| عنوان: | فرقہ بجنوریہ (فرقہ سراویہ) (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | اقراء شیخ |
بِاسْمِهِ تَعَالَى وَبِحَمْدِهِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ الْأَعْلَى وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ
1۔ خلیل بجنوری اور تکفیر دیابنہ کا انکار
فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ (نانوتوی، گنگوہی، انبیٹھوی و تھانوی) کے کفر کلامی کے منکرین اور معمولات اہل سنت کو ادا کرنے والے گروہ کو فرقہ بجنوریہ اور فرقہ سراویہ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ معمولات اہل سنت یعنی فاتحہ و نیاز، ایصال ثواب و زیارت قبر، میلاد و عرس و دیگر معمولات اہل سنت پر بھی کار بند ہیں اور اشخاص اربعہ کی تکفیر کے بھی منکر ہیں۔ ایسے مذبذبین برصغیر میں بھی موجود ہیں اور دیگر ممالک عالم میں بھی موجود ہیں۔ امت مسلمہ کو ان کے فریب و دغا میں مبتلا ہونے سے بچنا چاہیے۔ یہ ندویت و صلح کلیت کا جدید نقشہ ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں کے لیے فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ کا کفر کلامی ایک بڑی آزمائش ہے۔ نہ جانے کتنے لوگ اس فتنہ عظیم میں مبتلا ہو کر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سال 1980ء کے آس پاس خلیل بجنوری (م 1410ھ / 1990ء) نے حسام الحرمین کے احکام کا انکار کیا تھا۔ خلیل بجنوری نے ایک سنی عالم کی حیثیت سے شہرت حاصل کر لی تھی، اس کے بعد فتنہ پھیلانا شروع کیا۔ خلیل بجنوری یا تو چھپا ہوا دیوبندی تھا، یا پس پردہ کوئی گہرا راز تھا؟
علمائے اہل سنت نے اس حادثہ کو ایک سازش قرار دیا ہے۔ شاید وہ سنی بن کر مذہب اہل سنت و جماعت میں انتشار و اختلاف برپا کرنا چاہتا تھا۔ آج بھی معاملہ کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ بعض لوگ سنی بن کر اہل سنت و جماعت کے معتقدات و مسلمات پر شب خون مار رہے ہیں۔ قطعی و اجماعی عقائد میں اختلاف ایک خوفناک امر ہے۔ اس سے بچنا لازم ہے۔
حالیہ چند سالوں میں مذہبی سطح پر نظر ڈالی جائے تو داخلی فتنوں کا ایک نہ تھمنے والا طوفان مسلمانان اہل سنت و جماعت کو گرفتار مصائب کر رکھا ہے۔ افتراق و انتشار کے اس عہد ابتلا میں بعض نو فارغین نے مذہب اہل سنت و جماعت کے عقائد و اصول پر حرف زنی شروع کر دی ہے۔ حواس باختگان کے گروپ کا میر کارواں خلیل بجنوری (م 1990ء) ہے۔
اس وقت بجنوری تنہا میدان میں تھا۔ اب تو ایک منظم گروپ تخریب کاری پر اتر آیا ہے۔ ان نوجوانوں نے مذہب اہل سنت و جماعت کے مسلمات و معتقدات پر شب خون مارنا شروع کر دیا ہے۔ انہیں یہ وہم ہو چکا ہے کہ آج یا کل اہل سنت و جماعت ہمارے افکار و نظریات کو قبول کر لیں گے اور مذہب اہل سنت و جماعت کے معتقدات و مسلمات میں ہمارے اوہام عاطلہ و خیالات باطلہ کو بھی جگہ مل سکے گی، حالانکہ یہ ممکن نہیں۔ حدیث نبوی کی صراحت کے مطابق مجددین اسلام کے علاوہ بھی ہر عہد میں ایک طبقہ احقاق حق و ابطال باطل کے لیے موجود رہے گا، پس کسی فکر باطل کو لمحہ بھر کے لیے بھی حق کے ساتھ خلط ملط ہونے کی گنجائش نہیں۔ ہاں، جن لوگوں کی تقدیر میں کفر و ضلالت ہو، وہ اہل سنت و جماعت سے خارج ہوتے جائیں گے اور مذہب اہل سنت فتنوں سے پاک ہو کر محفوظ رہے گا۔
