| عنوان: | سنت کی آئینی حیثیت (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد احمد مصباحی |
| پیش کش: | سعدیہ نوری قادری |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی،مراد آباد |
اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں:
(1) درجۂ فقاہت تک رسائی سب کے لیے میسر نہیں۔
(2) ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے جو دینی فقاہت کے کمال سے آراستہ ہوں۔
(3) ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ فقہ کی تحصیل کے بعد اپنی قوم کے سامنے تبلیغ کریں۔
(4) قوم کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان پر اعتماد کرے، ان کا اتباع کرے، خدا سے ڈرے اور معاصی سے بچے۔
(5) ان کا اتباع اسی لحاظ سے ہوگا کہ انہوں نے خدا کے دین اور اس کی شریعت کا وہ علم حاصل کر لیا جو ہمارے پاس نہیں۔ اور فقہ و اجتہاد کی صلاحیت سے کام لے کر احکام کے استخراج اور جزئیات کی معرفت تک پہنچ چکے ہیں، ان کے علم کا سرچشمہ کتاب و سنت اور اجماعِ مجتہدین ہے۔ ان کے دینی اخلاص و تقویٰ کا سونا نکھرا ہوا ہے اس لیے ان کا بتایا ہوا حکم دراصل کتاب و سنت کا ارشاد اور خدا اور رسول کا فرمان ہے اور ان کی اطاعت خدا اور رسول ہی کی اطاعت ہے۔
امتِ مسلمہ کا سوادِ اعظم ان چاروں اصول: کتاب، سنت، اجماع، قیاس کو حجت مانتا ہے، اور عہدِ صحابہ سے لے کر حاضر تک مسلمانوں کا عمل اسی پر جاری ہے۔ لیکن جب کسی سر میں آزادی کا سودا سماتا ہے اور نفس کی غلامی کا جذبہ ابھرتا ہے تو وہ ان چار اصول میں سے کسی ایک سے انکار کے چکر میں پڑتا ہے تاکہ پابندی میں کچھ کمی ہو اور نفس کو ذرا آزادی و عیاشی نصیب ہو۔ اس لیے کوئی کہتا ہے کہ فقہاء کی پیروی اور ائمہ کی تقلید ایک لغو اور بے معنی چیز ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہوا جیسے مشرکوں نے ایک خدا کو چھوڑ کر بہت سے ’’ارباب‘‘ ٹھہرا لیے، خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کافی ہے۔ ائمہ کی تقلید شرک ہے۔ دوسرا اٹھتا ہے اور کہتا ہے: رسول کی اطاعت بھی غیر خدا کی اطاعت ہے۔ سنتِ رسول بھی کوئی چیز نہیں بس اللہ کی کتاب کافی ہے۔ یہ منکرین کبھی تقلید کی مخالفت میں فقہاء و ائمہ پر طعن و تشنیع کے تیر برساتے ہیں، کبھی سنت کی مخالفت میں محدثین اور کتبِ حدیث کو ہدف بناتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو اجماعِ امت کا انکار کرتے ہیں۔ جس قدر انکار بڑھتا جاتا ہے آزادی کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے، عیاشی، نفس پروری اور ہوس پرستی کی نئی نئی راہیں کھلتی ہیں۔
کتاب و سنت میں جو مسائل تفصیلاً مذکور ہیں وہ بہت کم ہیں، اصول و کلیات ضرور موجود ہیں۔ جن سے روز روز جزئیات کے استخراج، استخراج کے لیے قانون سازی اور تفریع و تعمیم کا بہت سا کام فقہاء و ائمہ نے انجام دیا جو امت کے لیے مینارۂ نور اور مشعلِ راہ ہے۔ اب اس کی روشنی میں یہ سہولت بہم ہو چکی ہے کہ ہر دور کے علماء اپنے زمانہ کے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ مشکل کی توضیح، مجمل کی تفصیل، مطلق کی تقیید وغیرہ امور کی صلاحیت رکھنے والے علماء ہر زمانے میں ہوتے رہیں گے اور دین کی خدمت سرانجام دیں گے۔ جیسا کہ بخاری و مسلم شریف کی حدیث "لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللّٰهِ" سے یہ مضمون علما نے واضح کیا ہے۔
