Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تقدیم: تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ|محمد احمد مصباحی

تقدیم۔ تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ
عنوان: تقدیم۔ تاریخ جماعت رضائے مصطفیٰ
تحریر: محمد احمد مصباحی
پیش کش: سعدیہ نوری قادری
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد

تقدیم

یکم ربیع الآخر 1349ھ مطابق 18 دسمبر 1930ء کو ”جماعتِ رضائے مصطفیٰ“ کا قیام عمل میں آیا، اور اس کا دینی، علمی اور عملی فیضان ایک عرصہ دراز تک سرزمینِ ہند پر ابرِ کرم بن کر برستا رہا۔ اس کی تاریخ کا بڑا رقت انگیز اور عظیم الشان باب شدھی تحریک کا انسداد ہے، اگر اس کی خدمات میں صرف یہی ایک کارنامہ ہوتا تو وہی اسے بقائے دوام بخشنے کے لیے کافی تھا۔

بعض سرگرم مشرکینِ ہند نے یہ منصوبہ بنایا کہ مسلمانوں کو ہندو بنایا جائے، اس کے لیے انھوں نے سب سے پہلے ان علاقوں کا انتخاب کیا جہاں مسلمان دینی احکام سے بالعموم نابلد اور ہندوانہ مراسم کے پابند تھے۔ ماضی قریب میں ان کے آبا و اجداد نے اسلام قبول کیا مگر تعلیم کی کمی اور ماحول کی ناسازگاری کی وجہ سے وہ نہ تو پورے طور پر شریعتِ اسلامیہ کے احکام و اعمال سے آشنا ہو سکے نہ ہی ہندوانہ عادت و اطوار کو مکمل طور پر ترک کر سکے۔ ان کی نسل کو یہ دعوت دی گئی کہ تمھارے باپ دادا کا پرانا دھرم ہندو تھا، تم اسلام میں داخل ہو کر ملیچھ اور ناپاک ہو گئے اب پھر اپنے پرانے دھرم میں لوٹ کر شدھ اور پاک و صاف ہو جاؤ۔ بہت سی آبادیوں پر یہ جادو چل گیا اور لوگ ارتداد کا شکار ہو گئے۔ شدھی تحریک کو اپنی ابتدائی کامیابی دیکھ کر بڑا حوصلہ ملا اور اس کے جوان ایک آبادی کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری کا رخ کرنے لگے اور بڑھتے گئے۔

اس بلاخیز طوفان کے مقابلے میں اترنے والی کوئی مسلم تنظیم نظر نہ آتی تھی، قومی لیڈر، دینی رہنما، علماء، اور اہل قلم سب کے پاؤں میں زنجیریں اور لبوں پر مہرِ سکوت پڑی ہوئی تھی، عوام میں بیشتر کا حال یہ تھا کہ وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے کہ کوئی مسلمان بھی ہندو ہو سکتا ہے۔ جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے معظم سرپرست مفتیِ اعظم علامہ شاہ مصطفیٰ رضا قدس سرہ اس صورت حال پر تڑپ اٹھے، دل و دماغ کا سکون اٹھ گیا، رات کا آرام غارت ہو گیا، مردانہ وار آگے بڑھے اور چند موقر علماء و عمائد کو لے کر میدانِ کارزار میں کود پڑے۔ سب سے پہلے ان بستیوں کا رخ کیا جو ارتداد کے ہلاکت خیز پنجوں کی گرفت میں آچکی تھیں، لوگوں کو دینِ اسلام کی دعوت دی توبہ کرائی اور پھر اسلام میں داخل کیا۔ اس کے بعد ان آبادیوں کا رخ کیا جو شدھی تحریک کا نشانہ بننے والی تھیں جہاں ہندو راہنماؤں، بندوقوں، سپاہیوں اور ہر طرح کے ساز و سامان سے لیس ہو کر جاتے اور لوگوں کو دین سے برگشتہ کرتے۔ ایسے علاقوں میں جنگ کا بھی خطرہ ہوتا اور وہاں قدم رکھنا بڑا مشکل تھا، جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے پاس حربی آلات اور جنگی ساز و سامان نہ تھے، مگر ایمان کی طاقت و قوت تھی اس لیے ایسے خطرناک مواقع پر بھی اس نے بڑھ کر مقابلہ کیا اور حق کا غلبہ ہوتا رہا۔

