Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

دورِ فتن، دردناک مناظر (قسط: اوّل)

دورِ فتن، دردناک مناظر (قسط: اوّل)
عنوان: دورِ فتن، دردناک مناظر (قسط: اوّل)
تحریر: صدر الافاضل سیّد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ
پیش کش: عالیہ فاطمہ انیسی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

اسلام! اے پیارے اسلام! اے دل کے مکین، کشورِ بدن کے سلطان، تجھ پر دل فدا، جان قربان۔ اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! میرے آرامِ جان، میرے دل کے چین، میرے درد کے درماں، اے میرے محسنِ مہربان، میری کشتی کے محافظ و نگہبان، تو نے میری خستہ حالی میں دستگیری کی، جس مصیبت سے میرے عزیز و اقارب، دوست، احباب، آبا و اجداد، فروع و اولاد مجھے نہیں بچا سکتے تھے، تو نے بچایا۔ جہاں میرا مال، میری دولت، میرے اعضا، میری قوت میرے کام نہ آ سکتے تھے، تو کام آیا۔ میں بھٹکتا تھا، تو نے راہ دکھائی۔ میں ڈرتا تھا، تو نے میری کشتی پار لگائی۔ میں اندھیرے میں ٹکراتا پھر رہا تھا، تو نے روشنی پھیلائی۔ اے حق کے آفتاب! تو نے ناحق کی رات کے کالے پردے چاک کر کے منہ نکالا۔ اے نور کے نیّرِ اعظم! تو نے ضلالت کی بھیانک تاریکیاں دور کر کے حق و ہدایت کا روزِ روشن دکھایا۔

اے اندھوں کو بینائی دینے والے! گونگوں، بہروں کو گویائی و سماعت عطا فرمانے والے! تو نے بگڑی دنیا کو درست کیا۔ انسان کی کھوئی ہوئی استعدادیں پھر عنایت فرمائیں۔ تو ہی حقیقی حیات، تو ہی کامیاب زندگی ہے۔ میری زبان تیری ثنا سے قاصر، میرا بیان تیری مدح سے کوتاہ ہے۔ تیرے مرتبے کی بلندی میرے ادراک کی رسائی سے بہت اونچی ہے۔ میرے دل میں قرار بن کر رہ، میرے جسم میں جان بن کر جلوہ گر ہو، میرے قالب میں تیرے احکام جاری ہوں، میرے جوارح تیرے کارگزار ہوں۔ اے ظاہر و باطن کے حسن! اے زندگی کے مقصود! دنیا تیرے فیض سے آراستہ ہوئی۔ مسموم ہواؤں کو تو نے صاف کیا۔ زہریلے مواد کی تو نے اصلاح کی۔ امن و امان کی ہوائیں تو نے چلائیں۔ باطنی امراض اور خلقی بیماریاں تیرے دستِ شفا سے دور ہوئیں۔ تہذیب و تمدن کے پودوں نے تیرے نسیمِ لطف سے تربیت پائی۔ خدا شناسی کے انوار تو نے چمکائے۔ طہارت و پاکیزگی کے اصول تو نے جاری کیے۔ عدل و انصاف کی بنیادیں تو نے مستحکم کیں۔ جذباتِ فاسدہ کے طوفان خیز سمندر میں تو نے سکون پیدا کیا۔ حرص و ہوا، شہوت و غضب کے دشمنِ انسانیت درندوں سے تو نے نجات دلائی، مخلوق پرستی کی وبا کا تو نے علاج کیا۔ مسجدیں تیری بدولت آباد ہوئیں۔ عبادت خانوں میں تیرے طفیل یادِ الٰہی کے نعرے بلند ہوئے۔ خانقاہوں میں ذکر کی صدائیں تو نے بلند کرائیں۔ زاہدوں کے خلوت خانے زہد و ریاضت کی برکات سے تو نے معمور کیے۔ ظلم و تعدی کے قلعے تو نے مسمار کیے۔ سبعیت و بہیمیت کی قیدوں سے تو نے رہائی دی۔ ملکوتی صفات تو نے رائج کیے۔ خاک نشینوں کو افلاک نشینوں پر تو نے فضیلت دی۔ ابلیسی حکومت کو تیری سطوت سے زوال ہوا۔ قلوب کا نور، ابدان کا مصلح، خاندان کا منتظم، ملک و سلطنت کا عادل و دادگر تو ہے۔ جہان تیرے فیض سے معمور ہے۔ دنیا تیرے صدقے سے آباد ہے۔

