقم کر رہا ہے وہ عالمی برادری کی نظر میں آچکی ہے۔ چائنا اپنے کمیونسٹ نظام معیشت و حکومت کی بنا پر پورے ملک پر اپنی مضبوط گرفت رکھتا ہے، جس کی بنا پر سمجھا جاتا ہے کہ وہاں بسنے والی تقریبا 57 مختلف نسلی مذہبی اور علاقائی قومیں آزادی اور خوشحالی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں سے اقلیتی مسلم طبقہ ویغور مسلم کے ساتھ حکومتی اہلکاروں نے جو بدترین سلوک روا رکھا ہوا ہے، اس کی خبریں عام ہوئی ہیں تب سے چائنا کے عدل و مساوات کے بلند بانگ دعووں کی حقیقت کھل گئی ہے، اور عالمی برادری نے آواز اٹھانی شروع کر دی ہے۔
چائنا ایک وسیع و عریض ملک ہے جس میں واقع شنجیانگ ملک کی ایک بڑی ریاست ہے جو کبھی ترکستان ہوا کرتا تھا، یہاں ترکستانی نسل کے مسلمان بڑی تعداد میں ہیں جن کو ویغور قوم کے نام سے جانا جاتا ہے، جو اپنے ہی وطن میں رہ کر بے وطن اور ملک کی اقلیت بن گئے ہیں۔ 2013ء میں جب چائنا کی سخت گیر کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر شی جن پنگ ملک کے سربراہ بنے، تو اس خطے پر حکومتی مظالم کا آغاز ہوا، یہ ظالمانہ کارروائیاں انتہا پسندی کے خاتمے کے نام پر کی جارہی ہیں۔ دس لاکھ ویغور مسلمانوں کو حصار بند کیمپوں میں رکھا گیا ہے، جہاں ہر طرف کیمرے لگے ہوئے ہیں اور حکومتی اہلکار ہر وقت موجود رہتے ہیں، یعنی چوبیس گھنٹے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے، ان کے بچے یتیم خانوں میں ڈال دیے گئے اور خواتین کو چینی مردوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ امریکی حکومت نے اس واقعہ کو موجودہ دنیا میں اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا قید و بند قرار دیا ہے۔
چائنا پہلے بھی اپنی مسلم آبادی پر مذہب اور عبادات کی بنا پر ٹارچر اور کریک ڈاؤن کرتا رہا ہے، اور مسلمانوں کے برین واش کرنے کی مہم چلاتا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت میں یہ ظالمانہ کارروائیاں شباب پر ہیں، ان مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر کیمپوں میں ڈالا گیا ہے اور ان کے گھروں میں دس لاکھ کمیونسٹوں کو رکھ دیا گیا ہے، گویا گھروں اور کیمپوں میں ان خاندانوں کا کھانا پینا سونا جاگنا سب کچھ ریاستی کیمروں کی زد میں ہوتا ہے۔ گھروں پر تعینات حکومتی اہلکار نظر رکھتے ہیں اور ان کے مشوروں کے مطابق جس جس کو چاہتے ہیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ادارتی صفحے پر لکھا ہے کہ وہ تمام لوگ جو نازی فوجیوں کے ظالمانہ کیمپ اور اسٹالن کے دور حکومت کے روسی قید خانوں پر “اب کبھی ایسا نہ ہو” کے اصول پر یقین رکھتے ہیں انھیں چائنا کی قید و بند کی ان کارروائیوں پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
برما کے بعد چائنا دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے، 1955ء کی ایک مردم شماری کے اعتبار سے چائنا میں مسلمانوں کی تعداد پانچ کروڑ تھی، اب ان کے مطابق دو کروڑ سے کچھ زائد ہیں۔ چائنیز نسل کے مسلمانوں کو “Hui” کہا جاتا ہے۔
باقی دیگر نسلوں کے مسلمان مثلاً ترک، قزاخ، ازبک، کرغز وہاں آباد ہیں، جن میں بڑی تعداد “ویغور” کی ہے۔
ترکستان کے اس خطے پر چائنا نے 1949ء میں قبضہ کیا، اور “شنجیانگ” یعنی “نئی کالونی” کا نام دیا اسی وقت سے یہ قوم اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوگئی، اس ریاست کی سرحدیں روس، منگولیا، قزاقستان، تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا سے ملتی ہیں، اقبال کا شعر “نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر” اسی خطے میں پڑتا ہے، شاہراہ ریشم اسی علاقے سے ہو کر گزرتی ہے، اور چائنا کا اقتصادی منصوبہ “ون بیلٹ ون روڈ” اسی علاقے کا رہین منت ہے، جو چائنا کو مشرق وسطی اور یورپ سے جوڑتا ہے۔