یہ جماعتِ مبارکہ کا ایک میدانِ عمل تھا، دوسری طرف آریوں کی جانب سے گمراہ کن اخبارات اور پمفلٹ شائع ہوتے جن میں اسلام پر اعتراضات ہوتے، ان کا جواب بھی جماعت نے اپنے ذمہ لیا اور قلمی محاذ پر بھی اہل باطل کو شکست دی۔ اس طرح کے بہت سے دینی و ملی امور جماعت سے وابستہ تھے جنھیں سرانجام دینے کے لیے جماعت نے ذیلی کمیٹیاں بھی تشکیل دے رکھی تھیں، وسائل اور سرمایہ کی ہمیشہ قلت رہی مگر کچھ حوصلہ مند اور مخیر مسلمانوں کے ذریعہ کام ہوتا رہا۔ جماعت کے کارنامے آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور موجودہ نسل میں حرکت و عمل کی گرمی اور ایمان و ایقان کی تازگی و توانائی بخشنے کے لیے ان کی اشاعت بہت ہی حوصلہ بخش، نتیجہ خیز اور مفید ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہماری 50 سالہ نسل کی اکثریت جماعت کے کارناموں کی تفصیل سے نابلد ہے۔ عزیزِ گرامی مولانا شہاب الدین رضوی نے اس سلسلہ میں امام احمد رضا کانفرنس منعقدہ لکھنؤ 1314ھ کے سیمینار کے لیے ایک مختصر مقالہ لکھا جو میں نے بغور پڑھا، پھر عزیزِ موصوف کو خط لکھا کہ اس موضوع پر آپ تفصیل سے لکھیں، انھوں نے پرانے ذخیرے تلاش کیے، خاص طور سے جماعت کی رودادیں حاصل کیں اور ان کی روشنی میں یہ تاریخ مرتب کی، جس پر وہ ہم سب کی طرف سے خراجِ تحسین اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ایک عربی شاعر علی بن جہم کے قول کے تحت میں کہہ سکتا ہوں کہ انھوں نے اس تذکرہ سے جماعت کو ایک نئی زندگی اور حیاتِ تازہ بخشی ہے اور موجودہ نسل کے لیے عبرت و بصیرت اور حرکت و عمل کا نیا درس فراہم کر دیا ہے، ایک عبرت انگیز تاریخ جو داستانِ پارینہ بن چکی تھی آج پھر اپنی تاب و تواں کے ساتھ نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہے۔

میں بار بار یہ کہتا ہوں کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے ادوارِ حیات میں بڑی زریں خدمات انجام دی ہیں مگر ہماری غفلت شعاری اور حرماں نصیبی یہ رہی ہے کہ ہم نے بروقت ان کی تاریخ لکھنے کا اہتمام نہ کیا اور اگر کچھ تاریخ لکھی گئی تو اس کی باضابطہ تدوین اور بار بار اشاعت و تجدید کی طرف توجہ نہ ہوئی، جس کے باعث بے شمار کارنامے یا تو فضائے بسیط کی امانت بن کر رہ گئے یا ہنگامی اخبارات و رسائل کی زینت بنے، پھر بوسیدہ اوراق اور مقفل الماریوں میں ان کا دم گھٹ کر رہ گیا۔ ابھی ہماری پرانی روش میں کوئی خاص تبدیلی نہیں اور موجودہ اکابر کے ساتھ بھی تقریباً وہی سلوک جاری ہے جو ماضی کے بزرگوں کے ساتھ رہ چکا ہے۔

ہم میں سے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی بساط بھر کوشش کرے اور جو کچھ مل سکتا ہے اسے منظرِ عام پر لائے، غفلتوں کا ماتم، کوتاہیوں پر حسرت، ایک دوسرے کی شکایت اور اپنے لیے اظہارِ براءت ہمارے درد کا مداوا نہیں، ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر آدمی میں بہت کچھ صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم میں بہت سے افراد ”شہاب الدین“ بنیں، اپنے وقت، محنت اور صلاحیت کا صحیح استعمال کریں، ایثار و اخلاص سے کام لیں اور اپنے ساتھ اپنے اسلاف، اپنی قوم اور اپنی نسل کے لیے بہت کچھ کرنے کا حوصلہ پیدا کریں، اس طرح ہر میدان کا خلا پر ہو سکتا ہے اور کام بہت آگے بڑھ سکتا ہے۔ ربِ کریم ہمیں توفیقِ خیر سے نوازے۔ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى حَبِيْبِهِ سَيِّدِ الْأَكْوَانِ وَعَلٰى آلِهِ وَصَحْبِهِ مَا تَعَاقَبَ الْمَلَوَانِ۔

محمد احمد مصباحی

رکن المجمع الاسلامی و استاذ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور۔

3 صفر المظفر 1416ھ / مطابق 2 جولائی 1995ء [حوالہ: مقالاتِ مصباحی، ص: 593 تا 595]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!