مگر جو لوگ فقہاء و علماء سے بے نیازی کے مدعی ہیں وہ ذرا ان سے خوشہ چینی کے بغیر صرف کتاب و سنت سے عبادات، معاملات، معیشت، تمدن، حکومت، سیاست وغیرہ متنوع شعبہ ہائے زندگی کے جزئیات کی تفصیل پیش کریں۔ یقیناً وہ اس سے عاجز ہیں، بلکہ تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ ایسے لوگ دو راہیں اختیار کرتے ہیں۔ پہلی یہ کہ گزشتہ فقہاء و ائمہ کے اقوال تلاش کر کے دیکھتے ہیں کہ کون زیادہ آسان یا زیادہ منفعت بخش ہے۔ یا کون ہماری خواہش اور مزاج سے زیادہ قریب ہے، اسی کو لے لیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے کتاب و سنت سے اخذ کیا۔ حالانکہ انہوں نے فقہاء و علماء سے سرقہ کیا۔ مزید یہ کہ فقہاء نے جو حکم بیان کیا تھا وہ ان کے اخلاص و اجتہاد پر مبنی تھا مگر انہوں نے وہی حکم لیا تو اخلاص کے تحت نہیں بلکہ محض ہوائے نفس، راحت طلبی اور منفعت جوئی کے زیرِ اثر لیا۔
دوسری راہ یہ کہ اپنی بے نور عقل کا گھوڑا دوڑاتے ہیں، اور جو سمجھ میں آیا بتا دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث میں تفصیل موجود نہیں، اور ان کے پاس علوم کی مہارت اور اجتہاد کی قوت بھی نہیں مگر ایک قوم کی پیشوائی کا سہرا باندھ کر نکل پڑے۔ اب یہ ہر شعبۂ زندگی کے ہر باب کے ایک ایک مسئلہ کے بارے میں بتائیں تو کہاں سے بتائیں۔ اپنی عقل میں جو آیا کہہ دیا۔ اور اسی کی پیروی اپنی قوم پر لازم کر دی۔ دراصل یہ ائمہ کرام اور رسولِ اسلام علیہ و علیہم السلام سے برگشتہ کر کے خود اپنے آگے جھکانے اور اپنی اطاعت کرانے کی تدبیر ہے۔ کہتے یہ ہیں کہ کتاب کی اطاعت کرو، یا کتاب و سنت کی پیروی کرو۔ لیکن ظاہر ہے کہ جو قوم عربی زبان سے نابلد ہے وہ کتاب و سنت کی اطاعت کیسے کرے؟ ترجمہ دیکھے تو یہ دراصل مترجم کی پیروی ہے۔ نہ معلوم اس نے کہاں سے اور کیسے ترجمہ کیا۔ اس کی تقلید اور اس پر کامل اعتماد کے بغیر اس کے ترجمہ پر کار بند ہونا ممکن نہیں۔
پھر جس طرح اصل کتاب و سنت کے لیے تمام احکام کا استخراج ممکن نہیں صرف ترجمہ سے بھی ممکن نہ ہوگا۔ اسی طرح ان میں جو عربی زبان کے ماہر ہوں وہ بھی کتاب و سنت کی اصل زبان پڑھ کر اس سے جملہ احکام کے استخراج پر قدرت نہیں رکھتے۔ صحابہ کرام تو بیانِ رسول اور بیانِ مجتہدین کے محتاج تھے۔ آج کا کوئی ماہر ان سے بے نیاز کیسے ہو سکتا ہے؟ لامحالہ وہی ہوگا کہ جس کے بہکانے سے اس نے ائمہ کا دامن چھوڑا اس کو امام بنا لے گا اور وہ جو کچھ بتا دے گا اسی کی تقلید کرے گا۔ اسی طرح جس نے رسول کی اطاعت سے ہٹایا اسی کو رسول کی جگہ مرتبۂ پیشوائی دے گا اور وہ جو بتاتا جائے گا اسے مانا جائے گا۔ یہ کہاں کی دانشمندی ہوئی کہ رسول کی اطاعت کو شرک سمجھی اور ایک عامی کی اطاعت کو ایمان بنا لیا؟ یا ائمہ کی اطاعت کو تو شرک قرار دیا اور صدیوں بعد جنم لینے والے کسی نفس پرست کی غلامی کا طوق گردن میں ڈال لیا اور بزعمِ خویش مست رہے کہ ہم تو صرف اللہ کے فرماں بردار ہیں، ہم محض خدا اور رسول کے مطیع ہیں، صرف کتاب و سنت ہمارا مرجع و ماخذ ہے۔
