Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سنت کی آئینی حیثیت (قسط اول)|محمد احمد مصباحی


سنت کی آئینی حیثیت (قسط اول)
عنوان: سنت کی آئینی حیثیت (قسط اول)
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سنت کی آئینی حیثیت (قسط اول)

تقدمہ (1)

قرآن کریم خدا کا آخری پیغام اور لافانی سرچشمۂ ہدایت ہے۔ وہ رہتی دنیا تک عالمِ انسانیت کی ہدایت و فلاح کا ضامن ہے۔ ربِ کریم نے اپنے رسولِ انور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم پر اسے ہر چیز کے واضح بیان کی صورت میں اتارا اور مسلمانوں کے لیے ان کا دینِ کامل کر دیا۔ ارشادِ ربانی ہے:

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۔

"اور ہم نے تم پہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور بشارت مسلمانوں کے لیے۔" [النحل، آیت: 89]

اور فرماتا ہے:

الْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۔

"آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔" [المائدہ، آیت: 3]

لیکن کیا ہر شخص قرآنِ کریم سے ہر طرح کے تمام معانی و مطالب نکال سکتا ہے؟ یا کم از کم شریعت کے تمام احکام صرف قرآنِ کریم کے مطالعہ سے واضح اور قطعی طور پر جان سکتا ہے؟ یہ ایک ضروری اور اہم سوال ہے جس کا جواب ان کے ذمہ ہے جو حدیثِ رسول سے بے نیازی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ہر شخص تو درکنار یہ کام ہر عالم کے بس کا بھی نہیں، بلکہ امت کا بڑے سے بڑا عالم بھی سنتِ رسول سے بے نیاز ہو کر اسے انجام نہیں دے سکتا۔ اجلہ صحابہ کرام بھی رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تفہیم کے محتاج رہے، جس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ اسی لیے ربِ کائنات ارشاد فرماتا ہے:

وَاَنْزَلْنَا اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ۔

"اور اے محبوب! ہم نے تمھاری طرف یہ ذکر اتارا تاکہ تم لوگوں کے سامنے اسے بیان کرو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں۔" [النحل، آیت: 44]

رسول اللہ ﷺ کے اوپر تعلیم و توضیح کی ذمہ داری اسی لیے رکھی گئی کہ امت کے لیے معانیِ قرآن تک پورے طور سے رسائی ممکن نہیں، مثلاً قرآن میں نماز قائم کرنے کا حکم موجود ہے مگر نماز کے مقررہ اوقات کی تفصیل، رکعتوں کی تعداد، ارکان کی ترتیب، اذکارِ نماز کی تعیین، اور ادائیگی کا مکمل طریقہ کوئی بڑے سے بڑا مجتہد بھی محض قرآن سے واضح اور حتمی طور پر نہیں نکال سکتا، اس کے لیے بیانِ رسول اور عملِ رسول کی ضرورت ہے۔ بلکہ قرآن کی صفت تو یہ ہے کہ:

يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا وَّيَهْدِيْ بِهٖ كَثِيْرًا۔

بہت کو خدا اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہت کو ہدایت دیتا ہے۔ [البقرہ، آیت: 26]

اس لیے قرآن نے رسول کی جانب رجوع کی ہدایت فرمائی۔ رب العالمین کا فرمان ہے:

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا۔

"اور جو کچھ تمھیں رسول عطا فرمائیں وہ لو، اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔" [الحشر، آیت: 7]

اور بارگاہِ رسول سے سرتابی کرنے والوں کی یوں مذمت فرمائی:

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَا اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا۔

"اور جب ان سے کہا جائے اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کی طرف اور رسول کی طرف آؤ تو تم دیکھو گے کہ منافق تم سے منہ موڑ کر پھر جاتے ہیں۔" [النساء، آیت: 61]

مگر احادیثِ رسول میں بھی قیامت تک پیدا ہونے والے ہر معاملہ سے متعلق احکام کا صریح بیان موجود نہیں، خلفائے راشدین ہی کے زمانے میں ایسے مسائل درپیش ہوئے جن کا جواب صراحتاً انھیں حدیث سے نہ مل سکا اور اجماع یا قیاس کے ذریعہ ان کا حل تلاش کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حدیث کے بعد بھی اجماع یا قیاس سے اخذِ احکام کی حاجت باقی رہتی ہے۔ لیکن یہ بھی واضح رہے کہ کتاب و سنت اور اجماع کی روشنی میں قیاس و اجتہاد کے ذریعہ استخراجِ احکام پر بھی سب کو قدرت نہیں ہوتی بلکہ جن کو علوم و فنون میں کافی مہارت اور خدا کی جانب سے فقاہت کا ملکہ عطا ہوا ہو وہی اس سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے عام لوگوں کو اہل علم کی جانب رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

فَسْئَلُوْا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔

"تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں، روشن دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ بھیجا۔" [النحل، آیت: 43]

امام احمد رضا قدس سرہ تفسیر معالم التنزیل کے حاشیے میں اس مقام پر فرماتے ہیں:

أقول هذا من محاسن نظم القرآن العظيم، أمر الناس أن يسألوا أهل الذكر العلماء بالقرآن العظيم، وأرشد العلماء أن لا يعتمدوا على أذهانهم في فهم القرآن بل يرجعوا إلى ما يبين لهم النبي ﷺ، فرد الناس إلى العلماء، والعلماء إلى الحديث، والحديث إلى القرآن، وإن إلى ربكم المنتهى فكما أن المجتهدين لو تركوا الحديث ورجعوا إلى القرآن لضلوا، كذلك العامة لو تركوا المجتهدين ورجعوا إلى الحديث لضلوا، ولهذا قال الإمام سفيان بن عيينة أحسبه الحديث قريب زمن الامام الأعظم و الامام مالك رضي الله تعالى عنهم: الحديث مضلة إلا للفقهاء نقله عنه الامام ابن الحاج المكي في المدخل.