آہ اے محسن! آج تو اعداء کے نرغے میں ہے۔ بد نصیب قومیں محسن کشی پر آمادہ ہیں۔ بے دینی، فریب کاری کی چالیں چل رہے ہیں۔ بے قیدی اور فسق و فجور کی تند و تیز ہوا، بادِ خزاں تیرے لہلہاتے چمن کو غارت کرنا چاہتی ہے۔ ضلالت و گمراہی کی بجلی تیرے خرمنِ صدق و صفا کی تاک میں ہے۔ اے مشفق ناصح! اے مہربان مصلح! تیرے پروردے ناسپاسی کر رہے ہیں۔ ہر بد عقل، بد دماغ تیرا دشمن ہے۔ دنیا اندھی ہو رہی ہے۔ سیاہ باطن نہیں دیکھتے کہ ان پر تیرے کتنے احسان ہیں اور تیرے وجود سے ان کو کس قدر فائدے! خدا نہ کرے تیرا ظلِ حمایت و سایۂ کرم اٹھے تو وہ ہلاک ہو جائیں۔ تیری عداوت اپنی ہلاکت کی دعوت ہے۔ بد قسمت بدحواس ہو کر اپنے انجام سے غافل ہیں اور تجھے ضرر پہنچانے کی تدبیروں میں رات دن سرگرم ہیں۔ چاروں طرف بدخواہی کی آندھیاں چل رہی ہیں، مخالفتوں کے طوفان امنڈ امنڈ کر آ رہے ہیں اور تیرے قدموں سے اپنے سر ٹکرا رہے ہیں۔

اے بہادر کہے جانے والے دشمن! وہ کبھی تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکے، انہیں دشمنی کرتے صدیاں گزر گئیں۔ وہ تیری مخالفت کے جوش میں خود برباد ہو گئے مگر ناکام رہے۔ تیرے اقتدار میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ خود پیوندِ خاک ہو گئے، ان کے نام و نشان مٹ گئے اور تیری شوکت و اقبال کا پرچم لہراتا رہا۔ اب پھر مخالفت کی گھٹائیں گھر کر آئی ہیں، دشمنوں نے ہر طرف سے حملے شروع کیے ہیں۔ تمام قسم کے اسلحے اور جنگی سامانوں سے لیس ہو کر دشمن گھات میں لگے ہوئے ہیں۔

تیری بہادری کے قربان! تیری پیشانی پر شکن نہیں۔ تو ان فوجوں کو خیال میں نہیں لاتا۔ مگر رنج و افسوس یہ ہے کہ آج خود تیرے لشکر میں بغاوت شروع ہو گئی ہے۔ تیری فوجیں دشمنوں سے ساز باز کر گئی ہیں۔ تیرے سپاہی غدار ہو گئے ہیں، موافقت کے لباس میں بدخواہیاں کرنے لگے۔ مسلمان کہلانے والے، اسلامی نام رکھنے والے، اسلام کے دعوے دار، اسلام کی بیخ کنی پر تل گئے۔ یہ سخت خطرے کا وقت ہے۔ کہلاتے ہیں لیڈرانِ اسلام اور کام کرتے ہیں کفار کے! کبھی ہندوؤں کے آلۂ کار بنتے ہیں تو قربانیِ گاؤ کے مخالف کوششیں جاری ہیں، چیخ چیخ کر تقریریں کی جا رہی ہیں، کتابیں لکھی جاتی ہیں، اخباروں کے کالم کے کالم سیاہ کیے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو قربانی سے روکنے کے لیے مسلم نما جماعتیں میدان میں اتر آتی ہیں۔ کبھی مسجدوں کے سامنے باجہ بجانے کی ضد پر ہندوؤں کی موافقت کی جاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!