| عنوان: | دورِ فتن، دردناک مناظر (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل سیّد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
کبھی مظلوم مسلمانوں کو ان کے مطالبات سے دست بردار ہونے پر زور دیا جاتا ہے۔ کبھی فرزندانِ اسلام کی پیشانیوں پر ٹیکے لگوائے جاتے ہیں، جے پکاروائی جاتی ہے، ارتھیاں اٹھوائی جاتی ہیں؛ کہیں بتوں کے جلوسوں میں شرکتیں کی جاتی ہیں، نعرے لگائے جاتے ہیں۔ کہیں بتوں کے درشن کے لیے مسلمانوں سے مشرکانہ رسمیں ادا کرائی جاتی ہیں، کہیں مرے ہوئے ہندوؤں کو مرحوم اور شہید لکھا اور چھاپا جاتا ہے، ان کو ”جنتی“ کہا جاتا ہے۔ کفار کے مقبولِ بارگاہ ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے، رام اور کرشن کو نبی اور پیغمبر بنایا جاتا ہے۔ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو اسلام کے فقط دعوے دار ہی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی رہنمائی کے مدعی اور ان کے لیڈر بنتے ہیں۔ بہت سے لوگ عمامے اور جبے پہن کر علماء کی وضع بنا کر یہ کام انجام دیتے ہیں۔ جاہل مسلمان کہاں تک دھوکا نہ کھائیں گے؟
جن کو اپنا لیڈر جانتے ہیں ان کی زبانوں سے جب مشرکوں کی تعریف و حمایت کے کلمات سنیں گے، کہاں تک نہ بہکیں گے! مسلمان صورت مقرروں کی تقریروں سے کہاں تک دھوکے نہ کھائیں گے! اسلامی نام والے اخباروں کے مغالطے میں کہاں تک نہ آئیں گے! کبھی یہ بدخواہانِ اسلام نصرانیت اور دہریت کا پروپیگنڈا کرنے لگتے ہیں اور اسلام کی شکل و شان تک باقی چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ان کی کوششیں ہوتی ہیں کہ اسلام کے تمام خصوصیات و امتیازات مٹا ڈالے جائیں، اسلامی شعائر کو نیست و نابود کر دیا جائے اور دینی پابندیاں اٹھا دی جائیں۔
پردے کے خلاف تقریریں ہوتی ہیں، عورتوں کو منظرِ عام پر بے پردہ نکالا جاتا ہے، اجنبی اور غیر مردوں سے خواتین کے ہاتھ ملوائے جاتے ہیں، لباس میں نصاریٰ کی تقلید کی جاتی ہے۔ عورتوں کو برہنہ کر ڈالا جاتا ہے، ان کے لباس میں آستین کا نام و نشان تک نہیں ہوتا۔ بدن کی عریانی سے غیرت اور ناموس کو ذبح کیا جاتا ہے، آدھی چھاتیاں کھول کر فاسد جذبات میں ہیجان کے سامان کیے جاتے ہیں۔ عورتوں کے بال کٹوائے جاتے ہیں، ان کو لڑکوں کی صورت بنا کر بے باک کر دیا جاتا ہے۔ اسلام کے آئین کی دلیری سے مخالفت کی جاتی ہے۔ مرد ٹوپ لگاتے ہیں اور اس کی دوسروں کو ترغیب دلاتے ہیں۔ مسجدوں میں جوتا پہن کر جانے کی تحریکیں کی جاتی ہیں، استنجے کے خلاف مضامین لکھے جاتے ہیں، سود کے جائز کرنے کے لیے پوری طاقت صرف کر دی جاتی ہے۔ اسلام کے زر پرست دعوے دار ان تمام حیا سوز اور مخالفِ دین امور کی ترویج میں قلمی اور زبانی قوتیں صرف کرتے ہیں۔
اسی پر بس نہیں کہ فسق و فجور میں مبتلا ہیں، اس سے آگے بڑھ کر یہ ستم ہے کہ اپنے ناقص افعال کو جائز ثابت کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اور اس کے لیے نصوص میں لفظی اور معنوی تحریفیں کی جاتی ہیں۔ مخالفینِ اسلام کے کھلے میدانی مقابلوں سے کہیں زیادہ مدعیانِ اسلام کا یہ طریقِ عمل ضرر رساں ہے اور اس قسم کے مسلم صورت اعدائے دین اسلام کی مخالفت میں جلد کامیاب ہوتے ہیں اور بہت لوگوں کو اپنے ساتھ لے ڈوبتے ہیں؛ کیوں کہ لوگوں کو ان کے نام, صورت اور ان کے دعوائے اسلام سے ان کے ساتھ انس ہو جاتا ہے، ان کا اعتبار کرتے ہیں اور ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ کھلے کافر ہو کر اپنے ان مقاصد کی اشاعت کرنا چاہتے تو انہیں اصلاً کامیابی نہ ہوتی، نہ ان کے کہنے سے عورتیں بے پردہ و برہنہ کی جاتیں، نہ ان کے بال کٹوائے جاتے، بلکہ ایسی تحریک کرنے والا مصیبت میں آ جاتا اور اس پر ہر طرح سے ملامت و نفرت کی جاتی۔
سبز رنگے بہ خطِ سبز مرا کردہ اسیر
دامِ ہم رنگِ زمیں بود گرفتار شدم
(یعنی سبز تحریر کے ساتھ ایک سبز رنگ نے مجھے قیدی بنا لیا، جال بھی زمین کا ہم رنگ تھا تو میں گرفتار ہو گیا۔ نعیمی)
یہ اجانب اپنوں کی شکل و صورت میں نہ ہوتے تو لوگ ان سے دھوکا نہ کھاتے۔ ان کا ضرر سب سے زیادہ اور ان کا فتنہ سب سے سخت تر ہے اور بکثرت لوگ ان کے دام میں گرفتار ہیں۔ پھر لطف یہ کہ دینی مناصب و مراتب کے مدعی علمِ دین سے محض نابلد اور اپنے آپ کو علماء میں شمار کریں اور علمائے دین پر تبرا اور سب و شتم اپنا پیشہ کر لیں۔ خود پیر بنیں اور مشائخِ کرام پر بے جا عیب گیری و تبرا کریں، بے دینی پھیلائیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا پیشوا قرار دیں، گمراہی کو رواج دیں اور تبلیغ کے نام سے مسلمانوں کی جیبیں خالی کر ڈالیں۔ ان مفسدہ پردازوں سے رہائی سخت دشوار ہے اور اگر اس قسم کے غدار پیدا ہوتے رہے تو مستقبل بہت تاریک ہو جائے گا۔
مسلمانوں کو ہوش میں آنا چاہیے اور وہ ایسے دشمنانِ دین کو ہرگز ہرگز قوت نہ پہنچائیں۔ ان کی تقریر نہ سنیں، تحریر نہ دیکھیں۔ ان کی فریب کاری کو بے التفاتی سے ٹھکرا دیں۔ یہی سلوک بے قید ایڈیٹروں اور خود بین اخباروں کے ساتھ برتا جائے جو دینی مسائل میں خود رائی سے صفحے کے صفحے کالے کرنے پر جری ہو گئے ہیں، جب تک یہ طریقِ عمل اختیار نہ کیا جائے اس فتنے کا سیلاب نہ رکے گا۔
(السواد الأعظم، جمادی الاُولٰی والاُخرٰی، ۱۳۴۸ھ، ص ۲ تا ۶)
