عنوان: تقریظ مولانا محمد شفیع اعظمی
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد
استادِ گرامی حضرت مولانا محمد شفیع اعظمی علیہ الرحمہ کے مختصر حالات پر یہ دل کش مرقع عزیزی شکیل احمد بھیروی سَلَّمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى وَزَادَهُ عِلْمًا نَّافِعًا وَّعَمَلًا مُّتَقَبَّلًا کی کوششوں سے منظرِ عام پر آ رہا ہے۔
وہ چلتے پھرتے، ملتے ملاتے اچانک ہم سے جدا ہو گئے، اس ناگہاں جدائی پر معمول سے زیادہ کرب و الم اور صدمہ ہونا فطری امر ہے۔ متعدد اہلِ تعلق نے قلم سے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا، ان کے کچھ حالات بھی لکھے، وہ رسالوں میں شائع بھی ہوئے، مگر رسائل کا حال یہ ہے کہ ایک بات کوئی چیز ان میں چھپی، ماہ دو ماہ نظر کے سامنے رہی، پھر غائب ہوئی تو اسے تلاش کرنا مشکل۔ عزیز موصوف نے ان منتشر موتیوں کو یکجا کر کے انہیں نئی زندگی دے دی، اور کچھ نئے مضامین بھی حاصل کیے، خصوصاً حضرت بحرالعلوم کے رشحاتِ قلم بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
محبِ گرامی مولانا بدر القادری نے بھی تازہ مضمون ارسال کیا اور عجلت کے باوجود ذرا بسط سے لکھا۔ یقیناً آپ ان سبھی مضامین سے مستفید و محظوظ ہوں گے۔
میری بیماری یہ ہے کہ یکسوئی اور سکون کے بغیر کچھ لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے جس کا نقصان یہ ہے کہ یکسوئی کی تلاش میں کبھی عرصہ گزر جاتا ہے اور کام کا وقت نکل چکا ہوتا ہے، تاہم یہاں عجلت میں چند سطور قلم بند کر رہا ہوں جو ان مضامین کی تائید اور تلخیص کہی جا سکتی ہیں۔
حضرت مولانا محمد شفیع اعظمی علیہ الرحمہ ایک بلند پایہ عالم تھے، اتنے بلند کہ بہت سے قد آور علما ان کی درس گاہِ فیض سے اٹھے۔ معقولات و منقولات پر بھی وہ عبور رکھتے تھے اور ادب میں خاص امتیاز کے حامل تھے۔ میں نے ان سے فقہ میں ہدایہ اولین، حدیث میں مشکوٰۃ شریف، منطق میں میر قطبی اور ادب میں دیوانِ متنبی کا درس لیا اور عربی انشائی مشق خاص طور سے انہیں کے یہاں تقریباً ایک سال کرتا رہا، ہر فن کو وہ مہارت اور دلچسپی سے پڑھاتے، طلبہ پر بہت شفیق اور مہربان تھے، انہیں صاحبِ کمال بنانے کا خاص جذبہ رکھتے تھے۔
دینداری، پرہیزگاری اور اخلاص و ایثار میں اپنے بیشتر اقران پر فائز تھے۔ قومی و ملی مسائل سے دلچسپی رکھتے تھے اور حتی المقدور ان میں حصہ لینے بلکہ پیش قدمی کرنے کی کوشش فرماتے۔ تحریر میں خاص ملکہ حاصل تھا۔
ان کے بہت سے مضامین اشاعت پذیر بھی ہوئے، شعر و سخن کا ذوق تھا۔ دارالعلوم اشرفیہ کے تدریسی کارواں کے رکنِ رکین تو وہ عرصۂ دراز سے تھے، 1974ء میں حافظِ ملت علامہ عبد العزیز مراد آبادی قُدِّسَ سِرُّهُ الْعَزِيْزُ کی سربراہی میں جب مجلسِ منتظمہ کی تشکیل ہوئی تو ادارہ کے انتظامی و تعمیری قافلہ کے بھی وہ خاص رکن رہے اور حافظِ ملت کی معیت میں اپنی منصبی ذمہ داریاں بڑی محنت و دل سوزی سے انجام دیتے رہے، بلکہ قافلہ سالار کی رحلت کے بعد بھی تقریباً دس سال تک بڑی ذمہ داری سے نظامت کے فرائض انجام دیتے رہے، ادارے کو ان کا بدل اب تک نہ مل سکا۔
ان کے طویل عرصۂ تدریس میں اشرفیہ میں ہزاروں طلبہ آئے، ان میں سے اکثر ان کے تلامذہ شرف یاب ہیں اور سبھی ان کے مداح و قدر داں ہیں۔
نرم مزاج، سادگی و خاکساری کا پیکر، خاموش طبع، کم گو، شگفتہ مزاج، کبھی کبھی بڑی خندہ پیشانی سے ملتے اور خوش طبعی سے پیش آتے تھے۔ افکار سے گراں بار بھی رہتے، ان کا اثر بھی نظر آتا۔ مختصر یہ کہ علم و عمل، افکار و خیالات، اخلاق و کردار اور دینی و علمی، قومی و ملی خدمات ہر لحاظ سے وہ ایک بلند پایہ اور ممتاز انسان تھے۔
اس اجمال کی تفصیل اگلے اوراق میں ملاحظہ فرمائیں اور مزید تفصیل مزید مبسوط مضامین کی طالب ہے۔ ربِ کریم وابستگانِ دامن کو توفیقِ خیر سے نوازے۔ [حوالہ: مقالاتِ مصباحی، ص: 583]
محمد احمد مصباحی غفرلہ
بھیہرہ ولید پور، ضلع مئو۔
شیخ الادب، الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ۔
13 رجب 1415ھ، مطابق 16 دسمبر 1994ء، شبِ شنبہ۔