بجنوری نے وہابی مدارس میں تعلیم حاصل کی تھی، پھر یہ سنی بن کر خانقاہ برکاتیہ سے خلافت و اجازت حاصل کر لیا اور پیر طریقت بن بیٹھا۔ جب اس کا اپنا ایک حلقہ قائم ہو گیا تو مذہب اہل سنت و جماعت کے مسلمات و معتقدات میں شکوک و شبہات پیدا کرنا شروع کر دیا، پھر اسی طریقے پر مصر رہا، یہاں تک کہ موت کے آہنی پنجوں نے اس کے فتنوں کو کچل کر رکھ دیا۔
آج خلیل بجنوری کے فکری جانشینوں کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ یہ لوگ مدارس اہل سنت کے فارغ التحصیل ہیں لیکن یہ لوگ مقاصد باطلہ کی تکمیل کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، پس منظر میں کوئی گمراہ طبقہ بھی ہو سکتا ہے، یا یہود و نصاریٰ کی کوئی ذیلی تنظیم بھی ہو سکتی ہے۔ سردست ہمیں مل جل کر ان فتنوں کی سرکوبی کرنی ہے۔ اگر آج اس فتنے پر بند باندھنے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ لوگ نہ جانے کتنوں کو کفر و ضلالت کے خندق میں دھکیل دیں گے:
وَاللَّهُ الْمُوَفِّقُ إِلَى صِرَاطِ الْحَقِّ وَالسَّعْيُ مِنِّي وَالْإِتْمَامُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى عَزَّ وَجَلَّ۔
سکھا دو سر کچلنے کا ہنر معصوم بچوں کو
انہیں بھی کاٹنی ہے زندگی سانپوں کی بستی میں
خلیل بجنوری نے 1980ء سے کچھ پہلے فتنوں کا آغاز کر دیا تھا۔ اس نے اپنے بیٹوں کو وہابی مدارس، مدرسہ امینیہ (دہلی) اور ندوۃ العلما (لکھنؤ) میں تعلیم دلوائی۔ جب اس کا بیٹا ندوہ سے فارغ ہو کر آیا تو بجنوری نے اپنا مشن یعنی اشخاص اربعہ کی تکفیر سے کف لسان کا آغاز کیا اور اپنے موقف کا اظہار کرنے لگا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر علمائے بدایوں نے بجنوری کو ایک سو ترپن سوالات لکھ کر رجسٹرڈ پوسٹ سے بھیجا، جب بجنوری کا کوئی جواب نہیں آیا تو مولانا مظہر حسین قادری و دیگر علمائے بدایوں نے ان سوالات کو “اظہار حق” کے نام سے شائع کر دیا، تاکہ عوام مسلمین اس کے فتنوں سے محفوظ رہیں اور بداعتقادی میں مبتلا نہ ہوں۔
بجنوری خانقاہ برکاتیہ (مارہرہ مطہرہ) سے خلافت و اجازت لے کر مریدین کا ایک حلقہ بنا چکا تھا۔ علمائے بدایوں نے سوچا کہ شاید اپنے بزرگوں کی فہمائش پر وہ راہ راست پر آجائے، لہذا خانقاہ مارہرہ مطہرہ میں اطلاع بھیجی گئی۔ حالات کی سنگینی دیکھ کر حضور احسن العلما سید شاہ مصطفی حیدر حسن مارہروی (1927ء - 1995ء) بدایوں جلوہ افروز ہوئے۔
بجنوری سے بات چیت ہوئی۔ آپ نے بجنوری کو علمائے اہل سنت سے بات چیت کر کے معاملہ حل کرنے کا حکم دیا۔ خلیل بجنوری اس پر راضی ہو گیا۔ حضور احسن العلما قدس سرہ العزیز نے خلیل بجنوری کو عرس قاسمی کے موقع پر مارہرہ مقدسہ آنے کی دعوت دی، تاکہ وہاں علمائے کرام سے بات چیت ہو سکے لیکن بجنوری عرس کے موقع پر مارہرہ شریف نہیں آیا۔
