Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرقہ بجنوریہ: فرقہ سراویہ (قسط: دوم)|طارق انور مصباحی

فرقہ بجنوریہ (فرقہ سراویہ) (قسط: دوم)
عنوان: فرقہ بجنوریہ (فرقہ سراویہ) (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: اقراء شیخ

۳۔ دورِ جدید کا نیا فیشن یعنی حجاب بے حجاب

عہد حاضر میں ایک نیا فیشن بن چکا ہے کہ لوگ مذہب اہل سنت و جماعت کے معتقدات کا انکار کسی کا نام لے کر کرتے ہیں، مثلاً اعلیٰ حضرت نے ایسا فرمایا ہے اور ہم اعلیٰ حضرت کو نہیں مانتے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کو نہ ماننا الگ معاملہ ہے اور اعلیٰ حضرت کے معتقدات کو نہ ماننا الگ معاملہ ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ مذہب اہل سنت و جماعت کے معتقدات و مسلمات پر قائم تھے۔ اب اگر کوئی اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کے کسی عقیدہ کا انکار کرتا ہے تو وہ مسلک اہل سنت و جماعت کے عقیدے کا منکر ہے۔ اس کا حکم وہی ہوگا، جو مذہب اہل سنت کے کسی عقیدہ کے منکر کا حکم ہے۔ عہد حاضر میں مسئلہ تکفیر کو انتہائی مغالطہ آمیز اسلوب میں پیش کیا جاتا ہے۔ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز نے حضور اقدس حبیب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کے سبب مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی کی تھی، نہ کہ محض عشق نبوی کے سبب۔

بجنوری سے یہ رواج چل پڑا ہے کہ لوگ سنیت کا لبادہ اوڑھ کر اشخاص اربعہ کی تکفیر کا انکار کرتے ہیں اور قوم مسلم کو بھی خلجان میں مبتلا کر دیتے ہیں، حالاں کہ امام اہل سنت علیہ الرحمہ کے فتویٰ سے قبل بھی اشخاص اربعہ میں سے تھانوی کے علاوہ باقی تین پر علمائے اہل سنت حکم کفر جاری کر چکے تھے۔ ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی (پاکستان) نے اپنی کتاب “حسام الحرمین کے سو سال” میں ان تمام حقائق کو تفصیل کے ساتھ تحریر کر دیا ہے۔

۴۔ کیا محض عشق مصطفوی کے سبب تکفیر ہوئی؟ یا اسلامی اصول و قوانین کے مطابق تکفیر ہوئی؟

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز نے اپنے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب اشخاص اربعہ کو کافر قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا محض عشق نبوی کے سبب کسی غیر کافر کو کافر قرار دیا جا سکتا ہے؟ یا مذہب اسلام کے اصول و قوانین کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا؟ اگر عشق مصطفوی کے سبب تکفیر ہوتی ہے تو پھر امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے اسماعیل دہلوی کو کیوں کافر قرار نہیں دیا؟ دہلوی کے کلام میں بھی توہین و تنقیص موجود ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہو گیا کہ اسلامی اصول و قوانین کے مطابق اشخاص اربعہ کی تکفیر کی گئی ہے۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے قبل ہی علمائے اہل سنت و جماعت اشخاص اربعہ میں سے تین کی تکفیر فرما چکے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے فتویٰ کی تصدیق علمائے حرمین طیبین نے کی، پھر علمائے ہند و سند نے کی۔ کیا تمام اساطین امت نے قوانین اسلام کو پس پشت رکھ کر محض عشق نبوی کے سبب حکم کفر جاری فرمایا؟ مذبذبین کا یہ حیلہ محض اپنے آپ کو اعتراض سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے۔ دراصل اقوال دیابنہ میں تاویل مقبول کی گنجائش نہیں، لہٰذا مذبذبین نے ایک بہانہ تلاش کیا کہ عشق نبوی کو سبب تکفیر بتا کر قوم کو گمراہ کیا جائے۔ خود تھانوی نے بھی کہا تھا کہ مولانا احمد رضا نے مجھے عشق رسول کی بنیاد پر کافر کہا ہے۔ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہوں۔ میں ان کو کافر نہیں سمجھتا۔ تھانوی نے اپنی عزت بچانے کے لیے ایسا کہا۔

