| عنوان: | صاحب ہدایہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا عبد الحیی فرنگی محلی |
| پیش کش: | سائرہ الطاف امجدی |
احادیث ہدایہ
ہدایہ میں صرف احادیث پیش کی گئی ہیں۔ ان کی سند یا حوالہ درج نہیں، کیونکہ اختصار مقصود تھا۔ اس سے بعض حضراتِ شافعیہ کو موقع ملا اور انھوں نے یہ جرح کر دی کہ صاحبِ ہدایہ نے ضعیف اور غیر معتبر حدیثیں ذکر کر دی ہیں۔ مگر یہ الزام مصنف کی جلالتِ شان اور علمِ حدیث میں ان کے رتبۂ بلند سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ اسی جرح و طعن کے پیشِ نظر بعض گرامی قدر علما نے ہدایہ میں ذکر کردہ احادیثِ کریمہ کی اسنادی حالت واضح کرنے کی طرف توجہ مبذول فرمائی، اور ہر حدیث کے حسن، صحیح، ضعیف یا قوی ہونے کی صراحت کرتے ہوئے یہ بیان فرمایا کہ فلاں حدیث فلاں کتاب میں مروی ہے۔ شیخ محی الدین عبد القادر بن محمد قرشی مصری (676ھ یا 696ھ - 775ھ) نے اس مقصد کے تحت "العناية بمعرفة أحاديث الهداية" لکھی۔ شیخ علاء الدین نے ”الكفاية في معرفة أحاديث الهداية" اور شیخ جمال الدین عبد اللہ بن یوسف زیلعی (متوفی 762ھ) نے "نصب الراية لأحاديث الهداية" تصنیف کی جس کی تلخیص امام الحفاظ احمد بن علی معروف بابن حجر عسقلانی شافعی (773ھ - 852ھ) نے کر کے اس کا نام "الدراية في منتخب أحاديث الهداية" رکھا۔ یہ کتاب موجودہ مطبوعاتِ ہدایہ کے حاشیے پر دیکھی جاسکتی ہے۔
ایک حدیثی بحث اور خاتمہ
صاحبِ ہدایہ نے اپنے شیخ، صاحبِ خلاصہ کے والد شیخ احمد بن عبد الرشید علیہ الرحمہ کی سند سے ایک حدیث روایت کی ہے۔ برہان الاسلام زرنوجی شاگردِ صاحبِ ہدایہ اپنی کتاب "تعليم المتعلم" کی "فصل" بدایۃ السبق میں لکھتے ہیں: ہمارے استاذ شیخ الاسلام برہان الدین سبق شروع کرانے کو بدھ پر موقوف رکھتے اور اس بارے میں یہ حدیث روایت کرتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
مَا مِنْ شَيْءٍ بُدِئَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ إِلَّا تَمَّ.
ترجمہ: ”بدھ کے دن جس کام کا آغاز ہو وہ ضرور انجام کو پہنچے۔“
اور اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ بھی کیا کرتے۔
بعض محدثین نے اس حدیث کی صحت میں کلام کیا ہے۔ شمس الدین محمد بن عبد الرحمن سخاوی شافعی (ربیع الاول 831ھ - شعبان 902ھ) "المقاصد الحسنة في الأحاديث المشتهرة على الألسنة“ میں فرماتے ہیں:
لَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى أَصْلٍ وَيُعَارِضُهُ حَدِيثُ جَابِرٍ مَرْفُوعًا يَوْمُ الْأَرْبِعَاءِ يَوْمُ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ترجمہ: ”میں اس کی کسی اصل پر مطلع نہ ہوا۔ اور اس کے معارض حضرت جابر کی مرفوع حدیث ہے کہ چہار شنبہ (بدھ) دائمی نحوست کا دن ہے۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے اور یہ ضعیف ہے۔“
لیکن ظاہر ہے کہ جب صاحبِ ہدایہ نے یہ حدیث اپنی معتبر سند کے ساتھ روایت کی ہے تو اگر امام سخاوی جن کی ولادت و وفات شیخ الاسلام کے 237 سال 3 ماہ بعد ہے، کسی دوسری جگہ اس کی اصل نہیں پاتے تو صاحبِ ہدایہ کی روایت کردہ حدیث پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ رہا ان کا یہ فرمانا کہ اس کے معارض اوسط طبرانی (ابو القاسم سلیمان بن احمد 260ھ - 360ھ) کی ایک ضعیف حدیث موجود ہے، تو اس کے ظاہر معنی مراد لینے کے باعث خود علامہ سخاوی پر تنقید کی گئی ہے۔ مجددِ اسلام ملا علی قاری بن سلطان محمد ہروی (متوفی 1014ھ) اپنے رسالہ ”المصنوع في معرفة الحديث الموضوع" میں رقم طراز ہیں:
إِنَّ مَعْنَاهُ كَانَ يَوْمًا نَحْسًا مُسْتَمِرًّا عَلَى الْكُفَّارِ فَمَفْهُومُهُ أَنَّهُ سَعْدٌ مُسْتَقِرٌّ عَلَى الْأَبْرَارِ.