شمس العلما قاضی شمس الدین احمد جعفری جون پوری (1905ء - 1981ء) (مؤلف قانون شریعت) نے 26 صفر 1400ھ مطابق 15 جنوری 1980ء کو بدایوں جا کر خلیل بجنوری سے تفصیلی گفتگو فرمائی، بحث آخری منزل کو پہنچنے والی تھی اور بجنوری لاجواب ہوتا جا رہا تھا کہ یہ پوزیشن دیکھ کر خلیل بجنوری کے بیٹے احمد نے مداخلت کر کے معاملہ درہم برہم کر دیا۔
پھر مذکورہ مجلس کی قرارداد کے مطابق ناگ پور سے متعدد سوالات بجنوری کو بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک بھیجے گئے لیکن بجنوری نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر کار وہ سوالات ماہنامہ المیزان (ممبئی) میں شائع ہوئے لیکن اس کا بھی کچھ اثر نہ ہوا، بجنوری خاموش پڑا رہا۔
دوسرے سال 1401ھ میں عرس قاسمی کے موقع پر بجنوری کا بڑا بیٹا عتیق احمد پندرہ صفحات پر مشتمل ایک تحریر لے کر مارہرہ شریف پہنچا جس سے بجنوری کا راہ حق سے انحراف صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ اس تحریر کے بعد علمائے اہل سنت و جماعت 21 صفر المظفر کو بدایوں پہنچے۔
اس قافلہ میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی (1921ء - 2000ء)، بحر العلوم مفتی عبدالمنان اعظمی (1925ء - 2012ء) و دیگر اکابر علمائے اہل سنت و جماعت ہم شریک تھے۔
خلیل بجنوری اس وقت علمائے اہل سنت سے بات چیت کے لیے راضی نہیں ہوا، پھر اسی وقت فریقین کی رضا مندی سے باضابطہ مناظرہ کی تاریخ 29 و 30 ربیع الثانی 1401ھ مطابق 6 و 7 مارچ 1981ء بروز جمعہ و سنیچر مقرر ہوئی۔
علمائے اہل سنت و جماعت 29 ربیع الثانی 1401ھ روز جمعہ کی صبح کو بدایوں پہنچ گئے۔ بجنوری دن بھر حیلہ سازیوں کے ذریعہ ٹال مٹول کرتا رہا، پھر شہر بدایوں کے سربرآوردہ افراد کی مداخلت سے اور بجنوری کے پاس کئی بار کی آمد و رفت کے بعد وہ مناظرہ کے لیے راضی ہوا۔ یہ معاملہ طے ہونے میں رات کے بارہ بج گئے۔ کل 30 ربیع الثانی کو صبح دس بجے فریقین کو مناظرہ گاہ میں حاضر ہونا تھا لیکن بجنوری دس بج کر 35 منٹ پر وہاں حاضر ہوا۔
30 ربیع الثانی 1401ھ مطابق 7 مارچ 1981ء بروز سنیچر خلیل بجنوری سے علمائے اہل سنت کی آخری بات چیت بشکل مناظرہ ہوئی۔ علمائے اہل سنت میں سے تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری، شارح بخاری حضرت مفتی شریف الحق امجدی، مفتی مجیب اشرف ناگ پوری، قاضی عبدالرحیم بستوی، مفتی ایوب نعیمی مراد آبادی، مفتی مظفر احمد داتا گنجوی، مولانا مظفر علی سہسوانی، علامہ حنیف خاں رضوی بریلوی وغیرہم شریک تھے۔
اہل سنت و جماعت کی جانب سے دو مناظر مقرر ہوئے:
-
شہزادہ شیر بیشہ اہل سنت حضرت علامہ مشاہد رضا خاں علیہ الرحمہ (پیلی بھیت: یوپی)
-
محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفی قادری دام ظلہ الاقدس (گھوسی ضلع مئو: یوپی)