جو شخص بھی ان چار اصول میں سے کسی ایک کا منکر ہو آپ اس کا جائزہ لے لیں وہ اپنے نفس کا متبع ہو گا یا اپنے سے بھی گھٹیا کسی دوسرے نفس پرست کا اطاعت شعار ہوگا۔ عام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرتے اور اگر یہ میسر نہ ہوتا تو صحابہ کرام کی تقلید کرتے جو علم و فضل، دیانت و تقویٰ اور قوتِ اجتہاد و استنباط میں ان سے اعلیٰ و افضل ہوتے۔ اسی کی قرآن نے انہیں ہدایت دی۔ اسی طرح ہر زمانے میں غیر مجتہد افراد زیادہ رہے اور شریعت کے معاملے میں کسی مجتہد کی تقلید کرتے رہے۔ مگر جب آزادی کی ہوا چلی تو طرح طرح کے فرقے پیدا ہوئے۔ فقہ و قیاس اور تقلیدِ ائمہ کے منکرین، اجماعِ امت کے منکرین، حدیثِ رسول اور سنتِ نبوی کے منکرین، یہاں تک کہ قرآنِ کریم کے منکرین جو قرآن کو ’’بیاض عثمانی‘‘ اور ناقابلِ اعتبار بتاتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتے۔ اور المیہ یہ ہے کہ یہ سب کلمہ گو ہیں۔
یہود و نصاریٰ کے مستشرقین کا انکار اس سے مختلف ہے وہ تو سرے سے اسلام ہی کے منکر ہیں اس لیے وہ قرآن کو خدا کا کلام نہ مانیں، حدیثوں میں تشکیک کریں، ائمہ و فقہاء کو بے اعتبار ٹھہرائیں۔ علماء و صلحاء سے امت کو بیزار اور متنفر کریں، سیرتِ رسول پر اعتراضات جڑیں، اسلامی قوانین کو ناپائیدار اور کمزور بتائیں۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی عداوت میں کچھ بھی کریں حیرت انگیز نہیں۔ مگر کلمہ گویوں کا قرآن کی تعلیمات اور رسول کے ارشادات سے انحراف حیرت انگیز بھی ہے اور الم انگیز بھی۔ ربِ کریم مسلمانوں کی حفاظت و صیانت فرمائے۔
زیرِ نظر کتاب ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘
یہ منکرینِ حدیث کے لیے دعوتِ حق اور سوادِ اعظم اہلِ سنت و جماعت کے لیے سامانِ بصیرت اور ذریعۂ استقامت ہے۔ برادرِ محترم مولانا بدر القادری دام فضلہ نے بہت اختصار اور جامعیت کے ساتھ اس موضوع سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی ہے۔ یوں تو منکرین کے بے ہودہ خیالات، بے جا اعتراضات، غلط تاویلات، اور من مانی تشبیہات کی کمی نہیں۔ سب سے تعرض ہو تو ضخیم دفتر بھی ناکافی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو طبقہ عہدِ صحابہ سے لے کر آج تک کی تمام موقر اسلامی شخصیات کو بے اعتبار سمجھتا ہو وہ خود کس قدر اعتناء کے قابل ہے؟ وہ علمائے اسلام کی ساری جدوجہد اور تمام دینی و علمی خدمات کو صفر کے درجہ میں شمار کرے اور ہم اس کی ہر بات کو درخورِ اعتناء سمجھیں جبکہ وہ محض کج فہمی، گمراہی اور قصدِ گمراہ گری کی پیداوار ہیں۔
ہاں اجمالاً اتنا جان لینا ضروری ہے کہ انہوں نے تمام اصول و ماخذ کو چھوڑ کر محض اپنی دماغی ایج اور ذہنی اختراع کو امام بنایا ہے۔ جس سے دور رہنے میں ہی مسلمانوں کی سلامتی کا راز مضمر ہے۔ وَاللّٰهُ الْهَادِيْ إِلٰى سَوَاءِ السَّبِيْلِ۔
محمد احمد مصباحی
2 صفر 1416ھ / 2 جولائی 1995ء، ایک شنبہ۔ [حوالہ: مقالاتِ مصباحی، ص: 589 تا 592]