۵۔ اجمال کا اقرار تفصیل کا انکار:

اشخاص اربعہ کی شخصی تکفیر کلامی ہوئی ہے، یعنی ان لوگوں کی کفری عبارتوں کی بنیاد پر حرمین طیبین کے علمائے کرام نے قائلین پر نام بنام کفر کلامی کا فتویٰ دیا ہے۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز بحیثیت سائل ان حضرات کے پاس حج دوم کے موقع پر سال ۱۳۲۴ھ مطابق ۱۹۰۵ء میں استفتا لے کر گئے تھے۔ اگر کوئی اجمالی طور پر گستاخ رسول کو کافر و مرتد کہتا ہے، لیکن ارکان دیابنہ یعنی نانوتوی، گنگوہی، انبیٹھوی اور تھانوی کی کفری عبارتوں سے یقینی طور پر واقف ہے اور علمائے عرب و عجم کی جانب سے ان چاروں کی تکفیر شخصی کی قطعی و یقینی اطلاع بھی اس کو ہے۔ ان تمام حقائق سے مطلع ہو کر بھی ان اشخاص اربعہ کو وہ کافر نہیں مانتا ہے تو یقیناً وہ بھی کافر ہے۔ مَنْ شَكَّ فِيْ كُفْرِهِ فَقَدْ كَفَرَ کا یہی مفہوم ہے۔

جو اجمالی طور پر گستاخ رسول کو کافر کہے اور (۱) جب صریح و مفسر / متعین فی الکفر، قطعی و یقینی توہین نبوی ثابت ہو جائے اور قائل کی عبارت میں تاویل مقبول (تاویل قریب و تاویل بعید) کی کوئی گنجائش نہ ہو، یعنی کفر متعین ہو، اور (۲) قائل کی جانب اس قول کی نسبت بھی متواتر و یقینی ہو، یا قائل نے اس کے پاس اقرار کیا ہو، اور (۳) قائل نے ہوش کی حالت میں قصداً بلا کسی جبر و اکراہ کے یہ کلام کہا ہو تو اب قائل کو کافر تسلیم کرنا ہوگا۔ ایسی صورت میں قائل کو مومن اعتقاد کرنا، یا اس عبارت کی تاویل کرنا مذہب اسلام کے مسلمہ عقیدہ سے انحراف ہے۔ اگر تاویل باطل قبول کر لی جائے تو ایمان و کفر کا امتیاز ختم ہو جائے گا۔

کفر قطعی کلامی کا یقینی و قطعی علم ہو جانے کے بعد قائل کو مومن تسلیم کرنا گمراہی نہیں، بلکہ کفر ہے۔ ہاں، اگر کوئی اعتراض ہو تو وہ پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن کفر کلامی واضح ہو جانے کے بعد محض اس لیے تاویل کرنا کہ قائل کو ثبوت کفر کے باوجود مومن ثابت کیا جائے، جیسے دیوبندی مناظرین فرقہ دیوبندیہ کے عناصر اربعہ کے اقوال باطلہ کی تاویل کرتے ہیں تو ایسی تاویل قابل قبول نہیں ہو سکتی اور صاحب تاویل حکم شرع سے محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔ کفر کلامی کا مسئلہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، اسی طرح اشعری و ماتریدی کے یہاں متفق علیہ ہے۔

کوئی غیر عالم یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تو مفتی نہیں ہوں، میں کیسے فتویٰ دے سکتا ہوں؟ ایسے شخص پر لازم ہے کہ قابل اعتماد مفتی کے فتویٰ کو قبول کرے۔ ارشاد الٰہی:

فَاسْأَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

کا یہی مفہوم ہے کہ لا علم افراد اہل علم سے دریافت کریں اور صحیح عقائد پر قائم و مستحکم رہیں۔ اشخاص اربعہ کے بارے میں ہر قابل اعتماد مفتی نے کفر ہی کا فتویٰ دیا ہے۔ اہل سنت و جماعت کے تمام طبقات اور مرکزی خانقاہیں اشخاص اربعہ کی تکفیر کلامی پر متفق ہیں، مثلاً خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ، خانقاہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ، خانقاہ رضویہ بریلی شریف، علمائے بدایوں شریف، علمائے اشرفیہ مبارک پور وغیرہم۔

۶۔ کفر کلامی اور کفر فقہی میں فرق:

کفر فقہی میں اصول متکلمین کے اعتبار سے اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، جیسے کفر یزید، کفر دہلوی، کفر ابن تیمیہ وغیرہم میں اختلاف ہوا۔ کفر کلامی میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ کسی کفری کلام میں تاویل بعید کی گنجائش ہے تو وہاں کفر کلامی نہیں، بلکہ کفر فقہی ہوگا۔

فقہائے کرام صرف تاویل قریب کو قبول کرتے ہیں۔ اگر کلام میں تاویل قریب کی گنجائش نہ ہو تو فقہائے کرام تکفیر فقہی کرتے ہیں اور متکلمین تاویل قریب اور تاویل بعید دونوں کو قبول کرتے ہیں۔ اگر کلام میں تاویل بعید کا احتمال ہو تو متکلمین تکفیر کلامی نہیں کرتے۔

تاویل باطل کسی فریق کے یہاں مقبول نہیں۔ اگر تاویل باطل بھی قبول کر لی جائے تو پھر کفر و اسلام میں فرق کیا رہ جائے گا؟ کفر و ایمان کے درمیان کوئی سرحد ہے یا نہیں؟

تاویل باطل شیطانی فریب ہے۔ توبہ و رجوع آسان ہے اور تاویل باطل میں مبتلا ہونا اپنی آخرت برباد کرنا ہے، پھر حقائق ظاہر ہو جانے کے بعد توبہ سے انکار کی وجہ کیا ہے؟

ماہنامہ کنز الایمان (دہلی) میں امام علم و فن حضرت علامہ مولانا خواجہ مظفر حسین رضوی (۱۹۳۴ء - ۲۰۱۳ء) کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں یہ واقعہ درج تھا کہ اشرف علی تھانوی نے اپنے کفر سے توبہ کا ارادہ ظاہر کیا تھا لیکن اس کے شاگردوں نے محض عزت نفس کا لحاظ کرتے ہوئے توبہ کی رائے قبول نہ کی اور تھانوی بلا توبہ دنیا سے چلا گیا۔ تھانوی کے معتقدین آج تک تاویل باطل میں مبتلا ہیں۔ تاویل باطل سے نقصان ہے، لیکن کچھ فائدہ نہیں۔

مسلک دیوبند کے اشخاص اربعہ کوئی ایسی تاویل پیش نہ کر سکے جو عند الشرع قابل قبول ہو سکے، بلکہ کفر کلامی اسی کفر کا نام ہے جس میں کسی بھی طرح تاویل مقبول کی گنجائش نہ نکلے۔ تمام حقائق واضح ہو جانے کے بعد جان بوجھ کر کفر کلامی میں تاویل کرنے والا حکم شرع “مَنْ شَكَّ فِيْ كُفْرِهِ فَقَدْ كَفَرَ” کے دائرہ میں آ جاتا ہے۔ لوگوں کو بے ادبی سے روکنے کی کوشش کی جائے۔ اگر خدانخواستہ کسی سے ایسی غلطی صادر ہو جائے تو توبہ کی ترغیب دی جائے۔

توبہ ایک نیک عمل ہے۔ بندگان الٰہی تو یوں بھی اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں توبہ کرتے رہتے ہیں۔ ہاں، جب صحیح بات بولی جائے، پھر لوگ اسے غلط شکل دے کر توبہ کا مطالبہ کریں تو یہ قابل اعتراض امر ہے۔ اسی طرح حق بات پر توبہ کا مطالبہ بھی غلط ہے۔ [عہد حاضر کے بد مذہب فرقے، ص: 85]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!