مذکورہ تاریخ کو صبح گیارہ بجے سے مناظرہ شروع ہوا۔ ظہر کے وقت تک علامہ مشاہد رضا خاں علیہ الرحمہ نے بجنوری کے سوالات کا جواب دیا، پھر بعد ظہر تا بعد مغرب محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفی قادری مناظرہ کرتے رہے۔ انجام کار خلیل بجنوری لاجواب ہو کر مباہلہ پر اتر آیا۔ علامہ موصوف نے مباہلہ کے الفاظ صاف طور پر ادا کیے، جب بجنوری سے الفاظ مباہلہ کی ادائیگی کا مطالبہ ہوا تو وہ اگر مگر کا سہارا لے کر مبہم انداز میں کچھ الفاظ ادا کیا، پھر وہاں سے بھاگ نکلا۔ اس کے فرار و شکست کی خبر شہر بدایوں میں پھیل گئی۔
مذہب اہل سنت و جماعت کے عوام و خواص نے بجنوری سے اپنا رشتہ ختم کر لیا۔ اسی رات کو بدایوں شریف میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا جس میں مذکورہ علمائے اہل سنت و جماعت نے شرکت فرمائی۔ حضور تاج الشریعہ علامہ ازہری علیہ الرحمہ کا خطاب انتہائی دل نشیں اور حقائق کو منکشف کرنے والا تھا۔
بدایوں شریف میں دوسرے دن 8 مارچ 1981ء کو رات میں جشن فتح منایا گیا۔ اس عظیم الشان اجلاس میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے خلیل بجنوری سے متعلق اسلامی فیصلہ سنایا جو کتابی شکل میں “الاقوال القاطعۃ فی رد مؤید الوہابیہ” کے نام سے بزم قاسمی برکاتی (بدایوں شریف) سے شائع ہوا۔ اس میں حضور تاج الشریعہ علامہ ازہری قدس سرہ العزیز کا تتمہ ہے اور ایک سو اسی (180) علمائے کرام کی تصدیقات بھی شامل ہیں۔ یہ مکمل فتویٰ مقالات شارح بخاری جلد دوم میں موجود ہے۔ مقالات میں خلیل بجنوری کے مختلف سوالوں کے جواب بھی مرقوم ہیں۔
اس مناظرہ کا اثر یہ ہوا کہ سنی عوام جو بجنوری کے جال میں پھنس کر اس سے مرید ہو گئے تھے، وہ بجنوری کی بیعت توڑ کر حضور احسن العلما مارہروی اور حضور مفتی اعظم ہند نوری علیہما الرحمہ کے دست حق پرست پر بیعت کر لیے۔ مناظرہ کے دوسرے دن بدایوں شریف کے سربرآوردہ افراد کی دعوت پر حضور مفتی اعظم ہند بدایوں تشریف لائے تھے۔
ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر شرف بیعت حاصل کیے۔ خلیل بجنوری بدایوں میں
مَنْ شَذَّ شُذَّ فِي النَّارِ
کی تفسیر مجسم بنا لیل و نہار گزارتا رہا، تا آں کہ 1410ھ مطابق 1990ء میں موت کے آہنی پنجوں نے اسے دوسری دنیا کی طرف کھینچ لیا۔ ہدایت و ضلالت اللہ تعالیٰ عزوجل کی طرف سے ہے:
مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ
2۔ ظفر ادیبی مبارک پوری اور کف لسان
ظفر ادیبی مبارک پوری نے ابتدائی مرحلہ میں حسام الحرمین کے احکام کا صریح انکار نہیں کیا تھا، بلکہ اس کی بعض باتوں سے انکار ظاہر ہوتا تھا۔ اخیر عمر میں ظاہر ہوا کہ اس کا موقف اشخاص اربعہ کی تکفیر سے کف لسان تھا۔ یہ جامعہ اشرفیہ (مبارک پور) کا استاد تھا۔
حضور حافظ ملت قدس سرہ العزیز (1894ء - 1976ء) بانی الجامعۃ الاشرفیہ (مبارک پور) کو حالات بتائے گئے۔ حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ نے تمام اساتذہ کرام کے لیے حسام الحرمین کی تصدیق کی شرط لگا دی۔ ظفر ادیبی نے تصدیق سے انکار کر دیا اور جامعہ اشرفیہ سے باہر ہو گیا اور اپنی موت تک اپنے گھر ہی میں رہا۔ کسی مسجد یا مدرسہ کا ملازم نہ ہوا۔