"میں کہتا ہوں یہ عبارتِ قرآنی کا حسن ہے کہ عام انسانوں کو یہ حکم دیا کہ اہل ذکر یعنی علماء سے دریافت کریں، اور علماء کو یہ ہدایت فرمائی کہ فہمِ قرآن کے معاملے میں اپنے ذہن پر بھروسہ نہ کریں بلکہ بیانِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جانب رجوع کریں۔ اس طرح عوام کا مرجع علماء، علماء کا مرجع حدیث، حدیث کا مرجع قرآن ٹھہرا، اور بلا شبہ انتباہ ہی کی جانب ہے۔ جیسے یہ ہے کہ مجتہدین اگر حدیث ترک کر دیں اور صرف قرآن کی طرف رجوع لائیں تو گمراہ ہو جائیں اسی طرح یہ بھی ہے کہ عوام حضرات مجتہدین کو چھوڑ دیں اور خود حدیث کی جانب رجوع کرنے لگیں تو گمراہ ہو جائیں۔ اسی لیے امام اعظم و امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قریب زمانے کے ایک جلیل القدر امامِ حدیث حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: غیر فقہاء کے لیے حدیث گمراہی کی جگہ ہے۔ (یعنی آدمی، اگر فقاہت سے خالی ہے تو حدیث سے گمراہی میں پڑ سکتا ہے جیسے حدیث و فقاہت کے بغیر خود قرآن سے گمراہی میں پڑ سکتا ہے۔) اسے امام ابن الحاج مکی نے امام موصوف سے 'مدخل' میں نقل فرمایا۔"

عارف باللہ امام عبد الوہاب شعرانی میزان الشریعۃ الکبریٰ میں فرماتے ہیں:

تأمل يا اخي لولا ان رسول الله ﷺ فصل بشريعته ما أجمل في القرآن لبقى القرآن على إجماله كما أن المجتهدين لولم يفصلوا ما أجمل في السنة لبقيت السنة على إجمالها، وهكذا إلى عصرنا هذا.

"برادرم! غور کر، اگر رسول اللہ ﷺ اپنی شریعت سے قرآنِ عظیم کے مجمل امور کی تفصیل نہ فرماتے تو قرآن کریم یوں ہی مجمل رہ جاتا۔ اسی طرح ائمہ مجتہدین اگر حدیث کی مجمل باتوں کی تفصیل نہ فرماتے تو حدیث یوں ہی مجمل رہ جاتی۔ اسی طرح ہمارے زمانے تک۔"

یہی وجہ ہے کہ دینِ حق کی بنیاد اور احکامِ شرعیہ کی اساس چار چیزوں پر رکھی گئی: (1) قرآن (2) سنت (3) اجماع (4) قیاس۔ اس کی نشان دہی خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن و سنت کے مرجع ہونے سے متعلق تو بہت آیات ہیں، بعض اوپر نقل بھی ہوئیں۔ اب سنت و اجماع دونوں کے حجت ہونے سے متعلق یہ آیتِ کریمہ ملاحظہ ہو:

وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا۔

"اور جو رسول کا خلاف کرے اس کے بعد کہ حق راستہ اس پر کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا ہو چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ کیا ہی بری پلٹنے کی جگہ ہے۔" [النساء، آیت: 115]

معلوم ہوا کہ رسولِ کریم کی مخالفت اور مسلمانوں کے اجتماعی طریقہ سے سرتابی جہنم رسی کا باعث اور عذابِ الہی کا سبب ہے۔ اس سے جہاں اتباعِ رسول کا وجوب ثابت ہوتا ہے وہیں "سبیلِ مومنین" (مسلمانوں کے اجتماعی راستے) کی پیروی کا وجوب بھی ثابت ہوتا ہے۔

قیاسِ مجتہدین کی حجیت، فقہائے دین کی جانب رجوع، ان کی تعلیم پر اعتماد اور ان کے ارشادات کے اتباع سے متعلق درجِ ذیل آیات ملاحظہ ہوں:

(1) "اہلِ ذکر سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں۔" [النحل، آیت: 43] تفصیل گزر چکی ہے۔

(2) اور فرمایا:

وَاِذَا جَاءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلَى اُولِي الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ۔

"اور جب ان کے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں، اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں استنباط اور کاوش کرتے۔" [النساء، آیت: 83]

معلوم ہوا کہ ربِ کریم نے امت کے کچھ افراد کو استنباط کی قوت بخشی ہے، وقتِ حاجت عام مسلمانوں کو ان کی جانب رجوع کرنے ہی میں نجات ہے۔

(3) اور فرمایا:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قومَهُمْ اِذَا رَجَعُوْا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَ۔

"اور مسلمانوں سے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ سب کے سب نکلیں، تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ دین میں فقاہت حاصل کریں، اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔" [التوبہ، آیت: 122]

[حوالہ: مقالاتِ مصباحی، ص: 585 تا 588]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!