ترجمہ: ”اس کے معنی یہ ہیں کہ چہار شنبہ کفار پر دائمی نحوست کا دن ہے۔ جس کا مفہوم یہ نکلے گا کہ مسلمانوں کے لیے ہمیشہ سعد کا دن ہے۔“
مزید فرماتے ہیں، امامِ حفاظِ حدیث ابن حجر عسقلانی شافعی (773ھ - 852ھ) کا بیان ہے کہ بعض صالحین سے جن کی ملاقات کا ہمیں شرف حاصل ہے، مجھے خبر پہنچی ہے کہ چہار شنبہ نے بارگاہِ خداوندی میں شکایت کی کہ لوگ مجھے منحوس جانتے ہیں تو خدائے تعالیٰ نے اسے یہ شرف عطا فرمایا کہ اس میں جس چیز کی ابتدا ہو، ضرور پوری ہو۔ صرف یہی دو حضرات نہیں ایک جماعتِ محدثین نے طبرانی کی حدیثِ مذکور کے یہی معنی لیے ہیں۔ جن میں بیہقی بھی ہیں، وہ اپنی کتاب شعب الایمان میں یہی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں:
أَيْ عَلَى الْمُفْسِدِينَ لَا عَلَى الْمُصْلِحِينَ كَالْأَيَّامِ النَّحِسَاتِ كَانَتْ نَحِسَاتٍ عَلَى الْكُفَّارِ مِنْ قَوْمِ عَادٍ لَا عَلَى نَبِيِّهِمْ وَمَنْ آمَنَ بِهِ مِنْهُمْ.
ترجمہ: ”یعنی چہار شنبہ مفسدین کے لیے نحس ہے مصلحین کے لیے نہیں، جیسے قرآن میں مذکور ”ایام نحسات“ قومِ عاد کے کفار کے لیے تو نحس تھے، مگر اس قوم کے نبی اور مومنین کے لیے نحس نہ تھے۔“
اس دلیل کی تائید اور روزِ چہار شنبہ کی فضیلت میں ایک حدیث ہے، جس سے صاحبِ ہدایہ کی روایت کردہ حدیث کی اصلیت ثابت ہوتی ہے۔ امام بخاری نے الادب المفرد، امام احمد بن حنبل (164ھ - 241ھ) اور ابوبکر احمد بزار (متوفی 292ھ) نے اپنی سند سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے:
دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ الْفَتْحِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَاسْتُجِيبَ لَهُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، أَيِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ. قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَنْزِلْ بِي أَمْرٌ مُهِمٌّ إِلَّا تَوَخَّيْتُ تِلْكَ السَّاعَةَ فَدَعَوْتُ اللَّهَ فِيهِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ إِلَّا عَرَفْتُ الْإِجَابَةَ.
ترجمہ: ”رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد، مسجدِ فتح میں دوشنبہ، سہ شنبہ، چہار شنبہ کو دعا کی، تو چہار شنبہ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان دعا مقبول ہوئی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں مجھے جب بھی کوئی اہم امر درپیش ہوا، میں اسی ساعت کی جستجو میں رہا، اور روزِ چہار شنبہ ظہر و عصر کے درمیان دعا کی تو نشانِ قبول ضرور دیکھ لیا۔“
نویں صدی کے مجدد، خاتم الحفاظ علامہ جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکر سیوطی شافعی (متوفی 911ھ) اپنے رسالہ "سهام الإصابة في الدعوات المستجابة“ میں فرماتے ہیں: "إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ" (اس کی سند عمدہ ہے)۔ نور الدین علی بن احمد سمہودی (م 911ھ) "وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفىٰ“ میں فرماتے ہیں: "رِجَالُهُ ثِقَاتٌ" (اس کے رجال ثقہ ہیں)۔
اس حدیث سے مستفاد ہوا کہ چہار شنبہ کے دن اجابتِ دعا کا ایک وقت ہے، اس لیے علما نے بہتر سمجھا کہ سبق اندازی اسی دن ہو، کیونکہ جب بھی کوئی شخص اہم کام شروع کرتا ہے تو اعانت، توفیق اور اتمامِ کام کے لیے دعا کرتا ہے، اور اُس روز و وقت میں دعا شرفِ قبول سے سرفراز ہوتی ہے، اور کام مکمل ہوتا ہے۔
اور چہار شنبہ کے اہلِ اسلام کے لیے سعد ہونے کی اہم دلیل تو یہی ہے کہ گزشتہ اقوامِ کفار کے لیے جب یہ نحس اور نزولِ عذاب کا دن تھا، تو ظاہر ہے کہ مومنین کے لیے انعام و نجات کا دن ہوا۔ اور اس امتِ کریمہ کے لیے خاص کر سعد ثابت ہوا کیونکہ اسی دن رحمتِ عالم ﷺ کی مبارک دعا قبولیت سے سرفراز ہوئی۔
بہر حال یہ تھی ایک ذیلی تفصیل جو صاحبِ ہدایہ کی روایت کردہ حدیث پر جرح کی وجہ سے پیش کی گئی۔ اس باب میں مزید تفصیلات و افادات امام احمد رضا قادری بریلوی رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کے رسالہ "منير العين في تقبيل الإبهامين“ اور اس میں مندرج رسالہ "الهاد الكاف لأحاديث الضعاف" اور بعض دیگر رسائل کے جستہ جستہ مقامات سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
مضمون کے ماخذ
مقدمة هدايه، الفوائد البهية في تراجم الحنفية، التعليقات السنية على الفوائد البهية (مولانا عبد الحئی فرنگی محلی 1264ھ - 1304ھ)، العطايا النبوية في الفتاوى الرضوية (امام احمد رضا قادری بریلوی 1272ھ - 1340ھ)، طبقات کفوی تلخیص شدہ در فوائد بہیہ، ہدایہ، حاشیہ ہدایہ مولانا فرنگی محلی۔