ظفر ادیبی نے کہا تھا کہ حسام الحرمین قرآن نہیں ہے کہ اس کے ایک ایک حرف کی تصدیق کی جائے، حالانکہ ایسے موقع پر حسام الحرمین میں بیان کردہ شرعی احکام کی تصدیق مطلوب ہوتی ہے، خواہ وہ حسام الحرمین کی شکل میں ہو، یا ان احکام کا خلاصہ کسی کاغذ پر لکھ لیا جائے، یا وہ احکام زبانی بتائے جائیں۔ انجام کار ظفر ادیبی کو جامعہ اشرفیہ سے الگ ہونا پڑا۔
علمائے اہل سنت نے اس سے بھی تعلق ختم کر لیا۔ اس کے بعد جامعہ اشرفیہ (مبارک پور) میں یہ قانون نافذ ہو گیا کہ ہر فارغ التحصیل کو سند لینے سے قبل حسام الحرمین کی تصدیق کرنی ہوگی۔ جامعہ میں یہ قانون آج تک نافذ العمل ہے۔ ماہنامہ اشرفیہ (شمارہ نومبر 2013ء) میں تفصیل ہے۔ ماہنامہ پیغام شریعت: مارچ 2018ء میں بھی یہ تفصیل منقول ہے۔
حالات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور حافظ ملت قدس سرہ العزیز کے عہد میں ظفر ادیبی محض غیرت و حمیت کے سبب حسام الحرمین کی تصدیق نہ کر سکا، پھر بعد میں وہ کف لسان کی برائی میں مبتلا ہوا۔ اشخاص اربعہ کی تکفیر سے کف لسان کا ظہور بہت بعد میں ہوا۔
بجنوری کے خرافات کا ظہور سال 1980ء کے آس پاس ہوا، جب کہ ظفر ادیبی کے کف لسان کا حال 1995ء کے آس پاس ظاہر ہوا۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخری سالوں میں غالباً 93 94 95 میں حضرت مولانا کوثر حسن قادری رضوی بلرام پوری نے ظفر ادیبی سے متعلق تحقیقات کی تھیں، متعدد رسالے لکھے، پھر ظفر ادیبی مبارک پوری سے متعلق حکم شرعی بیان فرمایا۔ لگتا ہے کہ ادیبی اخیر عمر میں خلیل بجنوری کے خیالات سے متاثر ہو گیا تھا۔
اس کف لسان پر خلیل بجنوری اور ظفر ادیبی کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ جیسے اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے اسماعیل دہلوی کی تکفیر سے کف لسان فرمایا، اسی طرح ہم بھی فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کی تکفیر سے کف لسان کرتے ہیں۔ علمائے اہل سنت و جماعت کی جانب سے اس سوال کے ناقابل تردید جوابات بار بار دیے جا چکے ہیں۔
آج بھی بعض لوگ اسماعیل دہلوی کے معاملہ کو حجاب بنا کر اعتقادی برائیوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، حالانکہ بار بار وضاحت کی جا چکی ہے کہ اسماعیل دہلوی کا کفر، کفر فقہی ہے اور فرقہ دیوبندیہ کے اشخاص اربعہ کا کفر، کفر کلامی ہے۔ دہلوی کی توبہ کی بھی ایک خبر ہے۔
اسماعیل دہلوی کی توبہ کا ذکر حضرت علامہ اختر شاہجہاں پوری نے اپنی کتاب “باطل فرقے برطانیہ کے سائے” میں کیا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض علمائے کرام کو دہلوی کی توبہ کی متردد خبر پہنچی ہو جس سے ان حضرات کو شبہ لاحق ہو گیا ہو، اور ان علمائے کرام نے دہلوی کی تکفیر سے مطلق سکوت کیا ہو۔ اگرچہ دہلوی نے بظاہر توبہ کر لی تھی لیکن وہ اپنے نظریہ پر قائم رہا۔ [عہد حاضر کے بد مذہب فرقے، ص: 78]