اس پورے خطے میں پانچ ہزار مساجد مسمار کی جاچکی ہیں، ویغور مسلم کو آزادی کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت نہیں، رمضان شریف میں روزے رکھنے پر پابندی ہے، اگر حکومتی کارندہ گھر پر نگرانی کر رہا ہے تو گھر کے اندر بھی نماز نہیں پڑھ سکتے، بلکہ غسل خانے یا اسٹوریج کے اندر نماز پڑھنی ہوتی ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کے مسلم نام رکھنے کی ممانعت ہے، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو سلام نہیں کر سکتے، اپنے گھروں میں اسلامی طرز پر شادی کی تقریب منع ہے۔ اس خطے میں حلال غذاؤں پر پابندی ہے، ویغور قوم کا کوئی شخص اگر دکاندار ہے تو اسے شراب فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انھیں صحت اور تعلیم کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ایک خاتون کو کہا گیا کہ اللہ اکبر کہو، اس نے منع کیا تو اس کی عصمت دری اور زدوکوب کیا گیا۔ کاشغر کی ستر فیصد مساجد نیست و نابود کردی گئیں اور جو بچی ہوئی ہیں ان کے اکثر امام حصار بند کیے جا چکے ہیں۔
یہ وہ حرکتیں ہیں جو چائنا اپنے اندرون ملک انتہا پسندی کو ختم کرنے کے نام پر جاری رکھے ہوئے ہے، اور باقی دنیا تک اس کی خبریں نہیں پہنچ پاتیں لیکن اب عالمی برادری واقف ہو چکی ہے۔ مسلمان مملکتوں سے تو کچھ امید نہیں، لیکن مسلمانوں کا ایک طبقہ اس پر صدائے احتجاج بلند کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اور سفارتی سطح پر کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔
قاضی القضاۃ فی الہند کا انتخاب
اس وقت بریلی شریف سے ہمارے سامنے اہم خبر قاضی القضاۃ کا انتخاب ہے۔ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کی رحلت عالم اسلام کے لیے بڑی افسوس ناک خبر تھی، اور یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ مدتوں تک اسلامیان ہند اسے بھلا نہ سکیں گے۔ لیکن اب ان کی جگہ ان کی یادگار حضرت علامہ اسجد میاں قبلہ کی مسند نشینی اشک شوئی کا بہترین ذریعہ ثابت ہوئی، اطمینان کی بات یہ ہے کہ مسلک اعلیٰ حضرت پر عمل کا جو نمونہ حضور تاج الشریعہ نے دنیا کے سامنے پیش کیا موصوف کے طرز عمل نے اسے قصہ پارینہ نہیں بننے دیا۔ اور اصول و فروع دونوں میں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمے رہنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اس انتخاب پر بے لگام سوشل میڈیا پر لوگوں کے مابین مختلف قسم کے تبصرے دیکھنے سننے کو ملے، کوئی حضرت اسجد میاں قبلہ کے علمی قد کو ناپنے کی کوشش کر رہا ہے، تو کسی کی نظر ان کی عمر پر ہے، اور کوئی علم و عمل کے اعتبار سے دیگر قد آور شخصیات کا حوالہ دیتا ہے لیکن ایسے لوگوں کی نظریں حضرت موصوف کے عزم و استقلال اور حضور تاج الشریعہ کے طرز عمل پر پامردی کے ساتھ استقامت پر نہیں، لوگوں نے قاضی القضاۃ کے منصب کے اجزائے ترکیبی کے متعلق نہ جانے کیا کچھ سوچ رکھا ہے۔ بہر حال، یہ ان کا خود کا فیصلہ نہیں، بلکہ اکابر علمائے کرام اور ارباب حل و عقد کا فیصلہ ہے، اس لیے ہم اس فیصلے اور انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہیں تفصیلی رپورٹ اندرونی صفحات پر مولانا ابو یوسف ازہری کے قلم سے ملاحظہ کریں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ حضرت علامہ اسجد رضا قبلہ مدظلہ العالی کو اللہ تعالیٰ ہمت و استقامت عطا فرمائے۔ [حوالہ: ماہنامہ پیغام شریعت دہلی مئی، جون 2019]

